’’کراچی کی یادیں‘‘ —— تبصرہ: نعیم الرحمٰن

0

زندہ دلان لاہورکاکہنا ہے، ’لاہورلاہورہے‘ یا ’جنے لاہورنہیں ویکھیا او جمیا ای نئیں‘۔ لاہورایک قدیم ترین تاریخی شہرہے۔ لیکن مائی کولاچی کے نام سے موسوم کراچی اتنا قدیم اورتاریخی نہ سہی۔ روشنیوں کا شہرکراچی بھی اپنی افتاد میں کچھ کم نہیں۔ مختلف رنگ، نسل، زبان
،مذہب اور فرقوں سے وابستہ افراداوررنگارنگ ثقافتیں اس شہر میں ہم آہنگ نظرآتی ہیں۔ پاکستان کے پہلے دارالحکومت کواسی ثقافتی ہم آہنگی کی وجہ سے منی پاکستان کہاجاتاہے۔ اورکراچی کایہ لقب بالکل درست ہے۔ ملک کے ہرحصے سے یہاں آنے والوں کی وجہ سے یہ نام کراچی کوسوٹ بھی کرتاہے۔ یہ غریب پرورشہراپنی آغوش ہرآنے والے کے لیے واکردیتا ہے۔ پھرکراچی کو کسی کی نظرلگ گئی۔ بدامنی، قتل وغارت، بھتہ خوری، ہڑتالوں نے اس شہرکاچہرہ بگاڑدیا۔ اللہ کاشکر ہے کہ شہرکی بدامنی ختم ہوئی اور رفتہ رفتہ اس کی رونقیں بحال ہونے لگی ہیں اوریہ دوبارہ روشنیوں کا شہر بنتا جارہا ہے۔

شہرکراچی کے حوالے سے کچھ انتہائی دلچسپ کتابیں منظرعام پرآئیں۔ اس سلسلے کا آغاز اجمل کمال کے آج کے دوبے مثال نمبر’’کراچی کی کہانی‘‘ کے نام سے شائع کرکے کیا۔ آج کے ان نمبروں میں کراچی کی تاریخ کی ہرکروٹ کوعمدگی سے پیش کیا گیا۔ پھرعبدالشکور پٹھان صاحب نے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے کراچی کے افراد کی یادوں کو’’میرے شہروالے‘‘ میں تازہ کیا۔ اس کتاب میں قدیم کراچی کے مختلف حصوں کو دلچسپ انداز سے پیش کیا گیا ہے اور تصاویرکے ذریعے بھی پرانے کراچی کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح اوربے نظیر بھٹوسے لے کر حکیم سعید اورعبدالستار ایدھی جیسے اس شہرکے عظیم افراد کا ذکر بھی میرے شہروالے میں موجودہے۔ حال ہی میں عبداللہ کیہر صاحب کی کتاب ’’کراچی جوایک شہرتھا‘‘ بھی شائع ہوئی ہے۔ جس میں کراچی کی یادیں، مشاہدات، تجربات اورکراچی کی تاریخ خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے۔ لیکن اخباری کاغذ پرڈیڑھ سو صفحات کی اس کتاب کی ایک ہزار روپے قیمت بہت زیادہ ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں بھی یہ قیمت قابلِ قبول نہیں، یہ قیمت لوگوں کو مطالعے سے دورکرنے کاباعث ہوگی۔

کراچی ہی بارے میں محمد سعید جاوید کی بہت عمدہ کتاب ’’ایسا تھا میراکراچی‘‘ معروف پبلشربک ہوم لاہورنے شائع کی ہے۔ چارسوسولہ صفحات اورقدیم کراچی کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے مزین بتیس صفحات اورعمدگی سے چھپی ہوئی کتاب کی قیمت چودہ سو روپے بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔

سعید جاوید کا سارا بچپن، لڑکپن اورجوانی کا ابتدائی حصہ شہرِقائد کراچی ہی میں گذرا۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں طالع آزمائی کی۔ دس سال تک بینکنگ کے شعبے سے منسلک رہنے کے بعد پردیس سدھارے اوروہاں پچیس سال تک ریاض کے بڑے ہسپتال میں انتظامی امورسرانجام دیئے۔ وطن واپسی پرلاہورکے ایک اعلٰی ہسپتال میں کچھ عرصہ بطور سینئرایڈمنسٹریٹر ذمہ داریاں نبھائیں۔ پھرگھرکے ہورہے۔

اس دوران انہوں نے دوکتابیں آپ بیتی ’’اچھی گزرگئی‘‘ اورسفرنامہ ’’مصریات‘‘ تحریرکیں۔ جن کودنیائے ادب میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ ’اچھی گزرگئی‘ کو پاکستان کے بڑے ناقدین نے اب تک کی لکھی گئی چند بہترین آپ بیتیوں میں شامل کیاہے۔

سینئرصحافی اوراردوڈائجسٹ کے مدیراعلیٰ الطاف حسین قریشی نے کتاب پراظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آپ بیتی زندگی سے معمور جیتی جاگتی، مسکراتی اوراحساس کی تپش کے ساتھ ایک ایسی دلچسپ داستان کا رنگ اختیارکرگئی ہے جسے شروع کرنے کے بعدچھوڑنے کوجی نہیں چاہتا۔ ‘‘

مشہورشاعر، ڈرامہ اور کالم نگار امجد اسلام امجد کا کہنا ہے کہ ’’اچھی گزرگئی کی پہلی اورسب سے بڑی خصوصیت تویہی ہے کہ یہ ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے اورآپ کسی مجبوری کے بغیراسے ہاتھ سے رکھنے پرتیارنہیں ہوتے۔ اس کی نثرسادہ، رواں اوردلچسپ ہے۔ واقعہ نگاری اوربیانیہ کسی قسم کی آرائش کے محتاج نہیں اوراقبال کے اس مصرعے کی جیتی جاگتی تصویرہیں۔ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنابندی۔ ‘‘

مرحوم مصنف وشاعرڈاکٹر انورسدید نے لکھا کہ

’’میں نے اس کتاب کا مطالعہ اس کی ضخامت کی وجہ سے التوامیں ڈال رکھا تھا۔ لیکن ایک شب سونے سے پہلے اسے یونہی اٹھا کر دیکھا تو سحرزدہ رہ گیا اور ممتاز مفتی کی آپ بیتی علی پورکا ایلی اور الکھ نگری کی طرح اسے بھی ختم کیے بغیرنہ رہ سکا۔ دیوان سنگھ مفتون، حمیداختر، اخترحسین رائے پوری اورگیان سنگھ شاطرکی آپ بیتیوں کی طرح۔ میری رائے میں محمد سعید جاوید کی آپ بیتی اچھی گزرگئی بھی خود نوشت سوانح عمریوں میں خاصہ خاصان کتب ہے۔ ‘‘

سعید جاوید کا سفرنامہ ’’مصریات‘‘ عہدِ جدید کے مصراوراس کے ازمنہ قدیم کے قصے کہانیوں کاحسین امتزاج ہے جسے وہ اپنے ہلکے پھلکے اور خوبصورت اندازمیں بیان کررہے ہیں۔ جوانہی کاخاصہ ہے، وہ اپنی تحریرمیں ہنسی مذاق کا ایسا تڑکا لگاتے ہیں کہ ثقیل قسم کی معلومات بھی بیزار نہیں کرتیں بلکہ قاری کا تجسس اور بڑھتا ہے۔ یہ ایک انوکھی طرزکاسفرنامہ ہے جو کسی ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کراِدھراُدھرسے معلومات حاصل کرکے مرتب نہیں کیا گیا بلکہ اس میں منصف ایک طرف تواپنے قارئین کی انگلی تھامے جدید مصرکے شہروں اوراوردیہاتوں میں قریہ قریہ گھماتے پھرتے ہیں تو دوسری طرف وہ چارہزارسال قدیم فرعونوں کے دورمیں بھی جاپہنچتے ہیں۔ ‘‘

اب سعیدجاوید صاحب نے اپنی پرانی یادوں کوکریدتے ہوئے کراچی کے سنہرے دورکوموضوع بنایا ہے۔ اوراپنادل کھول کررکھ دیا ہے۔ اندازاوراسلوب حسب سابق ہلکا پھلکا سا جو کبھی قاری کو مسکرانے پرمجبورکردے گا اورکبھی اس کی آنکھوں کواشک آلود کردے گا۔ سعیدجاوید نے قاری کی انگلی تھامے اسے اس دورکے کراچی کا گوشہ گوشہ گھمایا ہے۔ اورجب قاری حیرت وحسرت سے اس کے کوچہ و بازار دیکھیں گے تو وہ بڑے فخر سے کہنے پر مجبورہوجائے گا ایسا تھا میرا کراچی۔

کتاب کا انتساب بھی دلگداز ہے۔ ’’اپنے خوبصورت مگر دلفگار شہر محبت کراچی کے نام جس نے ماں کی آغوش کی طرح مجھے پالا، بہترین پرورش کی، اعلیٰ تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا، اورآبرومندی کے ساتھ دنیا میں جینے کاسلیقہ سکھایا۔ اے شہرآزردہ تیری عظمتوں کوسلام۔ ‘‘
کتاب کا پہلا باب پس منظر ہے۔ جس میں مصنف کی اہل خانہ کے ساتھ کراچی آمد، مہاجرکیمپ اوراس دورکی حکومتی مشکلات کابیان ہے۔ دوسرے باب باہر نکلیں میں ڈرگ روڈ، گورا قبرستان، سوسائٹی اور کراچی ایئرپورٹ سمیت اردگردکے علاقوں کا ذکر ہے۔ اس میں نرسری ایریا کا دلچسپ ذکر کچھ یوں ہے۔

’’کئی برس تک تویہ جگہ تقریباً ایسے ہی اجاڑ پڑی رہی تھی، پھر کچھ منصوبہ بنا اوران پہاڑیوں اورخودرو جنگلوں کو ہموار کر کے ان پرکراچی کی پہلی اونچے درجے کی ہاؤسنگ سوسائٹی کاآغازہوا، جس کی بہت زیادہ تشہیرکی گئی۔ معمولی قیمتوں پراور وہ بھی قسطوں میں یہاں پلاٹ الاٹ کیے جانے لگے، لیکن اس اجاڑعلاقے میں کوئی بھی رہنے کوتیارنہیں تھا۔ سست رفتارترقیاتی کاموں کی وجہ سے جن لوگوں نے تھوڑے بہت پیسے جمع بھی کروائے تھے، وہ بھی انہوں نے پلاٹ کیسنل کراکے واپس لے لیے اور یوں یہ منصوبہ کافی عرصہ تک التوا کا شکار رہا۔ کسے معلوم تھا کہ کچھ ہی عرصے میں یہ کراچی کاسب سے جدید اورعالی شان رہائشی علاقہ بن جانے والا تھا۔ بعد ازاں جب کچھ لوگوں نے وہاں اپنے گھر بنا کرسکونت اختیارکی تو دھڑا دھڑ کوٹھیاں اور بنگلے بننا شروع ہوگئے۔ یہ تھا پی ای سی ایچ سوسائٹی کا آغاز پھر تو یہ سوسائٹی پھیلتی ہی چلی گئی اوراس کے اضافی بلاک بنتے گئے۔ کراچی کابہت مصروف تجارتی مرکزطارق روڈ بھی یہیں بنایا گیا تھا۔ ‘‘

لوگوں کے لیے یہ حیران کن بات ہوگی کہ کبھی یہ علاقہ ایسا اجاڑ بیابان ہوگا۔ جوآج کراچی کے انتہائی قیمتی ایریاز میں شمارہوتاہے۔ ایک اور دلچسپ ذکر صدرسے ایئرپورٹ تک کراچی کی بس کے سفرکاہے۔

’’ہوائی اڈے کاطویل اورمشکل راستہ سائیکل رکشے کے بس کی بات نہیں تھی اور گاڑی رکھنا ہر ایک کی پہنچ میں نہیں تھا۔ سولے دے کروہ ہی ایک گئی گزری سی بس ہوتی تھی جوگھنٹے دوگھنٹے بعدشہرمیں اپنے اڈے سے نکلتی تھی اورجسے اسٹارٹ کرنے میں ہی پانچ منٹ لگ جاتے تھے۔ بس ڈرائیورسامنے انجن میں ایک آہنی دستہ گھسیڑکرزورسے گھماتا، اگراس کا مقدر اچھا ہوتا یا کچھ لیا دیا کام آجاتا تو بس فوراً اسٹارٹ ہوجاتی، ورنہ اس کو ہانپتے کانپتے کئی باریہ عمل دوہرانا پڑتا تھا۔ اس گاڑی میں ٹھونس ٹھونس کر مسافر بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ سفرکے دوران ہرآدھے پونے گھنٹے بعدڈرائیوربس سے کھڑی کرکے نیچے اترتااور باقاعدگی سے بس کے انجن میں پانی ڈالتا۔ ایئرپورٹ تک کے اس سفرکوکم ازکم دوگھنٹے توآرام سے لگ ہی جاتے تھے۔ بس سے اتر کر کچھ تو مسافروں کواپنے اوسان بحال کرنے میں ہی لگ جاتا تھا۔ بڑی دیرتک کانوں میں ہارن کی پوں پوں گونجتی رہتی تھی۔ ‘‘

کیا شگفتہ طرزبیان ہے۔ آج کے تیزرفتاردور میں کوئی اس قسم کے سفرکا تصور بھی کرسکتا ہے۔ مشہورمزاحیہ شاعرسید محمد جعفری نے بھی کراچی کی بس کے ایسے ہی سفرکواپنی نظم میں بیان کیا ہے۔ ’نہیں ہورہاہے مگر ہورہا ہے، کراچی کی بس میں سفرہورہا ہے۔ ‘جن قارئین نے اس دورکی بسوں کا سفر کیا ہے۔ ان کی یادوں کی بازیافت ہوجاتی ہے۔ جبکہ نئی نسل کے لیے یہ کسی مزاحیہ تحریرسے کم نہیں۔

ایسا تھا میرا کراچی کا تیسرا باب ’ کہیں اورچلتے ہیں‘ جس کے عنوانات سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ صدر۔ گردونواح، جناح ہسپتال روڈ، کالاپل، صدر۔ کراچی کادل، لکی اسٹار، بوہری بازار، ایلفسٹن اسٹریٹ، وکٹوریہ روڈ، میوزک فاؤنٹین، قصرصدارت، پولوگراؤنڈ، فریئرہال، کلفٹن، مزارعبداللہ شاہ غازی، کلفٹن مچھلی گھر، میٹروپول ہوٹل، نائٹ کلب اورنیپیئرروڈ۔ بازارِحسن۔ اسی باب میں سعید جاوید صاحب نے بتایا کہ فریئراسٹریٹ کے قریب چوک پر کراچی بلکہ پاکستان کا پہلا خود کار برقی اشارہ نصب کیا گیا تھا۔ یہ تقریباً انہی دنوں لگاتھاجب سعید صاحب کے والدین کراچی آئے تھے۔ یہ نہ کراچی والوں کے لیے انوکھی چیز تھی، جہاں جلتی بجھتی خودکارروشنیوں سے ٹریفک کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ سرخ، زرداورسبزبتیوں کاکھیل بڑا ہی نرالا ہوتا تھا انہی رنگوں کو سمجھتے ہوئے گاڑیوں کے رکنے اورچلنے کا تماشاوہاں سے گزرنے والوں کے بڑادلچسپ ہوتاتھا۔

ڈرگ روڈ سے صدرکی حدودمیں داخل ہونے سے پہلے جو سڑک بائیں طرف کو نکلتی تھی اس کا نام جناح ہسپتال کی مناسبت سے جناح ہسپتال روڈ کہا جاتا تھا۔ بائیں طرف ایک عام سے آہنی دروازے کے اندرٹوٹی پھوٹی چاردیواری کے اندرمختلف عمارتوں کامجموعہ کراچی کا سب سے بڑا جناح ہسپتال تھا۔ جس کے اندر داخل ہوتے ہی ایمرجنسی کے نام پرآٹھ دس بستروں کا ایک وارڈ تھا۔ ایمرجنسی وارڈ زیادہ مصروف نہیں ہوتا تھا۔ مرکزی دروازے کے باہر فولادی چھپر کے سائے تلے ہسپتال کی دوتین ایمبولینس کھڑی رہتی تھیں۔ یہ تھا پرانا کراچی اور اس کابڑاہسپتال۔ ایسے ہی کتنے دلچسپ واقعات کتاب کے ہر صفحے پربکھرے ہوئے ہیں۔

کالا پل سے تھوڑا آگے نیوی کا شفا ہسپتال بنا ہواتھا۔ مناسب عمارت نہ ہونے کی وجہ سے اس کوبھی عارضی طور پرفوجی بارکوں میں ہی بنایا گیا تھا، جس کی وجہ سے ایک وارڈسے دوسرے تک جانے میں خاصاوقت لگتا تھا۔ الشفا ہسپتال اب کافی جدید اوربڑاہے۔ صدرکے ایک کونے پرلکی اسٹارہوٹل واقع تھا جواپنے زمانے کابہت مشہورلیکن معمولی ساریسٹورینٹ تھا جو محض اپنے محل وقوع کی وجہ سے زبان زد عام ہوگیا تھا ورنہ اس میں کوئی بات نہیں تھی۔ اس ریسٹورینٹ کوختم ہوئے ایک زمانہ ہوگیا۔ لیکن صدرکوجانے والایہ موڑآج بھی لکی اسٹارکہلاتاہے۔ ہم جیسے بہت لوگوں کواس نام کی وجہ تسمیہ اسی کتاب سے معلوم ہوئی۔ سعیدجاوید صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ لکی اسٹارہوٹل کی چائے بڑی شاندارہوا کرتی تھی۔ دوآنے کاچھوٹا سا کپ ملتا تھا جس میں فرمائش کرکے ملائی ڈلوائی جاتی تھی۔ ایسی درخواست پربیرا باآواز بلند چائے والے کو آرڈر دیتا تھا ‘ایک کپ چائے ملائی مارکے‘ چائے والاسامنے پڑے سماوارسے ابلتی ہوئی چائے کا کپ بھرکے قریب ہی رکھے ہوئے برتن میں سے کڑھے ہوئے دودہ پرسے ملائی کی آدھا انچ موٹی ایک پرت خاص اندازسے کاٹ کرکپ میں ڈالتا تھا۔ ‘‘

اب جب کہ آنے دوآنے توکیاروپیہ کے سکے کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ ان کا بیان حیرت افزاہے۔ اوراس چائے کا ذائقہ بھی قاری کو لبوں پرمحسوس ہوتا ہے۔ سینٹ پیٹرک کیتھڈرل کے قریب سڑک کے دونوں جانب کئی منزلہ اونچی برطانوی طرز کی پتھریلی عمارتیں تھیں ان میں زیادہ ترعیسائی، پارسی اور یہودی خاندانوں کے علاوہ بوہری اوراچھی مالی حیثیت کے میمن بھی رہا کرتے تھے۔ یہودی تعداد میں کم تھے مگر اس علاقے میں ان کی بھی کثرت تھی۔ قارئین کے لیے یہ بھی ایک دلچسپ اطلاع ہے کہ کراچی کے مرکزصدرمیں یہودی بھی کبھی رہاکر تے تھے۔

سعید جاوید بتاتے ہیں کہ

’’اس دورمیں کم ازکم صدرکے علاقے کی تمام بڑی اورمرکزی سڑکیں صبح صبح دھلا کرتی تھیں۔ پانی کے ٹینکرآتے اور سڑک پر پانی گراتے جس سے خاکروب سڑک کوجھاڑوؤں سے اچھی طرح دھوکر چمکاتے اوریہ ساراکام کاروبارِ زندگی شروع ہونے سے قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچا جاتا تھا۔ اس سڑک کے فٹ پاتھوں پرپارسی اورہندوخواتین اپنے مرکزی دروازے کے سامنے رنگ برنگے پاؤڈرکے ساتھ پھولوں ٹھپے لگا کر بڑے ہی دیدہ زیب ڈیزائن بنایا کرتی تھیں۔ ‘‘

ایسے دلکش ڈیزائن صدرکے فٹ پاتھوں پرمیرے جیسے بہت سے افراد کویاد ہوں گے۔ اپنے کچھ اساتذہ کے بےجا تشدد کی وجہ سے سعید جاوید اوران کے کچھ دوستوں نے تعلیم سے بغاوت کرکے اسکول سے بھاگنا سیکھ لیا۔ اسکول سے اس بھاگ دوڑمیں انہوں نے آس پاس کی تمام سڑکیں اورکینٹ اسٹیشن تک کاعلاقہ دیکھ ڈالا۔ جواس کتاب کی تحریرمیں ان کے بہت کام آیا اورانہوں نے ایک ایک سڑک کی تفصیل بیان کردی۔ جو اس دورسے آگاہ افراد کے لیے ہی نہیں انجان لوگوں کے لیے بھی اپنی اندر بھرپورکشش رکھتی ہیں اورکتاب کوشروع کرنے والااسے ختم کئے بنا ہاتھ سے نہیں رکھ پاتا۔ یہی سعید جاوید کی تحریر کا کمال ہے کہ وہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لیے پورے شہرکی سیرکرادیتے ہیں۔

میوزک فاؤنٹین کاتاریخی فوارہ صدرایوب خان نے خاص طورپرامریکی صدرآئزن ہاورکے استقبال کے لیے بنوایاتھا۔ جنہوں نے صدر پاکستان کی دعوت پر دسمبرانیس سوانسٹھ میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ یہ بلاشبہ اس زمانے میں کراچی کا ایک یادگارمقام ہوا کرتا تھا جوباہرسے آنے والوں کوان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اپنے شہرکی شوبازی کے لیے دکھایا جاتا تھا۔ پھرایک دن صدرآئزن ہاوربھی کراچی آن پہنچے۔ ان کا قافلہ ہوائی اڈے سے ڈرگ روڈسے ہوتا ہوا میٹروپول ہوٹل کے ساتھ مڑکراس طرف آنا تھا۔ وہ صدرایوب کے ساتھ کھلی کارمیں کھڑے تھے۔ دونوں ہاتھ ہلاہلا کر سڑک کے دونوں طرف کھڑے استقبالی بچوں اورلوگوں کے سلام اورنعروں کاجواب دے رہے تھے۔ اس سے پڑھنے والوں کویہ بھی علم ہوتاہے کہ آج کے دورمیں ہی نہیں ماضی میں بھی ہمارے حکمران امریکا کے سامنے کیسے بچھ جاتے تھے۔

کراچی کی ٹرامیں، ایمپریس مارکیٹ، جہانگیرپارک سردارگھسیٹا خان، نیٹی جیٹی کاپل، ریڈیوپاکستان، ٹیلی ویژن کاآغاز، کراچی کی فلمی صنعت اورسینما کلچرکے بارے میں بھی دلچسپ معلومات اپنا شگفتہ اسلوب میں سعید جاوید نے پیش کی ہیں۔ لالوکھیت، پرانی نمائش، بندو خان کبابیا اورکئی اورعلاقوں کا تفصیلی یا مختصرذکر ہے۔ ایک باب پرانے کراچی اوراس کے باسیوں کے درمیان بھائی چارے کے بارے میں ہے۔ یہاں کی معاشرت، لباس اوربدلتے فیشن، لذتِ کا م ودہن کوبھی بیان کیاہے۔ شہرکی ثقافتی سرگرمیوں کوبھی مصنف نے نظرانداز نہیں کیاہے۔ ایک باب کراچی کے مہاجر، پشتون، پنجابی، بوہری، میمن اوردوسرے مسلمان طبقوں کے بارے میں ہے۔ اورایک باب میں شہرکے غیرمسلم شہریوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ کراچی میں مشہور کھیلوں اورکھلاڑیوں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اہم سیاسی واقعات میں چندزیادہ اہم ہیں۔ جن میں کراچی سے دارالخلافہ کی منتقلی، ملک میں اعشاری نظام کا اجرا، پٹھان مہاجرٹکراؤ اورجنگ ستمبر پینسٹھ کی یادیں شامل ہیں۔ کراچی کے اخباروجرائد اورشاعروادیب کابھی ذکرہے۔ غرض محمد سعید جاوید نے ’ایسا تھا میرا کراچی‘ میں روشنیوں کے شہر کے ماضی کے بارے میں کوئی پہلونہیں چھوڑا۔ قاری کتاب پڑھتے ہوئے ماضی کی یادوں میں کھوجاتا ہے۔ کراچی کے باسیوں ہی کو نہیں ہر صاحبِ علم کویہ کتاب ضرورپڑھنی چاہیے۔

(Visited 66 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: