استنبول میں جاگتے میرے کچھ خواب —— فاطمہ شیروانی

0

استنبول کیسا ہے؟
استنبول کی خوشبو کے کتنے رنگ ہیں؟
استنبول میں شام کے بعد کتنے ستارے زمین پر اُترتے ہیں؟

استنبول کے آسمان پرچاند کیسا دکھتا ہے یا پھر استنبول کی فضائیں آنے والوں کو کون کون سے محبت بھرے گیت سُناتی ہیں۔ میں یہ سب نہیں جانتی، مگر میں استنبول کی بارشوں کی مہک سے آشنا ہوں۔ میں اتنا جانتی ہوں کہ استنبول میں میرے کچھ خواب رہتے ہیں۔ میرے خوابوں کا شہر میرے لمس سے ناآشنا ہے۔ میرے قدموں کی آواز سے بے خبر یہ شہرِتمنا میرے دل کے تمام رازوں کا امین ہے۔ اس شہرِبے مثال کے پانیوں پر میرے خوابوں نے میرا عکس بنا رکھا ہے۔ یہ میرے تخیل کی وہ داستان ہے جس پر محبت کے رنگوں سے میں نے نجانے کتنے ہی منظر کشید کر لئے ہیں۔ سُنا ہے شام کے بعد اس شہر میں روشنیوں کے ساتھ ساتھ محبت بھرے خواب بھی آسمان سے زمین پر اُتر آتے ہیں۔ یہاں کے چوراہوں پر زندگی رقص کرتی پھرتی ہے۔ استنبول کی نیلی مسجد میں سجے پتھروں سے نکلتی روشنی میری آنکھوں کو اپنے رنگ دکھاتی رہتی ہے۔ یہاں کے محلات کے اندر میرے خوابوں کی خوشبو بسی ہے۔ میرا تخیل میرے وجود کے ساتھ ان محلات کے درودیوار پر میرے آنسو اور میر ا درد لکھتا رہتا ہے۔ استنبول کے بازار وں میں جاگتی زندگی میرے خوابوں سے آشنا ہے۔ ان بازاروں کے اندر شور مچاتی خاموشی سے میں واقف ہوں۔

اس شہرِتمنا کے ساحلوں سے ٹکراتے میرے خواب مجھے بہت عزیز ہیں۔ میرے خواب استنبول کے میوزیم میں سجے نوادرت کو بھی میری خوشبو کی نوید سُناتے رہتے ہیں۔ استنبول کی شاہراہیں، شاہراہوں پر سجے درخت اور ان درختوں پر لکھی محبت کی داستانوں کے آس پاس ہی میرے خوابوں نے اپنا گھر بنا رکھا ہے۔ میرے خواب مجھے اکثر یہاں کے لوگوں کے چہروں پر سجی مُسکراہٹوں سے جُڑی کہانیوں کے رنگ دکھاتے رہتے ہیں۔ استنبول کے بلندوبالا مینار میرے تخیل کی اُڑان سے آشنا ہیں۔ استنبول کی فضاوں میں سانس لیتی تاریخی داستانوں کے تمام کردار میرے خوابوں پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے درد سے آشنا ہیں۔ یہاں کے پھولوں کی خوشبو سے میرے خواب جاگتے ہیں۔ میرا تخیل استنبول کی ہواوٗں کے سنگ جھومتا رہتا ہے۔ نئے منظروں کے متلاشی میرے خوابوں کو استنبول کی فضاوں نے قید کر لیا ہے۔ وہ ان ساحلوں کے اسیر ہو گئے ہیں۔ میرا دل جو نجانے کب سے اس شہر محبت کی زمین پر میرا نام لکھ چکا ہے۔ میرے چھونے کے منتظر میرے خواب استنبول کے ساحلوں پر خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو رہے ہیں۔ میرا تخیل مجھے ایک نئی اُڑان کی نوید سُناتا رہتا ہے۔

میرے خوابوں نے میری آنکھوں میں استنبول سے محبت کے رنگ بھر دیئے ہیں۔ اور اب میرے یہ خواب اپنی تکمیل کے منتظر ہیں۔ استنبول کی خوشبو میرے تخیل کو محبت بھرے نئے گیت سُناتی جا رہی ہے۔ یہ گیت اگر آپ سُننا چاہتے ہیں تو ایک بار اس شہرِ محبت کے ساحلوں پر مُسکراتے میرے ان خوابوں سے ملنے ضرور جائیں۔ آپ کے خواب بھی میرے خوابوں سے مل کر استنبول کی محبت کی اسیر ہو جائیں گے۔

(Visited 67 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: