رابعہ بصری —— صائمہ نسیم بانو

0

اے خلیجِ فارس!
کیا تم القرنہ کے مقام پر دجلہ اور فرات کا ارتباط دیکھتی ہو؟ ہاں یہ وہی حجلۂ وصل ہے کہ جہاں ان دو کے باہمی اختلاط پر ایک تبارک اور کبیر دریا شط العرب جنم لیتا ہے۔

وہی شط العرب جو جلیل القدر بصرہ کی قدم بوسی کرتے ہوئے تیری آغوش میں گرتا ہے۔ جو اپنے بہاؤ و سیلان میں ایسا بالتمام، یکسو اور سرشار ہے کہ بیکراں و بیتاب سا تسلیم کے دائروں میں محوِ طواف رہتا ہے تاآنکہ یہ اپنے جزوی وجود کو باتمکنت و پُر شوکت بحرِ ہند کے کُل پھیلاؤ میں ضم کردے۔۔۔

شاہد ہے آبنائے ہرمز کہ روزِ نو کے اکیسویں دن جونہی بارانِ نیساں کا ہُن برستا ہے تیرا آبِ پرتاب, خمارِ شوق سے مدہوش ہو کر دوانہ وار بحرِ ہند کی قدم بوسی کو روانہ ہوتا ہے۔
سنو! اے خلیجِ فارس کیا تم دیکھتی ہو کہ تمہارے آبِ پرتاب کے جوار بھاٹوں نے آبادان، خرم شہر، ام قصر اور متبارک بصرہ کے ساحلوں پر ان گنت سیپیاں اچھال پھینکی ہیں, اور یہ تمام سیپیاں قطرۂ نیساں کی آس لگائے اپنی اپنی کوکھ کا منہ کھولے ہمک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔

آہ! قطرہُ نیساں! تُو تو اک جوہرِ کمیاب ہے, تری رضا و نگہ, ہر سیپ کا بخت کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔بے نظیر ہیں وہ سیپیاں جو تیرا امرت، تیرا آبِ حیات نوشِ جاں کر پائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں! انہی حیات مند اور حیا پرور سیپیوں نے تہہِ آب رہ کر اپنے رحمِ مادر میں کچھ گوہرِ نایاب سینچے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لولوئے آبدار, پر جلال ہیں, صاحبِ جمال ہیں, یہ اپنے حسن و حیا میں یکتا و یگانہ ہیں۔

سنو! اے خلیج فارس کیا تم جانتی ہو کہ ان جمیل لولوئے آبدار کی ہمشکل و ہمعصر حورالعین باغِ عدن کی شاہزادیاں ہیں وہ کہ جنہیں ربِ جمیل نے کہا کہ

“وحُورٌ عِينٌ كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ_”

انہی شاہزادیوں میں ایک شاہزادی, معمورہُ ہستی کے نقطئہ نور, متبارک بصرہ کی بیٹی ہے, وہ درویشِ خدا مست کوئی اور نہیں میری روحانی ماں رابعہ بصری ہیں۔ وہ ایک ایسا جمیل گوہرِ آبدار ہیں جو اپنی فقیدالنظیر حیا و حسنِ بے مثل میں فرید الدہر، بے عدیل اور لاجواب ہیں۔۔۔۔
اے میرے ربِ کریم اے میرے ربِ رحیم
انہیں سلام کرنے والوں کا سلام پہنچے۔۔۔۔

(Visited 116 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: