دیوبندیت: میرے فکری سفر کا ایک پڑاو ۔ حصہ اول

0
  • 5
    Shares

میرے علمی سفر میں دیوبندیت میں میرا تعارف ایک مضبوط علمی روایت سے ہوا، جو کافی متاثر کن لگی۔ عقائد جو عام طور پر عام لوگوں کو بتائیں جاتے ہیں وہ کافی حد تک معقول اور سادہ ہیں۔ عقائد کے بارےمیں اکابرین کی متنازع قسم کی باتیں اور عبارتیں البتہ فلڑ filterکر کے بتائی جاتی ہیں یا بتائی ہی نہیں جاتیں، اس لیے عام دیوبندی عامی اور عالم معقول عقائد کے ہی حامل ہوتے ہیں۔

دیوبند میں بڑی علمی شخصیات پیدا ہوئیں، یہ ان کی بڑی خوش قسمتی تھی، لیکن شخصیت پرستی کی دیرینہ بیماری کی وجہ سے یہ ان کی بڑی بد قسمتی بھی بن گئی۔ ان بڑی شخصیات کی گھنی چھاؤں تلے مزید بڑی شخصیات، انفرادیت اور تحقیق کی جستجو گھٹ کر مر گئی۔ ان بڑی شخصیات کو خدا تو نہیں، البتہ، عملی طور پر نبوت کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہے، جن سے غلطی کا صدور نہیں ہوتا، جن کا ہر فرمان درست اور حرفِ آخر ہے، جن سے اختلاف کفر اگر نہیں تو گمراہی ضرور ہے۔ اسلاف کے فرمان کے آگے کوئی نئی بات کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، بلکہ احتیاط کے خلاف ہے اور اپنے لیے گمراہی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

البتہ خود اکابرین میں جب آپس میں اختلاف ہوا تو انتخاب کی مجبوری سے پیروکاروں کو کسی ایک کو غلط کہہ کر دوسرے کو چننا پڑا۔ مگر یہ چناؤ بھی کسی تحقیق پر نہیں بلکہ فکری اور مدرسی وابستگی پر مبنی تھا، اور اگر کہیں ایسا نہیں کیا گیا، اگر کسی نے اپنے ضمیر اور تحقیق کی آواز پر کان دھرا تو اس پر نمک حرامی کا الزام آیا کہ کھاتے تو اس مدرسے کا ہو اور ساتھ دوسرے کے دیتے ہو۔ یعنی کوئی علم و دلیل کی بنا پر اپنا مسلک تو کیا اپنے مدرسے کا مشرب تک نہیں بدل سکتا۔

یہاں بھی آزاد سوال اٹھانا خود پر گمراہی کا فتوی لگوانا ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے، یہ یقین دہانی کروانا ضروری ہے کہ جو جواب بھی دیا جائے گا، آپ اسے ماننے کے لیے ہی سوال پوچھ رہے ہیں۔

مدارس کے نصاب میں تحقیق کا مضمون شامل ہی نہیں۔ اس لیے نہ صرف یہ تحقیق سے نابلد ہوتے ہیں، بلکہ تحقیق نہ کرنے کے جواز بھی دیتے ہیں، کہ سب کچھ اسلاف کر چکے ہیں، ہمارے لیے ان کی اقتداء ہی کافی ہے۔ فقہ کی پہلی کتاب ہی سے بتا دیا جاتا ہے کہ مجتہد مطلق، خدا نے ایک بار پیدا کرنے کے بعد بند کر دییے ہیں، کہنا یہ ہے کہ ‘تجربہ’ بتاتا ہے کہ یہ مطلق اجتہاد کی صلاحیت صدیوں سے مفقود ہے۔ اسی طرح مجتہد فی المذھب بھی ہو چکے، اب ان کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہی، اب صرف ناقلین چاہیئں جو فقہاٰ کی کی کتب سے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے نقول پیش کر سکیں۔ یہ بات، ابتدائی درجے کی کتاب، نور الایضاح کی کسی شرح میں لکھی ہوئی ہے۔ یعنی اڑنے سے پہلے ہی نئے پرندوں کو حد پرواز بتا دی جاتی ہے۔ اب اس تعلمی نظام سے صرف ناقلین اگر نہ پیدا ہوں تو حیرت ہوتی، اگر اس سب کے باوجود کوئی تحقیق کی جسارت کرے اور اس پر تنقید نہ ہوتی تو حیرت ہوتی۔ اس تقلیدی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب جیسے بڑے عالم نے جب چند فقہی معاملات میں اجتہاد سے کام لینے کی کوشش کی اور احناف کے دائرے سے پاؤں باہر نکالنے کی جسارت کر ڈالی تو قدم واپس لانے مشکل ہو گئے، ان کے ساتھ فقہی اور علمی اختلاف کو محض اختلاف نہیں رہنے دیا گیا بلکہ معاملہ کردار کشی تک جا پہنچا۔ مولانا کے خلاف فتوی بازی اور اور پراپیگنڈا کی مہم چلائی گئی، اور اس میں ضروری علمی اور عام انسانی اخلاقیات تک کی پاسداری بھی نہیں کی گئی۔

دوسری مثال مولانا زاہد الراشدی کی ہے، جنھیں نشان عبرت بنایا گیا۔ مولانا کٹردیوبندی ہیں۔ کسی ایک مسئلے میں بھی وہ دیوبند سے الگ نہیں تھے، لیکن ان کا قصور صرف یہ تھا مولانا اپنے بیٹے مولانا عمار ناصر سمیت کسی کے لیے بھی اپنی آزاد رائے رکھنے کے قائل اور اس بنا پر گمراہی اور تکفیر کے فتوے دینے سے اجتناب کرتے تھے، محض اپنی وسیع النظری کی پالیسی کی وجہ سے انہیں دیوبندیت سے نہ صرف خارج قرار دینے کے لیے زور دار مہم چلائی گئی بلکہ وفاق المدارس نے ان کے مدرسہ، نصرۃ العلوم کے طلبہ کے نتائج دو بار روک کر مولانا کو اپنی وسیع النظری کی پالیسی سے تائب ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ آخر معاملہ عدالت میں لے جانے کی دھمکی پر ‘اہل حق’  کے دل ‘پسیجے’ اور مدارس کے طلبہ کا مسقبل داؤ پر لگنے سے بچ سکا۔

نوشیروان نے کہا تھا کہ اگر بادشاہ کسی باغ سے ایک سیب بغیر دام دییے توڑ لے تو اس کی فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔ یہاں بھی یہی ہوا ہے کہ بڑوں کے اس طرزِ عمل سے شہ پا کر، چھوٹے لوگوں نے ایک خلقت محض علمی اختلافات پر زبان طعن و تشنیع دراز کر رکھی ہے۔ کسی اہل علم کی عزت محفوظ نہیں، لمحوں میں غیرت دین کے نام پر مخالف کی ناموس کی دھجیاں اڑا دی جاتیں ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ ایسے دریدہ دہن اپنے حلقوں میں نمایاں اور امتیازی مقام کے مستحق بھی ٹھہرتے ہیں۔ ایسوں کی مالی کرپشن ہو یا اخلاقی کرپشن، سب سے صرف نطر کر لیا جاتا ہے، لیکن اگر انہیں میں سے کوئی علمی اختلاف کر بیٹھے تو اس کو خارج از دیوبندیت کرنے کے لیے بڑے سے لے کر چھوٹے تک سب سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کاش جو غیرت و حساسیت اپنے مسلک کے لیے دکھائی جاتی ہے ویسی ہی اخلاقیات کے بھی دکھائی جاتی تو آج اتنے بے شمار مدارس، فضلاء، علماء اور بے شمار مذھبی جماعتوں کے ہوتے ہوئے سماج میں دینی فضا اتنی مکدر نہ ہوتی۔

آپ دیکھیے کہ دنیا کے ہر میدان میں ایک سے بڑھ کر ایک اہل علم و فن مسلسل آ رہا ہے۔ یہ ضرب المثل بن گئی ہے کہ ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے بنتے ہیں۔ ریکارد کا مقرر ہونا نئے حوصلہ مندوں کے جذبوں اور قوت کو مہمیز دینے کے کام آتے ہیں اور وہ پہلوں سے زیادہ کارکردگی دکھا کر ریکارڈ توڑتے ہیں، اور پھر ان کے بعد آنے والے ان کے ریکارڈ توڑتے ہیں اور یوں خدا کی شان

کل یوم ھو فی شان

کے مظاہر آئے دن ہمارے سامنے آتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک بار جو ریکارڈ بن گیا وہ اب اٹوٹ ہے۔ تم اپنے اسلاف کی خاک پا ہو، وہ ثریا ہیں جس تک تم پہنچ ہی نہیں سکتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے وہ فیاض خدا جو دنیا کے ہر علم و فن کے شعبے میں ایک سے بڑھ کر ایک صلاحیت پیدا کر رہا ہے وہ اپنے دین کے لیے اپنے اس اصول کے خلاف کم سے کم تر صلاحیت پیدا کرتا جا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ محض اپنی کاہلی کو جواز بخشنے اور کم اہلیت رکھنے والے مسند نشینوں کا فریب ہے تاکہ کوئی برتر صلاحیت کا حامل ان کی مسند نہ چھین لے۔ یہ بہانے اس لیے تراشے گئے ہیں تاکہ تقلید کی سہل پسندی کے ذریعے تحقیق کی وادی خار زار میں اپنے قلب و گجر لہو لہان کرنے کی مشقت سے بچا جا سکے۔ اسی روش نے نہ صرف قدیم اسلاف کو بت بنا دیا بلکہ موجود اکابرن کی پاپائیت کے قیام کی وجہ بھی یہی ہے۔

آج کےدور میں جب کہ علم اور معلومات کے ذرائع پہلے سے کئی سو گنا ترقی یافتہ ہو چکے ہیں، اس پر یہ کہنا کس قدر کیسے درست ہو سکتا ہے کہ اب پہلے سے بہتر علما اور محققین پیدا نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو رہا تو گویا اساتذہ اپنی نالائقی کا اعتراف ثبوت کے ساتھ کر رہے ہیں کہ وہ ان وسائل کو بروئے کار لا کر بہتر علما پیدا نہیں کر پا رہے ہیں۔ جب کسی عالم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اس کا خلا تاقیامت نہ بھرے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو دراصل یہ اپنی نااہلی کا اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم اتنی محنت کے لیے تیار نہینں کہ اس کا نعم البدل تیار کر سکیں۔ یہ صورت حال اگر دنیا کے معاملات میں ہوتی تو ہم آج بھی گدھے اور گھوڑوں پر ہی سوار ہوتے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بجائے، آج بھی کسی قاصد کی منتیں کر رہے ہوتے کہ ہمارے خط چار چھ ماہ کے اندر اندر دوسرے شہر یا ملک میں پہنچا کر ہم پر احسان کرو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: