کیا عمران خان پاپولسٹ ہیں؟ – احمد الیاس

0

اگر گزشتہ کچھ سال کسی غار کے اندر نہیں رہتے رہے اور بالخصوص اگر آپ انگریزی زبان جانتے ہیں تو آپ نے قومی و بین الاقوامی میڈیا میں پاپولز کی اصطلاح بارہا سنی ہوگی اور عالمی منظرنامے پر اس وقت موجود بیشتر رہنماؤں کے لیے استعمال ہوتی سنی ہوگی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور بھارتی وزیراعظم کے لیے بھی۔ فرانسیسی صدر میکرون سے امریکی صدر ٹرمپ اور ترک صدر اردوان تک یہ لیبل بہت سے لیڈروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ نہ تو یہ سب رہنماء شخصیت کے اعتبار سے یکساں ہیں نہ ان کے نظریات اور پالیسیاں ہی ایک جیسی ہیں۔

تو پاپولزم آخر کیا ہے؟

اس حوالے سے بہت سی آراء کا اظہار کیا جاتا ہے اور ماہرینِ سیاسیات اب تک کسی ایک متفقہ یا جامع تعریف تک نہیں پہنچ سکے۔ تاہم عمومی طور پر پاپولزم کو ایک ایسے بیانیے کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی رو سے کسی ملک کے عوام اور اشرافیہ دو علیحدہ گروہ ہوں اور اشرافیہ کی مفاد پرستی یا حماقتوں کے سبب عوام کو نقصان پہنچ رہا ہو۔

لیکن یہ بیانیہ کئی مختلف شکلوں اور مختلف سطحوں میں سامنے آسکتا ہے۔

پاپولزم کی نیچر کے اعتبار سے کم از کم دو قسمیں شمار کی جاتی ہیں۔
۱۔ نظریاتی پاپولزم
۲۔ غیر نظریاتی پاپولزم

بنیادی طور پر اگر پاپولزم کسی نظریاتی ریفرنس مثلاً قوم پرستی یا اشتراکیت کے ساتھ مل کر پہنچ رہی ہو تو اسے نظریاتی پاپولزم کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت قوم پرستانہ پاپولزم زیادہ نمایاں طور پر ابھر رہی ہے تاہم ماضی میں بالخصوص اور اس وقت بھی کئی ممالک میں بائیں بازو کی پاپولزم اجنبی نہیں ہے۔ بہرحال، وزیر اعظم مودی، صدر اردوان اور صدر ٹرمپ معروف نظریاتی اور قوم پرست پاپولسٹ ہیں۔

اس کے برعکس اگر پاپولسٹ بیانیہ کسی ٹھوس نظریاتی پس منظر کے بغیر کسی معتدل سیاسی رہنماء کی طرف سے پیش کیا جارہا ہو تو اسے غیر نظریاتی پاپولزم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس پاپولزم کی نوعیت فقط زبانی کلامی حکمت عملی کی بھی ہوسکتی ہے اور کسی حقیقی، عملی اور غیر نظریاتی اصلاحی ایجنڈے کے حصے کی بھی۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مئے، فرانسیسی صدر ایمینوئیل اور کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سمیت متعدد معتدل، معقول، غیر نظریاتی اور جمہوری سیاستدانوں کے لیے بھی میڈیا میں پاپولسٹ کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے کیونکہ ان کی تقاریر اور بیانات میں کثرت سے خود کو عوام کا طرفدار بتایا جاتا رہا ہے اور سماجی ناہمواری کے حوالے سے بیزاری کا اظہار ہوتا رہا ہے۔ تاہم یہ سب جمہوریت پسند، معتدل، لبرل اور معقول سیاستدان ہیں۔ پڑوسی ملک بھارت میں اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی ایک انتہائی معتدل اور غیر نظریاتی جماعت سمجھی جاتی ہے لیکن اسے بھی ہمیشہ پاپولسٹ کہا جاتا ہے۔

اگر پاپولزم کی ان دو قسموں کو نتائج کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا تعلق جمہوریت کی دو قسموں کے ساتھ ہے۔
۱۔ پاپولر جمہوریت
۲۔ لبرل جمہوریت

پاپولر جمہوریت ‘اکثریت کی آمریت’ کی ہم معنی ہے جبکہ لبرل جمہوریت میں اکثریت بھی دستور کی طرف سے فراہم کی گئیں شخصی آزادیوں اور شخصی آزادیوں کی ضمانتوں مثلاً اختیارات کی تقسیم، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور مضبوط احتسابی نظام وغیرہ کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔

نظریاتی پاپولزم عموماً ہمیشہ ہی پاپولر جمہوریت کی طرف لے کر جاتی ہے۔ عوام کی اکثریت میں مقبول نظریہ اور رہنماء ہی جمہوریت کا ہم معنی سمجھ لیا جاتا ہے، اس نظریے اور رہنماء کے مفاد میں اختیارات کی تقسیم، مضبوط عدلیہ، کڑے احتساب اور آزاد میڈیا جیسی شرائط کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس غیر نظریاتی پاپولزم یا تو پہلے سے موجود لبرل جمہوریت ہی کے اندر کام کرتی ہے یا کسی اشرافیائی نظام (oligarchy) یا کمزور ہوچکی پاپولر جمہوریت کو لبرل جمہوریت کی طرف لے جانے کے کام آتی ہے۔

مغرب میں لبرل جمہوریتوں کے ابھرنے اور اور ان لبرل جمہوریتوں کے زیادہ جمہوری ہوتے جانے میں وقتاّ فوقتاً سامنے آتی رہنے والی غیر نظریاتی پاپولزم کا بہت کردار رہا ہے۔ آج بھی ٹریسا مئے کو کوئی اخبار یا سیاسی دانشور پاپولسٹ لکھتا ہے تو صرف ان کی اس رائے کے سبب کہ سماج میں ناہمواری بہت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے جمہوریت اشرافیت کا روپ دھار لیتی ہے اور ایک قوم دو قوموں میں بٹ جاتی ہے۔ برطانیہ کی جمہوری جماعت کنزرویٹو پارٹی کا روایتی طور پر غالب بیانیہ “ون نیشن کنزرویٹ ازم” اسی قسم کی پاپولزم کا ایک مظہر ہے لیکن اسے کسی بھی اعتبار سے آمرانہ، قوم پرستانہ یا غیر جمہوری پاپولزم نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس پاپولزم نے بھی برطانیہ کو ایک اشرافیت سے لبرل جمہوریت بننے میں مدد دی۔

اس سارے تناظر میں عمران خان کی شخصیت، بیانات اور سیاست کو دیکھا جائے تو انہیں بجا طور پر پاپولسٹ تو کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان کا بیانیہ کرپٹ اشرافیہ سے بیزاری اور عام آدمی کی فلاح جیسے تصورات کے گرد گھومتا ہے۔ تاہم انہیں کسی بھی اعتبار سے مودی، ٹرمپ یا اردوان جیسا نظریاتی پاپولسٹ نہیں مانا جاسکتا کیونکہ وہ نہ تو قوم پرست ہیں نہ سوشلسٹ اور نہ ہی کسی اور نظریے سے وابستہ۔ بلکہ ان کی غیر نظریاتی پاپولزم بھی اب تک صرف تقاریر کی حد تک محدود ہے، عملاً اس کا کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔

لہذ نتائج کے اعتبار سے بھی عمران خان کی پاپولزم زیادہ سے زیادہ ان ہی کے لیے سیاسی طور پر مضر ثابت ہوسکتی ہے، پاکستان میں لبرل اور دستوری جمہوریت کے سفر کے لیے ہرگز نہیں۔ بلکہ مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں یہاں تک کہا جاسکتا ہے اگر ان کا پاپولسٹ پروگرام عمل میں آکر کامیاب ہوگیا تو یہ پاکستانی جمہوریت کے لیے نیک شگون ہوگا۔

اس کے برعکس ان کے مخالف رہنماء اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت، نظریاتی سیاست اور عوامی بالادستی کے نام پر جو تحریک چلانے کی کوشش پاناما لیکس کے منظر عام پر آنے سے اب تک کرتے آئے ہیں، اسے موقع پرستانہ نظریاتی پاپولزم سے قریب تر کہا جاسکتا ہے۔

پاپولسٹ رہنماؤں کی ایک سب سے بڑی اور بنیادی خصوصیت اداروں، بالخصوص عدلیہ سے تصادم یا اداروں مثلاً فوج، پولیس، احتسابی نظام، میڈیا اور عدلیہ کو اپنے شخصی کنٹرول میں کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں معروف نظریاتی پاپولسٹ صدر اردوان نے ترکی میں یہی کیا۔ اس وقت وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ بھی یہی کر ہے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں اداروں سے تصادم اور جمہوری بالادستی کے نام پر انہیں اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرنے کے چیمپئین نواز شریف ہیں۔ ان کی تینوں حکومتیں اسی وجہ سے ناکام ہوئیں۔ اگرچہ نواز شریف نہ قوم پرست ہیں نہ سوشلسٹ نہ ہی ان کا کوئی اور مستقل نظریہ ہے تاہم وقتاً فوقتاً مختلف نظریاتی گروہ ان کے پرچم تلے اکٹھے ہوتے رہتے ہیں، پہلے پہل یہ سلسلہ نظریاتی دائیں بازو کے دونوں دھڑوں یعنی اسلام پسندوں اور پاکستانی قوم پرستوں سے شروع ہوا اور آج لسانی قوم پرست اور بائیں بازو کے نظریاتی لوگ بھی عملاً نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گویا نواز شریف بغیر کسی مخصوص اور مستقل ذاتی نظریے کے نظریاتی پاپولسٹ ہیں جن کے پیشِ نظر ہمیشہ پاپولر جمہوریت کے ذریعے منتخب شخصی آمریت کی منزل رہی ہے۔

پیپلز پارٹی دور میں اگرچہ اداروں کے ساتھ اس قسم کی مرکوز بر شخصیت محاذ آرائی یا تصادم نہیں ہوتا رہا لیکن پارلیمان کی بالادستی کے نام پر اداروں سے رسہ کشی ہمیشہ جاری رہی۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کا معاشی و سیاسی ڈھانچہ انتہائی ناہموار ہے اور قانون کی حکمرانی کا تصور رائج نہیں، پارلیمان کی بالادستی پاپولر جمہوریت اور منتخب شخصی آمریت ہی کا فارمولا ہے، یعنی تقریباً اس قسم کا نظام جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تھا۔ گویا پیپلز پارٹی بھی بائیں بازو کی موقع پرست نظریاتی پاپولسٹ جماعت ہی ہے۔

یہ بھی دیکھئے:  عمران خان پلیز ! تبدیلی کے خرگوش برآمد کیجئے — مستنصر حسین تارڑ
(Visited 162 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: