خورشید ندیم صاحب کے تجزیے کا تجزیہ —- غلام شبیر

1

خورشید ندیم صاحب کہنہ مشق لکھاری ہیں۔ ان کی تحاریر گپ شپ کے برعکس منظم تجزیہ کی بھرپور کوشش ہوتی ہیں جس سے اردو صحافت بڑی حد تک محروم ہے۔ مذہبی سماجیات انکا موضوع خاص ہے مگران کی تحریروں میں مذہبی سماجیات کے وہ تصورات جوان کے مخصوص مذہبی مکتب فکرکی ترجمانی سے قاصر ہوں، شاذ ہی جگہ پاتے ہیں۔ تاہم اختلاف رائے کا مہذب منجھا ہوا اسلوب کوئی آپ سے سیکھے۔ مطالعہ اور فکری گہرائی سے محروم عہد کے لئے ایسے قلم کار نعمت سے کم نہیں۔ کم کوش اورسہل پسند قارئین کیلئے ایسے لکھاریوں کے تجزیے اور تصورات تیر بہدف نسخہ ہوتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید معروف مستشرق برنارڈ لیوس کی تحریروں کا پو سٹ مارٹم کرتے ہوئے یہ اعتراف ضرورکرتے ہیں کہ یہ تحریریں Specious arguments سے بھرپور ہیں۔ بصد احترام میری یہی رائے خورشید ندیم صاحب کے متعلق ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس کا تعلق کسی مخصوص سیاسی گروہ اور مخصوص مذہبی مکتبہ فکرسے ہو اسے پرخار وادی صحافت میں قدم رکھنا ہی نہیں چاہئے اور اگر رکھتاہے تو پھر تحریر میں خاص سیاسی جماعت اور مذہبی مکتب فکرکی ترجمانی نہیں ہونی چاہئے۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس مذہبی مکتب فکر کی مذہبی تعبیرات مقامی اور بین الاقوامی سامراجی استحصالی سیاسی نظام کے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں۔

ریاست یا معاشرے میں سماجی، سیاسی اورمعاشی انصاف کا نفاذ جو تبلیغ محض سے کہیں زیادہ سیاسی طاقت کا خواستگار ہے اورسیرت رسول بھی جس پر شاہد ہے وہ ان کی مذہبی تعبیرات سے خارج ازبحث ہے۔ خیر یہ کہانی پھرسہی سردست میں کچھ تحفظات پیش کروں گا خورشید ندیم صاحب کے اس کالم پر جو27جون  2019کو دنیا نیوزمیں “تجزیے کا تجزیہ” کے عنوان سے چھپا ہے۔

میرے فہم کے مطابق موصوف نے یہ مدعا پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ یورپ میں فرائیڈ، فرام اوردرخیم اور ڈیوڈ ہیوم وغیرہ نے سماجیات کو موضوع بنا کر اپنی معاشرت کی حقیقی صورت حال کا درست جائزہ لیا جبکہ ہمیں پچھلی تین صدیوں سے ایسے دماغ میسر نہیں آئے۔ سماجیات میں لے دے کرشاہ ولی اللہ کا نام آتا ہے۔ اور جو نمایاں ہوئے ان میں جمال الدین افغانی جیسے ہی تھے اورحیرت ہے وہ اپنے عہد کی تبدیلیوں کا ادراک نہ کرسکے زمانہ سلطنتوں کے عہد سے قومی ریاستوں کے عہد میں داخل ہو رہا تھا اور وہ مسلمانوں کے سیاسی اتحادکا خواب دیکھ رہے تھے۔ مزید لکھتے ہیں کہ مغرب کے برخلاف مسلم معاشرے میں تخیل کے گھوڑے ایک ہی میدان میں دوڑتے رہے: سیاسی اقتدار کا احیاء۔ عظمت رفتہ کی بازیافت۔ اقبال بھی اسی تصورکے اسیررہے۔ ہاں مگر مغرب کے علم سے براہ راست آشنائی نے ان پریہ عقدہ وا کیا کہ قوموں کے عروج وزوال کو سماجیات کے حوالے سے سمجھنا ضروری ہے۔

یہ تجزیہ ایک خاص نفسیاتی اپروچ کا مرہون منت ہے۔ ڈاکٹراقبال احمد جسے یورپ سیکولرصوفی اور عہد جدید کا ابن خلدون کہتا ہے، لکھتے ہیں کہ جب پہلے پہل یورپ کی نوآبادیاتی طاقتوں کی اہل اسلام سے مڈبھیڑ ہوئی اورپورے مسلم ایشیاء اورافریقہ پریورپ کا تسلط قائم ہوگیا تو ایک ہمہ جہت عظیم حملہ مستشرقین کی طرف سے ہوا۔ برطانوی مصنف ولیم میور اورفرانسیسی مفکررینان وغیرہ نے اسلام کو بدویت کا مظہر قرار دیتے ہوئے علم وسائنس اورتہذیب وترقی کا دشمن قراردیا۔ ایک ایک پہلو پر تنقید سے اسلام کو Discredit کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی۔ ایڈورڈ سعید کا موقف ہے کہ ایسے مصنفین یہ سب کچھ استعمار کا سیاسی غلبہ قائم رکھنے اور کارپوریٹ کلچرکے مفاد کیلئے کر رہے تھے۔ اقبال احمد لکھتے ہیں کہ ہونا تویہ چاہئے تھا کہ عالم اسلام سنجیدہ فکری کا مظاہرہ کرتا اپنی مذہبی فکر کو منظم شکل دیتا مگر چاروں طرف سے تابڑ توڑ حملوں نے مسلم اسکالرز کی دفاعی جبلتوں (Defensive Instincts)ؤکو بھڑکا دیا اور ساری توانائیاں الزامات کا جواب دینے میں صرف ہوتی رہیں۔ سیدامیرعلی اینڈ کمپنی اسی رویے کی پیداوا ر ہیں۔ ادھر اہل یورپ پر احساس برتری کا خبط سوار تھا جو خود کو ناقابل شکست وائٹ مین سپریمیسی کا پیکر سمجھتا تھا جب 1905میں جاپان روس جنگ میں جاپان نے گورے روس کو چت کیا اور پھر بعد میں نوآبادیاتی شکنجہ ٹوٹنا شروع ہوا تو بقول اقبال احمد پہلی دفعہ Revisionist School سامنے آیا۔ اہل یورپ کا زعم ٹوٹا اورعالم اسلام نے آزاد سانس لیا تو دونوں طرف ایسے اسکالرز سامنے آئے جنہوں نے ایک دوسرے کو برابری کی سطح پر دیکھنا شروع کیا۔ اس میں کینٹ ویل سمتھ اور رمیکسم روڈنسن کے نام قابل ذکر ہیں۔ سمتھ نے کہا کہ یورپ کوسمجھنا ہوگا کہ سیارہ زمین پراس کی سانجھ کم ترنہیں بلکہ برابرکے انسانوں کیساتھ ہے۔ اقبال احمد لکھتے ہیں قریب تھا کہ یہ برابری کا تصور جڑ پکڑتا مگر عالم اسلام میں استعماری طاقتوں کے تعاون سے پے درپے مارشل لائوں نے اس دانشور ایلیٹ کو نگل لیا جو یورپ کیلئے چیلنج تھے۔ ڈکٹیٹرز کو بھی ملائی اسلام راس آیا اور ایک دفعہ پھران نوآبادیاتی طاقتوں کے Stakes اور کارپوریٹ مفادات ان نوآزاد ریاستوں میں بڑھ گئے اوریوں مستشرقین ایک دفعہ پھر استعمارانہ اور کارپوریٹ مفادات کیلئے متحرک ہوگئے۔ اب جبکہ مغربی میڈیا اپنے استعماری عزائم کیلئے چوبیس گھنٹے اسلام کیخلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہو، اوراس پر فکر اسلامی کے ماہرین کی بجائے سماجی علوم کے ماہرین اکادکا واقعات کی بنیاد پراسلام کو مطعون کرنے میں جتے ہوں تو اپنی تہذیبی اور ثقافتی میراث سے نابلد سیکولر نظام تعلیم کی پیداوارلبرل سیکولرمسلمانوں کیلئے مرعوبیت فطری امرہے۔

فرائیڈ

خورشید ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ “فرائیڈ نے قضیے کی بنیاد پر انگلی رکھ دی ہے۔ انسان جبلی تقاضوں کا اسیرہے۔ انسان جبلی تقاضوں کا سیرہے اوریہ چاہتا ہے کہ اس کی خواہشات کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کے برخلاف سماج ایک تنظیم کا متقاضی ہے جو جبلتوں کو بے مہار چھوڑنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ زندگی کو ان دوانتہائوں کے مابین بسرہونا ہے۔ ایک توازن کی تلاش اس کا اصل امتحان ہے ” ہونا تویہ چاہیئے تھا کہ موصوف فرائیڈ کے اس متشددانہ تصورکو قرآن اورسیرت کی کسوٹی پرپرکھتے مگرجملے کی ساخت معنی خیزہے کہ اس نے قضیے پرانگلی رکھ دی یعنی پسماندگان کیلئے کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔ اورکیا اچھا ہوتا کہ موصوف یہ بھی بتادیتے کہ فرائیڈ کو مینارمیں کیا نظرآیا اورعبادت گاہوں کے گنبد میں انسانی جبلتوں کے لبھانے کیلئے کیا سامان ہے۔ یہ بھی وضاحت کردیتے کہ جوان جبلتوں کو بے مہارنہیں چھوڑتیں وہ کلیسا سے بلند بینکوں کی عمارات، اینٹ پتھراورگارا مٹی ہیں یا وہ بھی انسانی ذہن ہی ہیں جو ان ننگی جبلتوں کو نکیل ڈالتے ہیں۔ تھوڑا فرائیڈ کی اپنی نفسیات کا ہی جائزہ لے لیتے کہ وہ کن بنیادوں پریہ کہہ رہاہے۔ فلسفے کا بنیادی اصول ہے کہ کوئی جتنا بڑا مفکرکیوں نہ ہواپنے زمان ومکاں، تہذیبی، ثقافتی اورمذہبی ورثے کا اسیرہوتاہے۔ برٹرینڈرسل سمیت یورپی مفکرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ تہذیب مغرب کی بنیادیں یونانی تہذیب سے مستعار ہیں۔ یونان وروم اوریہودیت وعیسائیت تہذیب مغرب کے بنیادی عناصرہیں۔ یونانی لٹریچرمیں ایک کردار Promethius ہے جس نے انسان کو خدا سے نجات دلائی اوروہ یہ نہیں چاہتا کہ انسانی معاملات میں خدا کی مداخلت ہو۔ اس کہانی کا ماحصل زمین پر Human order with human answers ہے۔ ظاہر خدا کا تصور انسان پرکچھ اخلاقی قدغنیں لگاتا ہے جسے اہل یونان نے انسانی معاملات میں بے جا مداخلت سمجھا۔ یوں تہذیب یونان خدا دشمنی اورخدا بیزاری سے عبارت ہے۔ جب یہودیت اورعیسائیت کا تہذیب یونان سے واسطہ پڑاتو فکری لین دین فطری تھا اورجب ان کے مذہبی نسخے بھی تحریف اورافراط وتفریط کا شکارہوچکے تھے تو یہ لین دین اورآسان ہوگیا۔ تورات و انجیل کی تعبیرات کو یونانی لٹریچراورتصورات سے ہم آہنگ کیا گیا۔ آدم وحوا اورابراہیم سے متعلق ایسے واقعات گھڑے گئے جوتہذیب یونان کے فکری دھارے سے ہم آہنگ ہوں۔ توارث گناہ (Heriditary Sin) کا فلسفہ درآیا۔ گناہ تو انسان کے ورثے میں ہے اس سے مفرکیسا۔ Atonement کا تصورابھرا۔ عیسیٰؑ نے مصلوب ہو کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے۔ جو چاہو کرو۔ اورآگے بڑھے کہ خدا نے پدرانہ جبلت سے انسان کو پیدا کیا ہے مواخذہ کاہے کا؟ بائبل میں موجودحضرت ابراہیم کے واقعات کو Promithian Myth سے ہم آہنگ کیا گیا۔ ابراہیم سے کہا گیا کہ زندگی کو مصائب وآلام سے عبارت سمجھا جائے یا رد کے ذریعے خود کوآزاد کیا جائے۔ یوں ایک ایسی تہذیب کا خمیر اٹھتا ہے جو خدا بیزار ہے اور خدائی احکام کوانسانی معاملات میں بے جا مداخلت سمجھتی ہے۔ اور”میراجسم میری مرضی” کا سلوگن اختیار کرتی ہے۔

جب ڈیکارٹ یہ کہہ رہا تھا کہ اب مذہب کی ضرورت نہیں عقل اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے “Reason can stand on its own”تو یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ حکمائے یونان کی بازگشت تھی۔ اور فرائیڈ بھی جب انسان کو کلیۃً خواہشات کا اسیر قرار دیتا ہے تو اس میں روم و یونان اوریہودیت وعیسائیت کے مشترکہ ورثے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ قرآن کا تصورنفس انسانیت فرائیڈ کا ابطال کرتا ہے۔ وہ کہتاہے نفس انسانی کو افراط وتفریط سے پاک خوبصورت متناسب ومتوازن پیدا کیا گیا ہے۔ الذی خلقک فسوٰئک فعدلک(82:7) “ڈاکٹراسد کا ترجمہ ہے۔

“who created you, and formed you in accordance with what you are meant to be,,and shaped your nature in just proportions”

انسان کوپیدا کیا اوراور ایسا بنایاکہ جس مقصد کیلئے بنایا گیا ہے وہ بجالایا جاسکے۔ بڑا ہی متناسب و متوازن! اس کے وجودکے مقتضیات کا حل اس کی فطرت میں ودیعت کردیا گیاہے۔ نفس انسانی اخلاقی تنائو (Moral Tensions) کا عظیم مرقع ہے محبت، نفرت، لالچ، قربانی، دلیری بزدلی وغیرہ جیسی متضاد خصوصیات کا امتزاج عظیم ہے۔ قرآن تشکیل نفس انسانی سے متعلق استعارۃً کہتا ہے۔ اوریاد کروجب تمہارے خدانے آدم کی پیٹھ کے بیچ سے اس کے بیج سے نسل انسانی کوپیدا کیا توکہا الست بربکم کیا میں تمہاررب نہیں ہوں، جواب آیا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہمارا رب ہیں(7:172)۔ یہ وہ عہدہے جو انسان نے روزآفرینش اپنے خداسے باندھا تھا۔ یعنی اے انسان جو قوانین ہدایت تمہاری فطرت میں ودیعت کررہاہوں کیا ان پرپورا اتروگے؟ جواب تھا کیوں نہیں؟ یہ ایسے ہے کہ انجینئرزکا گروہ ایک پلان ترتیب دے کہ ایسی گاڑی بنائی جائے جس کے فلاں فلاں فیچرزہوں مگرجب وہ گاڑی بنے تووہ ان فیچرزکو Respond کرے۔ انسان چونکہ اخلاقی تنائوکامجموعہ ہے اور ارادہ واختیارکا مالک بھی ہے جو چاہے اختیارکرے تو معاہدہ یا میثاق ہوتا بھی وہی ہے جس کی خلاف ورزی بھی ہوسکتی ہو۔ مگرخدانے انسان کی فطرت میں توازن وتقویٰ ودیعت کیا ہے۔ فالھمہا فجورہا وتقوٰہا۔ اس کے ضمیرمیں نیک وبدکے امتیازکی قوتیں ہیں جنہیں قرآن ان علیکم لحٰفظین۔ ۔ کراماًکاتبین کہتا ہے۔ ان کا ادراک ہراس شخص کوہے جو پہلے پہل چوری ڈاکے یا زناء کی طرف قدم اٹھاتا ہے، پائوں من من کے ہوتے ہیں۔ مگران جرائم کے باربار دہرانے پرضمیرکی یہ قوتیں بالآخر خاموش ہوجاتی ہیں۔ قلب پرتالے لگ جاتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ فرائیڈ کے برعکس نفس انسانی سے متعلق قرآن کا مدعا یہ ہے کہ انسان کو فطرت سلیم پر پیدا کیا گیا ہے۔ یہ کبر، سستی، کاہلی اور مایوسی ہے جو اسے شارٹ کٹ کی بری راہ پرلے نکلتی ہے۔

جمال الدین افغانی

خورشید ندیم صاحب کا یہ جملہ کہ مسلم مفکرین میں جونمایاں ہوئے وہ جمال الدین افغانی جیسے ہی تھے جو اپنے عہد کی تبدیلیوں کا ادراک نہ کرسکے، تجزیے سے زیادہ مرثیہ لگتا ہے۔ زمانہ سلطنتوں سے قومی ریاستوں کے عہد میں داخل ہورہا تھا اوروہ مسلمانوں کے سیاسی اتحاد کی بات کررہے تھے۔ یہ رویہ سیکولر تصور دین کی دین ہے جودین کے سیاسی تصورکوکارفضول سمجھتاہے۔ استاذالاساتذہ اصلاحی صاحب نے ڈاکٹر اسرار احمد سے پوچھا کہ یہ کیا آئے دن مختلف مذہبی گروہوں کے اجتماعات کرتے رہتے ہو۔ ڈاکٹرصاحب نے جواب دیا کہ مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پرلانے کیلئے۔ اصلاحی صاحب نے کہا یہ کام تو پاکستان ریلوے پچھلے پچاس سالوں سے سرانجام دے رہی ہے۔ بے شک عمدہ مزاح ہے تاہم اس سے اس مخصوص مذہبی مکتبہ فکرکی اتحادامت کیلئے امنگوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ ہمارے فاضل کالم نگارکوامریکی مصنفہ نکی کیڈی (Nikkie Keddie) کا پی ایچ ڈی کا مقالہ پڑھنا چاہئے جو افغانی پرتحریر کیا گیا ہے جسے ضبط تحریرمیں لانے کیلئے مصنفہ نے برطانیہ، فرانس، مصر، ایران، بھارت اورروس سمیت متعدد دیگر ممالک کا دورہ کیا اور مقالے کو Islamic Response to Western Imperialism کا عنوان دیا۔ مطلب وہ اپنی ذات میں تنہا یورپی استعمارکا مسلم امہ کیطرف سے جواب تھا۔ نکی کیڈی اس کا المیہ یوں بیان کرتی ہیں کہ اسے اگر کامیابی نہیں ہوئی تو محض اس وجہ سے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے اجتماعی شعورسے کئی صدیاں آگے نکل کرسوچ رہا تھا۔ فاضل کالم نگارسے استدعا ہے کہ مقدورہوتو ذراخطبات اقبال یعنی Reconstruction of Religious Thought in Islamکا مطالعہ کیجئے کہ وہاں اقبال نے شاہ ولی اللہ کیساتھ جمال الدین افغانی کا کس پیرائے میں ذکرکیا ہے۔ ذرااس بات کا بھی کھوج لگایئے کہ جس پریورپ میں خطیررقم خرچ کرکے مقالے تحریرکیے جارہے ہیں وہ مسلم ممالک کی جامعات کے نصاب میں کیوں جگہ نہیں پاسکا۔ اہل یورپ اسے پہلا جدید مسلم اسکالرمانتے ہیں۔ جب عثمانی یورپ سے سائنس اور ٹیکنالوجی مستعارلے رہے تھے تو وہ مردحرانہیں کہہ رہاتھا جب تک فلسفہ اورسماجی علوم میں انقلاب برپا نہیں ہوگا سائنس، ٹیکنالوجی اورجدید فوجی تربیت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گی۔ وہ کہہ رہاتھا جس شاخ علم کی آبیاری فلسفہ نہ کرے اس کی عمرایک صدی سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ وہ آئینی حکومت کی بات کر رہاتھا۔ مگرکان نہیں دھرے گئے۔ اس نے اس دردکو سوہان روح بنا لیا تھا کہ ملت اسلامیہ یورپی استعمارکے شکنجے میں ہے اس کیلئے ہراس حکمت عملی کو بروئے کارلایا جائے جس سے اسے آزادی مل سکتی ہو۔ وہ چومکھی لڑائی لڑرہا تھا۔ قدامت پسندی کیخلاف معرکہ آزما تھا۔ غرب زدگی کیخلاف سینہ سپرتھا۔ وہ جدت پسند معذرت خواہانہ اورمرعوبانہ رویوں کیخلاف بھی لڑرہاتھا۔ سرسید کے معذرت خواہانہ اندازکوبھی نوک سناں پراٹھائے پھررہا تھا۔ وہ جب ہندوستان میں تھا تو حیدرآباد دکن کی جامعہ عثمانیہ میں وہ برطانوی استعمارکیخلاف ہندومسلم اتحاد کا داعی تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کوئی بھی قوم ایک ہزارسال میں دوتین مذہب بدل لیتی ہے مگراس کی زبان ایک رہتی ہے وہ Utilitarian approach سے کام لے رہا تھا کہ ہندومسلم اتحاد سے برطانوی استعمارسے گلو خلاصی ہوتی ہو تویہ کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔ وہ بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں اور وسط ایشیائی ریاستوں پرمشتمل ایک مسلم جمہوریہ کا خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ عمربھرآتش زیرپا رہا۔ “موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیرکا” کی عملی تصویر بنا رہا۔ جونمایاں ہوئے جمال الدین افغانی جیسے ہی تھے۔ شورپندناصح نے زخم پرنمک چھڑکا۔ ۔ آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزہ پایا۔ فرانسیسی مفکرارنسٹ رینان نے اسلام کیخلاف زہرآلود مضمون لکھا۔ جب افغانی نے اسی میگزین میں جواب لکھا تو رینان صاحب تاریخی حقائق سے عدم واقفیت کی بنیاد پرنہ صرف شرمندہ ہوئے بلکہ جمال الدین افغانی سے معافی کے خواستگار بھی ہوئے۔ فا ضل کالم نگار کو یہ تومعلوم ہے کہ افغانی سلطنت عثمانیہ کی بقا کیلئے مسلم اتحاد کی ضرورت کیلئے متحرک ہوئے تھے مگریہ شایدنہ جانتے ہوں کہ ان کی موت کیسے واقع ہوئی۔ جب افغانی کو احساس ہوا کہ عثمانی سلطنت کا وارث مسلم اتحاد سے زیادہ اپنی سلطنت کی بقا کیلئے فکرمند ہے توانہوں نے ببانگ دہل ان کی مخالفت کی۔ افغانی کو بند بھی کیا گیا زہربھی دیا گیا جس سے وہ شہید ہوئے۔

فاضل کالم نگارکو اگرجاوید نامہ کا اردوترجمہ میسرآئے تو ذرادیکھیں اقبال کے نزدیک افغانی کا کیا مقام ہے۔ اقبال لکھتے ہیں کہ ایک سیارے پر ان کی ملاقات افغانی سے ہوتی ہیں جہاں افغانی سورۃ نجم کی تلاوت کررہے ہیں اورسنتے ہوئے جبرائیل ؑ وجدمیں آکرکہتے ہیں کہ اس سورۃ کے رموز و معارف تومجھ پر بھی یوں عیاں نہ ہوئے جیسے اس مردحرپرکھل رہے ہیں۔ یاد رہے یہ سورۃ واقعہ معراج کے بیان سے عظمت انسانی کی حتمی بلندیوں کا ذکر بیان کرتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ پھرمولانا روم اذان دیتے ہیں، اقامت ہوتی ہے۔ افغانی مسندامامت پرکھڑے ہیں مصرکے سعیدحلیم پاشا بھی موجود ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ افغانی اور سعید حلیم پاشا کو ہٹا کردیکھا جائے تو ایشیاء کے دامن میں بچتاہی کیا ہے۔ پھرگویا ہوتے ہیں جسے صحیح معنوں میں نمازکہا جائے وہ افغانی کی اقتداء میں دورکعت پڑھ لینے کا نام ہے ورنہ اس کی قدر و قیمت اس کے سوا کیا ہے کہ اس سے جنت مل سکتی ہے۔

کالم نگار لکھتے ہیں کہ زمانہ قومی ریاستوں کے عہد میں داخل ہورہاتھا اورافغانی مسلم اتحادکی بات کررہے تھے۔ یہ موصوف نے اس ڈسپلن میں ہاتھ ماراہے جس سے ان کا کوئی دورپارکا کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا۔ مذہب تو توحید کی بناء پراولاد آدم کوکنبہ خدا قراردیتاہے اورنگ ونسل اورزبان کی بنیادوں پرانسانی معاشروں کی تقسیم کوردکرتا ہے۔ اس لیے اقبال کہتے ہیں کہ نیشنلزم سے انسانی تاریخ کا بدترین انسان دشمن فلسفہ ہے۔ عیسائیت نے یورپ کو متحدرکھاہواتھا۔ نیشنلزم نے یورپ کی وحدت کو پارہ پارہ کیااوروہ یہی کچھ دیگراقوام کیساتھ چاہتے ہیں۔ جب حسین احمد مدنی نے کہا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں توپہلی دفعہ اقبال نے حریف کا نام لیکراسے بولہبی قراردیا۔ شاید ہمارے فاضل کالم نگارکویہ فرسودہ سیاسی مذہبی سوچ لگے تو ذرا Father of International Relations Hans.J Margenthau کی “Politics Among Nations” ہی پڑھ لیں جس میں قوموں کے درمیان بننے والے اتحادات کوقومی ریاست کے تصورکی ناکامی قراردیتے ہیں۔ یورپی یونین، خلیجی ممالک کی کونسل، شنگھائی تنظیم برائے تعاون، آسیان، سارک وغیرہ وغیرہ یہ سب Regional Political , Economic Alliances اس بات پردال ہیں کہ قومی ریاست کا تصور ناکام ہوچکا ہے۔ یہ کمزورقومی ریاستیں تو استعمارکے ہاتھ مضبوط کرتی ہیں۔ استعمارکی ہوس واشتہاء کا ہتھیار بنتی ہیں۔ قومی ریاست کا تصورجو خودامریکی اوربرطانوی جامعات میں دم توڑرہاہے وہ ہمارے کچھ مذہبی مکاتب فکرکی اب بھی ضروریات پوری کرتا ہے کہ مذہب سیاسی اورریاستی معاملات سے بے دخل رہے۔ کیونکہ نیشنلزم اس عہد کم ظرف کی اکلوتی روحانی قدرہے۔

خورشید ندیم صاحب نے فرائیڈ کو تو پوری دھج سے بابائے نفسیات کہا ہے۔ مگرابن خلدون جسے خود یورپ بابائے علم سماجیات مانتا ہے ان کا ذکربڑا کسرنفسی سے کیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ دنیا کو تاریخ اورفلسفہ تاریخ لکھنے کا ہنر مسلمانوں نے سکھایا ہے۔ سماجیات کے برخلاف زیادہ درست اصطلاح فلسفہ تاریخ ہے۔ ابن خلدون فلسفہ تاریخ کا پہلا مفکر ہے جس کا یہ علم قرآن سے ماخوذ ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں اگرابن خلدون نہ ہوتا تو نہ برطانیہ کے ٹوائن بی ہوتے اور نہ ہی جرمن مورخ اشپنگلر منصہ شہود پر آتا۔ اگرچہ یورپی تہذیب کی مبادیات یونانی تہذیب سے مستعارہیں تاہم اس نے اسلام کے تعامل سے بھی بہت کچھ لیا ہے۔ اقبال نے خطبات میں لکھا ہے کہ مغربی تہذیب اسلامی تہذیب کی ترقی یافتہ شکل ہے اس لیے اس کی طرف رجوع کرنا ہمارا اپنی اصل کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ ایک ہمالیہ سائزبلنڈرہے جو اقبال کی پیروی میں ہمارا کچھ خوش فہم طبقہ دانتوں سے پکڑے ہوئے ہے۔ اقبال مسلم عہد کمال کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ولایت، پادشاہی، علم اشیاء کی جہانگیری۔ ۔ یہ سب کیا تھیں فقط اک نکتہ ایماں کی تفسیریں۔ مطلب مسلم حکماء فلاسفہ وکیمیادان، ماہرین طبیعات، مورخین اورجغرافیہ دانوں نے قرآن کی روشنی میں جس طرف قدم بڑھایا انہیں Islamic Pursuits سمجھ کرآگے بڑھے۔ اس کے برخلاف تہذیب یورپ کے بطن سے جس فلسفے اورسائنس نے آج تک جنم لیا ہے یا لے گا وہ اپنی ہیئت میں سراپا سیکولر ہے۔ اس لیے اس کی گہرے جوہری تہذیبی ڈانڈے سراپا مادہ پرست تہذیب یونان سے ملتے ہیں۔

ہمارے محترم کالم نگارنے کہا ہے کہ پچھلی تین صدیوں میں مسلمانوں کے ہاں کوئی قابل ذکرمفکرپیدانہیں ہوا۔ لے دے کے ہمارے پاس شاہ ولی اللہ ہی بچتے ہیں۔ اوریقیناً شاہ ولی اللہ اسلام کے سیاسی تصورکیوجہ سے سیکولرطبقات میں مطعون سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن کیا یہ کم ہے شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ کی علمی اورفکری کاوشوں کیوجہ سے برصغیر میں اسلام ہندوازم کے بلیک ہول میں فنا ہونے سے بچ رہا۔ فکر یونانی کے کاسہ لیس مسلم مفکرین ارسطوکی پیروی میں انسان کو سماجی جانورکہتے آرہے تھے۔ شاہ ولی اللہ پہلا شخص ہے جس نے قرآن کی غواصی کی اورکہا Man is a Moral being.انسان کا وجود اخلاقی ہے۔ مجھے یہ ایک جملہ اب تک کے سماجی علوم کے کل اثاثے اور سرمائے پربھاری دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے خورشید ندیم صاحب نے محمد الغزالی کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا ضرورمطالعہ کیا ہوگا جس کا عنوان Socio-political thoughts of Shah Wali Allah ہے۔ دہلی سے چھپا ہے۔ اسے پھرپڑھیں۔ شاہ صاحب کے سماجی تصورات قرآن سے ماخوذ ہیں ہمارے سوشل فیبرک کی بقا اورمضبوطی کیلئے زیادہ موزوں ہیں۔ قرآن وسیرت رسول سے ماخوذ شاہ ولی اللہ کا تصورارتفاقات ایک عالمی نظم انسانی کا وہ تصورپیش کرتا ہے جس کی طرف موجودہ دانش ابھی ٹامک ٹوئیاں ماررہی ہے۔ جانے اقبال کہ یہ اشعارکیوں رہ رہ کریاد آرہے ہیں

بیاں میں نکتہ توحیدآتوسکتا ہے
تیرے دماغ میں بتخانہ ہو توکیا کہیے
جہاں میں بندہ حرکے مشاہدات ہیں کیا
تیری نگاہ ٖغلامانہ ہو تو کیا کہئے
وہ رمز شوق کے پوشیدہ لاالٰہ میں ہے
طریق شیخ فقیہانہ ہوتوکیا کہئے
سرورجو حق وباطل کی کارزارمیں ہے
تو حرب وضرب سے بے گانہ ہوتوکیا کہئے
مقام فقرہے کتنا بلند شاہی سے
روش کسی کی گدایانہ ہو توکیا کہئے

خورشید ندیم صاحب لکھتے ہیں کہ اقبال بھی ہمیشہ مسلمہ امہ کی عظمت رفتہ کی بازیافت اورسیاسی احیاء کا اسیررہا۔ یہ تو یورپ کیساتھ براہ راست آشنائی نے ان پرعقدہ واکیا کہ قوموں کے عروج وزوال کو سماجی تناظرمیں دیکھنا ضروری ہے۔ حقیقت یہ کہ سفریورپ نے اقبال پرتہذیب مغرب کا باطن وا کیا۔ اقبال کو سفریورپ سے اندازہ ہوا کہ یہ تو فقط جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔ مادہ پرستی کی ہولناکیوں کو قریب کی آنکھ سے دیکھا۔ اوراقبال کی مغرب پرتنقید دوآتشہ ہوتی گئی۔ اقبال نے درحقیقت مشرق اورمغرب دونوں کی نہ صرف امراض کی تشخٰص کی بلکہ مجرب نسخے بھی بتائے۔ اقبال نے کہا مشرق کا ضمیرراہبانہ ہے اورمغرب کا تاجرانہ۔ مشرق عرفان وتصوف کی موشگافیوں کا شکار ہے مغرب تنہا عقل کے پنجے میں گرفتار ہے۔ اہل مغرب کیلئے زیرکی (عقل) سازحیات ہے اوراہل مشرق کیلئے عشق راز کائنات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل جب عشق کو راہبرمانتی ہے تو حق شناسی کی منزلیں طے کرتی ہے۔ عشق جب عقل کو ساتھ لیکرچلتا ہے تو اس کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عشق وعقل ایک دوسرے کی بیساکھی ہیں دونوں کا امتزاج ہی منزل مرادتک پہنچاتا ہے۔ اقبال جب عقل پرحملے کرتے ہیں تو مقصود دراصل ڈیکارٹ کے اس تصور کا ابطال ہوتا ہے کہ عقل کو وحی کی ضرورت نہیں۔ اقبال کا تصور علم سمع، بصر اور فئوادپرمشتمل ہے۔ سمع و بصرتجرباتی علوم یعنی سائنسزکا ذریعہ ہیں۔ فئواد قلب کی اس ایجنسی کا نام ہے جو ان علوم کی اخلاقی علت تک پہنچاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مغرب سمع وبصر یعنی تجرباتی علوم پر قانع رہا اور مشرق صرف فئواد یعنی عرفان کا اسیر رہا یوں مشرق ومغرب دونوں ناقص تصور علم کیوجہ سے حقیقت کلی کے ادراک سے محروم ہیں۔ ہماری سیکولرسیاسی ایلیٹ اقبال کے سیاسی تصوردین سے خائف ہے، جب براہ راست اقبال کے افکارکی تنقید نہیں لکھی جاسکتی تو بالواسطہ Discredit کرنے کی جہد مسلسل کوروارکھا جاتا ہے۔ کبھی اقبال نطشے کا چربہ نظرآتا ہے تو کبھی برگساں کا اور گاہے گوئٹے کا، اورکبھی مارکس کا ہمنوا!

(Visited 575 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: