کام چوری اور خواتین‎ : نئی تحقیق —— سمیع کلیا

1

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی دنیا بھر میں مرد ظلم و ستم کا شکار ہیں انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والی تمام تنظیمیں بخوبی آگاہ ہیں بلکہ ان کے پاس مکمل رپورٹس موجود ہیں کہ دنیا کے کس ملک میں مردوں کیساتھ ناروا سلوک یا برتاؤ کیا جاتا ہے اور یہ تنظیمیں اعلیٰ سطح پر احتجاج بھی کرتی ہیں کہ فلاں فلاں ملک میں مردوں کا استحصال کیا جارہا ہے، حکومتوں کو ڈپلومیٹک طریقے سے سرزنش بھی کی جاتی ہے کہ مردوں کے تحفظ کیلئے ٹھوس قوانین بنائے جائیں، ایمنیسٹی انٹر نیشنل اور ہیومن رائٹس کے ادارے دیگر تنظیموں کے توسط سے ترقی پذیر ممالک میں بالخصوص صحت، تعلیم، مردوں اور بچوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے خاصی رقم بھی فراہم کرتے ہیں، اگر آپ ایسا کچھ سوچ رہے ہیں تو غلط سوچ رہے ہیں ۔ تازہ ہوا کا جھونکا یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق کہ نیتجے میں یہ بات سامنے آئ ہے کہ خواتین بلا کی کام چور واقع ہوئی ہیں ۔

ایک تحقیق میں یہ دلچسپ بات سامنےآئی ہے کہ خواتین دفاتر میں بات چیت یا چغل خوری میں زیادہ مصروف رہتی ہیں پاکستان میں یہ اعزاز لیکچرر خواتین (یقینا سب نہیں) کو حاصل ہے۔ مجال ہے کہ بچوں کو پڑھا جائیں دیر سے کالج آنا ٹائم سے پہلے جانا تو روزمرّہ کا معمول ہے ۔اس بات کا میں خود چشم دید گواہ ہوں کہ جب میں گورنمنٹ دیال سنگھ کالج میں لیکچرر تھا تو یہ نظارے روز دیکھنے کو ملتے کہ بچے کلاس میں بیٹھے ہیں اور اردو والی میم صاحبہ غائب ہیں ۔

شعبہ اردو کی خواتین (مستثیات اپنی جگہہ) کو تو اس بات میں خاص ملکہ حاصل ہے کہ ٹائم کیسے پاس کرنا ہے ۔یہاں پر خدانخواستہ لیکچرر خواتین کی تضحیک مقصود نہیں مگر یہ بات سچ ہے کہ %70 خواتین بچوں کو نہیں پڑھاتی، میں نے جب ایک لیکچرر خاتون سے پوچھا کے لاہور میں اتنے گرلز کالج ہونے کے باوجود آپ نے دیال سنگھ بوائز کالج میں ہی کیوں پوسٹنگ کروائی تو اس نے مسکرا کر کہا یہاں پڑھانا نہیں پڑتا۔ میں نے وضاحت مانگی تو فرمانے لگیں کہ وہاں کون خاتون پرنسپل کی چخ چخ بک بک سنے یہاں موج ہے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔

دفاتر میں عورتوں کے مقابلے میں مرد زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں اور ہر 10 منٹ میں خواتین کم از کم 4 منٹ جب کہ مرد 8 منٹ کام کرتے ہیں۔ اس سے برسوں پرانا یہ تصور دم توڑ گیا ہے کہ مرد اپنا زیادہ وقت بات چیت کرتے ہوئے یا دفتر کے کاموں پر توجہ نہ دے کر گزارتے ہیں۔ تحقیق کے دوران دفاتر میں مصروف افراد کو گھومنے کا موقع دیا گیا تو صرف 38 فیصد مردوں نے ایسا کرنا پسند کیا جب کہ خواتین کی 52 فیصد اکثریت نے چہل قدمی سے لطف اٹھایا۔ دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہےکہ اگر آس پاس کوئی خوبصورت مرد ہو تو خواتین کی دفتری کام پر رہی سہی توجہ بھی ختم ہوجاتی ہے۔

حال ہی میں جرمنی کے ایئرو اسپیس سینٹراور امریکی خلائی ادارے ناسا ایک تحقیق کے سلسلے میں جب کام چور اور سست افراد کو منتخب کرنا چاہا تو یہ قرعہ بھی خواتین کے حق میں نکلا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ جرمنی کے ایئرو اسپیس سینٹر نے امریکی خلائی ادارے ناسا کے اشتراک سے انوکھی نوکری کی پیشکش کی ہے جہاں نوکری پانے والوں کو 60روز کیلئے بیڈ پر آرام کرنا ہوگا۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ پیسہ تجربات کے سلسلے میں لٹایا جا رہا ہے جس میں انسانی جسم پر کشش ثقل کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ نوکری حاصل کرنے کیلئے صرف 24سے 55سال تک کی عمر کی خواتین اہل ہیں۔

اس بات میں کوئی دو راۓ نہیں کہ معیشت کی ترقی میں 70 فیصد کردار عورتوں کا ہے اگر آج سے تمام عورتیں یہ ارادہ کر کر لیں کہ وہ اپنی تمام صلاحیتیں ملکی ترقی کے لیے استمعال کریں گی تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان دن چگنی اور رات دگنی ترقی کر سکتا ہے;)

(Visited 398 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: