غریب کے نام پر امیر ہوتے لوگ —- ن م ہاشمی

0

دائیں ہاتھ سے دیں اور بائیں کو بھی پتا نہ چلے، کسی کی مدد کے لیے میں ایسے ہی طریقہ کار کو ترجیح دیتا ہوں، کسی کی مدد ایسے کریں کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو، آج کل کی فلاحی تنظیموں کے بارے میں میرے خیالات کچھ اچھے نہیں ہیں، ایک تقریب میں بیوہ خواتین میں مرغیاں تقسیم کی گئیں، راقم قلم طراز تھا کہ تقریب میں تقسیم کی جانے والی مرغی کسی بھینس سے کم مالیت کی نہیں تھیں، ایک مرغی تقریباً ایک لاکھ میں پڑی، میں بھی حیراں تھا کہ اتنی مہنگی مرغی؟ کیا یہ سونے کا انڈہ دے گی؟ خیر ساری تحریر پڑھی تو معلوم پڑا کہ تقریب کے اہتمام سے لے کر فوٹو شوٹ، کچھ معزز مہمانوں کی سیوا اور دیگر لاکھوں روپے کے اخراجات بھی ان بیچاری مرغیوں پر ڈال دیئے گئے تھے۔ میں بھی دور طالب علمی میں کچھ ایسی ہی فلاحی تنظیموں کا سرگرم کارکن رہ چکا ہوں، بس ایک فلاحی تنظیم کے نام پر دفتر بنایا چار پانچ لوگوں کی ٹیم بنائی اور بیٹھ گئے، آنے جانے والوں کی چائے، بجلی کا بل اور دفتر کرایہ انہیں غریبوں کے نام پر اکٹھے ہونے والے پیسوں سے ادا کر دیا جاتا تھا، سال میں عید، شب بارات پر ایک دو تقاریب سجائی جاتیں جن میں مستحقین سے زیادہ یہ تماشا دیکھنے والوں کو اکٹھا کر لیا جاتا تھا، ایک پانچ سو روپے مالیت کا راشن کا تھیلا لینے کے لیے اس چہرہ چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اس غریب کو پچاس بندوں کے سامنے سٹیج پر آتا دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا تھا، میں سوچتا تھا کہ اگر یہی تھیلا چپکے سے اس کے گھر پہنچا دیا جاتا تو شاید اس کی مالیت بڑھ جاتی اور اس غریب کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہوتی۔ یہاں ایک اور المیہ ہے کسی غریب کو کچھ دینے سے پہلے اس کی اتنی چھان پھٹک کی جاتی تھی جیسے امریکہ میں ائیرپورٹ پر ہمارے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب کی ہوئی۔

لاہور میں ایک نجی ادارے میں ملازمت کرنے والا میرا ایک دوست سے کئی روز ملاقات نہ ہوسکی، کافی دنوں بعد اس سے رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ جناب نے ملازمت چھوڑ کر ایک فلاحی تنظیم بنا کر غریب اور نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کی ٹھان لی ہے، سن کر خوشی تو ہوئی پر مجھے ماضی کا تجربہ یاد آگیا، کہ اچھی بھلی ملازمت چھوڑ کر یہ کن چکروں میں پڑ گیا ہے، چند روز بعد مجھے اسی دوست کی فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا، دعوت نامے سے لگ رہا تھا کہ تقریب کافی بڑی ہوگی، جس میں گورنر پنجاب، مختلف ممالک کے سفیروں سمیت درجنوں سیاسی و سماجی افراد مہمانان گرامی کے طور پر آنے والے تھے، دوست سے ملاقات ہونے پر میں نے کئی سوالات داغ دیئے، سوال و جواب کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا، وہ فلاحی تنظیم ابھی منظر عام پر نہیں آئی کہ موصوف تقریباً 30 لاکھ روپے کی ساری جمع پونجی مختلف تقریبات کا اہتمام کرنے، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اشتہار بازی اور فلاحی تنظیم کے ہیڈ آفس کی تزئین و آرائش پر لگا چکے ہیں۔

جس معاشرے میں ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے حالات کے مارے ہوئے افراد کی فلاح و بہبود کے لیے سیکڑوں فلاحی تنظیمیں کام کر رہی ہوں وہاں اتنی خطیر رقم لگا کر ایک نئی تنظیم بنانے کی منطق میری سمجھ سے باہر تھی، یہی رقم کسی فعال فلاحی تنظیم کو دے دی جاتی تو کم از کم درجن بھر بچوں کا مستقبل تو سنور ہی جانا تھا، مگر یہ یکطرفہ رہنا تھا، یعنی رقم صرف جانا تھی، آنے کا کوئی چانس نہ تھا، آخر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کے پیچھے ان کے کچھ اور بھی مقاصد تو ضرور ہوں گے۔

ماہ رمضان میں میرے ایک سینئر نے مجھے ایک افطار ڈنر پر چلنے کا کہا، اتوار کا روز تھا اور میری بھی کوئی خاص مصروفیت نہ تھی، خیر ان کا کہا کب ٹال سکتا تھا، یوم یتامی پندرہ رمضان المبارک کے سلسلے میں شہر کے پوش علاقے میں موجود ایک کیفے پر پرتعیش محفل سجائی گئی جس میں کچھ لکھاریوں کو مدعو کیا گیا تھا، حاضرین میں اکثریت کی دلچسپی صرف افطار پارٹی تک ہی محدود نظر آرہی تھی، بوفے کیا اور یہ جا وہ جا۔ میزبان نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ احادیث کا سہارا لےکر اپنا مدعا بیان کیا، تقریب میں ایک یتیم بچے کی ماہانہ کفالت تین ہزار روپے کی مہم کو قلم بند کرکے مختلف فورمز پر اٹھانا تھا، جبکہ وہیں اس فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک گھنٹے کا خرچہ تقریباً 2500 روپے پر اس افطار ڈنر میں آئے ایک فرد پر تھا۔ میں اپنے انہیں خیالوں میں گم تھا کہ میں ایک بچے کی کفالت کا حصہ کھا چکا ہوں، ظاہرہے اس فلاحی تنظیم کے عہدیداروں نےاس تقریب کا خرچہ اپنی جیب سے تھوڑا ہی دینا تھا یہ رقم تو وہی تھی جو وہ غریبوں کے نام پر اکھٹی کر چکے تھے، بات اسی تقریب پر ختم نہیں ہوئی اس کے بعد ایسی کئی تقاریب اسی فلاحی تنظیم کے پلیٹ فارم سے پورے رمضان المبارک میں چلتی رہیں، یعنی انہوں نے لاکھوں روپے فلاح کے کام لوگوں کو دکھانے سنانے اور ان کی تشہیر پرلگا دیئے اگر یہی تقریب عام سی جگہ پر سادگی سےہوتی تو یہ خرچہ بچایا جا سکتا تھا جس سے کئی بچوں کی کفالت کی جا سکتی تھی۔

ہمارا دین سادگی کا درس دیتا ہے اللہ کے آخری نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محسن انسایت ہیں، ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کر کے ہم معاشرے کو مثالی بنا سکتے ہیں، پر یہاں میری اس تنقید کو بھی رد کر دیئے جانے کا سو فیصد امکان ہے، کیوں کہ ملاں کا اپنا دین ہے، آپ کو قرآن و حدیث سے ایسی ایسی مثالیں دے گا کہ خود سچا اور دوسروں کو جھوٹا ثابت کر دے گا۔ ہمارا تو المیہ یہ ہے کہ ایک دربار کو ہزاروں من عرق گلاب اور قیمتیں خوشبوؤں سے غسل دیا جا رہا ہوتا ہے جبکہ اسی دربار کے باہر مفلسی کے مارے لوگ جن کا گھر نا کوئی ٹھکانہ بھوکے پیاسے مر رہے ہوتے ہیں، شہر کی درس گاہوں، مارکیٹوں میں بے پردہ خواتین کو دیکھ کر اکثر سوچتا ہوں کہ شائید چادریں تو ساری کی ساری درباروں پر چڑھا دی گئیں ہیں ان بیچاریوں کا کیا قصور؟

یہ سارے حالات دیکھ کر بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں، یہ فلاحی تنظیمیں کیسی فلاح کر رہی ہیں؟ آج بھی ہر دوسری دکان پر گھر کا ایک چھوٹا مزدوری کرتا نظر آرہا ہوتا ہے، کوئی اپنے کنبے کی کفالت کے لیے ریڑھی لگائے بیٹھا روزانہ میونسپل کمیٹی والوں کی گالیاں سنتا ہے، ٹریفک کی سستی روی کا الزام لگتا ہے، پولیس والوں کے ڈنڈے کھاتا ہے۔ میں نے ایسے کئی خاندان دیکھے ہیں جنہوں نے غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے بچے امیر گھرانوں میں گروی رکھے ہوئے ہیں۔ کچھ چھوٹے تو ایسے بھی ہیں جوبے رحم معاشرے کی طرف سے ٹھکرائے جانے پر لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتے ہے، شہر کا کوئی گلی کوچہ ایسا نہیں جو بھکاریوں سے پاک ہو۔ لاہور جیسے گنجان آباد ترقی یافتہ شہر کی سو فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں آ رہا تو تھر، چولستان کا کیا حال ہو گا؟ یہ فلاحی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں؟ کہیں غریب کے نام پر دولت اکٹھی کر کے کسی منفی سرگرمیوں کا حصہ تو نہیں بنی ہوئی؟ یا لوگ ان کو اپنا کالا دھن سفید کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

(Visited 81 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: