ملک میں سیاسی دنگل —— رئیس احمد صمدانی

0

ملک میں خاص طور پر شہر کراچی میں آگ برس رہی ہے تو دوسری جانب ملک کی سیاسی فضاء میں آگ کے شعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو سیاست میں گرمی اچھی لگتی ہے، یہ ان کی مرغوب غذا ہے، انہیں آرام و سکون کا ماحول پسند نہیں ہوتا وہ تو سیاست میں اچھل کود، مارا ماری، گولا باری میں خوش رہتے ہیں۔ اگر امن ہوگا، سکون ہوگا، ملک کے عوام سکون سے ہوں گے تو انہیں کون سا چینل بلائے گا، وہ کیسے اپنی دل کی بھڑاس نکالیں گے، کیسے ان کی پبلسٹی ہوگی۔ اس لیے سیاست داں حکومت میں ہوں یا مخالف جماعت میں ملک میں سیاسی افراتفریح کے خواہش مند ہی ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ایسا وقت آجائے کہ کچھ نہ ہورہا ہو، میڈیا نے انہیں لفٹ کرانا کم یا بند کردی ہو تو وہ منصوبے بناتے ہیں کیسے کوئی نئی بات کریں کہ میڈیا میں اِن ہوجائیں، اس کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، اور کچھ نہیں تو پریس کانفرنس ہی بلالی، خود تو کچھ کرنا نہیں درباری موجود لکھ کر دے دی تقریر موصوف نے پڑھ ڈالی، بیان داغ دیا کہ کہ ہم حکومت گرا کر دم لیں گے، کوئی ان سے پوچھے کہ تم اپنی جدی پشتی قومی اسمبلی کی سیٹ سے جیت نہ سکے، تم حکومت گراؤگے، دوسروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی منصوبہ بندی، ۔ اور کچھ نہ سوجا تو کسی تقریب میں گئے کسی سے بھی باتوں باتوں میں بات آگے نکل گئی، طاقت کے نشے میں اگر وہ کمزور ہوا تواس کے تھپڑ جڑ دیا، اب تو میڈیا کے لیے مصالحہ کیا پوری دیگ تیارکرہوگئی، اب سوال جواب ہفتہ دس دن بہت آرام سے میڈیا میں ایکٹنگ کرتے گزرجائیں گے۔ تھپڑ کیوں مارا، نہیں مارنا چاہیے تھا، اس لیے ماراکہ مجھ سے کمزور ہے، اپنے سے طاقت ور کو تو مار کے دکھاؤ۔

جب سے سابق وزیر اعظم کے شوہرِ نامدار، پاکستان کے سابق صدر قبلہ آصف علی زرداری صاحب کو اسکرین سے آوٹ کیا گیا ہے، یعنی کہ پہلے وہ پھر ان کی ہمشیرہ صاحبہ نیب کی حراست میں لیے گئے ہیں، پیپلز پارٹی کا تو حق بنتا ہے واویلا کرنے کا، ان کے ساتھ پوری اپوزیشن ایک آواز ہوگئی ہے، ظلم ظلم ظلم کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ حالانکہ اعلیٰ درجہ کے سیاست دانوں کے لیے جیل، وہ جیل نہیں جو بیچارے غریبوں کے لیے ہوتی ہے، یہ تو جیل میں جا کر اور زیادہ سکون میں آجاتے ہیں، ہر طرح کا آرام و آسائش، ایک نہیں دو دو خدمت گزار، گھر سے صبح شام نہاری، پائے، بریانی، قومہ اور کیا چاہیے، پھر خود بولنے کی ضرورت نہیں، آخر کو اقتدار میں آکر وزارتیں دیں، کلرک سے سیکریٹری بنادیا، پانچ گریڈ سے ڈائریکٹر بنادیا، ٹھیکے دلوائے تھے، پرمٹ دی دئے تھے، بچوں کو نوکریاں دی تھیں کس دن کے لیے، اسی دن کے لیے جب میری آواز بند ہوجائے، میں میڈیا پر نظر نہ آؤں تو یہ ساری پلاٹون سیاسی ورکروں کا کام ہی یہ ہونا چاہیے کہ بس ہر دم ہر لمحہ میرے گن گاتے رہو، ٹاک شو زمیں جاؤ سوال ایرن کے بارے میں کیا جائے یا توران کے بارے میں تم نے جواب میں میرا قصیدہ پڑھنا ہے اور مخالفین کو بس برا بھلا ہی کہنا ہے۔ ٹی وی ٹاک شو دیکھنے کو دل نہیں کرتا، شیر کا حمایتی شیر کی حمایت ہی کرے گا، تیر یا تلوار کا طرف دار ہوگا تو بس باتوں کے تیر ہی برسائے گا، بیٹ یا بلے باز ہوگا تو وہ ہر بال پر سکس لگانے کی کوشش کرے گا، سب کا مشترکہ عمل یہ ہے کے دوسروں میں کیڑے نکالو، برا بھلا کہو، اپنے لیڈر کو دودھ میں دھلا ثابت کرو۔ یہ ہے آج کل ٹی وی ٹاک شوز کی صورت حال۔

بات شروع کی تھی قبلہ آصف علی زرداری صاحب کی جنہیں جب سے نیب نے گرفتار کیا ہے، ملکی سیاست میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے، برسوں کے دشمنوں نے ہاتھ ملا لیا ہے، ارے بھئی یہ مقدمہ تو تم نے ہی بنایا تھا، اسی کی پاداش میں تو یہ عمل وقوع پذیر ہوا، نہیں صاحب بیس سال پرانی بات کو چھوڑیں، اب کی بات کریں۔ اسمبلیوں یا سینٹ کے اجلاس پر ملک و قوم کا لاکھوں روپیہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے کہ اسمبلی میں صرف اپنی اور اپنے لیڈر کی بات کی جائے، اسمبلیاں اس کام کی رہ گئیں ہیں کہ صرف یہ بات کی جائے کہ چیرٔ مین پروڈکشن آڈر جاری کریں ورنہ اجلاس نہیں چلنے دیا جائے گا۔ ہر کام ہر مسئلہ کا الگ الگ حل ہوتا ہے، اس کے لیے قانونی راستہ نکالیں، اگر چیرٔ مین قانون کے مطابق کام نہیں کررہا تو اس کا بھی قانونی راستہ موجود ہے اسے اختیار کیا جائے نہ کہ یہ کہ شور شرابہ، ہنگامہ آرائی، گالی گلوچ، یہاں تک کہ دھکم پیل، گھونسوں کا تبادلہ۔ بعض کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی دنگل کے نتیجے میں تصادم یعنی سیاسی تصادم ہونے جارہا ہے، ارے بھائی ہونے جا نہیں رہا بلکہ یہ تصادم ہی تو ہے جو ہورہا ہے، اس سے بڑا تصادم اور کیا ہوسکتا ہے، آپ تصادم اُسے کہتے ہیں جس میں بوٹوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، ایسے کوئی حالات کم از کم مجھے دور دور دکھائی نہیں دے رہے، یہ شور شرابا ہوتا رہے گا، یہ وقت بتائے گا کہ بجٹ بہت آرام سے اسی شور شرابے اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی میں پاس ہو جا ئے گا، ویسے تو مہنگائی کابم بجٹ کے اعلان کے ساتھ ہی گر چکا تھا، جوں ہی بجٹ پاس ہوگا مہنگائی اور بڑھ جائے گی، نہ حکومت کچھ کرے گی، نہ اپوزیشن، حکومت کو اپنے کاموں سے فرست نہیں، ملک کی معاشی حالات کی درستگی سے فرست نہیں۔ اپوزیشن کو اب صرف یہ کام رہ گیا کہ ان کے جو لیڈرجیل میں یا حراست میں ہیں ا نہیں آزاد کیسے کرایا جائے، جب بات نہ بنی تو اب اسمبلی سے باہر کے مخالفین کو اپنے ساتھ ملانے کی جدوجہد شروع ہوگی، جنہیں حکومت میں وہ کچھ نہیں مل رہا جس کی انہیں توقع تھی، وہ حکومت سے علیحدہ ہونے کی کوشش میں ہیں۔ ایک اصولی بات ہے، جب شہباز شریف کو اسمبلی بلوا کر حکومت نے اپنے خلاف تقرریں کروائی اور کروارہی ہے تو زرداری صاحب نے کیا قصور کیا ہے، وہ اسمبلی میں آکر کیا کرلیں گے، انہیں بھی آنے دیا جائے، کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں ایک بات ضرور ہے کہ حکومت نے یہ کام کر کے پوری اپوزیشن کو صرف اس بات پر لگا دیا کہ سابق صدر کے پروڈکشن آڈر جاری کیے جائیں۔ اب تو بیچارے نواز شریف کو ان کی پارٹی والے ہی بھولتے جارہے ہیں۔ اب صرف زرداری صاحب موضوع ہیں۔ شہباز شریف، نواز شریف کی کوئی بات ہی نہیں کررہا۔ اس اعتبار سے حکومت کی حکمت عملی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن بیک فٹ پر ہے، کچھ میڈیا، کچھ سوشل میڈیا، کچھ ٹی وی اینکرز، کچھ اخبارات معاملات کو بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتے ہیں، کچھ باتیں عمران خان کے حوالے سے ایسی کہہ دی جاتی ہیں جو اس نے نہیں کہی ہوتیں، اب اس پر لمبی بحث و تکرار شروع ہوجاتی ہے، آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو انہوں نے کہا ہی نہیں۔ اب آج ہی کا بیان شہ سرخی ایک بڑے اخبار کی ’اینٹ کا جواب پتھر سے دیں‘، یہ عمران خان کے نام سے بات کہی گئی، اس سے قبل سہ سرخی لگی کہ ’پروڈکشن آرڈر جاری نہ کریں‘ اب تمام باتوں کو پسِ پشت ڈال کر اپوزیشن اور میڈیا اس بات کو اس قدر اچھا لے گا کہ اللہ کی پناہ۔

اب بجٹ تو پاس ہونا ہی ہے، اگر بجٹ پاس نہ ہوگا تو تصور کریں کہ ملک میں کس خطر ناک قسم کا معاشی بحران جنم لے گا۔ ملک کا پہیہ جام ہوجائے گا۔ سابق ادوار میں بھی حکومتوں کا بہت اچھا حال نہیں رہا لیکن ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے، بجٹ پاس ہوتے رہے ہیں، ہونے چاہیے، اس طرح تو ملک چل ہی نہیں پائے گا، ویسے ہی ملک معاشی طور پر ابتر سے ابتر حالات سے دوچار ہے، اپوزیشن کو سوچنا چاہیے کہ اگر حکومت گرانا چاہتے ہیں، اور اگرحکومت گر بھی گئی تو کیا ہوگا، ہمارے ملک میں یہ روایت ہے کہ جسے آپ ذلیل کرکے ہٹائیں وہ نئے الیکشن کرائے اور حکومت آپ کے حوالے کردے، ہر گز نہیں، یاد رکھیے تیسری قوت کے لیے راستہ ہموار نہ کریں، افہام و تفہیم سے، معاملات کو حل کریں، جہاں احتجاج کی ضرورت ہے وہاں احتجاج کریں، جہاں قانونی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں قانونی راستہ ہی اختیار کریں، حکومت گرانے، تہس نہس کردینے، حکومت گرا کر ہی دم لیں گے، اتنا آسان نہیں جمہوری حکومت کو گرانا، ماضی کی تاریخ یاد رکھیں، جب بھی دو شیر لڑتے ہیں تو تیسرا دونوں کو اندر کر کے خود سارا مال ہڑپ کرجاتا ہے۔ احتساب تو ضروری ہے، وہ ہونا چاہیے، اوپر سے نیچے تک، ہر سطح پر احتساب ضروری ہے، شاید اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کو حساب دینا ہوگا، کسی صدر، کسی وزیر اعظم، کسی وزیر، کو دیکھ لیں، وہ اقتدار سے الگ ہوا تووہ امیر سے امیر تر ہوگیا، اسے پاکستان کی آب و ہوا، پاکستان کی سرزمین اچھی ہی نہیں لگتی وہ سیدھا لندن اور دبئی کی راہ لیتا ہے، دولت اس کے پاس کہا ں سے آئی۔ آخر اس نے ایسا کونسا کاروبار کیا جس سے وہ عرب، کھرب پتی بن گیا۔ قومی ترقیاتی کونسل کا قیام عمل میں آچکا ہے، یہ کمیٹی ملکی معیشت کی بہتری، ترقی اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لیے 13رکنی قومی ترقیاتی کونسل تشکیل دی ہے، سربراہ وزیراعظم ہوں گے جب کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس کے رکن ہوں گے۔ ملک کی ترقی عظیم تر ہونی چاہیے۔ اختلافات برائے اختلاف مناسب نہیں، کڑی تنقید بری بات نہیں، ہونی چاہیے، کی جائے، لیکن قانونی معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے حالات خراب سے خرب تر ہی ہوں گے، دونوں فریقین کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، اقتدار آنی جانی چیز ہے، تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی مثال سامنے ہے، ملک کے صدر اور سابقہ وزیر اعظم کے شوہر آصف علی زرداری کی مثا ل سامنے ہے، مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا انجام ہمارے سامنے ہے، صدام حسین کا کیا انجام ہوا، ہمارے ملک کے بے شمار وزیر اعظم کے انجام سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ عمران خان صاحب آج اقتدار میں ہیں کل نہیں ہوں گے، بڑے بڑے فرعونوں کا غرور تاریخ نے سرنگوں کیا ہے۔ اللہ ہمارے سیاست دانوں خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں کو نیک ہدایت دے۔

(Visited 49 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: