پریم چند کا ’’کفن‘‘ : نفسیاتی تجزیہ ——– ڈاکٹر مریم عرفان

0

پریم چند کی ادبی حیثیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ اس عہد کے افسانہ نگار ہیں جس میں ترقی پسند تحریک نے جنم لیا۔ سماجی شعور نے جس سوچ کو پروان چڑھایا تھا اس میں انسانوں سے زیادہ انسانیت پسندی کی بات کی گئی۔ انیسویں صدی تبدیلی سے مزین تھی، انقلاب کے اس دور میں ہر طرف آزادی کا پرچار ہو رہا تھا ۔ برسوں سے پستے چلے آرہے کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی باتیں ہو رہی تھیں ۔ ایسے میں پریم چند نے علمِ مزدور بلند کیا اور اپنے قلم سے ایسے ایسے مضامین پر افسانے لکھے جو آگے چل کر سماج کی مکروہ تصویریں بن گئے۔

’’ کفن‘‘ پریم چند کی وہ تحریر ہے جس نے سوچنے والوں کو انسانی رویوں کے بارے میں نفسیاتی عوامل کا پتہ دیا۔ معاشرتی قدروں کی پامالی، جذباتی ٹھہراؤ اور بے حسی اس افسانے کا خلاصہ ہے۔ کہنے کو تو اس افسانے میں تین کردار ہیں لیکن تینوں اپنے اندر پورا جہان آباد رکھتے ہیں۔ گھیسو، مادھو اور بدھیا۔ دو مرد اور ایک عورت، جو رشتوں کی ڈور میں بندھنے کے باوجود کچے پڑ جاتے ہیں۔ بدھیا جو مادھو کی بیوی ہے اس کا براہ راست کوئی مکالمہ تو نہیں لیکن اس کی زندگی سے موت تک کا سفر اس کے کردار کو جلا بخشتا ہے۔ وہ دو مردوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے جنھیں اس کے پیٹ میں پلنے والے بچے کی بھی پرواہ نہیں ہوتی اور وہ دردِ زہ میں مبتلا رہنے کے بعد موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ایک زندہ عورت ان بے حسوں کی آنکھوں کے سامنے مر گئی لیکن ان کے پیٹ کی آگ نے ان کی جذباتیت کو فنا کر دیا۔ گویا بھوک ایسا محرک ہے جو دل و دماغ کو ماؤف ہی نہیں بے حس بھی کرنے کا موجب بن سکتی ہے ۔ گھیسو اور مادھو غریب آدمی تھے، ان کی جیب میں پیسہ نہیں تھا لیکن جب دلوں میں صلہ رحمی ختم ہو جائے تو رشتے بھی اپنی موت مر جاتے ہیں۔

دراصل بدھیا کا کردار برصغیر کی اس عورت کا ترجمان ہے جو اپنے مردوں کے ساتھ کمانے کے علاوہ گھربھی سنبھالتی ہے۔ ایک سالہ شادی کی زندگی میں اس نے گھیسو اور مادھو کے دل میں اتنی جگہ بنائی ہی نہیں کہ وہ اس کی تکلیف کو سمجھ سکیں۔ یہ وہ مرد ہیں جن کی زندگیاں جذبات و احساسات سے عاری رہتی ہیں انھیں صرف اپنے تن کو ڈھانکنے اور کھانے کی فکر رہتی ہے۔ ایک کماؤ عورت دو نکمے مردوں کو پال رہی ہے لیکن بدلے میں اسے موت کی اجرت دی جاتی ہے۔ ایسی بہت سی کماؤ عورتیں دیہاتوں میں موجود ہیں جو اپنے مردوں کے آسان ہو جاتی ہیں۔ خود غرضی اور بے حسی نے گھیسو اور مادھو کو اس درجہ اپنے اندر گم رکھا کہ وہ آلو کھا کر سو گئے اور بدھیا چیختی چلاتی دنیا سے چلی گئی۔ ان دونوں کے لیے آسان تھا اسے بے گورو کفن رکھنا لیکن چونکہ ان کے پیٹ کی آگ ابھی جلنا تھی اس لیے انھوں نے گاؤں کے زمیندار اور لوگوں سے چندہ مانگا۔ ان کی بلا سے چاہے بدھیا کی لاش کو کتے بلے بھی کھا جاتے انھیں غم نہ ہوتا۔ ان کی بے ضمیری اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ بدھیا دن بھر درد سے کراہتی رہی اور انھوں نے آس پڑوس سے کسی کو مدد کے لیے نہیں پکارا۔ افسانے کے آغاز سے پریم چند ہمیں بتا دیتے ہیں کہ دونوں بجھے ہوئے الاؤ کے پاس بیٹھے ہیں اور بدھیا اندر دردِ زہ سے کراہ رہی ہے۔ پریم چند نے بدھیا کے روپ میں جس عورت کے کردار کو بیان کیاہے وہ داستانوی نہیں ہے۔ انھوں نے لازمی طور پر ایسی کسی بھی عورت کو دیکھا ہو گا جو معاشرے کے جبر کا شکار ہو کر مر گئی ہو۔ انسانی سطح پر جذبات کی پامالی ’’کفن‘‘ کا حصہ ہے۔ مادھو کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ بدھیا اس کی بیوی ہے، جاڑے کی یخ بستگی میں وہ اس کی اولاد پیدا کرنے کے چکر میں موت کے دھانے کھڑی ہے۔ دونوں باپ بیٹے کو بس اس کے مرنے کی فکر ہے تاکہ وہ اپنی نیند پوری کر سکیں۔ یہاں وہ ان کی بے حسی عروج پر ہے خاص طور پر جب وہ اس کی چیخوں کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ پریم چند اپنے اس افسانے میں جذبات نگار کے طور پر خود کو منواتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے بڑی مہارت سے سادہ سے اسلوب کو زندہ کر دیا ہے ۔

’’ کفن‘‘ کی بدھیا ان تمام غریب عورتوں کی ترجمان ہے جنھیں زندگی کا سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ اگر وہ بچہ جن کر بچ بھی جاتی تو بھی یہ مرد اس کی کمائی پر پلتے اور وہ بعد میں دوسرے یا تیسرے یا شاید پانچویں بچے کے بعد موت کوسپرد ہو جاتی۔ کرداروں کی بے حسی کے کئی مناظر ’’کفن ‘‘ کا حصہ ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے احساسات میں کس قدر فرق ہے۔ دو مردوں کے سامنے ایک زندہ سالم عورت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے لیکن ان کے دل میں رحم کے جذبات تک پیدا نہیں ہوتے۔ گھیسو اور مادھو کے اپنے پیٹ خالی ہیں اس لیے انھیں اپنے من کی آگ بجھانے کی فکر ہے۔ ان کے لیے پیدا ہونے والا بچہ بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ درد زہ میں مبتلا عورت کی دل دوز چیخیں بھی ان کے کلیجے چھلنی نہیں کرتیں۔ وہ بدھیا کو دیکھنے کے لیے اس لیے نہیں جاتے کہ ایک اندرجائے گا تو دوسرا کہیں آلو چٹ نہ کر لے۔ کفن کے پیسے ملنے کے بعد بھی انھیں شراب و کباب کی فکر رہتی ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے بدھیا کو دوسرا کفن بھی مل جائے گا لیکن انھیں ایسا ناؤ نوش نہیں ملنا۔ بدھیا کی لاش اگر گل سڑ جائے گی تو لوگ اسے دفنا ہی دیں گے مگر ان کی ذہنی عیاشی سب سے بڑی ضرورت بن گئی تھی۔ یہاں ان کی بے حسی کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

’’ مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی۔ ‘‘
’’ مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا۔ ‘‘
’’ معلوم ہوتا ہے بچے گی نہیں ۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا، جا دیکھ تو آ۔ ‘‘

پریم چند انسانی نفسیات دان کے طور پر سامنے آئے ہیں، جیسے ارسطو کا نظریہ المیہ ہمیں زندگی کی سب سے بڑی ٹریجڈی سے متعارف کرواتا ہے ویسے ہی پریم چند نے ایک زندہ سالم عورت کے مرنے کی کیفیت اور اس کی موت کے منتظر دو مردوں کو بے نقاب کیا ہے۔ یہاں المیہ بدھیا کی المناک موت نہیں بلکہ انسانی قدروں کا سفاک قتل ہے جس نے افسانے کو ڈرامائی رنگ دیا۔ خارجی ذہن کا تصادم شعوری اظہار کا نتیجہ ہوتا ہے اسی لیے دونوں مرد مجرم قرار پائے ورنہ اگر وہ اس مرتی ہوئی عورت کے لیے ہاتھ پاؤں ہلاتے اور وہ پھر بھی مر جاتی تو المیہ جنم نہ لیتا۔ یہ دونوں کردار مجرم ہیں لیکن ان کی غربت اور پامالی نے انھیں کٹہرے میں کھڑا ہونے سے بچالیا ہے۔ ’’ کفن‘‘ کے مردانہ کردار المیہ ہیں جو انسانی نفسیات کی اندرونی ویرانی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس غیر معمولی موت کی کتھا سے یہ افسانہ پیتھوسس کا ایک منظر بن گیا ہے۔ جو درحقیقت انسانی فطرت کی نقاب کشائی ہے۔

’’ کفن‘‘ میں پریم چند کا فنی ذوق اس لیے بھی باکمال ہے کیونکہ انھوں نے مرد اور عورت کے درمیان پائے جانے والے سماجی رویوں کو بیان کیا ہے۔ دیکھا جائے تو ایک مرتی ہوئی عورت اور دو سنگ دل مرد کائنات کی تقسیم کا اظہار بن کر سامنے آئے ہیں۔ دردِ زہ میں مبتلا چیختی چلاتی عورت اپنے مرد کے دل میں ذرا برابر رحم کے جذبات پیدا نہ کر سکی ۔ ان جذبوں کے لیے چاہت یا عشق کا پیمانہ ضروری نہیں تھا بلکہ انسانی سطح پر احساس ہونا ایک اہم فریضہ تھا جو مادھو اور گھیسو میں سرے سے موجود نہیں ۔ ان کے احساسات کی موت اس بھوک کی وجہ سے ہو گئی تھی جس کا اظہار انھوں نے آلو کھا کر کیا۔ اچھا شوہر تو کیاوہاں ایک حساس باپ بھی نظر نہیں آتا جسے اپنے ہونے والے بچے سے کوئی ہمدردی محسوس ہوئی ہو یا اسے دنیا میں دیکھنے کی خواہش دل میںاتری ہو۔ کیسے اتنے گہرے رشتے اپنی سماعتوں کو چھلنی کر سکتے ہیں جب کہ ان کے سامنے ایک جیتی جاگتی عورت دم توڑ رہی ہو اس کی چیخ و پکار تک دل و دماغ پر کوڑے نہ برسائے۔ شاید ’’ کفن‘‘ ایک عورت کی لاش کو ڈھکنے کے لیے علامت نہیں بلکہ ان زندہ مردوں کے دل پر پڑا ہوا کپڑے کا ٹکڑا ہے جسے وہ بیچ کھانے پر مجبور ہیں۔ سفاکی، بے رحمی اور بے غیرتی کی یہ مثال درحقیقت انسانوں کے ہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے جس کے بارے میںسوچنا بھی محال ہے۔ میں ابھی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا اتنے سال قبل لکھا جانے والا یہ افسانہ آج کے دور پر بھی پورا اترتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بدھیا جیسی عورتیں اور مادھو، گھیسو جیسے مرد موجود ہیں جن کے لیے زندگی احساس کا نام نہیں ہے۔ ہندوستان کی مٹی سے جنم لینے والاایسا مرد اپنی عورت کو زمین کا کفن بھی دیتے ہوئے کیوں اتنی کنجوسی کر جاتاہے اس کا جواب شاید اس دور کے بھی کسی پریم چند کے پاس نہیں ہوگا۔

(Visited 137 times, 9 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: