رنگ منا بپھر کے دیکھ —— خبیب کیانی

0

اب کچھ نہیں ہو سکتا، میں کچھ بھی کر لوں یہاں سے آگے مجھے سوائے نا امیدی اور ناکامی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔۔ میرے پاس اس جملے کے ساتھ بہت سے لوگ آتے ہیں۔ اپنے مستقبل کے اس ماہرانہ تجزیے کے بعد جب یہ افراد خاموش ہوتے ہیں تو میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ کو واقعی یقین ہے کہ اب کرنے کو کچھ نہیں بچا؟ کیا آپ اپنے مسئلے سے جڑے دنیا کے ہر ایکسپرٹ کو پڑھ چکے ہیں؟ کیا آپ نے اس مسئلے سے پر لکھی ہر کتاب کھنگا ل لی ہے؟ کیا آ پ اپنی ذہنی، جسمانی و جذباتی صلاحیتوں کو اس مسئلے سے نبٹنے کے لیے بھر پور طریقے سے استعما ل کر چکے ہیں؟ کیا آپ نے اپنے معا شرتی سپورٹ سسٹم سے، اپنے دوستوں سے، اپنے خاندان سے، اپنے اساتذہ سے اس سلسلے میں مدد لے لی ہے؟ کیا یہ مسئلہ اس بھری کائنات میں صرف آپ کو ہی در پیش آیا ہے یا اور بھی کئی لوگ اس مسئلے کا شکار ہوئے ہیں؟ اگر اور بھی لوگ اس مسئلے کا شکار ہوئے ہیں تو کیا آپ نے ایسے لوگوں سے مل کر یا ان کی کہانی پڑھ کر یا دیکھ کر انسپیریشن یا تحریک لینے کی کوشش کر لی؟ کیا آپ ذہنی و قلبی طور پر مان چکے ہیں کہ آپ کی مصیبت یا پریشانی آپ کے رب کی رحمت اور فضل سے بڑی ہے؟ کیا اس بھری دنیا میں کہیں کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں جو اس مصیبت میں آپ کے کام آسکے؟ کیا واقعی وقت آن پہنچا ہے کہ آخری پتہ جوکہ آپ کا حوصلہ ہے اسے چھوڑ دیا جائے یا پھینک دیا جائے؟ عام طور پر ان میں سے بہت سے سوالات کا جواب نفی میں آتا ہے اور کبھی کبھار کوئی شدید مایوس کلائنٹ اگر ان تمام سوالات کے جواب ہاں میں دے بھی دے تو میں اس سادہ سی بات کے ساتھ اس کی سوچ کو ایک نیا زاویہ دے دیتا ہوں کہ جناب اگر آپ اسقدر مایوس ہوتے تو اس وقت آپ ایک ماہر نفسیا ت کے کلینک میں خود اپنے پائوں پر چل کر کبھی موجود نہ ہوتے۔ آپ کے اندر امید کی چنگاری موجود ہے اسی لیے آج آپ یہاں موجود ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ کہیں کسی ایسے سے ملاقات ہو جائے جو اس چنگاری کو ہوا دے کر شعلہ بنا دے۔ صرف اتنی سی گفتگو کے بعد ہی کلائنٹ کی بجھی ہوئی آنکھوں میں ایک چمک سی آجاتی ہے۔

موٹیویشن کی سائنس اس سارے عمل کی سادہ سی توجیحات پیش کرتی ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ انسان اپنی فطری آرام پسندی کے باعث کسی بھی مصیبت میں جلد ہی گبھرا اٹھتا ہے اور حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ مصیبت میں گھبراہٹ مصیبت سے بڑی مصیبت ہے۔ گھبرا اٹھنے سے آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور آپ اپنی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں مسئلے کے حل کی بجائے مسئلے کی شدت کو غیر منطقی انداز میں بڑھانے پر صرف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ایک چھوٹا مسئلہ بھی بڑا بن جاتا ہے۔ ایک کامیاب انسان یا لیڈر کے اندر سب سے اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی مصیبت کو غیر ضروری طور پر بڑھاتا نہیں ہے۔ مثلا بعض لوگ جب کسی ناکامی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اس ناکامی کو بنیاد بنا کر یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ ا ب چاہے وہ کچھ بھی کریں مستقبل صرف ناکامیاں ہی لائے گا۔ میٹرک میں کم نمبر آنے کا مطلب یہ لے لیا جاتا ہے کہ انٹرمیڈیٹ میں بھی کم ہی نمبر آئیںگے، ایک رشتہ دار یا دوست کی زیادتی سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ زندگی میں کبھی بھی کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ کامیاب افراد اس طرز فکر سے متفق نہیں ہوتے اور کسی بھی مسئلے کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی کہ ضرورت ہو۔ وہ اپنا دھیان مسئلے کے حل پر مرکوز رکھتے ہوئے مختلف لوگوں کو ملتے ہیں ان سے مشورہ کرتے ہیں، کتابیں پڑھ کر اس مسئلے کے حل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے خاندان، دوست احبا ب سے مشورہ کرتے ہیں، انٹر نیٹ کے ذریعے ماہرین کی رائے کو دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس ساری کوشش کے دوران وہ کمپیوٹر کی طرح اپنے ذہن کو پروگرام کر رہے ہوتے ہیں کہ مصیبت میں تکلیف کے ساتھ ساتھ موقع بھی ہوتا ہے، اس بات کا موقع کے ہم نئے لوگوں کو ملیں، نئی کتابوں کو پڑھیں، نئے خیالات سے واقف ہوں اور اپنی ذات کو ایک نئے انداز میں سمجھیں۔ اس ساری کوشش کے دوران یہ لوگ اور ان کی شخصیت نشوونما پاتی رہتی ہے جو کہ ان کو کسی بھی طرح کے حالات مٰیں مایوسی کا شکار ہونے سے بچاتی ہے۔ آہستہ آہستہ ان کا ذہن اور جسم یہ ماننا شروع کر دیتا ہے ہر مصیبت کو نشوونما کے ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے اور حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے دھیا ن اس بات پہ رکھنا چاہیے کہ یہ عمل کس طرح ہماری شخصیت میں بہتری لا سکتا ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ جس مسئلے کو لے کر یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اب ہمت ہارنے کا وقت آن پہنچا ہے اسی مسئلے کے ساتھ کہیں کوئی دنیا میں اتنا بڑا کام کر جاتا ہے کہ رہتی دنیا تک لوگ اس کی مثا ل سے ہمت پکڑتے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ایک فرانسیسی نوجوان کی بھی ہے جو کہ ۴۳ سال کی عمر میں ایک خوشحال خاندانی و پیشہ وارانہ زندگی گزارتے گزارتے ایک دن سٹروک کا شکار ہوکر کومہ میں چلا گیا۔ بیس دن بعد جب وہ کومہ سے باہر آیا تو زندگی یکسر بدل چکی تھی۔ سٹروک کی وجہ سے اسے لاک ان سنڈروم ہوچکا تھا اور وہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے با خبر ہونے کے باوجود سوائے اپنی ایک آنکھ کی پلکیں جھپکانے کے کسی بھی طرح کی حرکت سے معذور ہو گیا۔ اس کی دوسری آنکھ کو ڈاکٹروں کو سلائی کرکے بند کرنا پڑا کیونکہ اس میں خطرناک قسم کا انفیکشن ہو چکا تھا جو مزید پیچیدگیا ں لاسکتا تھا۔ جوانی میں جب آپ فرانس جیسے ملک میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت زندگی گزار رہے ہوں اور اس طرح کی آفت ٹوٹ پڑے تو دل و جاں پر مایوسی کی گہری دھند کا چھا جانا سمجھ آتا ہے۔ لیکن جان ڈومینیک بابی نامی اس نوجوان نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب زندگی کے پاس اسے دینے کو بہت کم خوشیاں اور وقت ہے اپنی ہمت نہیں ہاری۔ اس کا خواب تھا کہ ایک دن وہ اپنی سوانح حیات لکھے گا۔ اس نے ایک معاون کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا اور طریقہ یہ طے ہوا کہ معاون اس کے سامنے فرانسیسی زبان کے ہجے یا الفابیٹس ایک ترتیب سے پڑھنا شروع کر دیتا اور جب وہ اس الفابیٹ پر پہنچتا جو جان ڈومینیک کے مطلوبہ لفظ کا پہلا الفا بیٹ ہوتا تو جان اپنی پلک جھپک دیتا، یوں ایک ایک الفا بیٹ پر محنت کر کے، پلکوں کو تقریبا دو لاکھ مرتبہ جھپک کر یہ کتاب دس مہینے کے عرصے میں لکھی گئی، اس کتاب میں لاک ان سنڈروم کے مریضوں کے لیے بہت اہم مواد موجود ہے۔ کتاب مصنف کی محنت اور شاندار ہمت کی کہانی کے باعث اپنی اشاعت کے پہلے دن ہی پچیس ہزار کی تعداد میں فروخت ہوئی۔ ایک ہفتے کے بعد اس کی فروخت ہونے والی کاپیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک جا پہنچی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ کتاب پورے یورپ کی نمبر ون بیسٹ سیلر بن گئی۔ آج اس کتاب کی کئی ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ دی ڈائیونگ بیل اینڈ بٹر فلائی نامی اس کتاب پر بعد میں ایک مشہور فلم بھی بنی۔ جان کتاب شائع ہونے کے دو دن بعد فوت ہو گیا لیکن رہتی دنیا تک ہم لوگوں کے لیے پیغام چھوڑ گیا کہ زندگی کچھ بھی کر لے حوصلے کا پتہ کبھی نہیں پھینکنا چائیے۔ میں جب بھی اپنے کسی سیشن میں جان کی کہانی سناتا ہوں توکہانی کے اختتام پر لوگوں کی آنکھوں میں فخر دیکھ کر ان سے کہتا ہوں کہ اگر جان اتنی بڑی مصیبت میں صرف ایک فنکشنل آنکھ کے ساتھ اتنی بڑی انسپیریشن کی کہانی بن سکتا ہے تو سوچیں ہم سب کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

تو دوستو، یارو اور پیارو! یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ زندگی کبھی بھی صرف آسانیوں پر مشتمل نہیں ہو سکتی۔ آگے بڑھنا ہے تو آرام، سکون کی قربانی دینی ہو گی، مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، کھٹے، میٹھے، کڑوے، نمکین ہر طرح کے حالات اور جذبات میں سے گزرتے ہوئے اپنی ہمت بنائے رکھنی ہو گی۔ مقصد جتنا بڑا ہو گا قربانی بھی اتنی ہی بڑی مانگی جائے گی اور مصیبتیں بھی اتنی ہی بڑی نازل ہوںگی۔ زندگی کی اس بازی میں سوائے حوصلے کے ایک پتے کے باقی سب پتے آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں، لیکن بازی ڈیزائن ایسے کی گئی ہے کہ یہ تب تک مات نہیں ہو سکتی جب تک آپ حوصلے کا پتہ پھینک نہیں دیتے۔ ایسا ہو سکتا ہے بعض اوقات مصیبت لمبی ہو، آزمائش کٹھن ہو، آپ کسی بیماری کا شکار ہو جائیں، آپکا پیسہ یا کاروبار ڈوب جائیں، آپ کے والدین دنیا چھوڑ جائیں، آپ پر کوئی قدرتی آفت ٹوٹ پڑے، آپ کا خاندان ختم ہو جائے، آپ کی عمر بھر کی جمع پونجی لٹ جائے، آپ کے اپنے آپ کو دھتکارنا شروع کر دیں، اور اسی طرح کی ممکنات کی ایک لمبی لسٹ۔ ۔ یہ سب انسانی زندگی کی رنگا رنگی سے جڑے منفی ممکنات ہیں اور لوگ عموما انہی میں سے کسی ایک واقعے کے بعد مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا ڈوبتے ہیں۔ جان ڈومینیک کی طرح مجھے اور آپ کو بھی بد ترین لمحوں میں سے بہترین ممکنات کو ڈھونڈنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا تا کہ ہم ہر طرح کے حالات میں خود سے یہ کہہ سکیں کہ۔ ۔ زندگی کے طوفانوں کے باوجود رنگ منا یا جا سکتا ہے، کہانی ابھی باقی ہے اور ابھی بھی بہت کچھ ہو سکتاہے۔

نوٹ: مضمون کا عنوان محترم دوست جنا ب علی زریون صاحب کی ایک نظم سے مستعار لیا گیاہے۔

(Visited 467 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: