ایک مہاجر کیمپ: کراچی کی داستان —- احمد اقبال

0

کراچی کے ایک قدیم شہری، لکھاری اور محقق کی حیثیت سے جناب احمد اقبال کی حال ہی میں شایع ہونے والی تحریر ’’کراچی کی نفسیات: کل اور آج‘‘  پہ آنے والے مختلف قسم کے ردعمل کے بعد فاضل مصنف نے اسی موضوع کے کچھ نئے پہلووں پہ بات کرتے ہوئے انہیں صراحت سے بیان کیا اور کراچی کی داستان کو آگے بڑھایا ہے۔
نئے قارئین کے لئے گذشتہ مضمون کو بھی یہاں دیا جارہا ہے۔ دوسرے حصہ کی تحریر نئی ہے، پرانے قارئین براہ راست، کچھ نیچے، دوسرے حصے پہ جاسکتے ہیں۔


تقریبا 40 سال میں نے کراچی شہر کو بڑھتا دیکھا۔۔ اسی طرح جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو بڑھتا دیکھتا ہے۔ ان کے قد کاٹھ کے ساتھ ان کی ذہنی و جسمانی بلوغت کو قبول کرتا ہے۔۔ جب میں 1965 میں وارد ہوا تو کراچی مجھے لاہور سے صرف اس لئے مختلف لگا کہ یہاں سمندر اپنی تما م وسعت۔ شان و تمکنت کے ساتھ ازل سے موجزن تھا۔۔ آسمان کی طرح یہ عمر کے تصور سے ماورا تھا اور مجھے اتنا ہی مسحور بھی کرتا تھا۔ لاہور میں ماضی کے مزار تھے جہاں تاریخ اور ثقافت زندہ نظر آتی تھی اور پھرمزے مزے کےکھابے۔۔ پنڈی میں سرسبز درختوں کی چھت سے اوپرپل میں آسمان کی نیلاہٹ تھی اگلے پل میں گرجتے برستے بادل۔ ہر طرف سے حصار میں لیؑے رکھنے والی سرمئی پہاڑوں کی اونچی نیچی فصیل جس پر ملکہ کوہسار براجمان ہے  ورنہ کیا ہیں سب شہر۔ وہی تارکول کی سڑکوں کا جال۔ ۔ انسانوں سے بھری مختلف نام والی آبادیاں۔۔ دکانیں اور با زار۔۔ ہاں لاہور شاہی تاریخ کی دستار رکھتا تھا۔ کراچی میں بانی پاکستان کے پیدائشی اور ابدی گھر تھے۔۔ پنڈی والے ملکہ کوہسار کے حسن پرنازاں تھے۔ پشاور میں درہ خیبر جیسی گزرگاہ کا پڑاو تھا۔۔ تو یہ طرہ امتیاز تو سب کا اپنا اپنا تھا۔

اس کے بعد میں سب کی طرح دیکھتا رہا کہ سمندر کے ساحل کا سوناپن جہاں 1975 میں شام کے گہرے ڈراونے سایوں میں سناٹے اور ویرانی میں چنگھاڑتے سمندر سے ڈر کے نصف بہتر اورمیں گاڑی میں بھاگے تو صدر آکےدم لیا۔ اور آج کا وقت ہے کہ جگہ وہی مگرڈر لگتا ہے اژدھام میں پھنس جانے کا۔۔ اور وقت وہ بھی تھا جب طارق روڈ پر ایک دکان بھی نہ تھی اور ایک گھر وحید مراد کا بھی تھا جس کے باہر “نثار مراد” کی نیم پلیٹ تھی۔ گلشن نہ تھا، ایک بھی شادی ہال نہ تھا اور کوئی فلیٹ نہ تھا۔

دیگرشہر بھی پھیلے مگر کراچی اس ریس میں خرگوش کی طرح دوڑا اور باقی شہر نے کچھوے جیسی رفتار رکھی چنانچہ یہاں قدرتی افزایش کے اصولوں یعنی ٹاون پلاننگ کے قوانین سے روگردانی کی گئی۔ بے مہار ہجوم نے راتوں رات بستیاں آباد کرکے بجلی پانی گیس جیسی سہولیات بھی خرید لیں۔ یوں مافیاز نے جنم لیا۔۔ ہر کام کی ایک مافیا جو رشوت لے اور ناممکن کو ممکن کردے۔ زمین، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، ٹیکس کی جعلی ادایؑگی کے سارے کام مافیا کرتی تھی۔۔ حکومت کے محکمے اور اہلکار نہیں۔۔ پھر “ایم کیو ایم” وجود میں آئی جس نے شہریوں کو اس حد تک یر غمال بنایا کہ ان کو بھتہ دئیے بغیر کاروبار کیا آپ بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے لوگوں کو نقل مکانی کرکے چوری چھپے شادیاں کرتا دیکھا۔ گھروں کو چراغاں کرنا کس کے بس کی بات تھی۔۔ مافیا کو سب خبر ہوتی تھی، زیور کہاں سے اور کتنے کا بنوایا گیا۔۔ کتنی مالیت کا فرنیچر رات کی تاریکی میں کہاں سے پہنچا۔ کتنی دیگ قورمہ بریانی اور زردے کی کس باغی نے پکا کے پہنچایؑ اور کہاں۔۔ میری ساری فیملی جنگ اخبار کی وظیفہ خوار۔۔ مافیا کنگ نے کہا جنگ کا باییکاٹ کرو تو ہم نے اخبار بند کردیا۔۔ ورنہ ہماری باہر کھڑی گاڑی بھی راکھ ہو سکتی تھی۔ راہ چلتے کوئی فون مانگے۔۔ پرس یا زیور۔۔ جان عزیز ہے تو عزیز آباد پر سلام بھیجو اور زندہ گھر پہنچو۔۔ بوری بند لاش نہ بنو۔ میں خود اپنے شاہین بچوں کو بزدلی کی تعلیم دیتا رہا کہ کوئی کار مانگے تو سر جھکا کے چابی پیش کردو۔ اور پیدل چل کے گھر آوگے توصحت اچھی ہوگی اور یہ چار کندھوں پر لے جائے جانے سے بہت بہتر ہے۔ میرے خاندان کے ہر معززفرد نے کبھی نہ کبھی لاکھوں کے مال کی قربانی دے کر جان بچائی۔۔ اب تشدد کم ہے لیکن ماضی ایک ڈراونے خواب کی طرح سایہ فگن ہے۔ لوٹ مار اتنی ہی ہےلیکن کسی کا سڑک پر لٹ جانا اب خبر نہیں رہی۔۔ “ہاں۔۔ کیا کریں۔۔ سب ہوتا ہے”۔

بیس تیس منزلہ عمارت کے دو کمروں میں سستی رہایش قبول کرنا بھی مجبوری ہے جہاں مشترکہ رہایش کے اصول کوئی نہیں۔ نہ اخلاقی نہ معاشرتی۔ ہجوم میں ہوکے بھی ہر شخص کی بیکسی ایک تماشائے عبرت ہے۔ اٹھارویں یا ستائیسویں منزل پر رہنے والا آپ کیلئے اتنا ہی اجنبی ہو سکتا ہے جتنا نارتھ کراچی میں رہنے والے کیلے کلفٹن کا باسی یا حیدر آباد والے کیلئے سکھر میں رہنے والا۔۔ بجلی کا حال تو ابتر ہے مگر لفٹ خراب ہے تو اسکول دفتر یا ہسپتال جانے کیلئے ٹیکسی ایمبولنس اوپر نہیں آئے گی، پانی نیچے سے بھر کے لاو، مرکز سے دور نہیں جانا تو اوپر آسمان کے قریب جا کے رہو۔ دوکمروں کی سستی رہایش دو طرح ہی ممکن ہے۔ محدود آمدنی میں آپ کو پرآسائش زندگی کے خواب دیکھنے کا کیا حق ہے۔ ہر بڑے شہر میں کثرت آبادی کا علاج یہی ہے کہ آپ عمودی آبادی کے تصور کو قبول کریں اس سے شہری سہولیات کا تصور متاثر نہیں ہوتا بلکہ زندگی زیادہ پر آسایش ہو جاتی ہے جب آپ دھویں اور شور کی دنیا سے اوپر نیلے آسمان کی پر سکون وسعت میں خدا سے قریب تر رہتے ہیں لیکن وہ شہر ایک انتظامی ڈھانچہ رکھتے ہیں جو آپ کو زمین سے دوری کی کسی تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

دوسرے متعدد تاریخی حوالہ رکھنے والے نیے پرانےشہر جیسے کہ لاہور۔ منٹگمری۔ ملتان۔۔ لائلپور۔۔ پشاور۔۔ ایبٹ آباد وغیرہ۔۔ سینکڑوں ہزاروں سال کےتاریخی ارتقا میں اپنی اپنی فطری رفتار کے ساتھ بڑھتے پھیلتے ترقی کرتے رہے تھے اور بہت بدل آئےتھے۔ جو گاوں تھے وہ قصبے۔ ۔ جو قصبے تھے وہ شہر اور شہر بہت بڑے ہوئےتھے۔۔ لیکن ان کے چہروں کے ساتھ ان کے تہذیبی تیور یا معاشرتی مزاج اتنےنہیں بدلے تھے کیونکہ خاندان اور قبیلے وہی تھے۔ ان کے رسوم و رواج، طبقاتی مزاج، رہن سہن، دوستی کے اصول اور دشمنی کے آداب و اطوار وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوئےتھے۔۔ آپ دنیا کے تمام بڑے شہروں کو دیکھیں۔ ان کے پاس سینکڑوں کیا ہزاروں سال کا تاریخی ورثہ ہے۔ حفاظتی دروازوں والےلاہور کا نام ہندووں کے رام کے بیٹے لہو سے منسوب ہے۔ دس دروازوں والےملتان کی تاریخ کم سے کم پانچ ہزار سال پرانی ہے؛ پشاور کا درہ خیبر ہزاروں سال سے حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں افغان اور امریکی بھی ادھر سے آئے آپ ٹیکسلا، ایبٹ آباد، ہزارہ جائیں تو بدھ مذہب کے عروج و زوال کی پوری تاریخ قدم قدم پر آپ کا استقبال کرتی ہے۔

میں پہلی بار مئی کے مہینے کی جھلسنے والی گرمی میں سڑک کے راستے کراچی سے کاغان تک گیا تو میرے بچوں کو ایک حیرانی تو خون منجمد کرنے والی سردی اور کاغان کی ٹھوس برف پرکئی جس پر ہم نے کرائے کی جیپ میں سفر کیا۔ سر بفلک گھنے یوکلپٹس کے درختوں سے جھانکتے آسمان کی نیلاہٹ ان کیلئے عجیب تجربہ تھا؛ لیکن حیرت انگیز طور پر انہوں نے مہماں نوازی کے اوراحترام کے رویے محسوس کئےاور میری دو بیٹیوں نے کچھ حیرانی سے کہا “ڈیڈی یہاں لوگ لڑتے نہیں؟” انھوں نے رکشا اور موٹر سایکل کے تصادم میں متاثرین کو تھوڑی سی بک بک کے بعد اپنی اپنی راہ جاتے دیکھا تھا۔۔ کسی نے اپنی گاڑی سے دوتہائی سڑک روک دی ہے اور دوسری گاڑیاں مشکل سے گزر رہی ہیں۔ ہنگامہ کوئی نہیں۔ مکان نبانے والے نے اینٹوں اور ریت کے انبار سے گلی بند کردی ہے تو لوگ دوسری گلی گھوم کے جارہے ہیں۔۔ ہمیں اس ماحول سے آشنا ہونے میں بھی وقت لگا کہ آپ سڑک پر یا بازار میں ہر جگہ ہر وقت موبایل فون بے خوفی سے استعمال کر سکتے ہیں اور اکیلی عورت یا بچہ دن رات کسی بھی وقت اے ٹی ایم سےکیش نکال سکتا ہے۔۔ اور پارک نصف شب تک فیملی والوں سے بھرے رہتےہیں یا صبح دم خواتین جاگنگ کر سکتی ہیں۔ ہماری عمر کے کہیں بھی اور کسی بھی وقت گاڑی لے کر پھر سکتے ہیں بلکہ ایک معاملہ تو اس زمانے میں ناقابل یقین سا لگتا ہے۔ وہ ہے بزرگی کا احترام۔۔ ایرپورٹ سیکیورٹی چیک پر مسلح جوان ایک نظر ہمیں دیکھتے ہیں اور بیریر اٹھ جاتا ہے۔۔ کیلئے بار ہم سے ٹریفک کی سنگین خلاف ورزی ہوگئی اور سرجنٹ نے بس اتنا کہا کہ بزرگو!۔ خیال رکھا کرو۔۔ ایک بار ہم رات کو ون وے کے خلاف چل پڑے، سارجنٹ نے سامنے سےآتی نظریں خیرہ کرنے والی گاڑیوں کو روکا تاکہ ہم گھوم کے اسی سمت میں چلنے لگیں اور محفوظ ہو جائیں، یہ قدیم تہذیب کے مظاہر ہیں جو ابھی زندہ نظر آتے ہیں۔

میں کراچی آتا رہا اور میں نے نوٹ کیا کہ ایک پوری نسل جو 25 سال کی لاقانونیت اور خونریزی کے اس دور میں پلی بڑھی جب بوری بند لاشوں کی دہشت عام تھی ٹارچر سیل تھے جہاں انسانوں کو بکرے کی طرح الٹا لٹکا کے اس کی ہڈیوں جوڑوں اور سر میں ڈرل مشین سے سوراخ گئے جاتے تھے اور یہ قصے دہشت قائم رکھنے کیلئے پھیلاےؑ جاتے تھے۔ بارہ چودہ سال کے بچے ایک موبائل فون دینے میں مزاحمت پر سیدھی سر میں گولی مارتے تھے اور اپنی بہادری کے قصے سینہ ٹھونک کر سناتے تھے۔۔ ان کی نفسیات میں سفاکی اور خونریزی کوئی جرم یا وحشیانہ فعل نہیں رہا تھا بہادری تھی۔ اب خونریزی تو بند ہے مگر خون کی خو کا اثر باقی ہے یا باقی رکھا گیا ہے عام آدمی نے ہر قسم کی اذیت و آزار کو ذہنی طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ ٹوٹی یا اندھیری سڑکیں۔ ٹریفک جام۔ سارجنٹ کا نذرانہ۔۔ فون اور پرس چھن جانا۔۔ سپر اسٹورز پر بھی نقلی کریم اور شیمپو۔ دو نمبربرانڈڈ کپڑا “ثنا سفینا” اور گل احمد وغیرہ یا گھڑی۔ رولیکس۔۔ راڈو یا سیکو وغیرہ۔۔ ہر شادی ہال میں صرف نقلی پپسی۔۔ دھوپ بارش میں ویگن کی چھت پر ٹکٹ دے کر سفر۔ لال بتی پر سب کو غچہ دے کر یا کسی کی بیک لایٹ توڑ کے نکل جانا۔۔ اس میں غیر معمولی کیا ہے؟ ایک بہت بڑے جدید شاپنگ مال کے کاونٹر پر سیلز مین نے الٹا سوال مجھ سے کیا کہ” تھینک یو میں کیوں کہوں؟ پیسہ تو گیا مالک کو” میں اس کی منطق پر خفیف ہو کے نکل آیا۔ مہذب دنیا میں مسکراکر دیکھنا عادت ہے۔۔ کافی لانے والےویٹر۔ دروازہ کھولنے والے۔۔ لفٹ آپریٹر۔۔ ٹیکسی کوئی اسی کام ڈرائیور ملازم ہیں مگر ان کو تھینک یو نہ کہنا صریح بداخلاقی، عام آدمی نے سرکاری حکام کی بے حسی اور ان کے چمچوں کی بدمعاشی کو زندگی کا حصہ سمجھ کے قبول کر لیا ہے۔ یہ شکست خوردگی کا رد عمل بھی عجیب ہے، ایک شخص میر ی ضعیفی دیکھتے ہوئے بے وجہ بدمعاشی کا مرتکب ہو رہا تھا اور میری شرافت کا اثر الٹا ہو رہا تھا، میں نے اتفاقیہ گزرنے والی رینجرز کی ایک جیپ روکی اور نوجوان کیپٹن کو اپنا کارڈ دے کر کہا کہ کسی طرح اس خواہ مخواہ گلے پڑنے والی بلا سے میری گلو خلاصی کرائے۔ دو منٹ بعد شیر میرے سامنے کتے کے پلے کی طرح لوٹنے لگا۔ یہ عمومی رویہ ان کا ہے جو جرم کے سایے میں پلے۔ تعلیم تہذیب کہاں سے آتی۔


دوسرا حصہ:

بہت پہلے دو پوسٹ میں نے ہوئی تھیں۔۔ “مستقبل کا موہنجو دڑو”۔۔ ابھی کسی نے لکھا “کراچی شہر ختم ہورہا ہے”۔۔ شہر ختم نہیں ہوتے اگر ان کی بنیادیں سینکڑوں ہزاروں سال کی ثقافتی تاریخ رکھتی ہوں۔ یہ مذہبی سیاست پر بناےؑ جانے والے ملک کے تجربے سے جنم لینے والا شہر تھا۔ تقسیم کے عمل میں ہر زبان بولنے والے ہر تہذیب کے علمبردار، راجستھانی، لکھنوی، بنگالی، مدراسی، حیدر آبادی، گجراتی ہر معاشرتی کلچر کے لوگ ہر سمت سے لگائی۔ برمی اور گوا کے مہاجر پہلے سے موجود تھے۔ پختون، پنجابی، بنگالی یا بہاری، سرایکی ا ور بعد میں افغانی پہنچے توشہر بھرگیا۔۔ مگر وہ بھان متی کا کنبہ تھا۔۔ یہ شہر تاریخی طور پر ان میں سے کسی کا نہ تھا۔۔ کسی کا اس سے ماضی کا جذباتی اور تہذیبی رشتہ نہیں رہا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا مہاجر کیمپ تھا جس میں انڈیا کے شہروں کے نام پر آبادیاں بسانے کی کوشش ضرور کی”۔ دہلی مرکنٹایل، سی پی برار، روہیل کھنڈ سوسائٹی اس کی مثال ہیں۔۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک چیر مین زیڈ اے نظامی نے اسکیم 33 کے نام سے میلوں زمین کو 40 ایکڑ کے قطعات میں ہر بھارتی شہر سے منسوب کسی ہاوسنگ سوسائٹی کے حوالے کردیا جس کے کرتا دھرتا وہیں کے باسی تھے لیکن سوسایٹی آباد نہ ہو سکی۔ اب اس پر افغان مہاجرین کی ہیوی مشنری، ریت بجری کے ڈھیر، ناجائز آبادی بن جانے والی خیمہ بستیاں، ٹرک اور بسوں کے اڈے۔ غیر قانونی تعمیرات سب کچھ ہے۔

پہلا مارشل لا لگتے ہی جب کیپٹل کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تو یہ شہر سیاسی طور پر بھی غیر اہم ہو گیا۔ کراچی کا شہر اس کے بعد ایک بندر گاہ کی تجارتی اور صنعتی معیشت پر کھڑا ہوا۔۔ کیماڑی کے آئل ٹرمینل، کراچی پورٹ ٹرسٹ، فشری، شپ یارڈ اینڈ انجینیر نگ، شپ بریکنگ انڈسٹری، سب زبردست ریوینیو لاتے تھے اور لاکھوں کےروزگار کا وسیلہ تھے۔ ماری پور کے انڈسٹریل ایریا کے علاوہ نارتھ کراچی۔۔ لانڈھی کورنگی فیڈرل ایریا بلاک 22 اور عزیز آباد میں بھی چھوٹے صنعتی علاقے تھے جو اتنے چھوٹے بھی نہیں تھے۔ اس سے پیداوار اور خوشحالی کا وہ دور شروع ہوا جس نے کراچی کو “عروس البلاد” اور روشنیوں کے شہر جیسے خطابات سے سرفراز کیا۔ لیکن اس روزگار کی فراوانی نے پورے ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کو کھینچا۔۔ سب سے زیادہ پشتو بولنے والے پٹھان آئے۔ انہوں نے دیکھتے دیکھتے ٹرانسپورٹ کا بزنس لے لیا۔۔ پھر امپورٹڈ کپڑا جس میں میمن پہلے سے موجود تھے پٹھانوں نے پرانی گاڑیوں کے پرزوں اورسبزی منڈی کا کاروبا رلیا۔ اس کے بعد ان کی کڑاہی نے شہر میں اجارہ داری قایم کی۔۔ پھر چائے پراٹھے نے۔ ان کی آبادیاں تمام شہر میں ایسی جگہ قایم ہوئیں کہ وہ داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹرول کر سکتے تھے۔ آج وہ بلحاظ قومیت دوسری بڑی اکثریت ہیں اور کراچی کی معیشت ہی نہیں سیاست کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ نچلے درجے کے کم سرمایہ والے اور محنت طلب کام کیلئے کثیر تعداد میں جنوبی پنجاب سے سراییکی بولنے والے لاکھوں بے روزگار آگئے۔ وہ الیکٹریشن، پلمبر، راج مزدور، کار پنٹر، رنگ کرنے والے آج پورے شہر کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ بلوچی گدھا گاڑی اور اونٹ گاڑی چلاتا ہے۔۔ بنگالی گنے کا رس یا سفلی علوم کی مکاری بیچتا ہے ایک غیرمحسوس لیکن اٹل قوت لاکھوں گجراتی بولنے والے آغا خانی ہیں جو اپنے علاقوں میں کسی غیر آغا خانی کو آباد نہیں ہونے دیتے۔ ان کے جماعت خانے ہسپتال اسکول کالج سب الگ ہیں یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے مرکز عزیز آباد میں کوئی مہاجر آباد نہیں ہو سکتا۔ واضح الفاظ میں سائن بورڈ پر لکھ دیا گیا ہے کہ “غیر آغا خانی اپنے رسک پر مکان فلیٹ یا دکان کا سودا کرے گا”۔۔ یہ قانون کے علاوہ  میں دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے جو نہ کسی عدالت کو نظر آتی ہے نہ کسی قانون داں کو نہ سچی بے باک صحافت کرنے والے کو۔۔ سوال یہ ہے کیوں؟ جواب واضح کہ سب کا منہ دولت بند کرتی ہے۔۔

آغاخانیوں سے تعداد میں زیادہ گجراتی بولنے والے میمن ہیں جو نارتھ ناظم آباد میں کثرت سے نظر آتے ہیں لیکن پرانے شہر کی طرف بھی ہرطرح کا کاروبار کرتے ہیں اور اپنی منظم قوت کے ساتھ اپنی مخصوص آبادی میں رہتے ہیں جہاں ان کے جماعت خانے ہیں۔ حد یہ ہے کہ مرد و زن کیلئے مخصوص طرز کا لباس لازمی ہے جو سب ہر جگہ پہنے نظر آتے ہیں۔۔ مجھے با وثوق ذرایع سے معلوم ہوا کہ وہ شہر کے مرکزی علاقوں میں انتہائی مہنگی۔۔ تقریبا” ایک سے دس لاکھ روپے گز کی جایداد۔۔ خاموشی سے خرید رہے ہیں۔۔ کون بتا سکتا ہے کہ کس زبان کے بولنے والے کتنے ہیں اور ایک درجن سے زیادہ زبانوں میں اردو بولنے والے مہاجر کتنے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔۔ مہاجر نے دہلی کی نہاری ضرور بنائی اور حلیم بھی۔۔ بریانی بمبئی کی مرچوں والی آگئی۔ لیکن علی گڑھ کا تالا، میرٹھ کی قینچی اور مرشد آباد کے نقشین برتن خواب فردا ہوکئے۔ مہاجر بیشتر نوکری پیشہ تھے مثلا” ریلوے اور اکاونٹس والے اور ہاشم رضا فیملی جیسے آئی۔ سی ایس۔ ان کے بچے صنعت وتجارت میں دستیاب مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ کیوں کہ نوکری پیشہ مہاجر کاروبار یا دکانداری کو عار جانتے تھے اور اس طرف نہ آسکے۔ اس معاشی اور لسانی یلغار میں مہاجر شناخت ہجرت کے 40 سال بعد کیسے قایم رہ سکتی تھی۔ اس تحریک کو اردو اسپیکنگ کے نام سے چلانا بھی مشکل ہوگیا۔ اس سے کہیں زیادہ اردو پنجاب میں ہمیشہ تھی۔ صحافت، شاعری، افسانہ، فلم، اس میں کراچی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہاں شاعر ہر گلی محلے میں مگر شاعری کا واحد نام جون ایلیا ہے یا ایک آدھ اور۔ ہجرت کرنے والوں کی تیسری نسل کو مہاجر کے نعرے پر ورغلانے کی ناکام کوشش ضیا کے دورانتشار میں کی گئی اور شہر کو ناقابل تلافی جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ وہ “مہاجر” شناخت از خود کتنے خوں آشام سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہوئی آفاق کی مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ کی باہمی دشمنی نے اس نے شہر کو کیسی خوںریزی لا قانونیت اور بد انتظامی میں مبتلا کیا۔ یہ کوئی بھی کراچی کے پرانے شہر میں جا کے دیکھ سکتا ہے۔ معلوم کر سکتا ہے۔

آج کراچی میں 6 میونسپل کارپوریشن ہیں یعنی 6 ڈپٹی کمشنر ہیں جو تمام شاہانہ مراعات ضرور لیتے ہوں گے مگر ان کو جانتا پہچانتا کوئی نہیں۔۔ ان پرایک گمنام بیوروکریٹ کمشنرہے۔۔ کارپوریشن کی شاندار عمارت اوراس کا ایک میئر بھی ہے (12 مئی کے قتل عام کا مرکزی ملزم) لیکن پرانا شہر پھر بھی کھنڈر ہو تا جارہا ہے۔۔ گلیاں اور سڑکیں مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور اب سندھ کا سارا بجٹ بھی لگا دیا جائے تو ان کا ٹھیک ہونا ممکن نہیں۔۔ پہلے والے ٹھیکیدار نصف تو ٹھیکا دینے والوں کو دیں گے، چوتھائی خود بھی رکھیں گے۔ باقی چوتھائی میں تارکول کی جگہ تھوک سے ہی کارپٹنگ ممکن ہوگی۔ ہر نئی نظر آنے والی سڑک پر سے جب لاکھوں گاڑیاں روز گزریں گی۔ کھڈے بڑھیں گے گٹر کا اور بارش کا پانی بھرے گا تو وہ کتنے دن چلے گی۔ شہر کے مجبور لوگوں نے اسے بھی نوشتہ تقدیر کی طرح قبول کر لیا ہے۔۔ لیکن دوسری طرف انگریز کے دور کی بندر روڈ، برنس روڈ، میکلوڈ (آئی آئی چندریگر روڈ) ہیں جن پر ٹریفک کہیں زیادہ ہے لیکن وہ ٹوٹی پھوٹی نہیں ہیں۔۔ پرانے شہر میں سالوں سے کوڑا کچرا اٹھانے کا مسئلہ موجود ہے۔ تعلیمی ادارے اور معیار تعلیم سب تباہ ہو چکے اور اب تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کار خیر میں حکومت کی سرپرستی شامل ہے۔۔ شہر میں انٹر لیول تک 5 تعلیمی نظام تھے۔ اب سنا ہے کہ ایک سابق چیئرمین بورڈ (جو بد عنوانی میں گرفتار رہے تھے)۔۔ چھٹا نظام لارہے ہیں۔ میٹرک یا انٹر کا سرٹیفیکیٹ سارے برابر ہوتے ہیں۔۔ (ڈگری جعلی ہو پھر بھی ڈگری ہوتی ہے)۔۔ میڈیکل یا انجینیرنگ پڑھنے والوں کیلئے ایک اور امتحان ہوگا۔۔ این ٹی ایس۔۔ اس کے بعد بھی ادارے کا انٹرویو۔ نتیجہ یہ کہ منتخب اور پسند کے امیدوار ہی کامیابی کے آخری زینے تک پہنچ پاتے ہیں۔
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

ساری خرابی کی پہلی وجہ ہے سیاسی۔ اقتدار کی کشمکش کی اس وقت تین قوتوں کے درمیان جاری ہے۔۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی حکومت، عسکری قوت، مقامی انتظامیہ اور عوام۔۔ لوٹ مار اور اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ وسایل کا 19 فیصد آئین کے مطابق سندھ کو ملتا ہے۔ یہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ رقبہ کی بنیاد پر ہوتی تو سب سے بڑا حصہ بلوچستان کو ملتا۔ اب آبادی کی بنیاد پر اسے 5 فیصد ملتا ہے پختونخواہ کو 11 فیصد اور پنجاب کو 51 فیصد۔ ۔ لیکن سندھ کو دیکھیں تو آئین اس کے19 فی صد کوشہری اور دیہی آبادی میں تقسیم کرتا ہے۔۔ 13 فی صد دیہی اور 6 فیصد شہری۔۔ اب شہری کوٹے میں تین شہر ہیں، کراچی، حیدر آباد اور سکھر۔۔ یعنی 6 فیصد میں کراچی کاحصہ بنا 2 فیصد۔ کیا یہ ان کو کافی ہے جو ملک کی آبادی کا دس فیصد بنتے ہیں؟ اگر یہ ایک صوبہ ہوتا تو اس کا حصہ بلوچستان سے دگنا تقریباُ پختون خواہ کے برابر ہوتا۔۔ لیکن نہ آئین میں ترمیم ممکن ہے نہ کراچی کا صوبہ بننا، ملک، کی آبادی اگر بائیس کروڑ ہے تو کراچی کی دس فیصد یعنی دو کروڑ بیس لاکھ۔

50 سال پہلے کا دبئی بھی ایک گاوں تھا جس کی مقامی آبادی بہت کم تھی لیکن سرمایہ کار بلا لحاظ مذہب ساری دنیا سے آئے تو یہ پیرس اور ہانگ کانگ کا ہمسر ہو گیا۔ یہاں زمین کم پڑی تو سمندر کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔۔ پانی میں جزیرے بنا کے سیاحت کیلئے پر کشش ماحول فراہم کیا گیا اور بہت کم عرصے میں دبئی ہر ملک قوم اور مذہب کے سرمایہ کار کی دلچسپی کا محفوظ مرکز بن گیا۔ اس ترقی کے عمل میں سب سے زیادہ مدد قانون پر عمل در آمد میں سختی۔ ہر مذہب اور عقیدے کو انفرادی بنیاد پر محدودتحفظ اور بنیادی آسایش کے ساتھ ان تمام اسباب تعیش کی فراہمی شامل تھی جن کو ہم لہو لعب میں شمار کرتے ہیں مثلا” شراب و شباب، نایؑٹ کلب، فائیو سے سیون اسٹار ہوٹل، تفریحی مقامات، رنگین ساحل، خوف سے آزاد ماحول اور کالے دھن کا مکمل تحفظ۔  سمندر میں جزیرے بنائے جارہے ہیں، پرانے ناکارہ بوڑھے شہر کو تو مرنا یا مر مر کے جینا ہوتا ہے۔۔ اس شہر میں بھی معاشی نفسیات کا فرق بہت نمایاں ہے۔ زیادہ لوگوں کے لئے کراچی مر رہا ہے۔۔ کچھ کیلئے نیا جنم لے رہا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ ناجایز اور غیر قانونی تعمیرات گرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے پیچھے بھی سیاسی مصلحت اور مصالحت کی مجبوری کار فرما ہے۔۔ اس حکم پر عمل در آمد عملا” ناممکن ہے۔۔ سو فیصد ناممکن۔ اس کیلے آپ کو کم سے کم آدھا کراچی بلڈوز کرنا پڑے گا۔۔ شاید زیادہ۔۔ وہ ملبہ کون اٹھائے گا؟ بے گھر بے روزگار کہاں جائیں گے؟ آپ میری بات سے اتفاق کریں نہ کریں۔۔ غربت ہی جرائم کو جنم دیتی ہے۔۔ ان جرایم میں سیکس ٹریڈ بھی لازمی ہوگی جیسے کولالامپور ہانگ کانگ ٹوکیو میں عام ہے۔ پھر آپ فیس بک پر اپنی اسلامی، مشرقی، خاندانی شرافت کی روایات پر لا حاصل نوحہ خوانی کے سو اکیا کریں گے۔ وقت کی پیش قدمی کون روک سکا ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  کراچی میں زندگی لوٹ آئی —- ساحر بلوچ
(Visited 581 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: