اردوان کی فتح و شکست: فکر مندی کی ضرورت کیوں؟ —- احمد الیاس

0

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اردوان کی جماعت کی استنبول سمیت ترکی کے بڑے شہروں میں شکست کے تناظر میں کچھ ہی عرصہ قبل لکھی گئی اس تحریر کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔


میں اردوان کو 2007 سے اپنا سیاسی ہیرو مانتا آیا ہوں، 2007 جب حجاب پہننے کی آزادی کی مسئلے پر ترک کمالسٹ اسٹیبلشمنٹ اور اردوان حکومت کے درمیان اختلافات اس قدر کشیدگی اختیارات کرگئے کہ مارشل لاء کی پہلی ناکام کوشش ہوئی اور نئے انتخابات کروانے پڑے جن میں اردوان کثیر تر اکثریت سے منتخب ہوکر آئے۔ ترکی اور ترک اسلامی تحریک سے دلچسپی 2011 کی عرب بہار میں عروج کو پہنچ گئی جب عالمِ عرب کی اسلامی جمہوری بیداری کے تناظر میں ترکی کے اسلامی عصبیت اور مذہبی آزادی کی طرف واپسی کے اردوانی تجربے کو ماڈل قرار دیا جانے لگا۔ میں پانچ چھ سال تک باقاعدگی سے ترک اخبارات حریت ڈیلی، ٹوڈیز زمان وغیرہ کا مطالعہ کرتا رہا۔ اسی زمانے میں ترکوں کی سلجوقی، عثمانی اور جدید تاریخ کا مطالعہ کیا اور اس قوم سے شدید عشق ہوگیا۔

سچ یہی ہے کہ گیارہ سو سال سے عالم اسلام کی قیادت کررہے ترکوں کی کثیر اکثریت آج بھی بھرپور اسلامی عصبیت رکھتی ہے اور ظاہری طرز زندگی اور ثقافت بھلے ہی بزور طاقت بدل دیے گئے ہوں، مگر روح کے اعتبار سے ترکی ہمیشہ اسلامی تمدنی دائرے کا حصہ رہا۔ اتاترک اور اس کے جانشینوں نے ترکوں کے ظاہر پر تسلط جمایا مگر ترک لوگوں کا باطن رومی کے سوز میں ڈوبا رہا۔ شدید قومی تفاخر رکھنے والی اس قوم سے بعید تھا کہ یہ اپنی اجتماعی خودی کے جوہر کو ذائل کرتی۔ چنانچہ جیسے ہی موقع ملا اور ترکی میں شفاف انتخابات ہوئے، اسلام نواز قوتیں برسراقتدار آگئیں اور تدریجی و محتاط انداز میں معاشرے کو انفرادی و اجتماعی آزادی کے اسلامی آئیڈیل کی طرف لے جانا شروع کیا جو پہلے ملوکیت اور پھر قوم پرستی اور مغرب زدگی کی قید میں بند تھا۔ ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں حجاب پہننے یا نہ پہننے کی آزادی ہو، جس میں مذہب پر عمل کرنا جرم نہ سمجھا جائے، جس میں عوام کی مذہبی امنگیں جمہوری انداز میں ریاستی فیصلہ سازی کو متاثر کریں، جس میں قوم پرستانہ بنیادوں پر کردوں اور مسیحیوں پہ ظلم نہ ہو، جس میں شوریٰ کا اصول رائج ہو۔

2011 کی عرب بہار کے بعد امید تھی کہ ترک اسلامی جمہوری تجربہ عرب انقلابی تجربے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا مگر بدقسمتی سے عرب بہار کی ناکامی نے ترک تجربے پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کردیے۔ 2013 میں اردوان کی حمایت یافتہ اور منتخب اسلام پسند مصری حکومت کو اسرائیل اور سعودی عرب کی مشترکہ سازش سے اور مصر کے فضل الرحمانوں (النور پارٹی) اور اچکزئیوں (سیکولر طبقات) کی مدد سے گرادیا گیا، اخوان المسلمین پر زمین تنگ کردی گئی۔ لیبیاء میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ دیگر ممالک میں بھی توقعات کے مطابق تبدیلی نہیں آسکی۔ ان ہی حالات میں تقسیم سکوئر کے مظاہرے شروع ہوئے اور عالمی طاقتیں اس کی حمایت پر کمر بستہ ہوگئیں۔ ترک اسلام پسندوں کو یقین ہوگیا کہ مصر کا کھیل ترکی میں کھیلا جارہا ہے اور اخلاقی دباؤ میں آکر اردوان نے بھی وہی پالیسی اپنائی جو مرسی نے اپنائی تھی تو ترک حکومت کا حال بھی وہی ہوگا جو مصری اخوان حکومت کا ہوا۔

چنانچہ اس موڑ سے اردوان کے طرز حکومت نے یوٹرن لے لیا۔ پارٹی کی بجائے شخصی حکومت مستحکم ہونے لگی، عبداللہ گل اور پھر احمد داؤد اوغلو جیسے بہترین لیڈرز سائیڈ لائن کردیے گئے، صحافیوں پر قدغن لگی، نئی آئینی ترامیم کی گئیں جن سے جمہوری قدریں کمزور ہوئیں۔ یہ سب حکومت کو سازشوں سے مضبوط کرنے کے نام پر ہونے لگا۔ اور اس کی انتہاء اس وقت ہوئی جب ترک فوج کے ایک دھڑے نے 2016 میں مارشل لاء کی ناکام کوشش کی۔ یہ ترکی کے لیے پوائنٹ آف نو ریٹرن تھا۔ ترک قوم نے جو روایتی طور پر ہی بہت قوم پرست اور اجتماعی واحدانیت کی طرف مائل رہی ہے اور جس کے ذہن میں استحکامِ عثمانی کی یادیں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں، فیصلہ کرلیا کہ کھلی ڈلی جمہوریت ہمیں سوٹ نہیں کرتی۔ ہمارا اسلامی ماڈل اتھاریٹیرین خطوط پر استوار ہونا چاہیے۔ چنانچہ ایسی آئینی ترامیم منظور کی گئیں جن سے ترکی ایک آمرانہ قسم کا صدارتی نظام بن گیا۔

اس سب سے ترکی کو وقتی استحکام تو شاید نصیب ہوجائے مگر لمبی دور میں اور عالمی سطح پر اسلام پسند تحریک کے فکری ارتقاء کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ انیسویں صدی کی اسلامی فکر کتنے اصلاح پسند اور حریت نواز اصولوں پر ترقی پارہی تھی۔ جما الدین افغانی، محمد عبدہ، سرسید، شبلی جیسے لوگ اسلام اور جدید دور کے تقاضوں کو نہ صرف ہم آہنگ کررہے تھے بلکہ جمہوریت اور شخصی آزادی کو بجا طور پر اسلام کے اندر سے تلاش کر کہ اسلام کے تقاضے بتا رہے تھے۔ مگر بیسویں صدی میں نوآبادیاتی مظالم اور سیکولر آمریتوں کے جبر نے اسلامی قوتوں کو شدت پسندی اور اشتراکی و فسطائی طرز کی اتھاریٹیرین ازم کی طرف مائل کیا اور جمال الدین افغانی جیسے آزاد خیال اسلام پسند بویا ہوا پودا سید قطب جیسے بنیاد پرست مسلمان کے ہاتھ لگا۔ یہ سب رد عمل میں ہوا مگر ُبرا ہوا۔ ترک اسلامی تجربے نے اسلامی فکر کو آزادی اور اعتدال اور جمہوریت کی طرف لوٹنے کا ایک موقع فراہم کیا تھا۔ مگر عرب بہار کی ناکامی، تقسیم سکوئر انتشار، مارشل لاء کی سازش جیسے عوامل نے آزادی، جمہوریت اور اعتدال جیسی قدروں کو ترک اسلامی فکر سے نکا کر قوم پرستی، انتہائی مضبوط کرشماتی قیادت اور پاپولزم جیسے عوامل کو ڈال دیا۔ حد یہ ہے کہ سیکولر اور انتہائی نیشنلسٹ جماعت کے ساتھ تو اتحاد کرلیا گیا ہے مگر پارٹی کے اندر اور باہر معتدل اور آزاد خیال اسلامی قوتوں کو دبایا جارہا ہے۔ یہ سراسر نقصان ہے۔

میرا دل آج بھی ترک اسلامی تحریک کے ساتھ ہے مگر میں صدق دل سے سمجھتا ہوں کہ اردوان کا فطری عرصہ حکومت ختم ہوچکا ہے۔ اب وہ اس تحریک پر بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ ان کا پرسنیلٹی کلٹ واقعتاً کسی سطان سے کم نہیں اور وہ پاپولسٹ نیشنلزم کے خطرات کو نہیں بھانپ رہے۔ اردوان کہ عزت ہمیشہ میرے دل میں قائم رہے گی مگر اب شاید وقت آگیا ہے کہ ترک اسلام پسند متبادل قیادت کے بارے میں سوچیں جو نئی ضرورتوں کا ادراک کرسکے اور قومی اسلام کی بجائے اصولی و انسانی اسلام کو بچانے کے لیے رستے ڈھونڈ سکے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  اردگان اور پاکستان کی اسلامی تحریکیں —— صفتین خان
(Visited 674 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: