کیا افغانستان ایک پشتون ریاست ہے؟ — احمد الیا

0

اگر آپ سترہویں صدی کے ایشیاء کا سیاسی نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیاء کے سنگم پر آج جہاں افغانستان ہے، اس علاقے میں آپ کو مغلوں اور صفویوں کی سرحدیں ملیں گی۔ افغانستان نظر نہیں آئے گا۔ تاریخ میں اس سے پیچھے پلٹ جائیں تو یہ خطہ منگولوں اور سلطنتِ دلی کے درمیان بھی سرحدی علاقہ رہا۔ اس سے قبل یہ غوریوں، غزنویوں، سامانیوں اور صفاریوں کی ایرانی و ترک سلطنتوں کا حصہ تھا۔ اس سے بھی پہلے عباسیوں اور امویوں کے زیر قبضہ۔ ان سے بھی پہلے ایران کی ساسانی سلطنت کا حصہ تھا۔ گویا افغانستان نام کا کوئی خطہ قدیم تاریخ میں اسی طرح معدوم ہے جس طرح پاکستان نام کی کوئی ریاست۔

پھر افغانستان کا تصور کیسے اور کب ابھرا؟

اس حوالے سے کم از کم تین آراء موجود ہیں۔

۱۔ ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ صفویوں کے زوال کے بعد جب پہلی مرتبہ پشتو بولنے والوں نے ایک مختصر المدتی ہوتکی سلطنت قائم کیا تبھی پہلی افغان ریاست قائم ہوگئی۔ یہ سلطنت اٹھارہویں صدی کے آغاز میں صرف تیس سال قائم رہی لیکن اس کی حدود میں ایران کا بڑا حصہ شامل تھا، اور موجودہ افغانستان کی طرح پشتون اقلیت میں ہی تھے۔ صرف حکمران پشتون تھا۔

۲۔ دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ جب ہوتکیوں کے بعد آنے والی نادر شاہ کی ایرانی افشاری سلطنت بھی زوال پذیر ہوئی تو ایران دو حصوں میں بٹ گیا۔ مشرقی حصہ احمد شاہ کی درانی سلطنت بن گیا جو افغانستان کہلایا اور مغربی حصہ ایران رہ گیا۔

۳۔ تیسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں جب انگریز اور بارکزئی بادشاہت نے درمیان معاملات طئے پائے اور ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی تو ہی افغانستان وجود میں آیا۔

پہلے دونوں نکتہ نظر قوم پرستانہ ہیں۔ قوم پرستی اور قومی ریاست ایک جدید اور مغرب سے درآمد کردہ تصور ہے۔ سوا سو سال پہلے تک ہمارے ہاں اور انقلاب فرانس سے قبل خود مغرب میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ تب ریاستیں قوم کی نہیں بلکہ صرف بادشاہ کے مفتوحہ اور زیر قبضہ علاقے کی بنیاد پر طئے پاتی تھیں۔ بادشاہ کی قومیت اس ریاست کو اس قومیت کی قومی ریاست نہیں بناتی تھی۔ قومیت اور ریاست کو باہم منسلک کرنا ایک انتہائی جدید خیال ہے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں رائج ہوا۔ لہذا اٹھارہویں صدی کی ہوتکی اور درانی سلطنتوں کو افغان یا پشتون قومی ریاست کہنے کی کوئی معروضی یا علمی حیثئیت بہرحال نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بارکزئی حکومت جو درانی سلطنت کے بعد قائم ہوئی اور ۱۹۷۳ میں سردار داؤد کے صدر بننے تک قائم رہی، خود کو کسی قومی شناخت کی بنیاد پر نہیں بلکہ امارت اور بادشاہت کے روایتی مسلم تصورات کی بنیاد پر ہی تصور میں لاتی تھی۔ سٹریٹجک مفاداتی سبب یا جدیدیت کے اثرات کے تحت انہوں نے پاکستان میں پختونستان وغیرہ کے شوشوں کی حمایت کی بھی ہو، تب بھی خود وہ اپنے آپ کو کبھی پشتون قومی ریاست نہ کہتے تھے اور کہہ بھی نہ سکتے تھے کیونکہ افغانستان میں پشتون سب سے بڑا لسانی گروہ تو تھے (اور ہیں) لیکن اکثریت میں کبھی نہیں رہے اور نہ ہیں۔ اکثریت وہاں مجموعی طور پر تاجکوں، ازبکوں، ہزاروں وغیرہ ہی کی ہے۔

پشتونوں، ازبکوں، تاجکوں، ہزاروں وغیرہ کی مشترکہ افغان قومیت کا نظریہ ستر کی دہائی میں صدر داؤد کی حکومت میں ہی ریاستی سطح پر اختیار کیا جانے لگا۔ کمیونسٹوں نے اسے مزید تقویت دینے کی کوشش کی۔ اور پھر مجاہدین (شمالی اتحاد / موجودہ افغان regime) نے بھی اسے اختیار کیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ تصور اس قدر کمزور و مصنوعی ہے کہ موجودہ افغانستان بھی خود کو دستوری طور پر ایک اسلامی ریاست کے طور پر ہی ڈیفائین کرتا ہے ناکہ قومی ریاست کے طور پر۔ افغانستان کا پورا نام “اسلامی جمہوریہ افغانستان” ہے اور یہ ملک اپنے مشرق میں موجود اسلامی جمہوریہ (پاکستان) اور مغرب میں موجود اسلامی جمہوریہ (ایران) کی طرح ایک کثیر القومی ریاست ہی ہے جس کی اقوام میں سب سے نمایاں قدرِ مشترک اسلام ہی ہے۔

گویا دنیا میں ایک بھی پشتون قومی ریاست نہ موجود ہے نہ رہی ہے۔ بالکل اسی طرز جس طرح کبھی کوئی پنجابی، سندھی، بلوچ قومی ریاست وجود نہ رکھتی ہے نہ کبھی رہی ہے۔ پشتوں افغانستان کے متعدد لسانی گروہوں میں سے اسی طرح ایک لسانی گروہ ہیں جس طرح پاکستان کے متعدد لسانی گروہوں میں سے ایک گروہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ افغانستان میں وہ سب سے بڑا لسانی گروہ ہیں اور پاکستان میں دوسرا بڑا۔ قوم پرستی اور قومی ریاست کے تصورات ہمارے چند طبقات کی ذہنی عیاشی کا سامان ہوں تو ہوں، عوام کے لیے یہ بڑی حد تک اجنبی ہیں۔

ایسے میں کچھ قوم پرستوں کا افغانستان کو “پشتون ریاست” سمجھ کر اسے پاکستان کے مقابل “پشتون عصبیت” کی بنیاد پر سپورٹ کرنا نرم سے نرم الفاظ میں بھی جہالت کہا جاسکتا ہے۔

(Visited 760 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: