مولوی محمد سعید کی آپ بیتی ’آہنگ بازگشت‘ کاتجزیاتی مطالعہ‎

0

نامور ادیب، افسانہ نگار، محقق اوردانشور سید قاسم محمود نے انیس سوسترکی دہائی میں شاہکارکے ذریعے اردوکی اشاعتی دنیامیں عظیم انقلاب برپا کیا۔ شاہکار نے اردومیں جریدی کتب کا اجراء کیا اوردنیا بھرکے بہترین ادبی کتب انتہائی ارزاں قیمتوں پرشائع کرکے مطالعہ کے شوق کوعام کیا۔ انہوں نے مختارمسعودکی ’آوازِ دوست‘ ابن انشاکے سفرنامہ، ایرچ سیگل کے عالمی شہرت یافتہ ناول ’لواسٹوری‘ اور اولیور اسٹوری‘ ابوالحسن اصفہانی کی ’قائد اعظم میری نظرمیں‘ جیسی بیشمار کتابیں جریدی شکل میں شائع کیں۔ کئی قسط وار انسائیکلو پیڈیا بھی کم قیمت جریدی صورت میں اشاعت پذیر ہوئے۔ شاہکار کی مقبولیت کے بعدیہ کتب پاکٹ بکس، پیپر بیک حتیٰ کہ اخباری صورت میں بھی شائع کی گئیں۔ شاہکار کتب کی مقبولیت کے بعد کئی اورپبلشرزنے بھی جریدی کتب کی اشاعت شروع کی۔ اورقارئین کواچھی کتب دوسے دس روپے تک میسر آنے لگیں۔ سید قاسم محمود کے مرتب کردہ ’اسلامی انسائیکلوپیڈیا‘، ’انسائیکلوپیڈیا‘ سائنس اورکئی موضوعات پرانسائیکلوپیڈیا اب تک مختلف پبلشر شائع کر رہے ہیں۔ سیدقاسم محمود نے قرآن کریم کے تیس پارے’’علم القرآن‘‘کے عنوان سے شائع کیے۔ جس میں علامہ عبداللہ یوسف کا انگریزی ترجمہ، مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ اورمولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی ترجمانی اورتفاسیر کا مختصرانتخاب شامل کیا جاتا تھا۔ صحیح بخاری کو بھی اسی انداز میں ’’علم الحدیث ‘‘ کے نام سے مرتب کررہے تھے۔ جو بوجوہ مکمل نہ ہوسکا۔

انجیئر راشداشرف نے شاہکار کی اشاعت کی نصف صدی بعد ’زندہ کتابیں‘ کے زیرِعنوان اردوکی نایاب اورشاہکار کتب کی اشاعت کا ڈول ڈالا۔ ابتدا میں زندہ کتابیں پیپر بیک شائع کی گئیں۔ لیکن پھررفتہ رفتہ مزیدساتھی راشداشرف کے ساتھ شامل ہونے لگے، اوران کی کتب اعلیٰ کاغذپرمجلدشائع ہونے لگیں۔ لیکن ان کی قیمت پھربھی انتہائی کم ہی رہی۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ میںزندہ کتابیں کے تحت پانچ انتہائی شاندار کتابیں منظرِعام پرآئیں۔ جن میں سید انیس شاہ جیلانی کے خاکوں پرمبنی دو کتب ایک ہی جلد میں ’’آدمی غنیمت ہے اورآدمی آدمی انتر‘‘ کے نام سے شائع کی گئی۔ ادیب صحافی اوربراڈکاسٹراخلاق احمد دہلوی کے خاکوںکے تین کتب ایک ہی جلد میں ’’اورپھربیاں اپنا، پھروہی بیاں اپنا اورمیرابیان‘‘ شائع ہوئی۔ مشہورصحافی مولوی محمد سعید کی آپ بیتی ’’آہنگ بازگشت‘‘ صوفیہ انجم تاج کی خودنوشت ’’یادوں کی دستک‘‘ اور نامورصحافی مجاہد بریلوی کی حبیب جالب کے بارے میں کتاب ’’جالب جالب‘‘ شامل ہیں۔ زندہ کتابیں بہت تیزی سے نصف سنچری مکمل کرنے کی جانب رواں ہے۔ دورِحاضر میں اردوادب کی اس سے بہترخدمت اور فروغ مطالعہ کی کوشش کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔

اس سلسلے میں شائع ہونے والی آپ بیتی ’’آہنگ بازگشت‘‘ ایک صحافی کی داستانِ زیست ہے۔ پاکستان کے ابتدائی دورکے نامورصحافی کی حیثیت سے محمد سعید سیاست کے بہت سے رازوں سے آشنا ہیں۔ ملک کے ابتدائی دورکی بہت سی کہی ان کہی انہوں نے بہت سادگی اور سلاست سے بیان کی ہے۔ مولوی محمد سعید کی ’’آہنگ بازگشت‘‘ بلاشبہ اردوکی بہترین آپ بیتیوں میں شامل کی جاسکتی ہے۔ دوران مطالعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسی تحریر پڑھ رہے ہیں جس کا اثر دیرپا ہے۔ یہ کتاب ایک سے زائد مرتبہ پڑھنے کے قابل ہے۔ ہرمرتبہ کوئی نیا پہلو قاری کے سامنے آشکار ہوتاہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں، سادہ اور پرکار۔ بات اختصارسے کہی گئی ہے مگرقاری کے دل پراثر کرتی ہے۔ یہ ہماری تاریخ ہے، پاکستان کی تاریخ، صحافت کی تاریخ، مصنف نے اپنے دلکش اندازِتحریرسے ایک جداگانہ اسلوب کی بنیاد ڈالی ہے۔ یہ مولوی محمد سعیدکا اسلوب ہے۔ پانچ سودس صفحات کی بہترین کاغذ پر شائع مجلد کتاب کو فضلی بک کراچی نے شائع کیاہے، اوراس کی پانچ سو روپے قیمت موجودہ دورمیں انتہائی کم ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ طویل مدت بعد کوئی کتاب ایک ہزارکی تعداد میں شائع ہوئی ہے۔

مولوی محمد سعید معتبر صحافی، انگریزی اوراردوکے ادیب، تحریک احراراورخاکسارکے رکن بھی رہے۔ وہ پاکستان ٹائمز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی تھے۔ اس کے علاوہ معاصر ڈان ودیگراخبارات سے بھی وابستہ رہے۔ وہ تئیس اکتوبرانیس سوگیارہ کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اورآٹھ ستمبرانیس سو نوے کواسلام آباد میں انتقال کیا۔ مولوی محمد سعید کی پنجابی زبان میں لکھی قرآن کریم کی تفسیرپسِ مرگ شائع ہوئی۔ اس خود نوشت کوپڑھ کرہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا قیام کیوں ناگزیر تھا۔ سعید صاحب نے جس طرح ان عوامل کا تجزیہ کیاہے شایدہی کسی اورنے کیا ہو۔ یادرکھئے، پاکستان ہے توہم ہیں۔ مگراس ملک نوچ کر کھانے والوں کااحتساب، انتہائی کڑا احتساب، اشد ضروری ہے۔ ادھر موجود کمزور قانون میں نرم سزاؤں کوسخت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ یہ نہ ہوگا تو پھر یاد رکھئے کہ قدرت بھی ہماری مدد نہ کرے گی۔

آپ بیتی میں بہت سے ایسے حقائق محمد سعید صاحب نے بیان کیے ہیں۔ جو بطورصحافی ان کے علم میں آئے اورجن سے کتاب کی دلچسپی صفحہ اول سے آخرتک قائم رہتی ہے۔ حفیظ ہوشیارپوری اردوکے نامورشاعر اوربراڈ کاسٹرتھے۔ ان کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سعید صاحب نے لکھا ہے۔ ’’حفیظ کا کلام بڑے احترام سے سُنا جاتا۔ غزل بڑی بے پناہ کہتے۔ اُن کا اسلوبِ گفتگو، جو دھیما اوردردبھرا تھا جب غزل میں ڈھلتا تو اکثرسہل ممتنع ہو جاتا۔ اُنہوں نے ترکِ محبت کے موضوع کو کئی رنگوں میں پیش کیا اور ہر بار احباب سے خوب داد پائی ہے۔ ایک روزایک غزل پڑھ رہے تھے۔ اشعار میں جب دو تین بار’جان ِتمنا‘ آیا تومسکراکے کہنے لگے ’حضرات کسی غلط فہمی کاشکارنہ ہوجا ئیے گا۔ ‘ میں نے عرض کیا۔ ’ایسا کوئی اندیشہ نہیں۔ غلط فہمی تو جب ہوگی جب جان ِ تمنا کی بجائے تمنا جان سُنیں گے۔ حفیظ ہوشیارپوری کوتاریخ کہنے میں کمال حاصل تھا۔ وہ قریب قریب چھ ماہ ہمارے ہاں ٹھہرے۔ ایک روزکہنے لگے کہ مولوی عبدالحق سے ملنے گیا تھا۔ وہ گھرپر نہیں تھے۔ دو جملوں کارقعہ چھوڑ آیا ہوں لیکن دلچسپ بات یہ ہوئی کہ رقعہ لکھنے کے بعد سوچا ذرا اس کے اعداد تو شمارکروں۔ دیکھا کہ دونوں جملوں سے اس روزکی تاریخ نکلتی تھی۔

اردوادب کے قارئین کے لیے عطیہ فیضی کا نام انجانا نہیں ہے۔ علامہ اقبال اورشبلی نعمانی کے علاوہ دیگر کئی ادیب وشعراء سے ان کی وابستگی کی داستانیں مشہورہیں۔ لکھتے ہیں۔

’’ایک صبح غلام حسین تھاورکی طرف سے پیغام آیاکہ کوئی آپ سے ملناچاہتا ہے۔ میری طرف ہی آجائیے۔ میں اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا ایک خاتون بیٹھی ہیں۔ سرپررومال، چہرہ جھریوں کی وجہ سے شکن درشکن، کندھے جھکے ہوئے۔ اُس نے یک لخت دو ایسی متحرک آنکھیں جوکبھی آفت کی پرکالہ رہ چکی ہوں گی۔ مجھ پرجمادیں اورپکاریں ’اُف یہ خوفناک داڑھی‘۔ میں نے عرض کیا، محترمہ یہ پہلی داڑھی نہیں جس سے آپ کوسابقہ پڑاہو۔ جملہ سُنتے ہی ان کاچہرہ سرخ ہوگیا۔ یہاں تک کے کانوں کی مرجھائی ہوئی لویں تک تمتما اٹھیں۔ ہرجھری رگِ جاں بن گئی۔ تھاورنے یہ کیفیت دیکھی تو پوچھنے لگے۔ کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟میں نے کہا کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ میں اُنہیں جانتا ہو ں مطمئن رہیے، تعارف ہوچکا ہے۔ ‘‘

ڈان اخبارکے بارے میں محمد سعید صاحب نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے۔ جس سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔

’’ڈان جب چل نکلا اور اس کی سیاسی حیثیت مسلم ہوگئی تو ہیرالڈ پبلی کیشنزنے جودلی سے ڈان کے کراچی آجانے کے بعد اس اخبار کے مالک بنے، یہ چاہاکہ اس کانام بدل کر ’ہیرالڈ‘ رکھ دیاجائے۔ ڈان اگرچہ عالمی صحافت میں خاصہ معروف ہوچکا تھا تاہم ان کا خیال تھا کہ اس تعارف اورشہرت کو نئے نام پر قربان کیا جاسکتا ہے تاکہ جہاں تک حقِ ملکیت کا تعلق ہے ڈان کوماضی سے لاتعلق کیا جاسکتاہے۔ نام بدلنے کامنصوبہ گوخفیہ رکھا گیا تھا پھر بھی مخصوص حلقوں میں یہ رازبرملا گردش کرنے لگاتھا۔ جس رات اُسے عملی جامہ پہنانا مقصود تھا ریڈیو پاکستان میں ایک مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہواکہ رازطشت ازبام ہوچکا ہے۔ جہاں ہم بیٹھے تھے اُس سے اگلی صف میں ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر بیٹھے تھے۔ ہمیں دیکھا تو کہنے لگے’اگرایسا کیا تو بہت برا کرو گے۔ یہ نام نہیں مٹنا چاہیے۔ ‘لیکن اخبار کے دفترمیں جذبات کی حلاوتوں یا تلخیوں کے لیے رکنا محال ہے۔ چنانچہ ورکس منیجر مسٹر ڈرائیر نے آکے کہا، آخری صفحہ تیار ہے۔ اخبارکے کارخانے میں آخری صفحہ پہلا صفحہ ہوتا ہے اور یہی وقت نام بدلنے کا تھا۔ الطاف آگئے۔ ڈرائیرنے اسے کس کسا کر مشین پرڈال دیا اور پھر اپنی جیب سے تانبے کی تختی نکال کر جمادی جس پر ‘ہیرالڈ‘ کندہ تھا۔ اخباردھڑادھڑ چھپنے لگا اور ڈان صبح صادق کے پھیلتے اجالے میں ڈوب گیا۔ برابروالے کمرے میں اردوڈان کا نام ہیرالڈ کی رعایت سے ’نقیب‘ رکھا جا چکا تھا۔ نام کی تبدیلی نے کراچی کے سیاسی حلقوں میں ہارون برادرزکے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ لوگوں نے اُن کی حرکت کو تجارتی منفعت کے علاوہ قائداعظم کے نام کومٹانے کی سازش قراردیا۔ ہیرالڈ کا ایک اور پرچہ نکلا اور یہ مسئلہ اخباروں کے کالموں سے نکل کر سیاسی پلیٹ فارم پر آگیا۔ الطاف صاحب گھبرا اٹھے۔ اس سے اگلا پرچہ پھر ڈان تھا اور اُس کے پہلے صفحے پراُن کا اعلان تھا کہ ’میں قوم کواُن کاڈان واپس دیتا ہوں‘ محترمہ فاطمہ جناح نے طنز میں ڈوبا بیان دیا کہ ’الطاف بڑے کرم خسروانہ سے وہ شے قوم کو واپس لوٹارہے ہیں جواُن کی نہیں۔ ‘‘

ایسے بے حد دلچسپ اورچشم کشاحقائق کتاب کے ہرصفحے پرموجود ہیں۔ اقتدارکی اکھاڑپچھاڑ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’بالآخر غلام محمد کی باری بھی آگئی۔ چھ اگست انیس سوپچپن کوانہیں بیماری کے بہانے رخصت کیا گیا۔ گورنرجنرل ہاؤس کے عالی شان محل کی آخری سیڑھی اُن کے لیے قبر کا پہلا زینہ ثابت ہوئی۔ چندہی دنوں بعدگنتی کے کچھ لوگ غمگین وجنازہ بردوش ایک غیرمعروف قبرستان کوجاتے دیکھے گئے۔ یہ غلام محمد کا آخری سفرتھا۔ غلام محمدرخصت ہوئے تواسکندرمرزاآئے۔ ایک ماہ بعد اسکندرمرزاکی حلف برداری کی تقریب میں مجھے بھی شامل ہونے کاموقع ملا۔ اتفاق سے ان دنوں الطاف، سلہری اورمیرخلیل الرحمٰن تینوں ملک سے باہرتھے۔ ان کے نیوز ایڈیٹرزاُن کی نمائندگی کر رہے تھے۔ برآمدے میں لوگوں کاہجوم تھا۔ اُن میں سے اکثر ہمارے ایڈیٹرز کی خیریت پوچھ رہے تھے۔ اسی خیریت طلبی میں ایک آواز یوں بھی سنائی دی کہ ’جب سے ایڈیٹر باہرگئے ہیں، اخبار بہتر ہوگئے ہیں، بات دراصل یوں تھی کہ ہم میں جرأت اورجانب داری دونوں کا فقدان تھا۔ ہرلَے دھیمے سُروں میں اُٹھائی جارہی تھی۔ ‘‘

صحافتی دنیاکے کتنے حقائق اس ایک جملے ’جرأت اورجانب داری‘ کی کمی میںپنہاں ہیں۔ یہ سمجھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک اوراقتباس دیکھیں۔

’’چودھری محمدعلی تیرہ ماہ وزیراعظم رہے۔ ملک کو دستور بھی دیا اورنظم ونسق بھی لیکن اس کے باوجود وہ جلد ہی اپنی جماعت میں غیر مقبول ہوگئے۔ بہرکیف چودھری محمدعلی ایک دستور بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کارنامہ واقعی قابلِ داد تھا کہ جس جنس کی تلاش میں قوم دس برس سے نکلی ہوئی تھی وہ اُن کے عہد میں دستیاب ہوگئی لیکن قوم کے سرسے شامت اعمال ابھی ٹلی نہیں تھی۔ اس کاروانِ بے موسیٰ کوابھی کچھ اور ویرانوں میں بھٹکنا تھا۔ دستورایک کشتی میں سجا کر اسکندرمرزاکے محل تک لے جایا گیا۔ انہوں نے دستخط کردیے اوراس کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کا تاج اپنے فرقِ فرخ جمال پر سجا بھی لیا لیکن اُن کی نیت کچھ اور تھی۔ اعمال اگرنیتوں ہی کی ایک جھلک ہوتے تو کراچی کے دروبام سے وہ نیتیں عیاں تھیں۔ رات کے سناٹوں میں اس شہرکی دیواریں پکاراُٹھیں کہ اسکندرمرزا کو بادشاہ بنا یا جائے۔ یہ اشتہاراس کثرت سے دیواروںکی زینت بنے کہ فلمی ستاروں، مہ پاروں، شمشیرزنوں اور تاجداروں سے جو جگہ بچ گئی وہ اسکندر مرزاکے نقیبوں نے اپنے شاہ کی آمدکے اعلان کے لیے وقت کرلی۔ صبح تک جگہ جگہ پوسٹر چسپاں ہوگئے اور یوں دکھائی دینے لگا کہ جیسے کراچی کی ہر دیوارکسی ’ظل اللہ‘ کی منتظر ہے۔ ‘‘

محمد سعید نے اپنے گاؤں کے سادہ مزاج درویش کا ذکرکچھ یوں کیا ہے۔

’’گاؤں کے ان ہنگاموں سے دور جوہڑ کے پار ایک مردِدرویش اپنی دنیا الگ بسائے بیٹھا تھا۔ جہاں آج چٹیل چبوترے پراُپلوں کے ڈھیر ملیں گے وہاں درختوں کے جنڈ میں دو کوٹھریاں تھیں۔ ایک میں خراس نصب تھا اوردوسری میں جس کا جھروکہ جوہڑ کی جانب کھلتا تھا مولوی عبدالحئی کتابوں میں گھرے ہوئے، کھجورکی چٹائی پرزہدواستغناء کی تصویربنے بیٹھے رہتے۔ دنیاکے جھمیلوں سے الگ اس چھوٹی سے کوٹھری کادروازہ ہرآنے والے کے لیے کھلارہتا۔ ہندو، سکھ اورمسلمان سبھی اپنے اپنے اندوہ لے کے آتے اورتسکین پاکے جاتے۔ اسلام کے جمالیاتی پہلوکی ایک ہلکی سی جھلک اُس عزلت نشیں کومرجع خلائق بنا رکھاتھا۔ جس کی پسائی سے گھر کا خرچ چلتا۔ مولوی مرحوم عمر بھردوسروں کے ٹکڑوں کی محتاجی سے آزاد رہے۔ خود علم کی دولت صبح و شام لٹائی۔ برادری کی خوشیوں اورغموں میں شریک رہے۔ بیاہ شادی کے لین دین میں اُن کارویہ عام برادری کے افراد کی طرح تھا۔ علم دین کے نام پر کبھی رعایت نہیں مانگی۔ وعظ سادہ ہوتااورپنجابی زبان میں۔ جنہیں اُن کی صحبتیں میسرآئی ہیں وہ حیرت میں رہ جاتے قرآن کے اعجازپرکہ ایسی سادہ بولی میں ڈھل کے بھی اُس کاحسن برقراررہتاہے۔ یہ وعظ جس میں نہ خطیبانہ زورِ بیان ہوتا اور نہ حکیمانہ موشگافیاں، محض اپنی سادگی اورخلوص کی بدولت دلوں میں اُترتاجاتا۔ میری آنکھیں ایک سفیدریش سکھ کوجمعے کے روزمنبر کے قدموں میں بیٹھا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ توحید کے بیان پر بالخصوص اس کا سردُھننا۔ وہ بزرگ پورا خطبہ سنتے اور نمازکے وقت الگ بیٹھ جاتے۔ لوگ مولوی صاحب کے اتنے گرویدہ تھے کہ گاؤں کی عیدگاہ اورقبرستان کے لیے زمین ایک سکھ نے اُن کے نام ہبہ کردی۔ ‘‘

ایسے چشم کشا اور دل کو چھولینے والے واقعات کتاب میں جابجا ملتے ہیں۔ جن سے قاری کی دلچسپی قائم رہتی ہے۔ دریائے ستلج کارُخ روپڑ کے مقام پر پہلی مرتبہ موڑا گیا تواس واقعے کی ایک عجیب روئیداد برسوں بعدمیرے مطالعے سے گزری۔

’’افتتاح کے وقت وائسرائے لارڈ رپن کونہرکاآہنی درکھولنے کے لیے ایک پہئے کو گھمانا تھا۔ کچھ توحضورلاٹ صاحب ہی زیادہ شہ زور نہیں تھے اورکچھ پہیہ فنی خرابی کی وجہ سے جام ہوگیا۔ ریاست جیندکے فرمارواپاس ہی اس تقریب میں مدعو روساء کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ریاست توخیران کی محدودتھی لیکن قدرت نے تن وتوش اُنہیں لامحدود عطاکررکھاتھا۔ وہ وائسرائے کو ابتلا میں پا کر جذبہ خدمت گزاری میں اٹھے اور پہیہ گھما دیا۔ پانی موجیں مارتا نہر میں بہہ نکلا۔ لیکن اس کوشش میں راجہ صاحب کاموتیوں کا ہار پہئے میں الجھ چکا تھا۔ وہ پیچھے ہٹے توہارایک جھٹکے سے ٹوٹ گیااورموتی بکھرگئے۔ لوگوں نے موتی چُن چُن کرراجہ صاحب کے حوالے کردیے۔ وہ موتی قبول کرتے ہوئے جب پوری مالامٹھی میں آگئی توراجہ صاحب نے اسے لہروں پرنچھاورکردیا۔ کچھ لوگوں نے اسے فضول خرچی پرمحمول کیا۔ بعض نے آبروکاسوال سمجھا۔ بہرکیف راجہ صاحب نے کہا’اس موقع پرمالا کاٹوٹنا بڑی بدشگونی تھی۔ میں نے موتیوں کی دکھشنا پانی کے دیوتاؤں کی سیوامیں پیش کی ہے کہ وہ خوش رہیں اورنہرجاری رہے۔ ‘‘

اب یہ راجہ صاحب کی انگریز وائسرائے کوخوش کرنے کے لیے تھا یااپنی دریادلی کی دھاک بٹھانے کی کوشش یاپھران کی ضعیف الاعتقادی۔ واقعہ دلچسپ ہے۔ تحریکِ آزادی اورکانگریس کے کردارکے بارے میں محمدسعید صاحب لکھتے ہیں کہ

’’کانگریس سب سے بڑی جماعت تھی اور اس کا کاروبار ہندوسرمائے اورسیاست کامرہونِ منت تھا۔ اس میں ہرقوم کے کچھ لوگ حب ِ وطن اوربغضِ انگریز کی وجہ سے شریک تھے۔ آزادی وطن کی لگن نے بہت سے متضادعناصر کوایک رشتے میں پرورکھاتھا۔ ایک انگریز نے اس کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔ ہندو نے عمارت اٹھائی۔ گو مسلمانوں کے اشتراک نے اس میں وسعت اورجوش پیدا کردیا تھا اور اس کا آرائش کابہت ساکام مسلمانوں کے خون کامرہونِ منت تھا، تاہم مسلمان اس سے بحیثیت مجموعی مجتنب رہے۔ اکبر الہٰ آبادی نے کانگریسی قیادت کوآندھی اوراس کے مسلمان پیروکاروں کو گردِراہ کہا۔ ابتدا پرکچھ بھی ہو۔ درمیانہ دورخواہ کتنا وطن دوستی کا ہو، کانگریس کامزاج رفتہ رفتہ ہندوانہ ہوتا گیا۔ محمدعلی جوہر اور محمدعلی جناح کی اس سے علیحدگی اورذرا اورآگے چل کر چل کرخاکساروں کا اس سے کلی عدم تعاون اورآخری ایام میں احرار کی سردمہری اس بات کی علامت تھی کہ کانگریس کا مزاج مسلمانوں کی امنگوں کی عکاسی کرنے سے قاصررہاتھا۔ ‘‘

محمد سعید صاحب کا کانگریس کے بارے میں یہ تجزیہ کتنا درست تھا۔ آج ہم سب جانتے ہیں۔ ایسے ہی حقائق اورانکشافات سے بھرپور ’آہنگ بازگشت‘ انتہائی دلچسپ آپ بیتی ہے۔ جسے شروع کرنے والاقاری چھوڑنہیں سکتا۔

(Visited 125 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: