ساسو جی! بیٹے کو شوہر بننے دیں ——– خرم شہزاد

0

ہمارے معاشرے میں گھریلو ناچاقیوں کی ایک بڑی وجہ مشترکہ خاندانی نظام بھی ہے جس کا ایک نئی نویلی دلہن کو اپنی شادی کے پہلے دن سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک لڑکی جو نکاح کے بندھن میں بندھ کر اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے بہت سے خوبصورت خواب دیکھتے ہوئے اپنے میکے سے سسرال کی طرف جاتی ہے لیکن اس گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اس کی نئی زندگی صرف ایک بہو کی زندگی نہیں رہتی بلکہ وہ بڑی یا چھوٹی بہو کے ساتھ ساتھ جیٹھانی یا دیورانی، چچی، مامی سمیت نجانے کیا کچھ بن جاتی ہے۔ اس گھر کی اپنی بچیوں کو اگرچہ سوئی میں دھاگہ ڈالنا بھی نہ آتا ہو لیکن آنے والی بہو سے ہر قسم کے کھانے پکانے میں ماہر ہونے، صفائی ستھرائی میں طاق ہونے کے ساتھ ساتھ ہر رشتے کو اس کی پوری خوبی کے ساتھ نبھانے کی صلاحیت رکھنے کی بھی خواہش ہوتی ہے اور وہ لڑکی جو کل تک اپنے والدین کی لاڈلی تھی ایک ہی دن میں درجن بھر رشتوں میں بندھنے کے ساتھ ساتھ گھر کے ہر کام میں کیسے ماہر ہو سکتی ہے، یہ سوال کوئی بھی نہ تو سوچنے کی زحمت کرتا ہے اور نہ اس لڑکی کو اس قدر موقع دیا جاتا ہے کہ وہ نئے لوگوں میں گھل مل کر ایک اچھے طریقے سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کر سکے۔ لڑکے کا اپنے سسرا ل میں دو دن رہنا بھی ایک پہاڑ ہوتا ہے جبکہ وہیں لڑکی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے ہی دن سے گھر میں یوں گھل مل جائے اور ہر کام میں یوں اپنا حصہ ڈالے جیسے وہ برسوں سے نہ صرف اس گھر میں رہتی رہی ہے بلکہ یہ سب کام بھی کرتی رہی ہے۔ ہمارے گھروں میں موجود بڑے ایسی کسی صورت حال میں لڑکی کی مدد کو نہیں پہنچتے، جس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ لڑکی مختلف طریقوں سے اپنی پریشانی کا اظہار شروع کرتی ہے جسے ہم گھر میں نئی باتوں اور جھگڑوں کا نقطہ آغاز کہہ سکتے ہیں۔

شادی کے بعد کسی بھی لڑکی کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اس کے شوہر کی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے لڑکی نے بہت سے خوبصورت خواب دیکھے ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی رہی ہے کہ لڑکیاں اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے جس قدر سوچتی ہیں اور جتنے خواب بنتی ہیں، لڑکوں کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا کہ وہ یہ سب کریں۔ لڑکوں کے لیے شادی بہت مختلف معانی رکھتی ہے۔ ساٹھ سے ستر فیصد مردوں کی سوچ کسی بھی لڑکی کے جسم پر تصرف پانے سے شروع ہو کر اپنے گھریلو کاموں کی ذمہ داری حوالے کرنے پر ختم ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شادی کے بندھن میں وہ مضبوطی نہیں پائی جاتی جو کہ اس رشتے کی اصل اساس ہوتی ہے۔ یہاں زیادہ تر دو لوگ معاشرے کو دیکھانے، اپنے گھر والوں کی مجبوریوں سمیت دیگر وجوہات کے مارے ہوئے ہوتے ہیں اس لیے اپنے رشتے کو نبھاتے چلے جاتے ہیں۔

یہ بد قسمتی رہی ہے کہ لڑکیاں اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے جس قدر سوچتی ہیں، جتنے خواب بنتی ہیں، لڑکوں کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا کہ وہ یہ سب کریں۔ لڑکوں کے لیے شادی بہت مختلف معانی رکھتی ہے۔ ساٹھ ستر فیصد مردوں کی سوچ کسی بھی لڑکی کے جسم پر تصرف پانے سے شروع ہو کر اپنے گھریلو کاموں کی ذمہ داری حوالے کرنے پر ختم ہو جاتی ہے۔ 

ہمارے معاشرے میں شادی کے رشتے کی کمزوری میں سب سے بڑا ہاتھ مرد کا ہوتا ہے۔ ساری دنیا کو گواہ بنا کر وہ ایک عورت کو قبول تو کرتا ہے لیکن اس سے بات کرنے کے لیے اپنے گھر والوں کا محتاج بھی ہوتا ہے۔ اکثر گھروں میں والدین اور خاص کر والدہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس کا بیٹا اپنے کمرے میں کب جائے گا؟۔۔۔ اپنی بیگم کے ساتھ کب اور کہاں ہنی مون منانے جائے گا، اور جائے گا بھی کہ نہیں۔۔۔بیوی کو عید پر کتنے کی اور کیسی شاپنگ کروائے گا، کہاں سے کروائے گا اور یہ بھی کہ کروائے گا بھی یا پھر شادی کے کپڑے ابھی تک پڑے ہیں، لڑکی کو سننا پڑے گا۔۔۔ کسی کے ہاں آنے جانے حتی کہ اپنے میکے جانے کے لیے بھی بیوی کو شوہر کے بجائے ساس کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ شوہر اپنی ہی بیوی کو اپنی مرضی سے کہیں باہر گھمانے پھرانے تک نہیں لے جا سکتا اور اس کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز اگر لانی بھی ہے تو سارے گھر والوں کے لیے بھی لانی ہو گی ورنہ ماں اور بہنوں کی طرف سے شادی کے بعد بدل جانے کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ عید پر بھانجوں اور بھتیجوں کو اگر ذرا سی کم عیدی دے دی تو بھی کسی نے خوشی کے تہوار کا لحاظ نہیں کرنا ہوتا بلکہ باتیں کر کر کے ماحول کو اس حد تک خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دوسرا شخص کچھ بھی بولے اور سخت بولے، جس کے جواب میں مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے اپنی مظلومیت کا رونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اور ایسے بہت سے ڈرامے کسی بھی گھر میں آج کل ایک عام سی بات ہوتی ہے جس سے بچنے اور گھر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے مرد خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور ایک طرح سے اپنی اور اپنی بیوی کی زندگی کا اختیار اپنے گھر والوں کو سونپ دیتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ جو چاہیے کریں۔

سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی مرد کا یہ رویہ درست ہے؟ اور کیا یوں دوسروں کی طرف سے پریشانیوں کے بعد وہ خود تو ہتھیار ڈا ل دے لیکن اپنی بیوی کی زندگی بھی دوسروں کے ہاتھ میں دے دینا کون سی عقل مندی ہے ؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا مرد کی گھر والوں کے سامنے یہ خاموشی اس کے شادی کے رشتے کو دن بدن کمزور کرنے کا باعث نہیں بنتی جا رہی؟ یقینا یہ اور ایسے تمام سوالوں کا جواب بہت تکلیف دہ ہیں۔ ہم اپنے معاشرے میں جس ابتری کی حالت سے گزر رہے ہیں اس میں ایک مرد کو اپنا کردار ادا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اسے اپنی بیوی کے لیے اپنے گھر والوں کے سامنے بولنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر کوئی شخص گھر کی چار دیواری کے اندر اپنی بیوی کی عزت نہیں کروا سکتا تو باہر وہ کیسے اس کی حفاظت کر سکے گا؟ گھر میں عموما لڑائی کا سبب ساس کی طرف سے بہو کو ملنے والی کسی بھی چیز پر مقابلے بازی سے شروع ہوتا ہے۔ مرد کو اپنی ماں کی طرف سے ایسے طعنوں کا سامنا ہوتا ہے جس میں اس سے پوچھا جاتا ہے کہ بیوی آتے ہی ماں کو بھلا دیا ؟ بیوی کو موسم کے نئے کپڑے دلائے ہیں تو ماں کے لیے کپڑے کہاں ہیں؟ بیوی کو شاپنگ کروائی ہے تو ماں کو کیوں ساتھ لے کر نہیں گئے؟ ایسے بہت سے سوالوں کے جواب میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ شخص کو اپنی ماں کو بتانا پڑے گا کہ وہ ماں ہے اس لیے ماں ہی رہے، بیوی کی سوکن بننے کی کوشش نہ کرئے۔ ماں کا ادب و احترام اپنی جگہ ہے جس پر کوئی دو رائے نہیں لیکن جب وہی ماں اپنی بہو کے ساتھ مقابلے بازی پر اترے تو اسے سمجھانا بھی ضروری ہے کہ اپنی بیوی کے لیے جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ سب آپ کے شوہر یعنی میرے والد کی طرف سے آپ کے ذمے ہیں۔ اگر آپ کو ایسا کچھ بھی چاہیے تو آپ بھی اپنے شوہر سے سوال کریں کہ اپنی بیوی کی ضروریات پوری کرنا ایک شوہر کا کام ہے ناں کہ ایک بیٹے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے حقوق چھوڑ کر ماں کے تقاضے پورے کرتا رہے۔

کمال کی بات یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی لڑکی کی ساس اپنے شوہر سے کوئی بھی چیز مانگنے کے بجائے اپنے بیٹے کو لسٹ تھما رہی ہوتی ہے اور وہ شخص ماں بیوی کے بیچ پینڈولم کی طرح معلق رہتا ہے۔ آج اگر ہمیں اپنے معاشرے میں شادی کے کمزور ترین بندھن کو بچانا ہے توا س کے لیے ضروری ہے کہ مرد اپنی زبان کھولے اور ماں کو سمجھائے کہ وہ ماں ہی رہے، بہو کی سوکن بننے کی کوشش نہ کرئے۔

(Visited 329 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: