پاکستان: المیہ اور حقیقت —— محمد خان قلندر

0

تاریخ ازمنہ سے اس کرہ ارض پر سلطنتیں قائم ہوتی رہئیں۔ ٹوٹتی رہیں۔ جغرافیائی تقسیم ہوتی آئی اور ملک بنتے رہے
کبھی مذاہب بنیاد بنے، کبھی زبان اور کبھی سامراج نے جغرافیہ طے کیا۔ جنگ عظیم اوّل نے دنیا کا اقتدار مذہبی سلطنت سے سامراجی استعمار کے ہاتھ دے دیا۔ صنعتی ترقی اور ایجادات کا دور شروع ہوا۔ ذرائع پیداوار کی تقسیم زمین، لیبر، سرمایہ اور تنظیم کے طور ہوئی۔ لیبر کے حقوق پہ زد پڑی تو مزدوروں نے انقلاب کا ڈول ڈالا۔

تو دنیا میں مذہبی، سماجی تقسیم کے ساتھ آجر و اجیر تفرقہ شروع ہوا۔ سرمایہ داری اور سرمایہ کاری نے کاروبار اور صنعت وحرفت پر گرفت مضبوط کرنی شروع کی، جنگ عظیم دوم نے دینا کو اشتراکیت اور کپیٹلزم دو متحارب گروپس نے بانٹ لیا۔ جغرافیہ بدلا، نئے ممالک بنے۔ انجمن اقوام متحدہ وجود میں آئ، اہل مغرب نے مشرق وسطی میں صیہونی نظریاتی سلطنت اسرائیل قائم کی۔ انکے گُرو برطانیہ نے برصغیر ہند کو آزادی دیتے مقامی مذہبی تقسیم کو قومیت کی تفریق تسلیم کرتے مسلمان اکثریت کو ملکیت دینے کے لئے مشرقی اور مغربی پاکستان کا مطالبہ تسلیم کیا۔ یوں دو غیر متصل اکائیوں پر مشتمل اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میں آیا۔

یوں تو یورپ میں جرمنی کو دیوار بنا کے ایسٹ اور ویسٹ جرمنی میں تقسیم کیا گیا، سنٹرل ایشیا اور مشرقی یورپ کی ریاستیں مدغم کر کے سویت یونین قائم کی گئی۔ پاکستان اپنی سلور جوبلی سے سال پہلے ٹوٹ گیا۔ بنگلہ دیش بطور ریاست وجود میں آیا اور اسے تسلیم کر لیا گیا تو۔ سابقہ مغربی پاکستان اب نیا پاکستان رہ گیا۔ ظلم در ظلم یہ ہے کہ جرمنی متحد ہو گیا۔ سویت یونین ٹوٹا تو ریاستیں واپس اپنی پرانی حیثیت میں بحال ہو گئیں۔ تاریخ آگے بڑھ گئی، کہیں بھی ماضی کا اتنا رونا نہی رویا گیا جتنا یہاں پاکستان میں ابھی تک ایک غیرفطری جغرافیہ پر مشتمل قائم مملکت جو ویسے ہی دو لخت تھی اس کے انہدام پر ابھی تک جاری ہے۔ اس پر مُستزاد آج کل کسی اور نئے پاکستان بنانے کا چرچہ کیا جا رہا ہے۔ خیر ہمارے ازلی حریف پڑوسی ملک میں حالیہ الیکشن میں ہماری نقل میں نیو انڈیا یا نیا بھارت کی آواز لگائی گئی۔ اسے شٹ اپ کال دے دی گئی ہے۔

دنیا بھر میں حکومتیں بدلتی ہیں لیکن نیا ملک نہی بنتا، نہ نیا سویت یونین بنا۔ نہ کسی نے نئے جرمنی کا نعرہ لگایا نہ نیا فرانس، برطانیہ، یا کسی بھی ملک کو نیا ہوتے نہی سُنا، اب یہ نیا پاکستان بنانے والے کب اور کیسے تعمیر نو شروع کریں گے یہ سربستہ راز ہے۔

ہم نے یہ معمہ حل کرنے کے لئے مصور پاکستان جناب سر ڈاکٹر علامہ اقبال کے پچھلے پچاس ساٹھ سال کے میموری میں محفوظ فرمودات کی طرف رجوع کیا تو لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا سے یقین محکم عمل پیہم تک الجھن ہی رہی۔ محبت فاتح عالم پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ ہم نے علامہ صاحب سے زیادہ نسیم حجازی کے ناولوں میں اس کے مظاہر پڑھے تھے۔ فلسفہ خودی پر توجہ مرکوز کی تو شکوہ کے جواب شکوہ میں اپنی وہ درگت نظر آئی کہ توبہ کرنی پڑی۔ مرد مومن اور مرد حق کی تصویر میں جنرل ضیاالحق دکھائی دیئے۔ اُمت مسلمہ کی وحدت کہیں ڈھونڈے نہ ملی تو شاہین جیسے کردار تلاش کرنے چاہے۔ ہم تو علامہ صاحب کو پڑھنے والوں کے پاؤں کی خاک برابر بھی نہی ہیں۔ اس لئے ان کو کیا پڑھتے اور کیسے سمجھتے سوائے اُن عالم فاضل مبصرین کے جو علامہ کے کلام پر لکھ کے دانشور کہلائے اور علامہ کا نام خوب بیچ کے مال کماتے ہیں، باقی زیادہ کلام تو گانے والوں اور قوال برادری سے سُنا۔

نیا پاکستان بنانے والوں کو پرانا پاکستان بنانے والے معمار پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے مقابل رکھ کے دیکھا تو رونا آ گیا۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کا سبق تو شاہراہ اسلام آباد کی ایک چھوٹی پہاڑی پر ریت بجری اور سیمنٹ سے لکھنے کی نظر ہو گیا۔ باقی فرمودات کو حسب ضرورت تقریر میں کٹ۔ کاپی۔ پیسٹ کرتے پایا۔

ذرا مزید ماضی کو کریدا تو قائد اعظم کے پاکستان کی جد و جہد کے ادوار میں کتنے جیّد علما و اکابرین کو ان کی صف دشمناں میں موجود پایا۔ نصاب کی کتابوں میں قائد کے فرمودات پڑھے تھے انکی عملی تشکیل نہ ہونے کی وجہ ان کے اس اعتراف میں مل گئی کہ میری جیب میں موجود سارے سکے کھوٹے ہیں۔

پریشانی بڑھی تو قائد کے اے ڈی سی سردار شوکت حیات سے سنا واقعہ یاد آ گیا۔ کہ کس طرح ہزاروں ٹیلی گرام یا تار بھجوائے گئے کہ قائد خود پاکستان کے گورنر جنرل بن جائیں۔ یہ ہوا اور وزارت عظمی لیاقت علی خان کو مل گئی۔

ہم نے حال کی طرف واپس سوچنا شروع کیا تو جنرل ایوب خان جن کے پوتے نے اگلے روز اسمبلی ہال میں انکی شان میں رجز پڑھے تھے اُن کے حقیقی کردار، ڈیفنس منسٹر بننے سے مارشل لا لگانے پھر محترمہ فاطمہ جناح سے الیکشن جیتنے سے عشرہ ترقی منانے تک سب سامنے تھے۔ ساتھ ہی روٹی کپڑا اور مکان، مذہب اسلام، جمہوریت نظام اور سوشلزم ہماری معیشت کی جھنکار بھی سنی۔ ضیا دور کی ضیا سے آنکھیں چندھیا گئیں۔ جہاد افغانستان کے مناظر دھندلا گئے۔

کراچی کی بربادی اور یو اے ای کی آبادی، جمہوریت کی باریاں، جنرل مشرف کی امریکہ سے یاری اور پاکستان میں مُقہ بازی۔ زرداری کا ظہور اور نواز شریف کی تین بار جبری رخصتی کے مناقشے یوں نگاہ کے آگے گھومے کی ہمارا سر گھوم گیا۔ ساتھ کمرشل بریک میں دھرنے کے اشتہار بھی دیکھنے پڑے۔ وہاں سے ہمیں نیا پاکستان بننے کی خبر ہوئ۔

پرانا پاکستان بنتے ہم نے نہی دیکھا تھا۔ ٹوٹتے ضرور دیکھا اس لئے اشتیاق ہے کہ ہم بھی دیکھیں کہ نیا پاکستان کب اور کیسے بنتا ہے۔ اس ماضی نوردی سے نکل آئے تو یہ دیکھا کہ پرانے بچے کھچے پاکستان کی چولیں ہل چکی ہیں۔ شائد نئے معمار پاکستان پرانی ہر شے مسمار کر کے اس کے ملبے سے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہوں۔ دنیا میں ایسا کبھی ہوا نہی۔ یا ہم نے سنا نہیں کہ ماضی کو ملیا میٹ کر کے مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے سے کسی مملکت کا حال خوش حال ہو سکتا ہے۔

(Visited 64 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20