ایک کہانی، نئی پرانی —– شازیہ ظفر

0

ایک تھی چڑیا اور ایک تھا چڑا۔۔۔ نہ چڑیا لائی دال کا دانہ اور نہ ھی چڑا لایا چاول کا دانہ لیکن دونوں نے کھچڑی تو خوب ھی پکائی۔۔۔۔ تفصیل اس اجمال کی یہ کہ صبح سویرے ھماری اپنے پودوں سے گفت و شنید کے دوران اچانک ھی بہت زور و شور سے چڑیوں کے شور مچانے کی آوازیں آنے لگیں۔۔ ھم نے پہلے تو صرف نظر کیا لیکن جب یہ شور۔۔۔۔ شور و غوغا میں بدلنے لگا تب ھم نے اپنی مشغولیت ترک کر کے اطراف کا جائزہ لیا۔۔ کیا دیکھتے ھیں چڑیوں کا ایک کمسن نادان سا چوزا پام کے پتوں پر اٹکا پڑا ھے۔۔۔ اس نو آموز کو اسکے والدین شاید اڑان بھرنا سکھا رھے تھے مگر یہ جانِ ناتواں اڑان بھرنے کے چکر میں لڑھک کر پتوں پہ آ رھا۔۔۔ ڈرا سہما سا پتے پہ ٹکنے کی کوشش میں ھلکان ھوا جاتا تھا۔۔۔ ادھر چڑیا اور چڑے میں گھمسان کا رن پڑا ھوا تھا یہ بڑا دلچسپ اور حیران کن منظرنامہ تھا۔۔۔۔ ماں باپ چاھے کسی بھی طرح کی مخلوق سے تعلق رکھتے ھوں اولاد کے لیے انکے جذبات اور احساسات اتنے یکساں ھونگے اسکا اندازہ اس منظر کو دیکھنے سے ھوا۔۔۔۔

چڑا چونکہ صنف قوی سے تعلق رکھتا تھا۔۔۔اور چونکہ گھر کا سربراہ تھا لہذ درست اڑان نہ بھرنے پر اولاد کو سخت سست سنانے پر تلا ھوا تھا۔۔۔ کھڑکی کی گرل کے اوپری حصے پر براجمان۔۔۔ وہ کبھی اپنے چوزے کی طرف منہ کر کے چوں چوں کرتا۔۔۔ جیسے ایک روایتی باپ کی طرح کہتا ھو۔۔۔۔ “سمجھایا تھا ناں تم کو کیسے اڑان بھرنی ھے۔۔ مگر نہیں۔۔ تمھیں تو باپ کی بات پر کان دھرنا ھی نہیں ھیں۔۔۔ دیکھ لیا اپنی کرنے کا نتیجہ۔۔ اب بھگتو۔۔۔ اور کبھی چڑیا کی جانب رخ کر کے ملامتی انداز میں چوں چوں کرکے اپنی مُنڈی کو ادھر سے ادھر حرکت دیتا جیسے شوھرانہ حق استعمال کرتے ھوئے چڑیا کو سرزنش کرنے کا یہ نادر موقعہ ھاتھ سے جانے نہ دینا چاھتا ھو۔۔۔” یہ سب تمھاری ڈھیل کا نتیجہ ھے۔۔۔ ساری زندگی اولاد کو پروں میں چھپا کر بیٹھی رھنا۔۔۔بس منہ میں نوالہ۔۔ مطلب دانہ دنکا ڈالتی رھنا۔۔۔ ارے میں اسکے بھلے کے لیے ھی اڑنا سکھا رھا ھوں۔۔۔ زمانے کے سرد وگرم سے کیسے بچے گا۔۔۔موقعہ لگتے ھی کسی دن کوئی بلی گردن دبوچ لے گی۔۔۔ پر سر پکڑ کے روتی اڑتی پھرنا تم پھر۔۔۔۔

ادھر ایسے نازک دوراھے پر چڑیا بیچاری کی حالت ایک روایتی ماں جیسی یعنی دو کشتیوں میں سوار مسافر کی طرح تھی۔۔ کبھی وہ بے چینی سے پام کے پتے پہ ٹکے اپنے لرزتے بچے کے سر پر منڈلاتی۔۔ “پریشان مت ھونا۔۔ تھوڑی سی ھمت جمع کرو اور پھر اڑان بھرو۔۔۔۔میرے بچے تمھیں کچھ نہیں ھوگا۔۔ میں یہیں ھوں تمھارے ساتھ۔۔چوں چوں کر کے چوزے کی ھمت بندھاتی اور کبھی پھدکتی ھوئی چڑے کی طرف جا کر اس سے چونچیں لڑاتی۔۔۔ “کیا ھوگیا ھے آپ کو۔۔بس بھی کر دیں۔۔۔ دیکھتے نہیں کتنا سہما بیٹھا ھے بیچارا۔۔۔یہ کوئی وقت ھے باتیں سنانے کا۔۔۔۔۔ ھمت کر تو رھا ھے وہ۔۔۔ دیکھئے گا ایک روز ایسی اڑان بھرے گا کہ آسمان چھو لے گا۔۔۔ چڑیا اور چڑے کی یہ حرکات اور سکنات بڑی اتنی دلچسپ تھیں کہ ھم نے بڑی مشکلوں سے اپنی ھنسی روکی اور کام کاج کے دوران دور ھی دور سے ان پر بھرپور نظر رکھی۔۔۔۔ یہ جاننا ضروری ھوگیا تھا کہ آخر اس کہانی کا منطقی انجام کیا ھوگا۔۔۔۔

اب تک یہی دکھائی دیتا تھا کہ چڑیا کے چونچیں لڑانے کا چڑے صاحب پہ مطلق اثر نہیں ھو رھا۔۔۔۔ اور وہ بیزارکن انداز میں سخت سست سنائے جا رھے تھے۔۔۔ بے بس چوزا والدین کی اس تکرار سے زچ ھوا جاتا تھا۔۔۔ اور اپنی منہنی سی چوں چوں کے ذریعے اماں ابا کو متوجہ کرنے کی سعی ناکام میں مصروف تھا جیسے کہتا ھو۔۔۔۔ ” آپ لوگ یہ جنگ عظیم ختم کرکے مجھ غریب پر بھی دھیان دینا پسند فرمائیں گے۔۔۔ یا میں اس پتے کی پھسل پڈی پر سے لڑھک کے خودکشی فرما لوں؟ چڑیا اپنے بچے کی اس دھائی پر متوجہ ھوئی۔۔۔اس کے سر پر دوچار دلاسے بھرے چکر کاٹے۔۔۔اور پھر مجازی خدا کے پاس جا کے غصے بھری چہچہاھٹ میں کچھ سنا کے اڑن چھو ھوگئی ۔۔۔جسے کہتی ھو۔۔۔۔ آپ کو تو موقعہ چاھیئے بات کا بتنگڑ بنانے کا۔۔۔ اتنا منہ بنا کے نہ بیٹھیں۔۔ ذرا دھیان رکھیں بچے کا۔۔۔ میں دانہ ڈھونڈنے جا رھی ھوں۔۔۔بیچارا بھوکا پیاسا بیٹھا ھے۔۔۔ چڑے محترم نے جواب دینے کی زحمت کرنے کے بجائے منڈی گھما کے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا جیسے کہنا چاھتے ھوں۔۔۔ جہاں جاتی ھو جاؤ۔۔۔ میری بلا سے۔۔۔۔اسی لاڈ پیار کا نتیجہ ھے یہ سب۔

بہرحال جب چڑیا مامتا کے ھاتھوں مجبور ھوکر دانے کی تلاش میں پُھر ھوگئی۔۔۔ اور معصوم چوزا پتے کے کنارے پر پنجے جمائے۔۔۔مذید سہم کے دبک گیا۔۔ تو چڑے صاحب کی شفقت پدری نے جوش مارا۔۔۔۔ بظاھر لاتعلقی سے پہلے وہ پھدک پھدک کے پام کے پودے کی ایک شاخ سے دوسری شاخ بیٹھے۔۔چوزے کی جانب جذبہ خیر سگالی ابھارتے ھوئے ھلکی سی چوں کا ھنکارا بھرا۔۔۔ جیسے اسے کہتے ھوں۔۔۔ گھبراؤ نہیں میں ھوں یہاں۔۔۔۔بہت شوق پورا کر لیا اپنی مرضی سے اڑنے کا۔۔۔۔ اب جیسے جیسے میں کروں ویسے ھی کرتے جانا۔۔۔۔ چوزے کی جان میں جان آئی اور وہ چوکنا ھو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔چڑے نے چوزے کی قریبی شاخ پر آ کر آس پاس کہ پتوں پر اوپر کی جانب دو تین اڑانیں بھریں۔۔ پھر چوزے کی جانب دیکھا۔۔۔ جیسے بتا رھے ھوں کہ بالکل ایسے ھی میرے پیچھے اڑان بھرو۔۔۔ چوزا بھی تیار ھی تو بیٹھا تھا۔۔۔ فورا ھی ابا کے نقشِ پرواز پر اڑ پڑا اور چند ھی سیکنڈ میں پام کے پودے پر سے ھوتا ھوا گیٹ کے اوپر پہنچ گیا۔۔۔ وھیں کچھ ھی فاصلے پر چونچ میں دانہ دبائے چڑیا یہ منظر دیکھ رھی تھی۔۔۔ چڑے نے فخریہ چوں چوں کرتے ھوئے چڑیا کو مخاطب کیا۔۔۔ دیکھ لو۔۔۔ اڑنا سکھا دیا ھے تمھاری اولاد کو۔۔۔ چڑیا ساری ناراضگی بھلا کر مسکراتے ھوئے بولی۔۔۔ مجھے پتا تھا۔۔۔ اسی لیے میں منظر سے ھٹ گئی تھی۔۔۔ کہ ابھی آپ کے غصے کا ابال ابھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔۔۔ میں جانتی ھوں کہ باپ تو پھر باپ ھی ھوتا ھے۔۔۔چڑا چہچہایا۔۔۔ چوزے نے بھی اماں ابا کی اس دوستی پر چوں چوں چہچہا کے خوشی کا اظہار کیا۔۔۔

اور پھر وہ سب ھنسی خوشی رھنے لگے۔۔۔

کہانی ختم، پیسا ھضم

(Visited 119 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: