داستان زیست: اسلام آباد، مابعد — قسط 3 —– محمد خان قلندر

0

پیش لفظ
بندہ چکوال کا چوہدری ہو بھلے سولہ جماعت پاس ہو اس کی لکھائی پڑھائی میں گڑبڑ خواہ مخواہ ہو جاتی ہے داستان زیست لکھنے کا خیال آیا تو قدرتی ترتیب کو چھوڑ کے درمیان سے کہانی لکھی شروع کر دی۔ اصلاح احوال رُوداد کے لئے ضروری گزارشات پیش خدمت ہیں تاکہ بیان میں ادوار کے ساتھ تسلسل قائم ہو۔

ہمارے جد امجد چوہدری گدا بیگ جیّد بزرگ تھے چکوال کی ایک قدیمی مسجد۔ پکی مسیت انہوں نے تعمیر کی تھی ان کو ایک روحانی ہستی نے بشارت دی کہ اولاد لاتعداد ہو گی۔ چار بیٹے تھے اب جن کی اولاد چہار پتی ہے شہر کے علاوہ کوٹ روپوال۔ میرا تھرچک۔ بھون مرید۔ گھُگ لطیفوال۔ جوند دمال۔ سرکال مائر۔ جوا مائر۔ میاں مائر اور دیگر گاؤں میں بسنے والے مائر منہاس راجپوت ان پیر صاحب کی پشین گوئ سچ ہونے کا ثبوت ہیں۔
ہماری پیدائش تقسیم ہند کے بعد 1950 میں ہوئ دھدیال کا پہلا پوتا ہونے پر نام محمد امیر خان تجویز ہوا اسکے مقابل ننھیال نے پہلا نواسہ ہونے کے ناطے محمد علی خان رکھا۔ تاریخ پیدائش میں بھی اپریل اور اکتوبر پر اختلاف ہے۔ یہاں بھی ایک بزرگ شاہ صاحب نے محمد خان پر اتفاق کرایا۔ اس کی مصلحت اب عیاں ہوئ کہ قبیلے میں جہاں میجر۔ کرنل۔ بریگیڈیر اور جنرل گنے نہی جا سکتے ان میں درجنوں محمدخان ہیں جب کے علم و ادب کے حصے میں ایک محمدخان کرنل مصنف بجنگ آمد ہی گزرے۔ اب یہ انشا پردازی ہمارے ذمہ پڑ گئی ہے۔
قدرت نے اس کام سے عہدہ برآ ہونے کے اسباب بنائے خاندانی روایات کے برخلاف میٹرک میں سکول میں اوّل آنے کی وجہ سے کالج داخل ہونا پڑا۔ حالانکہ اس وقت ہم نیم خود مختار کاشتکار اور اس وقت کی معروف ٹرانسپورٹ بیل گاڑی کے مالک تھے جس پے ہم نے کالج میں پڑھائ کے ساتھ جملہ تعمیرات کے لئے اینٹ، گارے کی مٹی اور ریت کی سپلائی جاری رکھی۔

ایف اے کے نتائج میں آرٹس گروپ میں ٹاپ کرنے کی سزا ہیلی کالج آف کامرس لاہور میں چار سال پڑھنا ٹھہری۔ فوج نے ہمیں کمشن نہیں دیا تھا تو ہم فوجی فونڈیشن میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گئے۔مطلب انج تے وت انجی سہی۔
ہیڈ آفس میں شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی اکاؤٹنگ سیکھی تو فان گیس میں اکاؤنٹ افسر بن گئے۔ سات سال سے زائد ریٹائرڈ فوجی افسران اور سویلین فنانس والوں کے زیر تربیت رہے، یہ عرصہ قیام لالکرتی میں خادم حسین روڈ پر رہا۔
بچپن میں ہمیں ایک تائی۔دو پھپیوں۔ دو چاچیوں۔ چار ممانیوں۔ دادی نانی کے علاوہ دو درجن سے زائد رشتے کی ماسیوں مامیوں چاچیوں کے ساتھ چھ عدد نانی اماؤں نے پالا۔ ان سب سے دن میں کسی نہ کسی طرح پالا رہتا۔

پانچویں اور آٹھویں جماعت میں وظیفہ کا امتحان دینے سے خوش خطی اور یاداشت اچھی ہونے کی پاداش میں ہر خوشی غمی کے فنکشن پر فہرست مدعوین مرتب کرنا بھی ہمارے ذمہ تھا یہ ڈیوٹی کرتے ہمیں برادری کے چار پانچ سو گھروں کے افراد خانہ کی تعداد ازبر ہو گئی۔
اب محلہ کی بزرگ خواتین کی شفقت بونس تھی، ایک نانی شہراں کی مثال لیں جو جملہ زنانہ امراض۔ حمل کے دوران دیکھ بھال اور تولید کے سب مراحل کی دیسی ایکسپرٹ تھی۔ ان کو پنسار کی دکان سے اجزا نسخہ لا کے دینا فرض تھا، مریضہ تک دوائ پہنچانا اسے ترکیب استعمال بتاتے ہم بھی نیم دائی بن گئے تھے۔

اتنی خواتین سے میل جول، بے تکلفی، کا فطری اثر ہے کہ ہم خواتین میں باقی ہم عمر لڑکوں سے زیادہ مانوس اور معشوق رہے تھے۔ جوانی۔ کالج میں کو ایجوکیشن نے مزید رنگ چڑھا دیئے۔ ہماری داستان میں خواتین کی موجودگی ہماری بچپن کی زنانہ تربیت کی غماز ہے یہ کوئی شو بازی نہیں !!۔
یہ بھی خوش نصیبی ہماری تھی کہ علاقے کے بڑے بزرگ مشہور پیر۔داندی۔شہسوار۔ذاکر۔مولوی اور دیگر نامور ہستیاں ہمارے نانا دادا کے دوست اور انکے ڈیروں پے ملاقات و قیام کے لئے آتے ہمیں سب کے نیاز حاصل رہے۔ والد صاحب مرحوم کی شہرت کا یہ حال تھا کہ چکوال میں تحصیل کے سامنے انکی بیٹھک دن بھر بھری رہتی۔ چچا جان علاقے میں ڈنگروں کے ڈاکٹر مشہور تھے۔ کسی سکول میں نہی پڑھا تھا لیکن ان کے ہاتھ میں شفا تھی، ان کا جنازہ شائد چکوال میں سب سے بڑا ہوا تھا۔

اب سوچنے کی بات ہے جس بندے کو اتنی شفقت محبت تربیت تعلیم و عرفان بزرگوں سے ورثے میں ملا ہو اس کے سر پے کتنی بھاری ذمہ داری ہو گی کہ اس کے مطابق زندگی گزارے چاہے کراہ۔ بیل دوڑ کرانی ہو۔ مجرا سننا ہو۔ شادی بیاہ کی تقریب ہو عرس اور میلہ ہو موت وفات ہو۔ ہر پہلو زندگانی میں پرفارمنس دینا واجب ہے۔
ہم اتنے لدے پھندے پنڈی سے اسلام آباد شفٹ ہوئے۔ آٹھ سال سفارت خانے میں رہے، 
پھر واپس اپنے پروفیشن میں لوٹ آئے۔ اِنکم ٹیکس کی وکالت تیس سال کی۔ چار سال قبل بچوں کے حوالے کر دی۔ وقت گزاری کے لئے فیس بک پے آ بیٹھے۔ اسلام آباد میں گھر ہے رہائش ہے۔ فراغت ہے۔
یہ داستان زندگی اسلام آباد میں کیسے گزاری کی ہے۔ کیا دیکھا۔ ایوان اقتدار سے کیا پایا۔ بہت کچھ ہے بتانے کو بھی اور چھپانے کو بھی۔ محبتیں ہیں پیار ہے ایڈونچر ہیں کچھ پنہاں راز ہیں۔
مالک کا شکر ہے اس نے بہترین زندگی عطا کی۔ حج عمرے زیارات۔ بھرپور دنیاداری بھی۔ ساتھ لکھنے کا ہنر بھی عطا فرمایا۔

امید ہے اب ہماری قسط وار کتھا پڑھتے ہمارے محترم قارئین خود کو ہمارے قدم بقدم ساتھ پائیں گے۔ یہ گزارش بھی کرنی لازم ہے کہ ہم تو کہانی بھی سچی قلمبند کرتے ہیں۔ ہاں کچھ نام اخفا ہوتے ہیں تھوڑی سی زیب داستاں کے لئے منظر نگاری ضرور ہوتی ہے باقی چھپانے کو ہے کیا۔؟؟
انسان اگر توفیق ہو تو کسی بھی مشکل ترین نازک اور حساس پہلو پے گفتگو کر سکتا ہے۔ بس تصور مستحکم ہو، الفاظ و تراکیب پر قابو ہو سب سے بڑھ کے جن سے خطاب ہے ان سے جذباتی لگاؤ رکھتا ہو۔ محبت امرت ہے اسے لفظوں میں گھول کے پلانا ہم عبادت سمجھتے ہیں۔ پیار سے لبریز دعا کو قبولیت کا شرف ملتا ہے، پیار کیجئے پیار بانٹیے۔ وقت زود رفتار ہے۔
آج ستر سال بس یہ تحریر لکھتے ستر منٹ میں گزر گئے۔

امابعد
فیس بک پے جاری یُدھ مابین عزیزان سے چکوال کے مشہور ملک صاحب یاد آ گئے۔ مرحوم کویت سے دولت کما کے لائے تھے۔اسلام آباد میں پوش ترین سیکٹر میں گھر خریدا۔ بلیو ایریا میں پلازہ بنا کے بیچا۔ ہر بیٹے کو گھر خرید کے دیا، صدر پاکستان کا الیکشن لڑا اور ایک ووٹ لیا۔ صدر تو نہ بن سکے میڈیا کے قابو چڑھ گئے۔ مالدار اسامی تھے روز کوئی اخباری۔کیمرہ اور جوان رپورٹر خاتون کے ساتھ انٹرویو لینے پہنچ جاتا۔ ملک صاحب کے پاس کہانی تو ایک ہی تھی سب کو وہی سنا دیتے۔ ایک دن دو چینل کے نمائندے آپس میں لڑ پڑے۔ ملک صاحب تو ملک تھے، تصاویر بنانے کے لئے پہنا کوٹ اتارا، قمیض کے بازو اڑسے، بوٹ اتار کے دونوں کو پیٹ ڈالا۔ اشارہ کافی ہے۔

دعا گو چوہدری محمدخان۔قلندر


گذشتہ سے پیوستہ: اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ دیکھیئے

سفیر صاحب کی رہائش گاہ پر سفارت کاروں کی بیگمات کی پارٹی ہمارا پہلا فارمل فنکشن تھا۔ زہنی ہیجان اور ایکسائیٹمنٹ بہت زیادہ تھی۔ آبپارہ سے واپسی پے دوبارہ ہوٹل رُکے۔ عقبی گیٹ پر پورا کانوائے تیار تھا، ایک ٹرک میں سفید غلاف والی کرسیاں اور میزیں دوسرے میں دیگر سامان۔ ویگن میں درجن بھر بیرے حسن انکو لیڈ کرتے روانہ ہوئے تو اسے تاکید کی کہ دھیان رکھنا ہے کوئ گڑبڑ نہی ہونی چاہیئے۔ ساتھ ریکوسٹ کی میری حاضری لگوا دے، کچھ دیر میں پہنچوں گا۔

ہوٹل کے مردانہ بیوٹی پارلر سے تیار ہوکے جب وہاں پہنچے تو ہمارے تینوں سفارت کاروں کی بیگمات اور لیڈی سیکرٹری موجود تھیں۔
اسلام آباد میں زیرو پؤانٹ سے آئیں تو آبپارہ تک مین پاور انسٹیٹیوٹ۔ فائر بریگیڈ، سی ڈے اے آفس۔ آئ ایس آئ کے دفتر سے آگے کار شو روم اور کمرشل بلڈنگ تھیں۔ آبپارہ مارکیٹ کے سامنے بس ویگن اڈہ سرکاری کوارٹرز کے ساتھ بائیں مڑتے ایمبیسی روڈ شروع ہوتی بازار روڈ پر چار اور باقی مارگلہ روڈ تک اکثر گھروں میں چانسری آفس تھے۔ مارگلہ روڈ پر اور اس سے ملحق سٹریٹ نمبر ون میں اکثر گھروں میں سفارت کار مقیم تھے، ہماری ایمبیسی کے پاس شہر زاد ہوٹل کے سابقہ مالک کی محل نما کوٹھی تھی، سیمی بیسمنٹ سمیت سہ منزلہ شاندار عمارت۔ گراؤنڈ فلور پر بڑے ڈرائینگ روم کے ساتھ ریسپشن ہال اور اور دو لاؤئنج ملحق تھے، فولڈنگ ڈور کھولنے سے پچاس لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بن جاتی۔ فرنیچر تو سارا سپیشل بنوایا گیا تھا۔

بوفے ڈنر کا بندوبست لان میں تھا۔ سفارتی آداب میں وقت کی پابندی کی جاتی ہے۔ آٹھ بجے تک مہمان خواتین حال میں براجمان ہو چکی تھیں۔ میزبانی بیگم سفیر اور ہمارے افسروں کی بیگمات نے کی، ڈرنکس کی ٹرالیاں گردش میں رہئیں
جب کھانا شروع ہوا تو سفیر صاحب کے ساتھ ہم بھی دوسری منزل پے ٹی وی لاؤنج میں جا بیٹھے جہاں سے پورا لان کا منظر سامنے تھا
مدعوین میں اکثریت مڈل ایسٹ کی تھی لیکن خواتین کا اتنا گریس فل اور رکھ رکھاؤ والا اکٹھ ہم نے نہی دیکھا تھا، تعداد پچاس کے قریب تھی۔ متنوع لباس اور گٹ اپ کے ساتھ باہم ربط میں ایک ہم آہنگی تھی

کہتے ہیں انسان کی جبلت پے اسکی جینیاتی وراثت۔ نسل۔ تعلیم۔ روایات سے زیادہ ماحول کا اثر ہوتا ہے۔ ہمارے لئے یہ ایسے تھا جیسے پرائمری سکول کے لوہے کی سلاخوں والے دروازے کے اندر رہنے۔ تختی سلیٹ قاعدے اور قلم دوات چوکور کپڑے میں باندھنے سے نکل کے ہائ سکول کے جہازی سائز کے حال۔ بڑے کھلے گیٹ، چرمی بیگ۔ جلدی کتابیں اور کاپیاں لئے ٹاٹ سے اٹھ کے بنچز پے بیٹھنا تھا۔
اس شام اچانک یہ محسوس ہوا کہ سفارتی حلقوں میں رہنا عام دفاتر سے کتنا مختلف ہے۔ سفیر صاحب کے ٹی وی لاؤنج میں انکے ساتھ گزرے ایک ڈیڑھ گھنٹے نے ہمیں پنڈی کے عام ماحول سے اسلام آباد کے دارالحکومت والے ماحول کے اندر سمو لیا۔

ہمارے بارے میں سفیر صاحب کا تاثر معلوماتی تھا یا مردم شناسی کے تجربہ کا مرہون۔ لیکن انہوں نے رموز زندگی سے بہت غیر محسوس انداز میں آگاہی دی۔ انکے ذاتی ملازم نے سنٹر ٹیبل پے اسکاچ کی بوتل گلاس اور آئس باکس سجا دیئے۔ دوسری میز پے فروٹ کٹلری اور پلیٹیں رکھیں۔ چھوٹی میز پر ڈرائ فروٹ کی ٹرے پڑی تھی۔ وہ کمرے سے چلا گیا تو بوتل کھول کے مجھے پکڑاتے فرمایا پیگ بناؤ۔ میں نے سکاچ گلاس میں ڈالی برف کی دو دو ڈلیاں ڈال کے پانی سے گلاس بھر دیئے۔ گلاس انکو پیش کیا تو ہلکا سا قہقہہ مار کے بولے، you need to learn a lot.
دوسرا پیگ انہوں نے خود بنایا تو مجھے اپنی کوتاہی کی سمجھ آ گئی۔

دفتری امور پے بات ہونے لگی تو کہنے لگے۔ دیکھو میں اپنی آفیشل لائف۔ فیملی لائف اور پرسنل لائف کو بلکل جدا جدا رکھتا ہوں۔ سرکاری کام کرتے کسی گرل فرینڈ سے کسی صورت کوئ رابطہ نہیں ہوتا۔ مجھے فرحی کے دفتر آنے کا اشارہ مل گیا۔ فرمانے لگے میری وائف اپنے ملک میں رہتی ہیں بچے وہاں پڑھتے ہیں۔ ایک دو ماہ بعد یہاں آتی ہیں، بچے چھٹیاں گزارنے آ جاتے ہیں۔ یہ پارٹی ان کی یہاں کے فنکشنز میں عدم حاضری کی تلافی ہے۔
But even if she is not here I don’t have any extra matrimonial activities here
مجھے یوں لگا ایک بزرگ اپنے عزیز کو یا کوئ سینیئر اپنے جونیئر کو اپنا علم اور تجربہ منتقل کر رہا ہے۔ بڑے سرسری انداز میں کہنے لگے تمہارے دوست ہیں فارن آفس میں، پی ایم ہاؤس میں اور پریزیڈنٹ ہاؤس میں۔ جب چاہو انہیں ملنے جاؤ۔ بے شک ایمبیسی کی گاڑی پے بلکہ اسی پے جایا کرو بس میرے علم میں ہونا چاہیئے، ایمبیسی میں اور لوگ ہیں وہ شکایت کریں تو میں انہیں شٹ اپ کر دوں۔ پھر فردا” فردا” لوکل سٹاف بارے تبادلہ خیال ہوا۔ وہ ہر ایک کے خصائل سے واقف تھے۔

ایمبیسی کے کار فلیٹ پر تفصیلی بات ہوئ نئی کاریں منگوانے پر اپنے فارن آفس سے منظوری لینے کا حکم بھی مل گیا، نیچے لان میں لیڈیز کھانا کھا چکی تھیں سویٹ ڈِش کا راؤنڈ چل رہا تھا۔
حسن کی سمارٹ مُوو یہ تھی کہ سائیڈ لان میں دو میز لگا کے ڈرائیورز کو بھی کھانا کھلا دیا، کچھ خواتین قہوہ کی پیالی اور کچھ ڈرنک پکڑے واپس حال کی طرف آنے لگیں۔
سفیر صاحب نے ٹرے سے الائچی کا ساشے لیا دو تین منہ میں ڈالیں۔ ساشے مجھے دیا۔ واش روم کے سامنے مرر میں دیکھا۔ قندورا سیٹ کیا۔ سر پے اپنا قومی رومال باندھا۔ اور ہم ریسپشن کے سامنے ڈرائیو وے پر کھڑے تھے
بیگم صاحبہ اور اپنی ایمبیسی کی خواتین نے لائن سی بنائ۔ ہم چار قدم پیچھے ہٹ کے پیٹ پے ہاتھ باندھے مؤدبانہ
کھڑے ہو گئے۔ مہمان رخصت ہونے لگے۔ اس روا روی میں ہماری کولیگ لیڈی سیکرٹری بھی کہیں کھسک گئی
ہم سفیر صاحب کے ہمراہ لان کی طرف آئے، حسن کے لوگ سامان سمیٹ چکے تھے
سفیر صاحب نے حسن کو شاباش کہی۔ میں نے اسکے ورکرز کو دو سو روپے فی کس ٹپ بانٹ دی۔ اجازت طلب کی۔ بیگم صاحبہ کو سلام کیا، انہوں نے پرٹوکول سے شکریہ ادا کیا،

سفیر صاحب اپنے ملازم کو کچھ ہدایت دے رہے تھے۔ متوجہ ہوئے تو سیلوٹ مارا۔ انہوں نے کاندھے پر ہاتھ رکھ کے اپنی بیگم سے کہا۔ He is your brother , now if you need to get anything don’t call me ask him,,,,
ہم نے دوبارہ بیگم صاحبہ کو سلام کیا۔ اجازت لی۔ سڑک پے اپنی کار پاس آئے تو ملازم ایک پیکٹ میں کھانا اور دوسرے ہاتھ میں اسکاچ کی بوتل پکڑے آ گیا۔ وہ اس نے فرنٹ سیٹ پے جما کے رکھا ڈور بند کرتے بولا
صاحب آپ پنڈی جاؤ گے۔ میں نے کہا۔ چلنا ہے؟
بولا رک جائیں بوتل پیک کر دیتا ہوں آج کل تو پتہ نہی یہاں ایمبیسی سے جانے والے کو کون کون چیک کرتا ہے
پنڈی واپس جاتے ہم مسرور موڈ میں تھے۔ چانسری میں ہماری لوکل سٹاف میں ٹاپ پوزیشن اور دیگر معاملات میں سفیر صاحب کے معتمد کا رتبہ مستند ہو گیا۔ حسن کے ہوٹل میں نیشنل ڈے کا فنکشن پکا ہو گیا۔ تب تک ہم وہاں معزز مہمان بن کر کھانا۔ چائے کافی فری یا کمپلمنٹری کھانے پینے کے حقدار بن گئے۔ پبلک ریلیشن بھی آرٹ ہے ناں !
سب سے بڑھ کر اب اسلام آباد میں بغیر ڈرائیور سی ڈی نمبر پلیٹ کی مرسیڈیز کار چلانے کی اجازت مل گئی۔
صبح ناشتے کے لئے سامان لینے کمرشل مارکیٹ گئے، بیکری کے سامنے کار پارک کی تو میڈیم فرحی نکل رہی تھی۔ سلام کیا۔ حیرانی سے پوچھا اتنی صبح مارکیٹ اکیلی کیسے؟
اس نے اشارے سے بتایا کہ سامنے سڑک پار دوسری سٹریٹ میں کونے والا کوارٹر ہمارا ہے !
جلدی سے جاب کا پوچھ لیا۔ بہت خوشگوار موڈ میں بولی، ، ، آپ نے تو اعجاز صاحب سے بات نہی کی ناں !
میں آپ کی طرف سے آج جا کے پیغام دے دوں گی کہ فون نہی بلکہ ان سے ملنے آؤ گے، ہوٹل کے جی ایم نے بھی سفارش کی۔ میں آج جائن کر لوں گھر چلو گھر ناشتہ کھا کے جانا۔ باجی سے بھی مل لو۔
ہم نے لجا کے معذرت کی۔ آفس کا ایڈریس سمجھا۔ شو لگائ کہ سرکاری مرسیڈیز پے آؤں گا۔ بائے بائے کرتےکہنے لگی۔ انتظار کروں گی، دامن کوہ جائیں گے۔

اس سلسلہ کا اگلا مضمون اس لنک پہ پڑھیئے

(Visited 175 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: