یوسفی کا مزاح اور ان کا المیہ شعور —— عزیز ابن الحسن

0

ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی (۲۰۱۸ء۔۱۹۱۲ء) نے ایک بھرپور زندگی گذاری۔ اٹھانوے سالہ عمر میں کم و بیش اسی پچاسی برس انہوں نے پورے ہوش و حواس کے بِتائے۔ زندگی کی ہما ہمی کو انہوں نے بہت قریب سے اور ”بسر“ کرکے دیکھا ہے۔ لہٰذا ان کے جانے کا مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ مظفر علی سید کہا کرتے تھے کہ جو فنکار اپنا کام احسن طریقے پر مکمل کر چکا ہو، موت اسے فنا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا مظفر علی سید کے طریقِ کار پر چلتے ہوئے میں ماتمِ مرگ منانے کے بجائے اس مختصر سی تحریر میں یوسفی صاحب کے کام اور مقام کا تعین کرنے کی کوشش کروں گا۔

کہا جاتا ہے کہ کوئی ایسا قضیہ یا بیان ممکن نہیں ہوتا جس میں سب باتوں کی علّت بیان ہوجائے۔ مطلب یہ کہ بڑے فنکار کے بارے میں کوئی ایسا کلیہ نہیں بنایا جاسکتا جس میں وہ مکمل طور پر بند ہوجائے۔ بڑے فنکار کی بڑائی ہوتی ہی اس میں ہے کہ وہ ہر کلیے فارمولے کو توڑ کر اس میں سے باہر نکل جاتا ہے۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی میں یوسفی کے بارے میں ایک کلیہ بنانے کا خطرہ مول لوں گا۔ لیکن آگے بڑھنے سے پہلے کچھ یوسفی صاحب کے بارے میں بیان ہوجائے۔ مشتاق احمد یوسفی نے اپنی زندگی اور بقائمی ہوش و حواس چار کتابیں چھپوائیں۔ چراغ تلے(۱۹۶۱ء)، خاکم بدہن (۱۹۶۹ء)، زرگذشت (۱۹۷۶ء)، آبِ گم (۱۹۹۰ء)۔ ان کے نام سے چھپنے والی پانچویں کتاب شامِ شعر یاراں (۲۰۱۴ء) اگرچہ اُن کی زندگی میں ہی آئی مگر اس کتاب کی تحریروں کے انتخاب میں یوسفی صاحب کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اس پر مزید بات آگے ہوگی۔ یوسفی صاحب ایک بینکر تھے اور وہ بہت سے مالیاتی اداروں کے سربراہ رہے ہیں۔ اپنی سوانح کے باب میں خود یوسفی صاحب نے زرگذشت کے دیباچے میں نیم مزاحیہ انداز میں جو لکھا ہے وہ پیرا پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:

“ایک چشم دید واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ اس صدی کی تیسری دہائی میں ایک خاتون نے جو اردو میں معمولی شد بد رکھتی تھی، اس زمانے کا مقبول عام ناول “شوکت آرا بیگم” پڑھا، جس کی ہیروئن کا نام شوکت آرا اور معاون کردار کا نام فردوس تھا۔ ان کے جب بیٹیاں ہوئیں تو دونوں کے یہی نام رکھے گئے۔ ایک کردار کا نام ادریس اور دوسرے خدائی خوار کا اچھن تھا۔ یہ دونوں انہوں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بطور نام اور عرفیت بخش دیے۔ بچے کل چار دستیاب تھے جبکہ ناول میں ہیرو کو چھوڑ کر ابھی ایک اور اہم کردار پیارے میاں نامی ولن باقی رہ گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں ناموں اور دہرے رول کا بوجھ بڑے بیٹے کو ہی اٹھانا پڑا جس کا نام ہیرو کے نام پر مشتاق احمد رکھا گیا تھا۔ یہ سادہ لوح خاتون میری ماں تھی۔ بحمداللہ! ناول کی پوری کاسٹ، باستثنائے شوکت آرا، جس کا طفولیت میں ہی انتقال ہو گیا تھا، زندہ و سلامت ہے۔ والدہ کی بڑی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں اور عرب جا کر بدوؤں کا مفت علاج کروں، اس لیے کہ ناول کے ہیرو نے یہی کیا تھا۔ مولا کا بڑا کرم ہے کہ ڈاکٹر نہ بن سکا۔ ورنہ اتنی خراب صحت رکھنے والے ڈاکٹر کے پاس کون پھٹکتا۔ ساری عمر کان میں اسٹیتھس کوپ لگائے اپنے ہی دل کی دھڑکنیں سنتے گزرتی۔ البتہ ادھر دو سال سے مجھے بھی سعودی عرب، بحرین، قطر، عمان اور عرب امارات کی خاک نہیں تیل چھاننے اور شیوخ کی خدمت کی سعادت نصیب ہوتی رہی ہے۔ ناول کے بقیہ پلاٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہا ہوں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو ادب کبھی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوا وہ ذرا دیدہ عبرت نگاہ سے اس عاجز کو دیکھیں۔ یہ ہے کچا چٹھا”۔۱

یوسفی کی عمومی شہرت ایک مزاح نگار کی ہے لیکن اس مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ یوسفی کے مزاح کے پردے میں چھپے ان کے المیہ طرزِ احساس کو دیکھا جائے۔ مزاح کی ماہیت اور اس کے ماخذ کے حوالے سے یوں تو بہت سی آراء ہیں مگر ہم آگے بڑھنے سے پہلے ہم اپنے زمانے کے کچھ بڑے لوگوں اور پھر یوسفی صاحب سے مزاح کے مفہوم و ماخذ کے بارے میں کچھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کنہیا لال کپور نے پطرس بخاری کے خاکے ”پیر و مرشد“ میں پطرس کے حوالے سے مزاح کے بارے میں کچھ دلچسپ نکات لکھے ہیں جو بقول کپور کے پطرس نے برگساں کے تصورِ مزاح کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیے تھے:

“پطرس کا کہنا تھا کہ ہمدردی/ ترحم/ ہنسی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ کوئی ایسی صورتِ حال جس میں کسی انسان کو دوسرے سے ہمدردی ہو یا اُس پر وہ ترس کھا رہا ہو تو وہ اس پر ہنس نہیں سکے گا۔ ہنسی اُڑانے، لطیفہ بنانے کے لیے یک گونہ اجنبیت اور معروضیت لازم ہے۔ ایک آدمی آپ کو مارنے یا نقصان پہنچانے کے لیے بھاگا آ رہا ہے اور وہ لڑکھڑا کر گر پڑتا ہے تو آپ ہنسنے لگیں گے لیکن اگر وہ آپ کی مدد کی نیت سے آرہا تھا یا وہ کوئی آپ کا عزیز تھا تو آپ متاسف ہوجائیں گے۔ گویا عمل ایک ہی ہے مگر اُس کی طرف آپ کا جذبہ یا احساس آپ کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ پطرس مزید کہتے ہیں کہ ہنسنے کے لیے عقل کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے وقوف آدمی پر لطیفہ ضائع ہوجاتا ہے۔ معروف مصرعہ ہے : ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرف دار نہیں۔ یہ ایک سنجیدہ بات ہے لیکن اگر یوں کہا جائے کہ ہم غالب کے طرف دار ہیں سخن فہم نہیں تو یہ مزاح بن جائے گا۔۲ گویا ایک ہی شئے المیہ بھی ہوسکتی ہے اور طربیہ بھی۔ یہ تضاد، تقابل یا نامطابقت سے پیدا ہوتی ہے یعنی ایسی مطابقت کہ کسی شئے کے اجزا کو درست محل میں رکھنے کی بجائے اس طرح ترتیب دیا جائے کہ مضحک صورت بن جائے۔”

پطرس اور المیہ کے بارے میں پروفیسر کرار حسین کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے یعنی المیہ اور طربیہ دونوں تضاد سے پیدا ہوتے ہیں۔ وہی بات کہ جس شئے سے مزاح پیدا ہوتا ہے کسی دوسری صورت میں وہ المیہ بھی بن سکتی ہے۔ محمد حسن عسکری اپنے مضمون ”ہمارے ہاں مزاح کیوں نہیں؟“ میں لکھتے ہیں:

“ہنسی کے لیے تضاد اور تقابل ضروری ہے۔ تضاد کے بغیر چیزوں کی معنویت غائب ہونے لگتی ہے۔ جب سب چیزیں ایک سی بے معنی ہوجائیں تو ہنسی کی گنجائش نہیں رہتی۔ ہمارے زمانے میں Standard of Normality باقی نہیں رہا۔ مزاح کے لیے Normality کا تصور ضروری ہے۔ ہمارے ہاں غیر معمولی باتیں اور چیزیں بہت عام ہوگئی ہیں۔ ہم نے غیرمعمولی کو ہی معمول/ معیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ان سے رنج و وحشت تو پیدا ہوسکتی ہے لیکن چونکہ ہم انہیں معمول سے ہٹی ہوئی نہیں سمجھ رہے اس لیے ہنس نہیں سکتے۔عسکری مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں روزمرہ کی زندگی تجربہ اور واردات کی بجائے ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ ہم اتنے سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ ہنستے ہوئے ڈرتے ہیں۔ جب کسی شئے کا حل نہیں ملتا تو مایوسی اور جھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس سے اذیت پرستانہ طنز تو پیدا ہوتا ہے مگر مزاح نہیں۔ زندگی سے لطف لینا اب دوبھر ہوگیا ہے۔ اُردو زبان اور ادیبوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ادیبوں کو نہ زندگی سے گہرا ربط ہے اور نہ اپنی زبان سے۔ ان کے لکھے ادب میں عام عوام کی بول چال نہیں ہے۔ ایسی صورت میں مزاح کی تخلیق ممکن نہیں۔ ادب کی دیگر اصناف کی بہ نسبت مزاح کہیں زیادہ سماجی چیز ہے۔ زبان اور سماج سے براہِ راست اور گہرا تعلق نہ ہو تو مزاح نہیں پیدا ہوسکتا۔ لوگوں کو رلانے کے لیے اتنے فن کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ہنسانے کے لیے”۔۳  اب دیکھیے یوسفی صاحب مزاح کے بارے میں کیا کہتے ہیں: “حِسِّ مزاح ہی دراصل اِنسان کی چھٹی حِس ہے۔ یہ ہو تو اِنسان ہر مقام سے آسان گُزرجاتا ہے: بے نشّہ کِس کو طاقتِ آشوبِ آگہی یُوں تو مزاح، مذہب اور الکحل ہرچیز میں بآسانی حل ہوجاتے ہیں، بالخصُوص اُردو اَدب میں۔ لیکن مزاح کے اپنے تقاضے، اپنے ادَب آداب ہیں۔ شرطِ اوّل یہ کہ برہمی، بیزاری اور کدُورت دل میں راہ نہ پائے۔ ورنہ یہ بومرنگ پلَٹ کر خود شکاری کا کام تمام کردیتا ہے۔ مزا تو جب ہے کہ آگ بھی لگے اور کوئی اُنگلی نہ اُٹھا سکے کہ ”یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے؟“ مزاح نگار اُس وقت تک تبسُّمِ زیرِ لب کا سزاوار نہیں، جب تک اُس نے دُنیا اور اہلِ دُنیا سے رَج کے پیار نہ کیا ہو۔ اُن سے، اُن کی بے مہری و کم نِگاہی سے، اُن کی سرخُوشی و ہُشیاری سے، اُن کی تَردامنی اور تقدُّس سے”۔۴

زرگذشت کے دیباچے میں وہ مزید لکھتے ہیں:

اپنے وسیلۂ اظہار— مزاح — کے باب میں میں کسی خوش گمانی میں مبتلا نہیں۔ قہقہوں سے قلعوں کی دیواریں شق نہیں ہوا کرتیں۔ چٹنی اور اچار لاکھ چٹخارے دار سہی، لیکن ان سے بھُوکے کا پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔ نہ سراب سے مسافر کی پیاس بجھتی ہے۔ ہاں، ریگستان کے شدائد کم ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز، اندوہ و انبساط، کرب و لذّت کی منزلوں سے بے نیازانہ گزر جانا بڑے حوصلے کی بات ہے۔
بارِ الم اُٹھایا، رنگِ نشاط دیکھا
آئے نہیں ہیں یونہی انداز بے حِسی کے

مگر یہ نہ بھولنا چاہیے کہ خوش دلی کی ایک منزل بے حسی سے پہلے پڑتی ہے اور ایک اُس کے بعد آتی ہے۔۔۔ ماورائے تبسم، وہ اہتزاز اور مزاح جو سوچ، سچائی اور دانائی سے عاری ہے دریدہ دہنی، پھکڑ پن اور ٹھٹھول سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ زر، زن، زمین اور زبان کی دنیا یک رخوں، یک چشموں کی دنیا ہے مگر تتلی کی سینکڑوں آنکھیں ہوتی ہیں اور وہ ان سب کی مجموعی مدد سے دیکھتی ہے۔ شگفتہ نگار بھی اپنے پورے وجود سے سب کچھ دیکھتا، سنتا، سہتا اور سہارتا چلا جاتا ہے اور فضا میں اپنے سارے رنگ بکھیر کے کسی نئے اُفق، کسی اور شفق کی تلاش میں گم ہوجاتاہے”۔۵

یوسفی کے درجِ بالا دو اقتباسات سے یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ مزاح اُن کے نزدیک ایک انتہائی سنجیدہ سرگرمی ہے۔ جو مزاح، سوچ، سچائی اور دانائی سے عاری ہو وہ اُن کے نزدیک دریدہ دہنی، پھکڑ پن اور ٹھٹھول سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ عسکری کی طرح وہ بھی مزاح کے لیے عام عوام سے جڑنا اور اُن سے ”رج“ کے محبت کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور جیسا کہ ہم آگے چل کر مزید واضح کریں گے یوسفی اُس کے لیے عام لوگوں زبان اور الفاظ سے زندہ تعلق کو نہ صرف علمی طور پر اہم جانتے ہیں بلکہ اُن کی لکھی ایک ایک سطر گواہ ہے کہ انہوں نے لفظوں اور زبان سے زندہ انسانوں جیسی محبت کی اور ان کے لیے اپنے تن من اور دھن کو باقاعدہ پگھلایا ہے۔

یوسفی نے اپنے کام کا آغاز بلاشبہ ایک مزاح نگار کے طور پر کیا تھا مگر اپنی معروف کتاب/ ناول آبِ گم (۱۹۹۰ء) تک آتے آتے زندگی کا اَلمیہ احساس اُن پر پوری طرح غالب آچکا تھا جس سے سلٹنے کے لیے مزاح اب محض ایک بہانہ رہ گیا تھا۔ چراغ تلے سے آبِ گم تک یوسفی کے طویل ادبی سفر میں لفظ، زبان اور نثر کا گہرا شعور روزِ اوّل ہی سے ان کے ساتھ تھا مگر آبِ گم میں وہ اپنے شعورِ نثر کی معراج کو پہنچ گئے تھے اور اس کے ساتھ ان کا شعورِ حیات بھی تکمیل پذیر ہوگیا تھا۔

پطرس بخاری، شفیق الرحمن، کرنل محمد خان اور محمد خالد اختر کا مزاح اکثروبیشتر واقعاتی ہوتا ہے اور صورتحال کے اٹ پٹے پن سے پیدا ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس مشتاق احمد یوسفی کا مزاح اس اٹ پٹے پن کے علاوہ بیش از بیش ”زبان کے کھیل“ سے پیدا ہوتا ہے، لیکن زبان کے اس کھیل میں یوسفی کے ہاں جو پینترے ہیں وہ اگرچہ متنوع ہیں مگر انہیں مسلسل پڑھنے والا قاری بہت جلد ان کے طریقِ کار عادی ہوکر ان کی پیش بینی کر لیتا ہے۔ وہ ان کے مزاح سے لطف تو کشید کرتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کے طریقِ مزاح میں Defamelization کے عمل کی کمی سے یکسانیت بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔

یوسفی کے مزاح کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ پطرس اور کچھ دوسرے لوگوں کے برعکس یوسفی کا مزاج مفرد نہیں مرکب ہوتا ہے۔ مرکب کے دو معنی ہیں: ایک تو جیسا کہ رشید احمد صدیقی نے پطرس بخاری پر اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ بعض اطبا پیچیدہ بیماری کا علاج مفرد دوا سے کرتے ہیں اور بعض سادہ امراض کے لیے بھی نہایت پیچیدہ مرکبات استعمال کرواتے ہیں۔ علاج دونوں مستند ہیں مگر مفردات سے علاج کرنے والے طبیب کا فن بڑا ہوتا ہے۔۶ اور دوسرے یہ کہ یوسفی کے ہاں محض جملے بازی کے علاوہ لفظوں کے ساتھ کھیلنے کا جو عمل ہے، جس سے وہ ماورائے تبسم دانائی کی آنکھ سے دیکھا اور اندوہ و انبساط اور کرب و لذت کی منزلوں میں بکھرا المیہ تجربہ تخلیق کرتے ہیں وہ ان کے قاری سے بہت باخبر ہونے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔

اس اعتبار سے یوسفی سے محظوظ ہونے والوں کی دو سطحیں ہیں:

۱۔ وہ جو محض ان کے مزاح کے ظواہر سے لطف اٹھاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بقولِ یوسفی مزاح، ”دریدہ دہنی، پھکڑ پن اور ٹھٹھول سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا“۔

۲۔ وہ جو اُن کی زبان دانی، بجھتے ہوئے متروک لفظوں کے نگینوں کی بازآفرینی اور درست تلفّظ کے بارے میں یوسفی کی کھوج اور ریاضت کی تہہ تک پہنچ کر روز مرہ کی زندگی اور اپنے گرد و پیش کے عام لوگوں سے ان کے تعلق اور ان کے ہاں زندگی کے المیۂ احساس کی کارفرمائی سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔۲۔ وہ جو اُن کی زبان دانی، بجھتے ہوئے متروک لفظوں کے نگینوں کی بازآفرینی اور درست تلفّظ کے بارے میں یوسفی کی کھوج اور ریاضت کی تہہ تک پہنچ کر روز مرہ کی زندگی اور اپنے گرد و پیش کے عام لوگوں سے ان کے تعلق اور ان کے ہاں زندگی کے المیۂ احساس کی کارفرمائی سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔

کوئی شک نہیں مشتاق احمد یوسفی کو عمومی پذیرائی تو بہت ملی ہے مگر افسوس ہے کہ یوسفی کو اس دوسری سطح کا قاری نسبتاً کم ملا ہے۔ مزاح کے وہ تمام پینترے جو یوسفی کا خاصہ ہیں، اگر کسی جادوئی چھڑی سے گُم کردیئے جائیں تو یوسفی کی قرأت کرنے والے بہت کم رہ جائیں گے، حالانکہ میرے حساب سے اس کے باوجود یوسفی کی تحریر میں سیکھنے، سمجھنے اور جاننے کے لیے بہت کچھ باقی رہے گا لیکن اب ہمارے ہاں تعلیم اور ذوقِ ادب کے زوال کا جو حال ہے اس کی وجہ سے آج کے ایم اے (اُردو) کے بہت سے طلبا بھی باغ و بہار اور غالب کے خطوط کی نثر بھی روانی سے بمشکل ہی پڑھ پاتے ہیں۔ ایسے میں یوسفی کے فن کے حقیقی جوہر کی داد دینے والے کمیاب سے کمیاب تر ہوتے گئے تو عجب نہ ہوگا۔

آرٹ کی ماہیت اور مافیہ کے تعلق کے حوالے سے فن کے بارے میں عام قاری کے اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ آرٹ شکر لگی گولی ہوتا ہے جو کسی فن پارے کے اندر بیان کردہ حقیقت کی گہرائی، تلخی اور ہولناکی کو خوشگواری کے ساتھ نگلنے میں عام قاری کی مدد کرتا ہے۔ جبکہ ہیئت/ اسلوب یا آرٹ کے شہیدوں کی نظر میں اصل شئے اور مقصود ”فن“ ہوتا ہے۔ اس فن سے آشنائی پیدا کرانے اور اس کی پیچیدگی کو ہضم کرانے کے لیے اصل شکر والی گولی اس کا ما فیہ ہوتا ہے۔

اس دوسرے نقطۂ نظر کے مطابق ایک فنکار کا اصل مقصد آرٹ سے دلبستگی ہے۔ مگر چونکہ عام لوگوں کو یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آسکتی اس لیے فنکار” آرٹ کی تلخی“ کو حلق سے اتارنے کے لیے مافیہ یعنی عرفِ عام والی ”افادیت یا سیاسی و سماجی حقیقت“ کو بطور چارہ استعمال کرتا ہے۔۷

میرے اعتبار سے یہی معاملہ یوسفی کا ہے۔ انہوں نے مزاح کی شکر لگی گولی کو اپنی نثر نگاری، جزرسی، اپنی زبان دانی، لفظ شناسی اور شعورِ حیات کے بیان کے لیے بطور چارے کے استعمال کیا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے فن میں جوں جوں پختگی آتی گئی وہ مزاح کے بجائے الم نگار بنتے گئے تھے۔ اس شئے کی شہادت ان کی کتاب آبِ گم میں سب سے زیادہ ہے۔ مگر عام پڑھنے والا اسی کو نظرانداز کر جاتا ہے۔ اس بات کو قاضی جمال حسین نے کسی اور پیرائے میں کچھ یوں لکھا ہے:

یوسفی کی مزاح نگاری کا سب سے اہم امتیاز اس کی معنویت اور پہلوداری ہے۔ اگر قاری کا ذہن بیدار اور ذوق تربیت یافتہ نہ ہو تو بسا اوقات لطف کے بے شمار پہلو اس کی آنکھوں سے اوجھل ہی رہ جاتے ہیں۔ اور وہ سطح پر نظر آنے والی نحوی اکائی کو کوئی لطیفہ یا مصنف کی بذلہ سنجی سمجھ کر فقط ہنسنے پر اکتفا کرلیتا ہے۔۸

اب ہم آتے ہیں یوسفی کے شعورِ زندگی کی طرف۔ یہ معروف سیاسی، سماجی اور معاشی شعور نہیں بلکہ انسانی زندگی، اس کی بوالعجبیوں، ناگواریوں، کراہتوں، مضحکہ خیزیوں، قہقہوں، کربناکیوں اور آنسوؤں کا شعور ہے، جس کے ذریعے وہ زندگی کو عام آدمی کی نظر سے دیکھنے اور عام آدمی کی زندگی لفظ پر اپنی گرفت مضبوط کرکے بیان کرنے کے قابل ہوئے، جس میں انہوں نے دکھوں اور اَلمیوں کی ناقابلِ یقین شدتوں کے باوجود عام انسان میں زندگی بِتانے کی بے پناہ قوت دریافت کی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کا شعورِ زندگی طربیہ نہیں اَلمیہ ہے۔ زندگی کی ان الم ناکیوں کو وہ مزاح کے ذریعے قابل برداشت بناتے ہیں۔

زندگی کیا ہے اس کو آج اے دوست
سوچ لیں اور اداس ہو جائیں

ڈی ایچ لارنس کے رسوائے زمانہ ناول Lady Chatterley’s Lover کا آغاز اس روح فرسا اعلان سے ہوتا ہے:

“Our’s is essentially a tragic age, so we refuse to take it tragically. The cataclysm has happened, we are among the ruins, we start to build up new little habitats, to have new little hopes. It is rather hard work: there is now no smooth road into the future: but we go round, or scramble over the obstacles. We’ve got to live, no matter how many skies have fallen”.9

اس پیرا گراف کا ترجمہ کچھ یوں ہوسکتا ہے:

 ”ہمارا زمانہ بنیادی طور پر المیاتی ہے اسی لیے ہم اس المیاتی تناظر میں دیکھنے سے انکاری ہیں۔ بڑی تباہی واقع ہوچکی ہے۔ ہم کھنڈر بن چکے ہیں۔ ہم نئی طرح کی عادتیں اپنا رہے ہیں تاکہ چھوٹی چھوٹی نئی امیدیں پیدا کرسکیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ مستقبل کی طرف کوئی ہموار پکڈنڈی نہیں جاتی۔ ہم گول گول گھومتے ہیں یا رکاوٹوں پر سے گرتے گھسٹتے جاتے ہیں۔ ہمیں جینا ہے چاہے کتنے ہی آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑیں“۔

قطع نظر اس کے کہ ناول کے بنیادی موضوع کے پس منظر میں اس پیرے کی کیا معنویت ہے لارنس کے مجموعی تنقیدی و تخلیقی کام کے پس منظر میں مجھے یہ پیرا بیسویں صدی کے مزاج کے اس پیراڈوکس کا سرنامہ معلوم ہوتا ہے جس کی پشت پر انیسویں صدی کے بعد کی سائنسی ترقیوں کی بنا پر امید پرستانہ انسانی خوشحالی اور مسرتِ بے پایاں کے ممکنہ خواب تھے مگر جس کے سامنے خوف، یاسیت اور قنوط کے گھمبیر مقدرات آئے۔ اس آشوبِ آگہی سے بچنے کے لیے اب اسکے پاس شعور کو سُلائے رکھنے اور تعیشات میں پناہ ڈھونڈنے اور کوئی چارہ نہیں۔

اس صورتحال کو ٹیکنالوجی کی بے انداز ترقی کے بجائے بیسوی صدی کے بڑے جدید ادب، جس کا آخری اہم ترین اظہار وجودیت کی تحریک اور اس کے نمائندہ ادب میں ہوا؛ اور پوسٹ اسکٹرکچلرازم کے ان فلسفوں کے آئنے میں دیکھا جانا چاہیے جسے کسی بہتر عنوان کی عدم موجودگی میں مابعد جدیدصورتحال کہا جاتا ہے: وہ دور جب انسان حقیقت کی کنہ پالینے کے اپنے سابقہ بے حساب تیقن سے محروم ہوا اور جب انسان اپنی جوانی کے ان خوابوں کی تعبیر سے مایوس ہونے لگا کہ مستقبل کی دنیا انسان کی لامحدود سہانی تمناؤں کا مرکز بن جائے گی، جب بقول کسے انسان مایوسی کے اس مقام پر آگیا ہے کہ دنیا کو جنت بنانے کے خواب تو خیر نصیبِ دشمناں ہوئے ہم اسے جہنم بننے ہی سے بچالیں تو یہی بڑی بات ہے۔

امید و بیم نے مارا مجھے دوراہے پر
کہاں کے دیر و حرم گھر کا راستہ نہ ملا

اب جبکہ انسان کا باطن گھٹاٹوپ گھپاؤں کا نمونہ بن چکا، اس المیاتی شعور کے کرب سے نجات پانے کے لیے اس کے پاس سوائے اس کے اور کوئی راستہ نہیں رہ گیا تو وہ اس دفترِ بے معنی کو غرقِ مے ناب کرنے کی نت نئی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ اب شراب، جنس، نشہ آورادویات، یوگا، کرشماتی روحانیات، جعلی تصوف اور تعیشات کی نت نئے ایجادات ہی اسکی واماندگیٔ شوق کی پناہیں ہیں۔

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

مغربی ادب کے ممتاز پارکھ محمد حسن عسکری نے اس امر پر مفصل بحثیں لکھی ہیں کہ بیسویں صدی کے مغربی ادب کا غالب حصہ طربیہ/ نشاطیہ نہیں بلکہ المیہ ہے۔ جو جتنا بڑا فنکار ہے اُس کے ہاں الم کے سائے اتنے ہی گہرے ہیں۔

زندگی سراپا الم ہے مگر اسے اَلمیہ سمجھ کے گذاریں تو مرنے سے پہلے مر جائیں، اسی لیے یوسفی نے مزاح کو ”پردۂ سخن“ بنایا ہے۔

کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا

یاد کیجیے زرگذشت کے دیباچے سے گذشتہ صفحات میں دیئے گئے یوسفی کے اقتباس کا یہ حصہ: ”زندگی کے نشیب و فراز، اندوہ انبساط، کرب و لذت کی منزلوں سے بے نیازانہ گزر جانا بڑے حوصلے کی بات ہے“۔ بے نیازانہ کو یہاں ”مزاح کے سہارے“ پڑھ دیکھئے۔

ہوسکتا ہے میری یہ بات بعض اذہان کو یوسفی کی تمام تحریروں کے پسِ منظر میں کچھ زاید از ضرورت سادگی لگے، لیکن اگر میرے اس نکتے کو ان کے فن کی معراج آبِ گم کے تناظر میں دیکھیں گے تو شاید اتنی عجیب نہ لگے گی۔ معلوم ہوگا کہ زرگذشت کے دور (۱۹۷۶ء) تک وہ بے نیازانہ گزر جانے ہی کو جو حوصلے کی بات کہہ رہے تھے، آبِ گم میں اس حوصلے اور اپنے بیانیے میں”برہمی، بےزاری اور کدورت کا شائبہ نہ آنے دینے کی وضع احتیاط نے اُن سے کیسے کیسے خون تھوکوایا ہے۔

1990ءمیں آبِ گم کے بعد مشتاق احمد یوسفی نے اپنا قلم توڑ دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ لکھا وہ تقریباتی اور رُخ نمائی کی تحریریں تھیں۔ میرے خیال میں آبِ گم یوسفی کے فن کی معراج اور ان کے اَلمیہ شعورِ زیست کی سب سے معتبر شہادت ہے۔

جب میں نے 1990ءمیں دوسری مرتبہ آبِ گم کو پڑھا تو میری زبان سے بے ساختہ نکلا خدا کا شکر کہ آبِ گم کو پڑھنے کے بعد میں پہلے کی طرح یوسفی کو محض ایک مزاح نگار سمجھنے کے گناہ میں مبتلا نہیں رہا۔ مزاح نگاری کے پردے میں چھپا یوسفی اصل میں ایک اَلمیہ نگار ہے۔
آبِ گم اصلاً ایک فکشن ہے جس کا پھیلاؤ ایک ناول کا سا ہے۔ اس کو ناول کے قریب خود یوسفی ہی نے نہیں کہا بلکہ ہمارے انتہائی سخت گیر نقّاد مظفر علی سید نے بھی ۱۹۹۰ءمیں اپنے ایک کالم میں اسے ناول ہی کہا تھا۔

اگر ہم زیادہ تکنیکی بحثوں میں نہ پڑیں تو دیکھیں کہ افسانہ / ناول میں کیا ہوتا ہے اور یوسفی صاحب کے ہاں اس کی کیا صورت ہے:

۱۔ کہانی۔۔۔جو یوسفی کے ہاں پوری طرح موجود ہے۔۲۔ مکالمے۔۔۔جو طرب و اَلم کے مابین جھولتے اور دھڑکتے قلم سے لکھے گئے ہیں۔۳۔ کردار نگاری۔۔۔اس کا تو یوسفی بادشاہ ہے۔۴۔ جزیات نگاری۔۔۔ اس پر بھی یوسفی کو مکمل گرفت ہے۔ جزیات نگاری ایک ایسا فنی حربہ ہے جو دنیا کے اکثر بڑے ناول نگاروں کے ہاں موجود ہے۔ اس پر گرفت زندگی کے گہرے اور اجزائی مشاہدے کو بیان کے فن پر مکمل عبور سے حاصل ہوتی ہے۔ ”جزیات نگاری“ اگر محض برائے ”جزیات نگاری“ کے ہو تو عیب ہے لیکن کُل زندگی کو اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں جب دیکھا جائے تو زندگی اپنی بوالقلمونیوں اور بوالعجبیوں کے ساتھ نظر آتی ہے۔ بڑا فنکار جزیات نگاری کے ذریعے انہی ٹکڑوں سے زندگی کا نگار خانہ ترتیب دیتا ہے۔ یہ یوسفی کے نزدیک بھی عیب نہیں بشرطیکہ ”آپ زندگی کی کوئی تصویر پیش کریں“۔۱۰۵۔ باقی رہ گیا پلاٹ۔۔۔ تو اس کے بارے میں یوسفی نے ایک ایسا نقادانہ فقرہ لکھ رکھا ہے جس کی داد وارث علوی بھی دیتے۔ یوسفی نے لکھا کہ: ”ڈراموں، کہانیوں، افسانوں، فلموں، ناولوں اور سازشوں کے علاوہ مجھے عام زندگی میں تو پلاٹ نہیں نظر آتا“۔ انہوں نے مارسل پروست اور جیمس جوائس کے کچھ ناولوں کی مثال بھی دی ہے جو پلاٹ سے خالی اور محض ماجرا نگاری ہیں۔۱۱ قطع نظر اس کے کہ آبِ گم ناول ہے یا نہیں۔۱۲

اس کی صنف طے کئے بغیر ہم دیکھتے ہیں زندگی کے اَلمیہ احساس کے حوالے سے یہ کتاب بہت سے ناولوں پر بھاری ہے۔ اس سب کچھ کے علاوہ کہ جو یوسفی کا خاصہ ہے—— یعنی لفظ تراشی، زبان دانی، نثرنگاری، جیتی جاگتی زندگی اور معاشرت میں زبان اور لفظوں کی اہمیت، اُردو کے علاوہ علاقائی زبانوں کے الفاظ تخلیقی طور پر اُردو میں کھپانے کی صلاحیت وغیرہ وغیرہ —–اس کتاب کے بیانیے میں زندگی کو سرسری دیکھنے والے رویوں کو منقلب کر دینے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔

نمونے کے طور پر صرف سابقہ مشرقی پاکستان کے ”سونار بنگلہ“ (آبِ گم، ص ۱۱۱ تا ۱۱۳) اور کراچی کے علاقے ”لیاری“ (آبِ گم، ص ۱۱۵ تا ۱۲۰) کے مکینوں کی غربت کے اتھاہ اندھیروں اور غلاظتوں میں بسر ہوتی زندگی کی تسلیم و رضا والی بِسران کو دیکھ لیجیے۔ ممکن نہیں کہ آپ یہ صفحات پڑھنے کے بعد اپنی موجود زندگی اور اس کی نعمتوں کے بارے میں احساسِ تشکّر سے جگمگاتا باطن لے کر نہ اٹھیں۔ اگر کبھی دل میں اللہ کی نعمتوں کی بے وقعتی کا احساس جنم لینے لگے تو لیاری میں کھمبہ نمبر ۲۳ کے عقب میں واقع کیچڑ کے اُس پار کی ایک جھگی کے مکین مولانا کرامت حسین سے بشارت کی ملاقات کے احوال پڑھ لینے چاہئیں۔جس سے

 ”مشیتِ ایزدی اور مرضیٔ مولا کے جتنے حوالے اُس آدھ گھنٹے میں بشارت نے سنے اتنے پچھلے دس برسوں میں بھی نہیں سنے ہونگے مولانا کی باتوں سے انہیں ایسا لگا کہ جیسے اس بے نوا نگری میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کی عین مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔ انہیں(بشارت کو) اس سرنگ کے دوسری طرف بھی اندھیرا ہی اندھیرا نظر آیا۔ ایسی ناامیدی، ایسی بے بسی، ایسے اندھیرے اور اندھیر کی تصویر کھینچنے کے لیے تو دانتے کا قلم چاہیے“۔۱۳

اگر آرٹ کے ذریعے قلب ماہیت کی طاقت جانچنی ہو تو آبِ گم میں اس کا سب سامان ہے۔ اور یہ سب کچھ ممکن ہوا یوسفی کی جادوئی تاثیر والی نثرنگاری کے ذریعے۔

اُردو کے تمام مزاح نگاروں میں لفظ شناسی اور نثر نگاری کو ایک شعوری کاوش کے طور پر اپنے فن کا حصہ بنانے میں یوسفی دیگر ادیبوں سے فرسنگوں آگے رہے۔ اپنے اولین مجموعے چراغ تلے کے زمانے ہی سے انہیں لفظ، زبان اور نثر کی خلاق قوت کا پورا پورا شعور رہا ہے مگر جوں جوں وہ آگے بڑھتے گئے لفظوں کے نگینے سجانے اور نثاری کا فن جگانے میں ان کا ملکہ کمال کو پہنچتا گیا۔ وہ جس طرح جملہ بناتے اور لفظوں سے کھیلتے ہیں وہ فطری بالکل نہیں ہوتا مگر انہیں ساختہ کو بے ساختہ بنانے میں کمال حاصل ہے۔ نت نئے الفاظ برتنا اُردو کے علاوہ مقامی زبانوں کے الفاظ سے تخلیقی استفادہ کرتے ہوئے انہیں اُردو زبان کے مزاج میں کھپانا اور زبان میں مقامی رس جس پیدا کرنا انہیں ہمیشہ سے مرغوب رہا ہے۔ لفظے کے تازہ است بہ مضمون برابر است کا مقولہ تو اگلوں نے شاعری میں مضمون آفرینی کے لیے وضع کیا گیا ہوگا مگر ہمارے زمانے میں اُردو نثر میں اسے سب سے زیادہ یوسفی بکار لائے ہیں۔

مثال کے طور پر دیکھیے کہ آبِ گم میں ایک جگہ انہوں نے اُردو زبان میں موجود رنگوں کے ناموں کی ایک فہرست دی ہے:

شنگرفی، ملاگیری، اگرئی، عنابی، کپاسی، کبودی، شتری، زمردی، پیازی، قرمزی، کاہی، کاکریزی، کاسنی، نکرئی، قناویزی، موتیا، نیلوفری، دھانی، شربتی، فالسئی، جامنی، نسواری، چمپئی، تربوزی، مٹیالا، گیروا، مونگیا، شہتوتی، ترنجی، انگوری، کشمشی، فاختئی، ارغوانی، پستئی، شفتالو، طاؤسی، آبنوسی، عودی، عنبری، حنائی، بنفشی، کسمبری، طوسی۔۱۴

رنگوں کے نام مردوں کی نسبت عام طور پر خواتین کو زیادہ یاد ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں آج کی خواتین بھی ان میں سے کتنے رنگوں کے ناموں سے واقف رہ گئی ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی الفاظ گرین، سی گرین، ییلو، میرون، بلیو، ریڈ۔۔۔ وغیرہ کی ایک بھرمار ہے جو ہمارے اَن پڑھ درزیوں اور رنگسازوں کو بھی اَزبر ہوتے ہیں۔ رنگوں کی یہ فہرست لکھنے کے بعد یوسفی نے ایک ایسا جملہ لکھا ہے جو خوبصورت تو بہت ہے لیکن اُس نے گویا ہم اہلِ اُردو کے منہ پر خاک مل دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ان الفاظ سے لاتعلق ہوکر ”ہم نے اپنے لفظ خزانے پر لات ماری سو ماری، اپنی دھرتی سے پھوٹنے والی دھنک پر خاک ڈال دی ہے“۔

متروک ہوتے ہوئے لفظوں کو فنکارانہ خلاقی سے زندہ کرنا اور اُن کے ذریعے مزاح کا ایسا تجربہ تخلیق کرنا کہ جس کے پردے میں دُکھ بھی سمویا ہوا ہو یوسفی کا وہ فنی کمال تھا جو اُن کے علاوہ اُردو کے کسی دوسرے مزاح نگار کو نصیب نہیں ہوا۔ ایک جگہ انہوں نے مرزا کی زبانی لکھا ہے کہ’تم نے متروکہ جائیداد کا کلیم داخل نہیں کیا کیونکہ تم متروکات کا بھنڈار ڈھو کر پاکستان لے آئے ہو اب اگر ان میں سے ایک لفظ بھی رائج ہوگیا تو میں سمجھوں گا کہ عمر بھر کی محنت سوارت ہوئی‘۔ تو ایسے لفظوں سے سجی سنوری نثر لکھنا اور تبسم و مزاح کے پردے میں ایسی دلگیر فضا بنا دینا کہ تبسم ریز لب اور پرنم آنکھ کے مابین فاصلہ نہ رہے یوسفی ہی کے فن کا کمال تھا۔

تخلیقی نثرنگاری ایک ایسی صفت اور صلاحیت ہے کہ جس کے بارے میں گوپال متل نے اپنی کتاب لاہور کا جو ذکر کیا میں پنڈت ہری چند اختر کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے مجھ سے کہا ”نظم میں وزن کا لحاظ تو ایک احمق بھی رکھ سکتا ہے لیکن نثر میں نظم پیدا کرنا مشکل ہے“۔۱۵ مشتاق احمد یوسفی اُردو کے صاحبِ اسلوب اور ”باوزن “ نثر لکھنے والوں کی آخری کھیپ میں سے تھے۔ انہی اسباب کی بنا پر یوسفی کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ یوسفی بطور نثر اور اَلم نگار یوسفی بطور مزاح نگار سے بڑا ہے۔

اُن کی کتاب شامِ شعر یاراں (۲۰۱۴ء) پر بطورِ مصنف مشتاق احمد یوسفی کا ہی نام درج ہے، اسے بوجوہ یوسفی کی نمائندہ کتاب تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔۱۶ اس لیے مضمون ہٰذا میں میرا جو بنیادی مقدمہ ہے اس کی تائید میں یوسفی کی پچھلی کتابوں سے بھی شواہد جمع کیے جاسکتے ہیں مگر وہ آبِ گم کے مطالعے پر مبنی ہے۔

یوسفی نے کم و بیش اپنی ہر کتاب پر دیباچہ ضرور لکھا ہے، جو اپنی جگہ ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے مگر آبِ گم کے دیباچے ”غنودیم غنودیم“ میں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی بعد کی زندگی کی پیش بینی بھی کر رہے ہیں۔ اس دیباچے میں مذکور احسان بھائی ”مجھے یوسفی ہی کے مثیل لگتے ہیں جو بیوی کے انتقال کے بعد ڈھے گئے تھے۔ حافظہ آنکھ مچولی کھلنے لگا تھا۔ حیرت ہے کہ ۱۹۹۰ءمیں یوسفی نے احسان بھائی کے پردے میں اپنا مستقبل کیسے جھانک لیا تھا۔ بیوی کے انتقال کے بعد خود ان کی اپنی زندگی بھی کچھ ویسی ہی ہوگئی تھی۔

اب جبکہ تبسم اور آنسو بکھیرتا یوسفی کا قلم ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا ہے ان کی کچھ ایسی تحریروں کی طرف متوجہ کرنا شاید غیرضروری نہ ہو جن کے اشارے ان کی زرگذشت اور آبِ گم کے دیباچوں میں موجود ہیں۔

٭ انہوں نے بتایا تھا کہ میں زرگذشت کا حصہ دوم بھی لکھوں گا۔
٭ آبِ گم میں بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے کی دس تحریریں لکھی ہیں ”جو اپنی ساخت ترکیب اور دانستہ و آراستہ بے ترتیبی کے اعتبار سے مونتاژ کے لحاظ سے ناول سے زیادہ قریب ہیں“۔۱۷

زرگذشت کا حصہ دوم لکھا گیا تھا یا نہیں، لیکن آبِ گم والے خاکے تو یقینا لکھے گئے تھے۔ سوال ہے کہ وہ سب چیزیں کہاںگئیں؟

ہمیں معلوم ہے کہ یوسفی اپنی تحریروں کے لکھنے سے لے کر ان کے حتمی انتخاب تک بہت کڑا معیار رکھتے تھے۔ جس طرح وہ لفظوں کے نگینے جوہری کی طرح چمٹی سے پکڑ پکڑ کر اپنی تحریر میں جڑتے تھے، اسی طرح کسی مضمون یا خاکے کو بھی حتمی انتخاب سے پہلے سخت چھلنی سے گزارتے تھے۔ لہٰذا یہ تو ممکن ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ پال لگانے کے لیے رکھ چھوڑا ہو مگر یہ امکان کم ہے کہ یہ سب انہوں نے ضائع کردیا ہو۔ ان کے آخری دنوں کے معالج اور نیازمند ڈاکٹر محمد خورشید عبداللہ نے ایک ٹیلی فونی گفتگو میں راقم کو بتایا تھا کہ یوسفی صاحب کہتے تھے یہ سب کچھ لکھا ہوا موجود ہے، جو پانچ حصوں میںچھپے گا۔ یہ سب باتیں بتاتے ہوئے یوسفی صاحب کے ذہن میں مارسل پروست کا سات جلدی ناول1922 , 1931- Remembrance of the Things Past تھا۔ یوسفی اپنی ان تحریروں کو ایسا ہی ناول بنانا چاہتے تھے۔ لیکن پھر یہ سب کچھ کیا ہوا؟ اس کا کوئی پتہ نہیں ! کاش یہ سب محفوظ ہو۔ لیکن اگر یہ سب محفوظ بھی ہوا تو یہ سوچ کر دل اداس ہوجاتا ہے کہ یوسفی کی ترتیب و تزئین کے بغیر یہ سب چھپ بھی گیا تو کیا حاصل؟ کیونکہ ان کے آئیڈیل تو مارسل پروست اور جیمس جوائس جیسے لوگ تھے۔ وہ جوائس جس کے ناول A Portrait of the Artist as a Young Man میں کرب و الم کے دہلا دینے والے مناظر تو ہیں مگر نشاطیہ آہنگ کہیں نہیں۔ مگر یوسفی کو یہ کمال حاصل تھا کہ وہ ایک ہی تحریر کو بیک وقت نشاط و الم کے رنگوں سے سجا سکتے تھے۔

مختصر بات یہ ہے کہ آبِ گم یوسفی کے فن کی معراج تھی۔ اس کے بعد یوسفی کا قلم وہ کچھ نہ لکھ سکا جو ان کے کڑے معیار پر پورا اترتا۔ اس زندہ و زنندہ کتاب میں یوسفی کے نشاطیہ رنگ پر بتدریج الم کے سائے چھا گئے تھے۔

یوسفی کی اس کتاب کو عموماً ناول کے قریب سمجھا گیا ہے۔ ایسا لکھنے والوں میں سب سے بڑا اور پہلا نام فنِ فکشن شناسی میں اُردو تنقید کے ایف آر لیوس مظفر علی سید تھے۔ افسوس کہ یوسفی کے بعد ہمارے پاس ان کے پائے کا لفظ شناس و لفظ تراش، زبان دان، کرب و اہتزاز سے مملو نثر نگار اور زندگی کو عام آدمی کی سطح پر اتر کر دیکھنے، ”بسر“ کرنے اور سرشار و آزاد کی طرح اس کی مرقع نگاری کرنے والا کوئی یوسفی اب نہیں رہ گیا۔ اب ”وزن دار“ اور ذائقے سے بھرپور نثر لکھنے والے قلم کا پانی خشک ہوکر آبِ گم ہوگیا ہے۔

رسوائے شہر ہے یاں حرف و سخن ہمارا
کیا خاک میں ملا ہے افسوس، فن ہمارا


 

حواشی و حوالہ جات
۱۔ یوسفی، مشتاق احمد، دیباچہ زرگذشت، مکتبۂ دانیال، کراچی، ۱۹۷۶ء، ص ۱۵۔۱۶۲۔ کنہیا لال کپور، ”پیر و مرشد“، (خاکہ پطرس بخاری)، https://www.rekhta.org/poets/kanhaiya-lal-kapoor/articles?lang=ur۳۔ عسکری، محمد حسن، ”ہمارے ہاں مزاح کیوں نہیں“، مشمولہ جھلکیاں، مکتبہ الروایت، لاہور، ۱۹۸۱ء، ص۲۴۰ و مزید۴۔ یوسفی، مشتاق احمد، دیباچہ خاکم بدہن، مکتبہ اردو ڈائجسٹ، ۱۹۷۱ء، لاہور، ص ۹۵۔ یوسفی، مشتاق احمد، زرگذشت، مکتبۂ دانیال، کراچی، ص ۱۳۔۱۴۶۔ رشید احمد صدیقی کا اصل اقتباس یہ ہے : ”بخاری کی ظرافت عام طور پر مفرد ہوتی ہے مرکب نہیں، بعض بڑے سے بڑے امراض کا علاج بھی جڑی بوٹیوں سے کرتے ہیں۔ بعض دوسرے معمولی امراض کے لیے بھی مرکب دوائیں مثلاً معجون، گولیاں، کشتہ جان تجویز کرتے ہیں۔ علاج دونوں مفید ہیں لیکن اول الذِکر زیادہ مشکل اس لیے زیادہ قابلِ تعریف ہے“۔ رشید احمد صدیقی، ”پروفیسر احمد شاہ(بخاری)“، مشمولہ ہم نفسانِ رفتہ، سرسید بک ڈپو، علی گڑھ، ۱۹۸۲ء، ص ۱۲۹۷۔ اس تصور کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے، عسکری، محمد حسن، جھلکیاں، مکتبۂ الروایت، لاہور، ۱۹۸۱ء، ص۱۲۹۸۔ جمال حسین، قاضی، ”مزاح نگاری کا فن: یوسفی کے حوالے سے“ مشمولہ اُردو ادب میں طنزومزاح کی روایت، (مرتبہ) ڈاکٹر خالد محمود، اُردو اکادمی، دہلی، ۲۰۰۵ء، ص۲۰۳9. Lawrance, D.H, Lady Chatterley’s Lover, Cambridge University Press, 2001, p1. لارنس کا یہ ناول اولاً اٹلی میں ۱۹۲۸ءمیں اور فرانس میں ۱۹۲۹ءمیں شائع ہوا تھا مگر مکمل صورت میں اس کی اشاعت ۱۹۶۰ءتک ممکن نہ ہوسکی تھی۔ لارنس کے نقادوں کا خیال ہے کہ اس ناول میں لارنس کے گذشتہ تمام موضوعات کا آخری بیان آگیا ہے۔ کرنے کو میں نے متن میں لارنس کی عبارت کا اُردو ترجمہ کر دیا ہے مگر سچ پوچھیے تو میرے خیال میں اس کا پہلا جملہ ترجمے کے لیے خاصہ پیچیدہ ہے۔ اس کے دو مفہوم سمجھ میں آتے ہیں: (الف) ”ہمارا زمانہ اصلاً المیاتی ہے لیکن ہم اسے المیے کے طور پر قبول کرنے سے انکاری ہیں“۔ (ب) ”ہمارا زمانہ اصلاً المیاتی ہے اسی لیے ہم اسے قبول کرنے سے برنج و الم انکاری ہیں“۔ ان دونوں مفاہیم کو اُردو کے ایک جملے میں سمونا کچھ مشکل معلوم ہوتا ہے۔۱۰۔ یوسفی، مشتاق احمد، ”غنودیم غنودیم“، دیباچہ آبِ گم، مکتبۂ دانیال، ۱۹۹۰ء، ص ۲۳، ۲۴۱۱۔ ”غنودیم غنودیم“، دیباچہ آبِ گم، ص۲۴۱۲۔ ممتاز افسانہ نگار حمید شاہد نے مقتدرہ قومی زبان میں ہونے والے ”بیاد یوسفی“ پروگرام میں کہا تھا کہ جب انہوں نے یوسفی صاحب سے ایک ملاقات میں انہیں کچھ نقادوں کا یہ تاثر بتایا کہ آب گم ایک آنچ کی کسر سے ناول بنتے بنتے رہ گئی ہے تو انکی زبان سے بےساختہ یہ جملہ نکلا تھا کہ” آب گم اب بھی ناول ہے، بس آپ یہ کیجیے کہ اس کے آخری باب کو پہلے اور پہلے کو آخر میں پڑھیں“۱۳۔ آبِ گم، ص ۱۱۸۱۴۔ آبِ گم، ص ۱۵۷۱۵۔ گوپال متل، لاہور کا جو ذکر کیا، دہلی، مکتبۂ تحریک، ۱۹۷۱ء، ص ۱۱۱۱۶۔ شامِ شعریاراں میں شامل تحریریں لکھی ہوئی تو بلاشبہ یوسفی کی ہیں مگر یوسفی اپنے لکھے کو کتاب میں شامل کرنے سے پہلے جس کڑے معیار پر پرکھ کر اس میں کانٹ چھانٹ کرتے تھے اس کا اندازہ ان کی کتابوں کے دیباچوں سے ہوتا ہے۔ ان کے زمانۂ آخر میں جب ان کا حافظہ جاتا رہا تو کسی جاننے والے نے اُن سے یہ تحریریں لے لیں اور کتاب بنا لی۔ اُن کی اس کتاب پر ہونے والے اکثر و بیشتر تبصرے اسی کی تائید کرتے ہیں۔ ملاحظہ کریں: https://www.dawnnews.tv/news/1015215 ۱۷۔ آبِ گم، ص ۱۳۰

(Visited 199 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: