نیا پاکستان اور سب کا وکاس —— قیصر شیراز

1

ہندوستان کے “متحدہ ہندوستان” کہلائے جانے کو تاریخِ انسانی میں تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پہلا اشوکِ اعظم کا دور
دوسرا مغلیہ سلطنت کا دور
تیسرا برطانوی دور

راجہ اشوک کی پیدائش 304 قبل مسیح پاٹلی پوترا پٹنہ میں ہوئی،راجہ اشوک کے والد کا نام بندوسار اور والدہ کا نام سبھدرانگی تھا۔جبکہ اشوک سلطنتِ مگدھ کے راجا چندر گپت موریہ کا پوتا تھا۔ اشوک نے پانچ شادیاں کیں جن میں سے ایک مشہور کردار رانی پدماوتی بھی تھی۔
سلطنتِ موریہ شرقََا غربََا،شمالََا جنوباََ موجودہ سات (افغانستان، بھارت، پاکستان، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، ایران) ممالک کے19 لاکھ تیس ہزار پانچ سو گیارہ مربع میل کے وسیع و عریض رقبہ پرمشتمل تھی۔
سلطنت موریہ تاریخ ہند میں سب سے بڑی اور پہلی باقاعدہ مستقل سلطنت تھی جس کی بنیاد اشوک کے دادا چندر گپت موریا نے رکھی۔ تاریخ ہند کی یہ عظیم الشان سلطنت 322 قبل مسیح کو قائم ہوئی اور 185 قبل مسیح کو زوال پذیر ہوئی۔
اشوک اعظم کا عہد تقریبا 232سے 268 قبل مسیح تک رہا۔
موریہ سلطنت کا ایک اہم ستون شہنشاہ کے بعد “منتری پریشد” (مجلسِ شوری) کو سمجھا جاتا تھا جو اہم معاملات میں حاکمِ وقت کو امورِ سلطنت میں مشاورت فراہم کرتا تھا۔ جبکہ دوسرا اہم ستون فوج کو سمجھا جاتا تھا۔

فوج کی انتظامیہ تیس اراکین پر مشتمل ہوتی تھی۔ ﺟﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﭼﮫ ﺫﯾﻠﯽ ﻣﺠﻠﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﺮ ﺫﯾﻠﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺣﺼﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﯽ ﺑﯿﮍﺍ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﯿﺎﺩﮦ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ۔ ﺗﯿﺴﺮی ﺳﻮﺍﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ۔ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺭﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻄﺎﻡ۔ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﮨﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ۔ ﭼﮭﭩﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺭﺳﺪ اور ﺑﺎﺭ ﺑﺮﺩﺍﺭﯼ، ﻃﺒﻠﭽﯽ، ﺳﺎﺋﯿﺲ، ﮔﮭﺴﯿﺎﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﯼ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﭘﺮ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ۔
اس فوج میں چھ لاکھ پیادہ، تیس ہزار سوار اور نو ہزار ہاتھی شامل تھے، فوج کا سربراہ “سینہ پتی” کہلاتا تھا۔

اشوک خوفناک حد تک جنگی جنونی طبیعت کا متحمل شخص تھا۔ اپنی ریاست کی توسیع کیلئے بعض تاریخی حوالوں کی رو سے اشوک نے اپنے کئی بھائیوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اشوک کے اس بے کنار طمع کی زد میں غیر آریائی اقوام کی جنوبی ریاست کلنگ بھی آگئی۔
ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ ﻧﻘﻄﮧ ﻧﻈﺮﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻛﻠﻨﮓ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﻋﻼﻗﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﯼ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﻮﺑﯽ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮراجہ ﻛﻠﻨﮓ ﮐﺎ قبضہ ﺗﮭﺎ۔
(موجودہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالہ، تامل ناڈو)
جنوبی ہند کے علاقے مہاندی اور گوادری کے درمیان واقع ریاست کلنگ پر قبضہ کرنے کی اشوک نے منصوبہ بندی کی اور عملی اقدامات کیلئے اپنی فوج کے ذریعہ پیش قدمی ترتیب دی۔
شہنشاہِ سلطنت کے فرامین پر عمل کرنے کیلئے منتری پریشد اور فوج نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

اشوک نے 60000 پیادوں،10000 گھڑ سواروں اور 700ہاتھیوں کے لاؤلشکر کی مدد سے جنوبی ہند کے راجہ کلنگ کی فوج پر چڑھائی کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک لاکھ انسانی لاشوں کا ڈھیر لگا دیا۔ میدانِ جنگ لہو لہو تھا ہر سمت موت کا رقص خونچکاں نظارے میں بدل چکا تھا۔
میدان کار زار میں تڑپتی لاشیں اور زخموں سے کراہتی آہوں اور سسکیوں نے جیت کی ہیئت بالکل بدل کر رکھ دی۔ گوشت پوست کے مرکب انسانوں کے روندے ہوئے سروں کے عوض اب سلطنتِ موریہ کی توسیع جنوبی ہند تک ہو چکی تھی۔ جسکا راج سنگھاٹن “توشالی” کو چنا گیا۔
پایہ تخت پر بیٹھتے ہی ماحول نے نئے رخ پر کروٹ لی۔
اشوک اعظم کا دل دہل کر رہ گیا۔ وہ اس ہولناک کشت خون کے منظر سے فی الحقیقت لرز کر رہ گیا تھا۔ چنانچہ اسی دن اس نے تاریخ کا ایک بہترین اور زبردست فیصلہ کیا۔ اور”اہنسا پرچارک” تعلیم کو اپنا لیا۔ اس نےتشدد، ظلم، جبر، زیادتی، جبروت اور بلا جواز مقدرت کا چولا اتار کر عدمِ تشدد کی پالیسی کو رواج دینے کا فیصلہ کیا۔

اشوک کا ماننا تھا کہ موجودہ مذہب (ہندو ازم) اس آفاقی تعلیم کا پرتو نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اشوک کا دادا چندرگپت موریہ جین مت کا ماننے والا تھا، باپ بندو سار اجیویکا، جبکہ اشوک پہلے ہندو ازم کا پیروکار تھا مگر بعد ازاں بدھ بھکشو بن گیا۔ چنانچہ اس نے بدھ بھکشوؤں کی تعلیم اپنالی۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ گندھارا تہذیب ٹیکسلا باوجود بدھا کے کبھی اس جگہ نہ آنے کے انہیں کی تعلیم سے آراستہ اور پیراستہ نظر آتی ہے۔
اشوک بدل چکا تھا اس نے گرتی ہوئی انسانی قدروں کو بحال کرنے کی بھرپور منصوبہ بندی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے تاریخ میں اشوک شہنشاہ سے
“اشوکِ اعظم” بن گیا۔ اور اپنی سلطنت میں “مہاراجہ پیا داسی” کہلایا جانے لگا۔ جسکے معنی ہر چیز پر پیار کی نظر ڈالنے والا کے ہیں۔

اشوک نے 14 بنیادی انسانی اصول نکات کی شکل میں تیار کیے اور سلطنت کی ہر اہم جگہ پر پتھر، چٹان اور ستون پر مروجہ خروشتی زبان میں کندہ کروادیئے۔ یہ رسم الخط قدیم آرامی رسم الخط سے ماخوذ ہے۔ بعد کے ادوار میں ان نکات کو “دیونا گری” میں بھی کندہ کروایا جاتا رہا۔

اس نے مسافروں کیلئے بہترین انتظامات کیئے، پیاسوں کیلئے کنویں بنوائے، راستے ہموار کروائے، کسانوں پر ناجائز ٹیکس ختم کئے،, سڑک کے دونوں اطراف سایہ دار درخت لگوائے، ناداروں،غریبوں کیلئے خصوصی مراعات اور بے شمار دھرم شالائیں تعمیر کروائیں، شفا خانے تعمیر کروائے، جانوروں کے متعلق قوانین، فنون لطیفہ میں غیر معمولی ترقی، کپاس سے کپڑا بنانےکی صنعت اور بے شمار انسانی حیاتیاتی نظام سے منسلک شعبوں میں حیرت انگیز کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے۔
اشوک نے کئی نئے شہر تعمیر کروائے جن میں سری نگر، ٹیکسلا اور دو تین (نیپال کا ایک شہر) قابلِ ذکر ہیں۔
انڈس کے کنارے واقع گندھارا تہذیب دراصل اشوکِ اعظم کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حالیہ مہیب جنگی جنون میں مبتلاء اس خطے کو تاریخ میں ایک بار پھر اشوک اعظم کی پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔
جسکی ترجیحات انسانوں کو روند کر ان پر حکومت کرنے کے بجائے انکی فلاح و بہبود اور معاشرتی ترقی پر آفاقی نوعیت کے فیصلوں سے جڑی ہوں۔
اور یہ ترقی ” امن” کے بغیر ممکن نہیں۔

اس وقت بھارت کا مجموعی دفاعی بجٹ قریباََ 45 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا 10۔1 ارب ڈالر ہے۔ ہم اس خطیر رقم کو اس خطے کے دوسرے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ کئی انسانی بنیادی ضرورتوں کے مسائل منہ کھولے بیٹھے ہیں۔

پاکستان کو”نیا پاکستان” اور بھارت کو “سب کا وکاس” صرف امن کی صورت میں ملنا ممکن ہے اس لیئے جب تک ہم اخلاقی رویوں کیساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی, رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ نہیں دیں گے امن اور ترقی کا ایجنڈا آگے نہیں بڑھ سکتا۔
عصر حاضر میں کُل انسانیت کو صلح، آشتی اور باہمی احترام و یگانگت کیلئے “محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں” کے رویوں کو معاشرے میں بالضرور جگہ دینا ہوگی تاکہ امن کی بنیاد پر ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہو۔

(Visited 242 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: