داستان زیست: اسلام آباد، مابعد — قسط 6 —– محمد خان قلندر

0

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

پس منظر۔ 
کہانی یا داستان لکھنے والے کا مقام جنم دینے والی ماں کا ہوتا ہے تو پڑھنے والے کا رتبہ جنم دلانے والی دائی  کا ہے۔
قارئین کا رد عمل اور تعداد لکھاری کے جذبات کو انگیخت  دیتے ہیں۔ یہ داستان زیست ہماری زندگی کی کہانی ہے ۔ ظاہر ہے اس میں اظہار ذات ہے ۔ ہم اور میں کی گردان بھی ہو گی کہ ہم راوی بھی ہیں اور ایک کردار بھی ۔

شعوری کوشش ہے کہ اپنی غلطیوں اور خطاؤں کا ذکر مفصل طور  پر لکھیں۔ محسوس ہوا کہ کہانی میں سست روی ہے۔۔۔۔
آج کل عجلت کا زمانہ ہے ۔ لیکن زندگی کی کہانی لکھنے میں طوالت سے مفر نہیں۔ اللہ کریم کا شکر ہے کہ یاداشت ابھی تک محکم ہے۔ ہمیں تو اپنی پیدائش کا واقعہ جو تین عدد موجود ہر دائی  نے بچپن میں ہمیں نہلاتے اتنی بار سنایا۔۔ لگتا ہے ہم خود بھی اس معرکہ کے عینی گواہ ہیں ۔

تو محترم قارئین اسے لکھتے” ہم ” اور” میں” کی تکرار تو ہو گی۔ مجبوری ہے اس سے صرف نظر ضروری ہے۔ آپ سب سے اپنایت، محبت اور پیار کا تعلق ہے تب ہی یہ سب آپ کو سنا رہے ہیں۔ ہم سب اسی ایک جیسے ماحول میں پروان چڑھ  رہے ہیں یہ کہانی آپ کی بھی ہے، واقعات حقیقی ہیں بس  کچھ کرداروں کے نام فرضی ہیں کہ کسی کی ذات مظہر ہونے کا احتمال نہ ہو۔

نئی قسط۔
ایمبیسی میں پہلے سال کے اختتام سے پہلے بہت اتھل پتھل ہو گئی، لیڈی سیکرٹری کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، اس نے آخری دن تک دفتر اٹینڈ کیا۔ ولادت کے بعد ایک ماہ کی چھٹی لی۔ نئے سفیر صاحب کی آمد ہوئی ، بہت ہی نفیس انسان  میسر  آئے ۔ صدر پاکستان کو اسناد سفارت پیش کرنے سے پہلے ان کی رہائش گاہ کی مین مارگلہ روڈ پر منتقلی عمل میں آئی ۔
سابق ناظم الامور کی رخصتی بھی اس کے ساتھ ہوئی ۔ اس دوران سفارت کار کے گھر کا سامان بیچنے والے اسلام آبادی کباڑیوں سے ہماری راہ و رسم بہت بڑھ گئی۔ رہائش گاہ کا سامان پیکرز کمپنی نے شفٹ کیا۔ تمام اشیا نئی رہائش  میں سما گئیں۔ بیڈنگ لینن اور کراکری سفیر صاحب کی بیگم کی   پسند کے مطابق خریدی گئی۔
یہ سامان منتقلی تو آرام سے ہو گئی۔ چار اے سی کم پڑے   تو وہ نئے خرید لیے۔۔

سفیر صاحب کی پروموشن کے بعد پہلی پوسٹنگ تھی جوان العمر تھے انکی سادگی اور درویشی سٹائل منفرد تھا۔
سیکرٹری صاحب کے گھر کا سامان بیچنا اچھا خاصا درد سر تھا۔ انکی کار صرف دو سال پرانی تھی ۔ پاکستان میں  گاہک بہت تھے پر مسئلہ ڈیوٹی کا تھا۔ ڈین آف کور کے آفس سے سرکولر برائے کار سیل دیگر ایمبیسی کو بھجوایا فار ایسٹ کے نووارد ڈپلومیٹ نے اصل پرائس پر خرید لی۔ باقی سامان کے لیے  کباڑیوں نے ایکا کر لیا، ہر ایک یکمشت سارے گھر کے سامان کی بولی دیتا جس میں چند ہزار اوپر نیچے ہوتے، صاحب دو دن میں زچ ہو کر سخت پریشان ہو گئے۔

ہم سفیر صاحب کی شفٹنگ سے فارغ ہوئے تو انکے گھر جا کر  بیٹھ گئے، اس کام کو کرنے کا پہلا موقع  تھا۔ حیرانی ہوئی  کہ ہر کباڑیے  کا ہمارے سٹاف میں کوئی  نہ کوئی  سفارشی تھا۔ سب سے زیادہ آفر شاید  ایک لاکھ سے کم تھی۔
ہم نے ان سے بارگین کرتے الٹی گنتی سمجھ لی۔ سامان کی لاٹیں بنا دیں، دوسرا سب جاننے والوں کو بھی آگاہ کر دیا۔
ڈاکٹر دوست نے نیا گھر بنایا تھا اس نے آٹھ اے سی اسّی ہزار میں لیے ، نئے ہی تھے بازار میں ایک کی قیمت  16000 تھی۔ اس طرح فرنیچر سمیت سارا ساز و سامان دو لاکھ سے زائد میں بک گیا، ساتھ کتنی چیزیں ہم نے سٹاف کو بھی گفٹ کروا دیں ۔ لیکن جب مجھے سلے ہوئے چار سوٹ آفر ہوئے تو میں نے انکار کر دیا، اس پہ  سیکرٹری صاحب برا مان  گئے۔ ہم نے ان سے لے کر  سوٹ ڈرائیوروں کو دے دیے ۔ سٹاف نے اسے ایشو بنانے کی کوشش کی۔
ہم نے صاحب سے معذرت کی، ساتھ یہ جتلا دیا کہ کباڑی مجھے کتنی آفر دے چکے تھے۔
خیر ہمارے ہاتھ بہت اچھا کباڑیا بننے کا ہنر بھی لگ گیا۔

اس ہلے  گلے  کی مصروفیت کے علاوہ ہم نئے سفیر کے سامنے اپنی پوزیشن کی حساسیت کی فکر میں تھے فرحی سے ملاقات بھی چھوڑی ہوئی  تھی۔ لیڈی سیکرٹری کی چھٹی کے دوران ہم نے ٹائیپنگ کلرک کو ٹلیکس اور فون کی ڈیوٹی دی۔
گاہے گاہے خود بھی وہاں ڈیوٹی کرتے رہے۔ اس سے ہمارے سٹاف کے بہت سے راز ہم پہ  آشکار ہو گئے۔خاص طور پر کچھ فون کالز ایسی آئیں اور معلومات جن کا ہم  گمان  بھی نہیں  کر سکتے تھے۔
سفیر صاحب کی اسناد سفارت پیش کرنے کے اگلے دن سے دوسرے ممالک کے سفیر صاحبان کی کرٹسی کالز شروع ہو گئیں۔ پہلے دن تین سفیروں کا  آگے پیچھے وزٹ تھا ۔ لیڈی سیکرٹری کی چھٹی کا آخری دن تھا۔ہم نے تمام پرٹوکول پورے کیے ۔ لیکن محسوس کیا کہ سابق ناظم الامور ہمارے بارے کوئی  کلمات خیر نہیں  بلکہ شکوک و   شبہات سفیر صاحب کے ذہن میں ڈال گئے ہیں۔ اگلے چند روز میں نئے فرسٹ سیکرٹری۔ دو سیکنڈ سیکرٹری اور دو اتاشی بھی پہنچ گئے۔

مترجم نے استعفی دیا۔ دو کلرک نکال دیے  گئے۔ نیا مترجم ، عربی اور انگلش ٹائپسٹ لڑکیاں بھرتی کی گئیں ویزہ سیکشن میں بھی دو کلرک رکھے گئے، اور سب سے اہم تبدیلی یہ ہوئی  کہ ہمیں بھی اکاؤنٹس کے لئے اسسٹنٹ دیا گیا۔
بقول سفیر صاحب اوور آل ایڈمن کی ذمہ داری لوکل سٹاف میں سے ہماری ہو گی۔

 

شکر پڑیاں کا پرانا منظر

بلڈنگ میں کمرے کم پڑے۔ ہمارے والے کمرے میں پارٹیشن لگا کے تین حصے کیے  گئے۔ مطلب اوقات یاد دلائی  گئی۔۔۔ہم نے ایک ہفتے میں لوکل سٹاف کی ڈیوٹی کا چارٹ بنایا۔ ہر ڈپلومیٹ کے ساتھ ایک بندے کو مختص کیا۔ویسے چانسری میں رونق خوب لگ گئی۔ ایڈمن اتاشی کو چند دنوں میں سارے انتظام ہینڈ اوور کر دیے ۔ ہمارے ذمہ فارن آفس،پروٹوکول، پبلک ریلیشن، بنک انشورنس، سروسز اور شاپنگ و دیگر متفرق کام تھے۔ جس کا پہلا فائدہ یہ ہوا کہ خالد شاہ کو فائیو سٹار ہوٹل میں ایونٹ مینجر کی جاب مل گئی بیچارہ کتنے مہینوں سے کوشش کر رہا تھا۔

بہت دنوں کے بعد فرحی کورڈ مارکیٹ میں ملنے آئی ۔ آبپارہ کے پاس اوپن ایئر ریسٹورینٹ میں لنچ کرنے گئے۔
اس نے اتنی غیر حاضری پر ناراضگی کا سرسری اظہار کیا۔ ہم نے اپنے حالات و واقعات اختصار سے بتائے۔ اسکے چہرے پر الجھن کے آثار تھے جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو ۔ لنچ کر کے شکر پڑیاں والی سڑک پہ  کار کے اندر وہ کسمسائی۔۔۔میری رانوں پہ  ہاتھ رکھ کے بولی، کیا تم آج ابھی یہاں مجھ سے  پیار  نہیں  کر سکتے ؟؟

وہاں سے بائیں ہاتھ کنول جھیل کو پتلی سی سڑک جاتی ہے جس پر دونوں طرف سرُو کے گھنے درخت ہیں ، بالکل سنسان رہتی ہے، بعد دوپہر کا وقت تھا کار اس پہ  موڑ لی۔ جھیل پہ  کوئی  نہیں  تھا وہاں سے واپس مڑے ،آدھے رستے پہ  اس نے کار رکوائی ، دور دور تک کوئی   ذی نفس نہیں  تھا۔اس کے حکم کی تعمیل بخیریت تکمیل تک پہنچی۔ ۔۔۔مین روڈ پر آئے ۔ اس ناگہانی خواہش  کی وجہ تسمیہ پوچھی تو  کہنے لگی۔۔۔ تم برداشت کر پاؤ گے ؟ میں تو سرور میں تھا ۔ کہا کیوں نہیں ۔۔
بولی گاڑی سائیڈ پہ  روکو۔ میں نے کار سڑک سے اتار کے درخت کے سایہ میں روک کے بند کر دی۔
کافی دیر کے بعد تھوک نگلتے بولی۔ میرے خالہ زاد کے ساتھ میری شادی طے ہو گئی ہے۔

مجھے یوں لگا کہ میں یہ کہیں لاشعوری  توقع رکھتا تھا۔ میں نے کہا۔۔ مبارک ہو !کہنے لگی تم ۔۔۔ تم کیا کرو گے ؟
اب مجھے شاک لگا۔ بدن تڑپ کے رہ گیا۔ لمحہ بھر کو اس کے ساتھ گزارے وقت کی لذت دماغ میں عود آئی ۔۔۔۔لیکن جب میں بولا تو لہجہ اور زبان نارمل تھے۔ میں نے کہا۔ دیکھو ہماری شادی ہو نہیں  سکتی ناں ۔۔۔۔
ایسے کیسے اور کتنے دن اور رہ سکتے ہیں۔ یہ اچھا ہوا ہے، میرے لیے  یہ آج کا مِلن زندگی بھر کا گفٹ ہے۔
کار سٹارٹ کی۔ لگا پل بھر میں سکستھ روڈ آ گئی۔ چھوٹی سڑک پہ  موڑ کے کار روکی۔ اس نے لپک کے منہ چوما۔۔۔روتے ہوئے  اتری ، میری طرف گھوم کر  آئی  ،سسکتے ہوئے کہا۔ تم شادی میں ضرور آنا ۔ ورنہ میں انکار کر دوں گی۔۔
وہ کوارٹروں کے بیچ رستے پہ  چلتی گئی میں دیکھتا رہا ۔۔ گاڑی ریورس کی ۔پچھلی دیوار سے ٹکرائی  ۔۔ لائٹ ٹوٹی۔۔
تو خود سے کہا۔ چلو دل نہیں  ٹوٹا، لائٹ نے یہ ٹوٹنا اپنے پہ  لے لیا۔۔۔

چاندنی چوک گھر پہنچ کے مالک مکان ملک صاحب کو جو کئی روز سے دبے دبے لفظوں میں پورشن خالی کرنے کا کہہ  رہے تھے۔ انہیں بلا کر خوش خبری دی کہ کل سے اسلام آباد میں گھر کی تلاش شروع کر دوں گا۔
بیڈ روم میں ٹی وی ۔ وی سی آر آن کیے  ۔ کشور کمار کے گانے۔ ۔میرے محبوب قیامت ہو گی، کی کیسٹ لگائی،بیڈ پہ لیٹا۔۔۔ ۔ پتہ نہیں  کیوں مجھے اپنا آپ پہلے بالکل خالی اور نچڑا ہوا لگا۔ پھر گھن سی آئی۔۔۔اور میں  اس احساس سے چھٹکارہ پانے کے لیے   نہانے چلا گیا  ۔۔۔
جاری ہے ۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: