داستان زیست: اسلام آباد، مابعد — قسط 5 —– محمد خان قلندر

0

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے۔

آپ فنانس، مالیات، معاشیات کے فریش پروفیشنل ہیں۔ سرکاری گزٹیڈ جاب میں نہیں جا سکتے یا نہیں جا پائے تو بہتر آپشن نیم سرکاری پرائیوٹ بڑے ادارے ساتھ کام کرنا ہے۔ نصابی تعلیم کے بعدزیادہ اہم ہمہ جہت آن جاب تجربہ ہے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ یونیورسٹی سے سیدھے ملک کے بڑے رفاعی ادارے میں آ گئے جن کے پاس ٹیکسٹائل۔ شوگر۔ گیس مارکیٹنگ۔ سیریل۔ فلور ملز۔ رائس ملز۔ جیوٹ فیکٹری سمیت درجن بھر ملز چل رہی تھیں۔ پٹرو کیمیکل اور فرٹیلائزر زیر تجویز تھیں۔ ہیڈ آفس میں ان سب کا ہزاروں ملازمین کے ساتھ ہسپتال اور سکالر شپ و دیگر ویلفیر کے کاموں کا حساب کتاب سیکھنے اور کرنے کے مواقع تھے۔ پرفارمنس پے ترقی ہوتی رہی۔

ہم تعلیم کے حساب سے اعلی ترین پوسٹ پر پہنچ چکے تھےاور اسلام آباد کی کشش کا شکار ہوئے۔ جس کی تاریخ ابھی تالیف نہی ہوئ جغرافیہ تو وہ اس کی حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے نامعلوم ہے تو یہ اسلام آباد کیا ہے کہاں سے کہاں تک ہے؟ آئیے تلاشتے ہیں۔ راولپنڈی کی کوکھ سے اس نے جنم لیا۔یہ نومولود تھا تو پنڈی نے اسے گودی کھلایا۔ یہ عادت اتنی راسخ ہوئ کہ آج بھی اس کا پنڈی کی گارڈین شپ بغیر گزارہ نہیں۔ ایمبیسی میں ماحول پر یہ سب اثرات تھے۔

نیشنل ڈے کا فنکشن بخیر خوبی ہو گیا۔ وفاقی وزیر تعلیم مہمان خصوصی تھے۔ لیکن اس فنکشن میں ہماری ٹریننگ بھی ہوئ اور یہ سمجھ آگئی کہ چھوٹا سا ادارہ اور اس میں کام کرنا کتنا مختلف ہے۔ خاص طور پر گفٹ کی تقسیم اور مہمان بلانے میں ڈپلومیٹس کیا لوکل ملازمین سب کے ذاتی تعلقات اور مفاد جان گئے۔ ہمارے متعلق سب سرکاری مدعوین میں شامل تھے ویسے بھی ہم نے پروفائل نیچے رکھا۔ صرف فرحی اس کے بہن بہنوئی کو دعوت دی لیکن فرحی اپنی سہیلی کے ساتھ آئی۔ ہاں محفل میں دونوں مرکز نگاہ تھیں۔

قومی دن کی چھٹیوں کے بعد اگلے سال کا بجٹ بنا کے بھیجا۔ تین گاڑیاں بدلنے کی منظوری کے ساتھ لوکل ملازمین کی تنخواہ اور مراعات کا نیا پیکج بھی آ گیا۔ پہلے مترجم اور لیڈی سیکرٹری کی تنخواہ ہم سے زیادہ تھی۔ نئے بجٹ میں بیس فیصد اضافہ اور پاکستانی روپے میں تعین کے ساتھ سب کی تنخواہ چالیس فیصد بڑھی۔ محاسب کا سکیل بدلا گیا تو ہماری تنخواہ مترجم کے برابر ہو گئی، اس میں سفیر صاحب کی کوئ خصوصی رپورٹ وجہ ہو سکتی ہے۔

مترجم شام کو پارٹ ٹائم سُپر مارکیٹ کے ایک آفس میں کسی اور ایمبیسی کے ملازم کے ساتھ دفتر چلاتا تھا، سفیر صاحب ایک ماہ کی سالانہ چھٹی پر گئے یا کچھ اور وجہ تھی فرسٹ سیکرٹری چارج ڈی افیئر بن گئے۔

ہم نے اپنے آپ کو سرکاری کام تک محدود کر لیا۔ دفتر میں ہمیں حسد اور دلی جلن کی فضا محسوس ہونے لگی۔
سفیر صاحب کے بارے میں اطلاعات آنے لگیں کہ وہ واپس نہی آئیں گے۔ ہم نے سیکیورٹی کے امور فرسٹ سیکریٹری صاحب کے حوالے کر دیئے، جس میں صبح چانسری کے نمبر لاک کھولنا اور چھٹی کے وقت لاک سیٹ کرنا کہ آخر میں نکلنے والا ڈور بند کرے تو آٹو میٹک لاک ہو جائے، یوں صبح جلدی پہنچنے کی ٹینشن ختم ہو گئی۔

ہم چاندنی چوک سے نکلتے سکستھ روڈ چوک سے فرحی کو ساتھ لیتے اسے جناح سُپر ڈراپ کرتے چانسری آ جاتے، ہمارے سامنے کورڈ مارکیٹ تھی، فرحی چھٹی کر کے وہاں آ جاتی ہم اسے ساتھ لیتے لنچ کرتے واپسی پے اسے سکستھ روڈ ڈراپ کرتے ہوئے چاندنی چوک اپنے گھر چلے جاتے، یہ ملاقاتیں بڑھتی گئیں، شام کو کمرشل مارکیٹ میں بھی ملنے لگے ایک روز اسکے بہن بہنوئی گاؤں گئے وہ رات اکیلی تھی سہیلی کو بلوا رکھا تھا۔ وہ رات ہم نے اسکے ساتھ انکے کوارٹر میں گزاری۔ اگلے روز جب صبح اسے پک کیا تو اس نے میرے ہاتھ کی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی پہنا دی۔ اس دوران اس کے لئےاسکے دفتر کی کولیگ کی معرفت ایک ڈاکٹر کا رشتہ آیا، اس کا قد چھوٹا اور سر گنجا تھا۔

فرحی نے بجائے گھر والوں کے جناح سُپر کے ریسٹورینٹ میں مجھے بلا لیا اور ڈاکٹر سے ملاقات کرا دی۔ ڈاکٹر کے کزن کا ایف ایٹ مرکز میں میڈیکل سٹور تھا وہئیں ڈاکٹر بھی بیٹھتا تھا۔ کزن نے میرے عزیز مجسٹریٹ کے تھرو مجھ سے ڈاکخانہ ملایا، فرحی کے گھر والوں کا بھی پتہ کرایا۔ میرے ساتھ ڈاکٹر اور اس کے کزن نے میٹنگ کی۔ ڈاکٹر چھوٹے قد کا ضرور تھا لیکن بڑا زیرک نکلا۔ مجھے کہنے لگا اگر میری جگہ آپکا سگا چھوٹا بھائ ہو تو کیا یہ رشتہ کریں گے ؟؟ ہم اس کا مطلب سمجھ گئے اور جواب دیا۔،، اسکا شائد کرنے کا سوچوں تمہارا نہی کروں گا۔
یوں تین ماہ ایسے گزرے کہ کبھی ہم فرحی کے ساتھ ہوتے یا فرحی ہمارے ساتھ ہوتی۔

ایمبیسی کا ماحول تو ماسی کے ویڑے والا تھا، تین خواتین تھیں۔ مرد ویسے جیلیس تھے، اسلام آباد میں سیکینڈل تو چٹکی بجانے سے بھی بن جاتا ہے۔
سفیر صاحب مجھ پے مہربان تھے۔ بانڈڈ سٹور والے دوست نے مجھے گرنڈنگ کا وی سی آر درجن بھر فلموں کی کیسٹس سمیت گفٹ کیا۔ میرے ہاں تو سی ایس ڈی سے خریدا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی تھا۔ایسے ہی سفیر صاحب سے تذکرہ کیا تو انہوں نے اپنے نام کا ایگزمشن بنوا کے سٹور سے نئے ماڈل کا سونی کا پال سی کیم اور این ٹی ایس سی تینوں سسٹم والا کلرڈ ٹی وی ڈیوٹی فری دلوا دیا تھا۔ کوئ بول نہی سکتا تھا لیکن سارا سٹاف دلگیر تھا۔
ڈپلو میٹک کمیونٹی میں کوئ بھی زیادہ ایکٹیو ہو تو اس کی فائل ہر جگہ کھل جاتی ہے ! ناظم الامور فرسٹ سیکرٹری صاحب سے کوئ ذاتی اختلاف نہی تھا، بس وہی پنڈی اور اسلام آباد کے ماحول کے فرق کا شاخسانہ تھا۔ وہ سفیر صاحب کے بعد سینئر ترین ڈپلو میٹ تھے، ہم سفیر صاحب کے معتمد خاص تھے باقی سٹاف پرانا تھا اسلام آباد زدہ تھا۔ خوشامد اور غیبت کے سب عادی تھے۔

ہمارا فارن آفس، پی ایم ہاؤس، پریزیڈینسی۔ بنک، بانڈڈ سٹور اور دیگر متعلقہ لوگوں سے پنڈی سٹائل رکھ رکھاؤ کا تعلق تھا۔ ظاہر ہے نخوت اور نخرہ بھی تھا جب کہ قونصلر آفس کے انچارج، لیڈی سیکرٹری، مترجم اور دیگر عملہ ہم سے پہلے کام کر رہا تھا۔ ہمارے سی ڈی پلیٹ کے گاڑی چلانے کی شکایت آئ۔ دوسری شکایت یہ بھی سامنے آئ کہ باوردی افسران ہمیں ملنے آتے تھے، یہ تاثر بھی پیدا کیا گیا کہ ہم بانڈز اور دیگر ایمبیسی کو سروسز دینے والوں سے ذاتی کام کراتے ہیں۔ پٹرول پمپ سے پرچی پر ادھارا پٹرول لیتے ہیں، گاڑی کی مرمت فری ہوتی ہے۔ ڈرنکس گھر لے جاتے ہیں۔
اس چارج شیٹ کی گونج گاہے گاہے سنائ جاتی۔

اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ ہم نے سفیر صاحب کے جانے سے پہلے ہوئ میٹنگ میں طے شدہ پروگرام کے مطابق پرانی ڈاج سٹیٹ کار کی فروخت کی فارن آفس سے منظوری اور اشتہار اخبار کی فائل چپڑاسی کے ہاتھ چارج ڈی افیر کے دفتر بھیج دی۔ انہوں نے دو گھنٹے بعد مجھے طلب کیا، ظاہر ہے اس دوران دوسرے سٹاف بشمول ڈرائیور مشورہ کیا ہو گا۔ اسی دوران ہمارے ذرائع نے ہمیں خبر دی کہ وہ سفیر بن کے سویڈن جائیں گے۔
ہم نے دروازہ ناک کیا۔ اندر داخل ہوتے ڈور لاک دبا دیا۔ وہ چونک گئے ہم نے بہت ادب سے عرض کی کہ تھوڑی دیر ون ٹو ون ذاتی بات کرنی ہے۔ ان کے چہرے پے کرختگی بدستور تھی، ہم محسوس کر رہے تھے کہ چانسری میں بھرپور ایکسائیٹ منٹ بھی ہے۔ ہم نے ہاتھ بڑھا کے مبارک دی، انہوں نے حیران ہو کے شیک ہینڈ کیا اور بولے تم کس ایجنسی کے ساتھ کام کرتے ہو !
مؤدبانہ عرض کی، یور ایکسیلنسی میں آپ کا ملازم ہوں۔ ایک سانس میں باقی سب شکایات کی صفائ پیش کر دی۔
اضافہ یہ کیا کہ یہاں آپ کی ٹرانسفر سےپہلے آپکے گھر سے سامان کورڈ مارکیٹ میں بیچ دیں۔گاڑی بیچنے کا کمشن لینے والے لوگ مجھے اپنی راہ کا روڑا سمجھتے ہیں۔ مجھے میری ضرورت سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ آپ کی محبت ملتی ہے عزت ہے وقار ہے۔
سفیر صاحب مجھے گفٹس دیتے تھے، چھوٹا بھائ سمجھ کے، اور یہ باوردی گیسٹ میرے کزن ہیں یہ شکایت انکے متعلقہ ایجنسی کے باس کو بھی کی گئی، انہیں میرا تعارف کرایا گیا تو وہ بھی میرے انکل نکلے۔۔ میں سانس لے کے چُپ ہو گیا۔ انہوں نے بس یہ کہا۔ سمجھ گیا۔
میں نے ڈور ان لاک کیا تو سیکرٹری صاحبہ جھٹ سے اپنے آفس چلی گئی۔
انہوں نے کافی منگوائ۔ اپنے جانے کے بارے میں مجھے چُپ رہنے کا کہہ کے گھر کے سامان گاڑی سمیت سارے کام میرے ذمہ کر دیئے۔ اجازت مانگی تو مسکرا کے کہنے لگے سمارٹ مین وہ تمہاری گرل فرینڈز کیسی ہیں !
میں نے سنجیدگی سے جواب دیا۔،، شی از آن ڈیوٹی،، وہ کھلکھلا کے ہنس پڑے، کار والی فائل سائن کر کے مجھے دی، حکم یہ بھی دیا کہ شام کو میرے گھر آؤ گے۔ ڈنر کریں گے، اور سارے امور بھی فائنل کریں گے۔ اب ہماری تادیبی کاروائ لازم ہو گئی تھی۔۔۔
تینوں ڈرائیور اپنے دفتر میں بلائے۔ ان کو سیدھا کہا،،، جو کار بکے گی، قیمت کی منظوری تو فارن آفس سے آئے گی۔۔
لیکن آپ لوگوں کو چابی کے پیسے۔ وہ بھی کم از کم پانچ ہزار فی کار میں لے کے دوں گا۔ ورنہ گاڑی ہینڈ اوور نہی ہوگی۔ تم نے کسی گاہک کی دلالی نہی کرنی۔ یہ ہم سب کی عزت اور رزق کا معاملہ ہے،، تینوں نے یک زبان حامی بھری۔ فلیگ کار کے ڈرائیور نے کہا،،، خان جی آپکی گاڑی کے بہت گاہک ہیں بڑی کار ہے ڈیزل انجن رکھنے والی۔۔۔
کہیں تو سودا کرا دوں !
میں نے کہا اس کار کے سولہ ہزار میرے اوپر جو مرضی ملے تمہارے۔۔۔ یہ میری ذاتی ہے دفتر کی نہی۔۔
اتنے میں بک جائے تو ہم سب اکٹھے بری امام جا کے دیگ بھی دیں گے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے

(Visited 66 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: