مرد اور خواتین کی چند اقسام‎ —– سمیع کلیہ

0

دنیا میں کمیونیکشن کے کئی طریقے ہیں مگر فی میل اور جی میل سے کوئی نہیں جیت سکتا، مقابلہ جب فی میل اور جی میل میں ہو تو خواتین سے زیادہ خبر سازو خبر دار کوئی ہو ہی نہیں ہو سکتا . وجود ِزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ…….. یہ کسی عام جھام شخصیت نے نہیں کہا بلکہ شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ اقبال کا فرمانا ہے (اس وقت وو خود کس رنگ میں تھے آج تک پتا نہیں چل سکا) یہ شعر انہوں نے بھی زمین حقائق کو بھانپ کر ہی کہا ہو گا ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت کے کئی روپ ہیں، وہ ماں بھی ہوتی ہے، بیٹی بھی، بہن بھی، بہو بھی اور بیوی بھی عورت ہی ہوتی ہے اور اس کا ہر روپ اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ آج کے جدید دور میں خواتین بہت زیادہ فعال اور جدت پسند ہیں اور دنیا کے ہر شعبے میں اپنا آپ منوا رہی ہیں۔

آج ہم عورتوں کی اقسام پر مختصراً روشنی ڈالیں گے، پہلے ہم ماہرین کا تجزیہ پیش کرتے ہیں ( گالیاں ماہرین کو ہی دی جائیں ) کہ وہ عورت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں :

سمجھدار لوگوں کا کہنا ہے کہ عورتوں کی طویل عمری کا راز یہ ہے کہ انکی بیویاں نہیں ہوتیں۔ یہ جسمانی اعتبار سے کمزور ہوسکتی ہیں مگران کی زبان کی توانائی آخری دم تک برقرار رہتی ہے ( اس پر مزید ریسرچ جاری ہے )۔ ماہرین ِ جمال ( beautician)، خواتین کے بارے میں کہتے ہیں کہ خواتین بڑی محنتی واقع ہوتی ہیں۔ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سو میں سے 12عورتیں قدرتی طور پر ہی حسین ہوتی ہیں جبکہ باقی 88فیصد کا حُسن ان کی اپنی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہوتا ہے .کیمیا دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ ہر رنگ میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی عمر کبھی 18سال سے آگے نہیں بڑھتی۔ وضع وضع کے جدید ملبوسات میں گہری دلچسپی ان کا خاصہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے آنسوں کو بطور ہتھیار استعمال کر نے کے فن میں طاق ہوتی ہیں۔

۔ ماہر نفسیات شوہروں کو خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرد حضرات مختلف جھوٹ بولتے اور بہانے گھڑتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بیویوں کو بالکل بھی شک نہ ہونے پائے ورنہ پچھتانا پڑ سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ احتیاط کے طور پر سر پر ہیلمٹ پہن لیں کیونکہ بیوی کے ہاتھ میں توا یا بیلن بھی ہو سکتا ہے جو ان کو دن میں تارے دکھا سکتا ہے۔ (اگلا کالم خواتین کا مردوں پر تشدد ہے)

نئی شادی شدہ خواتین کا اپنا ہی الگ رنگ ہوتا ہے مجال ہے جو آپ کو پتہ چل جائے کہ ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ یہ اکثر زبانی کلامی کی بجائے اندرونی سازشوں میں ملوث ہوتی ہیں۔ بظاہر سادہ اور با اخلاق دکھائی دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس لئے شوہر اور سسرال والے ان پر شک نہیں کر پاتے۔ سازشی ڈرامے اور جاسوسی کرنے نیز خاندان میں فساد پھیلانے کےلئے یہ تمام ذرائع استعمال کرتی ہیں۔ بڑی معصومیت سے شادی کے بعد گھر کو اقوام متحدہ بناکر خود جنرل سیکریٹری بن جاتی ہیں اور اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذرےعے نندوں اور دیوروں پر اقتصادی پابندیاں لگوا دیتی ہیں۔ میاں کی شکل میں ان کے پاس ”ویٹوپاور“ موجود ہوتی ہے چنانچہ وہ جب چاہے اپنے سسرالیوں کے خلاف ”ویٹوپاور“ کا استعمال کر کے ان کی خواہشات و مطالبات پر پانی پھیر سکتی ہیں۔ ( میری شادی نہ کرنے کی بھی یہی وجہ ہے الله مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھے)

شوخ چنچل خواتین بڑی زندہ دل اور حاضر جواب ہوتی ہیں۔ فیشن میں یہ لڑکیوں کو بھی مات کر دیتی ہیں۔ اکثر شادیوں میں ناچ گانا جو لڑکیوں کا شعبہ ہوتا ہے، یہ اس پر بھی قابض ہوتی ہیں۔ یہ خواہ 50سال کی کیوں نہ ہوں، حرکتیں ان کی لڑکیوں والی ہی ہوتی ہیں۔ حساس اور خوش گمان خواتین ذرا مختلف ہوتی ہیں۔ ان کے غم اور دکھ ذرا الگ قسم کے ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی کا پہاڑ بنانے میں یہ اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ کوئی ان کو آنٹی یا آپا کہہ دے تو سخت برا مانتی ہیں اور حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ یقینا آپ سمجھ گئی ہوں گی کہ یہ عمر کی ماری ہوتی ہیں۔

رعب دار جلالی قسم کی خواتین انتہائی خطرناک قسم کی ہوتی ہیں۔ ایسی اکثر خواتین ڈاکٹر، وکیل، استانی ماڈل یا اداکارہ ہوتی ہیں۔ یہ بیوی اگر ڈاکٹر ہو تو سسرال والوں کا ایسا کامیاب آپریشن کرتی ہے کہ پھر انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی کیونکہ بیمار ہونے کےلئے زندگی شرط ہے۔ وکیل بیوی اےسے قانونی داؤ پیچ آزماتی ہے کہ اس کی مختلف دفعات کا شکار ہو کر سب گھر سے دفع ہو جاتے ہیں۔ رہ جاتا ہے بے چارہ شوہر جسے پہلے ہی عمر قید ہو چکی ہے اور اگر بیوی استانی ہو تو کیا کہئے، یہ اپنے شوہر سے اتنا ہوم ورک کرواتی ہے کہ بے چارہ دفتری کام کاج کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری کابھی ماہر ہو جاتا ہے۔ اگر جلالی قسم کی بیوی اداکارہ یا ماڈل ہو یا سوشل ورک کرتی ہو تو ایسی خواتین خود کو نہیں بدلتیں، باقی سب چیزوں کو بدل ڈالتی ہیں مثلاً گھر، گاڑی، جیولری اور بعض اوقات شوہر بھی بدل دیتی ہیں اس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتیں۔

مثالی بیویاں : یہ بڑی پر سکون طبیعت کی مالک ہوتی ہیں۔ ہر حال میں مطمئن اور خوش رہنا جانتی ہیں۔ شوہروں کو قابو رکھنے کے ہنر سے واقف ہوتی ہےں۔ ان خواتین کی قناعت پسندی، سمجھداری، سادگی، صبروتحمل اور اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے والا عمل ان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھتا ہے۔ ان بیویوں کے شوہر بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی بیوی کی بے جا خواہشوں اور مطالبوں سے مجبور ہو کر رشوت یا دیگر غلط ذرائع سے دولت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر ساری
خواتین اسی ٹائپ کی ہو جائیں تو دنیا میں چہار سو، گھر گھر امن کا راج ہو۔ (اسی کوئی نایاب خاتون کا پتہ معلوم ہو تو آگاہ فرمائیے گا)

ویسے مردوں کی کوئی خاص اقسام نہیں ہوتی یا تو وہ لڑکے ہوتے ہیں یا شوہر مگر خواتین کا دل رکھنے کے لئے مردوں کی بھی کچھ اقسام کا ذکر کرتے ہیں۔

سب سے پہلا نمبر ہے کنجوس مرد کا یہ وہ ہوتے ہیں جن کے لئے پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے اور پیسہ بچانے کے لئے یہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں کرتے کجا کہ کسی اور کی عزت کا پاس رکھیں۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ کیسے گزارا کیا جاسکتاہے۔ جو مرد حضرات یہ کہیں کہ انہیں آپ سے پہلی ہی نظر میں پیار ہو گیا ہے تو فوراً سے پہلے ایسے لوگوں سے بچنا شروع کردیں کیونکہ ایسا صرف فلموں اور ڈراموں میں ہوتا ہے اور حقیقی زندگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ جو مرد آپ کو یہ الفاظ کہہ رہا ہے تو یقیناً ایسے الفاظ وہ کسی کو بھی کہہ سکتا ہے۔ آپ کا پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ ایسے لوگوں سے بچنا شروع کریں

ماں کے مرید بھی خاص قسم کے خطرناک مرد ہوتے ہیں اگر کوئی مرد اپنی ماں کی مرضی کے مطابق کوئی قدم نہیں اٹھاتا اور آپ کی عزت نفس کو مجروح کردیتا ہے تو ایسے بندے سے دور رہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسے مرد کی تلاش کریں جو اپنی ماں کا نافرمان ہو اور آپ کی ہر بات من وعن مان لے لیکن کم از کم اتنا تو کرے کہ آپ کو بھی عزت دے اور اپنی ماں کی جائز باتیں مانے، نا کہ ایسا ہو کہ اپنی فیملی کو خوش کرنے کے چکر میں آپ کی زندگی ہی تباہ کردے۔

کچھ مغرور لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی تعلیم، پیسہ، کاروبار یا نوکری پر بہت فخر کرتے ہیں۔ اپنی کامیابی پر فخر کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن یہ فخر اگر غرور بن جائے تو پھر آپ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے مرد عورت کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں پھر یہی سوچ لڑائی کا باعث بنتی ہے لہذا آپ کے لئے ضروری ہے کہ ایسے مرد سے بچیں۔

کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ’نہ‘ سننا پسند نہیں ہوتا۔ خبردار، ایسے لوگ بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ یہ سوچ ایسے افراد کی ہوتی ہے جو انتہائی خودغرض اور ضدی ہوتے ہیں۔ میاں بیوی کے رشتے میں کئی اتار چھڑھاؤآتے ہیں اور اس میں دونوں کو کئی باتوں پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ کا جیون ساتھی ایسا ہو جو نہ سن ہی نہیں سکتا تو جان لیں کہ ایسا بندہ آپ کے لئے اچھا نہیں ہوسکتا۔

(Visited 80 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: