اصل ہیرو کون؟ —— گل ساج

0

مہاراجہ رنجیت سنگھ کو پنجابی قوم پرستوں نے فخریہ طور پہ ہیرو کے سنگھاسن پہ بٹھا دیا ہے۔ انکا حق ہے جسے چاہے ہیرو بنائیں جسے چاہے ولن، انہیں اپنی تہذیب و ثقافت اقدار کی من پسند تعبیر کرنے کا حق حاصل ہے۔
کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے مگر اجتماعی انسانی ضمیر چند سوال اٹھانے کا حق بھی رکھتا ہے۔
کیا کوئی شخص صرف اس بِنا پہ ہیرو ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ اس نے اُس دھرتی پہ جنم لیا (سن آف سوائل) خواہ اسکا کردار کیسا بھی ہو۔

کیا کوئی شخص اس بِنا پہ ہیرو ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک “مخصوص قومیت” کی بڑی ایمپائر کھڑی کی خواہ اسکے لئیے اس نے اپنے ہی قوم کے خون سے ہولی کھیلی ہو(صرف اسلئیے کہ وہ اسکے ہم وطن تو تھے مگر ہم مذہب نہ تھے) اپنے ہی علاقوں کو تاراج کیا ہو۔

کیا ایسا شخص ہیرو ہو سکتا ہے جو بیرونی سامراج و استعماری قوتوں سے جنگ لڑنے، مزاحمت کرنے کے بجائے باقاعدہ معاہدہ کرکے اپنی قوم کو بیچ دے، تقسیم کردے۔
“ادھر ہم ادھر تم” ستلج کے اس پار انگریز اور اس پار رنجیت سنگھ۔ ۔ عجب ہے نہایت عجب ہے پنجابی قوم کی “وَنڈ ” قوم کو تقسیم کرنے والا ہی پنجابی قوم پرستوں کا ہیرو ٹھہرے۔
اسی ہیرو رنجیت سنگھ کی سِکھا شاہی فوج اور ایسٹ انڈیا (انگریز) مشترکہ فوجی اتحاد بنا کے افغانستان پہ حملہ آور ہوں (یہاں جارحیت کو کیا نام دیں گے؟) اسکے صِلے میں رنجیت سنگھ کو پنجاب کے دوردراز خودمختار علاقوں (ملتان وغیرہ ) پہ قابض ہونے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔

سوال یہ ہے کہ قوم پرستوں کے لئیے ایسا شخص ہیرو ہو سکتا ہے جو سامراج کا اتحادی ہو؟

کیا ایسا شخص ہیرو ہو سکتا ہے جو مخالف مذہب کی یادگاروں کو ملیا میٹ کردے۔۔ عبادت گاہوں کو اپنے گھوڑوں کی اصطبل گاہ بنا دے۔۔ باغوں کو اجاڑ دے عمارتوں کو کھنڈر کر دے۔۔ شہر کو نذر آتش کردے ؟

دوسری طرف وہ شخص ہے جسکے آباو اجداد نقل مکانی کر کے کسی شہر میں مستقل سکونت اختیار کرتے ہیں اور اس شہر کی زبان ثقافت روایات اقدار کو اپنا لیتے ہیں انکی آنے والی نسل اس علاقے کی نسبت سے سرائیکی کہلوائے، سرائیکی زبان بولے سرائیکی پہناوے پہنے۔ ۔

پھر اس شخص کی اولاد اپنی صلاحیت محنت ذہانت بہادری سے اس شہر اس علاقے کے لوگوں کو دِلوں کو فتح کر لے۔ عوام اسے اقتدار دیں اور وہ علاقے کی خدمت کرے۔۔
کیا وہ شخص صرف اس بِنا پہ ہیرو نہیں بن سکتا کہ اسکے آبا اس دھرتی کے جم پال نہیں تھے؟

حالانکہ وہ خود اس خطے کا جم پال اس خطے سے محبت رکھنے والا اس خطے کو ترقی دینے والا
حتی کہ اس خطے کی حفاظت کے لئیے اپنی جواں اولاد اور خود کو قربان کردینے والا۔

مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں ایک پٹھان خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے ملتان آباد ہوا۔
افغانستان اسوقت دو حصوں میں منقسم تھا ایک پہ مغل بادشاہ حکمران تھے دوسرے حصہ ایران کا صفوی خاندان کے زیر تسلط تھا۔ ۔ افغانستان پہ مکمل قبضے کے لئیے مغلوں اور ایرانیوں میں کشمکش جاری تھی۔
احمد شاہ ابدالی ایران کے نادر شاہ درانی کا منصب دار تھا یوں یہ مغلوں کا حریف تھا۔ ۔
والی ملتان مظفر خان کے آباو اجداد احمد شاہ کے برعکس مغلوں کی حمایت کرتے تھے۔ ۔
(غور کیجئیے کہ پنجابی قوم پرست جس احمد شاہ ابدالی کو لٹیرا کہتے ہیں نواب مظفر خان کے آباو اجداد اس کے خلاف تھے)
اسی خاندان کے چند بزرگ ملتان میں آ کے آباد ہوئے۔
سالوں بعد اس خاندان میں زاہد خان نامی نہایت قابل حلیم الطبع اور فاضل و دانا شخص پیدا ہوا۔ اپنی قابلیت اور ذہانت و اہلیت کی وجہ سے1738 میں ملتان کا نواب مقرر ہو گیا۔
زاہد خان 1748 ء میں فوت ہوا۔
اسکی وفات کے نو سال بعد 1757 ء میں مرہٹوں نے ملتان پر قبضہ کر لیا زاہد خان کے بیٹے نواب شجاع خان نے کچھ سال بعد ملتان کو مرہٹوں سے آذاد کرا لیا۔
نواب شجاع نے ملتان سے23 میل جنوب کی طرف ایک قلعہ شجاع آباد تعمیر کیا(شجاع آباد شہر ملتان ڈویژن کا بڑا شہر ہے) جو آج بھی نواب شجاع کی عظمت کی تاریخی گواہی دے رہا نواب شجاع خان 1773 ء میں فوت ہوا۔
بعد ازاں 1779 ء میں اس کے بیٹے مظفر خان کو ملتان کی صوبیداری ملی (فقیر کا ضلع مظفر گڑھ نواب مظفر خان کے نام سے موسوم ہے )
1779 ء سے 1818 ء تک نواب مظفر خان ملتان کا خود مختار حکمران رہا۔ ۔
رنجیت سنگھ کی ہوسِ اقتدار ملتان کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ۔
رنجیت سنگھ نے ملتان پہ اٹھارہ حملے کئیے، نواب مظفرخان نے 17 حملے پسپا کر دئیے۔
18 واں حملے میں رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے کھڑک سنگھ کو بہت بڑی فوج دے کر ملتان کو زیر کرنے کے لئیے بھیجا۔
تاریخ میں اسے ’’ جنگِ ملتان ‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ تین ماہ جاری رہی۔
نواب مظفر خان نے 72 سال کی عمر میں اپنے شہر کا جوانمردوں کی طرح دفاع کیا۔
نواب مظفر خان اپنے 6 بیٹوں اور ایک دُختر اور دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ شہید ہو گئے۔۔
جرات بہادری ملاحظہ ہو کہ نواب مظفر خان کی بیٹی باقاعدہ جنگ میں سپاہی کی طرح شریک ہوئی۔

“نواب مُظفر خان” سرائیکیوں کے لیے وطن پرستی اور دھرتی سے محبت کی علامت ہیں، بیرونی جارحیت استعماریت سامراجیت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے۔
سچ ہے کہ ایک قوم کا ہیرو دوسری قوم کے لئیے ولن ہوتا ہے۔
تاریخ میں اخلاقی معیارات مُتغیر بہ ہیں روایات و اقدار بدلتے رہتے ہیں۔
ایک عہد کا حق دوسرے عہد میں باطل قرار پاتا ہے۔
اسی طرح مُمکن ہے دوسرے عہد کا باطل تیسرے عہد میں سچ قرار پائے۔
لیکن اپنی دھرتی کے لیے لڑنے والوں کو تاریخ نے کبھی ولن قرار نہیں دیا۔
ملتان کی تاریخ مظفر خان شہید کو ہیرو قرار دیتی ہے۔
حقیقی ہیروز حملہ آور نہیں بلکہ مزاحمت کار اور دھرتی پرقربان ہونے والے لوگ ہوتے ہیں۔
پنجابی قوم پرستوں کو رائے میں مہاراجہ رنجیت سنگھ “دھرتی کا بیٹا “( Son of Soil ) مقامی شخص ہے انکی ہیروازم کی بس اتنی سی دلیل ہے۔

گرچہ نواب مظفر خان کے آباو اجداد غیر مقامی تھے لیکن اس تاریخی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ نواب مظفر خان نے ملتان کا دفاع اپنے خون سے کیا۔ انہوں نے اپنے 7 بیٹے اور اپنا پورا خاندان وطن پہ قربان کردیا۔
نواب مظفر خان کو ہیرو قرار دینے کی اتنی مضبوط دلیل ہے۔
دھرتی کی مٹی کو اپنے اور اپنے خاندان کے خون سے سینچا۔ ۔ ۔ اور ملتان کے لوگوں نے اس جنگ میں نواب مظفر کا بھرپور ساتھ دیا۔
نواب مظفر سے زیادہ “دھرتی کا پُتر” وسیب ذادہ ( سن آف سوائل ) کون ہو گا۔ ؟
نواب مظفر خان شہید سے بڑھ کر ہیرو کون ہوگا؟
دراصل مزاحمت کا استعارہ، حریت پسند، اصل ہیرو تو “مظفر خان شہید” ہے۔۔۔

(Visited 173 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: