فوج، سیاست اور خلا: ایاز امیر کے جواب میں —– محمد خان قلندر

0

جملہ معترضہ نہیں یہ حقیقت ہے کہ ہماری فوج پاکستان کی فوج ہے اور پاکستان فوج سے ہے۔  اس وجہ سے ملکی معاملات میں فوج کی شمولیت اور شرکت از بس ضروری ہے۔ آئین اور قانون کی حکمرانی بھی فوج کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ جغرافیائی اہمیت اور اڑوس پڑوس کے ممالک میں مستقل مہم جوئ کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا کہ ہماری فوجی طاقت مسلمہ اور مضبوط دفاع کی حامل ہو۔ اس وجہ سے ہمارے دفاعی ادارے متحرک اور چوکنا رہتے ہیں تو ان کے ذمہ داران پر بحث بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے اپنے ابلاغ عامہ کے ادارے بھی اس میں شریک رہتے ہیں۔ موجود ابلاغ کے دور میں میڈیا پر ان کی توصیف اور تنقید سے مفر نہیں بلکہ اسے مفید گردانا جانے لگا ہے۔

اس پس منظر میں ہمارے محترم ایاز امیر نے اشاروں میں حالیہ تعیناتی پر چکوال کے ریفرنس سےمضمون لکھا ہے جس سے تحریک پیدا ہوئ کہ زیر بحث موضوع کے سیاق و سباق کی مزید وضاحت کی جائے کہ چکوال بشمول ملحق اضلاع
ہمیشہ سے ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔

جس ممکنہ پیش منظر کی طرف ایاز امیر اشارہ کر رہے ہیں موجودہ بین الاقوامی تناظر میں اس سے اتفاق ممکن نہیں۔ آئ ایم ایف کے پروگرام کے لئے ملک میں سنٹرل کمانڈ کا ہونا ضروری سہی لیکن ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہتے ایسی تبدیلی کا امکان نہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ملک میں انتظامی خلا ہے۔

موجودہ حکومتی نظم کی بظاہر شکل تو ایک شخصی حکومت کی ہے لیکن اختیارت سے عدم واقفیت کی وجہ سے ضروری اصلاحات کا ہونا ممکن نہیں لگتا۔ نمائشی اور فرضی احتساب پر زور۔ سسٹم پر تنقید اور کردار کشی سیاسی کشتی تو ہےملکی نظام میں بگاڑ کی درستگی نہیں لگتی۔
بنیادی طور پر معاشی سسٹم میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئین میں جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں کئے اقدامات کو تحفظ دینے سے اٹھارویں ترمیم کے باوجود سُقم موجود ہیں۔

وفاقی اور صوبائ سطح پر درجنوں تفتیشی اور حساس اداروں کے ہوتے نیب جیسے ادارے کا ہونا ان اداروں پر عدم اعتماد ہے۔ عدلیہ کے مکمل آئینی نظام کے ساتھ نیب اور فوجی عدالتیں بھی عدالتی کام میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ اس پر مُستزاد یہ جے آئ ٹی، کمیشن اور پارلیمان سے ماورا کونسل اور کمیٹی بنانا بھی آئین کی سکیم تقسیم اختیارت سے متصادم اور متجاوز ہے۔ اس سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سیلیکٹ اور دیگر کمیٹیاں غیر فعال ہو جاتی ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان سے نہیں بلکہ فوج کے متعدد آپریشن کی وجہ سے دہشت گردی پر جزوی قابو پایا گیا ہے۔

ایاز امیر گرائیں اور ہم عصر ہیں۔ وہ فوج سے فارن آفس گئے اسے چھوڑ کر صحافت میں آئے۔ ہم جیسے پاکستان ٹائمزکے وقت سے ایڈیٹوریل پیج کے قاری ان کو پڑھتے تھے۔ ڈان کی اسلام آباد ڈائری والے کالم کا صفحہ کاٹ کے محفوظ رکھتے۔
جب چکوال سے ایم این اے بننے کے لئے ڈان چھوڑنے کی بات آئ، ہم نے مخالفت کی، بہر حال وہ نیوز سے ہوتے انگلش کالم سے دستبردار ہو کر اردو ۔کے روزنامے اور ٹاک شو میں اتر آئے، اب یہ فیصلہ مشکل ہے کہ وہ سیاسی صحافی ہیں یا صحافتی سیاست دان۔ ۔ ۔

ان کا تجزیہ کہ خلا رہ نہی سکتا خلا پُر ہو جاتا ہے ٹھیک ہے لیکن سابقہ چیف کی ہمارے پڑوس میں واقعہ اہم دفتر کے ڈی جی بننے سے مشرف کی رخصتی کے وقت چیف ہونے اور دوسری ٹرم لینے کے باوجود فوج کو سویلین امور سے نکالنے اس کا وقار بحال کرنے اور جنرل راحیل جیسے فعال افسر کو چیف بنوانے کو نظر انداز نہی کیا جانا چاہیئے۔

فوج کی موجودہ ہائ کمان کے انتخاب کے وقت بھی چکوال کے ایک سپوت بہت زیر بحث رہے۔ لیکن ہمارے خیال میں اس وقت کے شورش زدہ حالات میں فوج کے اجتماعی شعور کا فیصلہ درست تھا
آبپارہ کے اہم آفس جہاں ہمارے بریگیڈیر انکل سمیت درجنوں آفیسر رہ چکے ہیں۔ موجودہ سربراہ چکوال سے ہیں، کاغذ پر شجرہ لکھا جائے تو ان سے رشتہ داری بھی نکل آئے گی، لیکن اہم ترین سوال جو ایاز امیر نے اٹھایا ہے، وہ یہی سمجھ آتا ہے کہ کہا یہ تقرری بائ ڈیزائن کسی ممکنہ بڑے فیصلے کا پیش خیمہ ہو گی ؟ ہماری رائے میں،، نہیں۔

امن و امان اور سیکیورٹی کے مسائل سے فوج نپٹ سکتی ہے۔ مالی۔ معاشی اور معاشیاتی مسائل سے نہیں اس کے لئے فوجی ادوار میں ہمیشہ ورلڈ بنک اور آئ ایم ایف سے ایکسپرٹ ادھار لئے جاتے رہے ہیں تو یہ بندوبست تو موجودہ حکومت پہلے سے بڑھ کر کئے ہوئے ہے۔

پاکستان کے مسائل کا حل فوجی ٹیک اوور نہی۔ سیاسی پارٹیوں کی تطہیر ہے۔ الیکشن کمشن کے قوانین اور سیاسی پارٹیوں کے ضوابط میں تبدیلی سے انہیں نئے زرداری اور نواز سے بچانا اور عمران جیسے شخصی حکومت کے دلدادہ سے جان چھڑا کے۔ آئین کے مطابق صحیح وفاقی پارلیمانی جمہوریت کا نفاذ ہے۔

حساس اداروں کو کلوز کوارٹرز سے دیکھنے کے بنا پر ہم مستقبل قریب میں ان ہاؤس بڑی تبدیلی کا تجربہ ہوتا دیکھ رہے ہیں بصورت دیگر سال بھر کے لئے عبوری اور ادارہ جاتی انتظام کے تحت نئے انتخابات ہو سکتے ہیں۔

(Visited 108 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: