زمینی خوشیوں کا متلاشی: ڈاکٹر انور سجاد —— محمد حمید شاہد

0

سپین کے دارالحکومت میڈ رڈ کے لگ بھگ وسط میں سپینش نیشنل آرٹ میوزیم ”پراڈو” واقع ہے۔ اس میں موجود یورپی دنیا کے عظیم اور قیمتی فن پارے آرٹ سے محبت کرنے والوں کو اپنی جانب کھینچتے رہتے ہیں۔ اسی میوزیم میں ڈچ مصور ہائر نیمس بوش (Hieronymus Bosch) کا ایک شاہکار ،(The Garden of Earthly Delights) ’’زمینی خوشیوں کا باغ‘‘ بھی ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہے۔ دو چھوٹے اور ایک بڑے، تین پینلوں پر مشتمل یہ فن پارہ اپنے اندر اِتنا کچھ سمیٹے ہوئے ہے کہ مہینوں اس کے سامنے کھڑے ہو کراس میں موجود باریک اور جادوئی کام کو معنی پہناتے چلے جائیں، تب بھی اس کی تفہیم مکمل نہ ہو پائے گی۔ 87 X77انچ کے وسطی پینل پر دونوں بغلی پینلوں کو وسطی حصے پر اوندھا کریوں جوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی پشت پر بنا ہوا کام بھی مکمل صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ وہاں ایک گلوب ہے جس میں دنیا کی تخلیق کا تیسرا دِن دِکھایا جارہا ہے۔ یہی وہ فن پارہ ہے جس کے وسیلے سے میں ڈاکٹر انور سجاد کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھاکہ جب اُن کا ناول ’’خوشیوں کا باغ‘‘ آیا تو پہلے پہل اس کتاب کے نام نے توجہ کھینچی تھی۔ میں نے اسے حاصل کیا تو اُس کی پیشکش کے انداز سے متاثر ہوا۔ لگ بھگ ہر صفحے پر اوپر کی جانب ایک مضبوط ہاتھ کی گرفت میں ایک کمزور سا ہاتھ تھا جس کی انگلیاں تکلیف کی شدت کو سہہ لینے کے لیے اندر کی طرف موڑ لی گئی تھیں۔ کتاب کے عین آغاز میں، جہاں ’’پہلا لفظ ‘‘کا عنوان قائم کرکے صرف تین جملوں کی مختصر عبارت ٹکڑوں میں بانٹ کر ایک نظم کی صورت دس سطروں میں ترتیب دے لی گئی تھی، اس کے نیچے ایک عورت کا اسکیچ تھا۔ عورت کا منہ آسمان کی طرف اُٹھا ہوا تھا اور ایک چیخ اُس کے حلقوم کو چیرتی ہوئی نکل رہی تھی۔ جی چاہتا ہے، اس چیخ ہو جانے والی عبارت کو یہاں مقتبس کردوں:

’’ میں یہاں ایک ہوں۔
اگر خواہشوں، خیالوں اور لفظوں کو،
ٓآواز سے روشناس کرانا
خطرناک ہے
تو باہر سارا ہجوم، سارا شہر، سارا ملک، ساری کائنات
خطرناک ہے۔
اُنہوں نے اپنے مقدر پر لگی
جبر و استبداد کی مہریں
توڑ ڈالی ہیں۔‘‘

وہ ناول جو اپنی تیکنیک اور زبان کے شعری بہائو کی وجہ سے بالکل مختلف ہو گیا تھا، اس کے آغاز میں ہم ہائر نیمس بوش سے متعارف ہوتے ہیں اور اس کے معروف فن پارے ’’زمینی خوشیوں کے باغ‘‘ سے بھی۔ ڈاکٹر انور سجاد نے اپنے ناول کا نام ’’خوشیوں کا باغ‘‘ نہ صرف اس فن پارے سے لیا، کہانی کی تحریک بھی وہیں سے پائی تھی۔ 1981 میں چھپنے والے اس ناول میں مذہبی بربریت، عسکری اور ریاستی تشدد اور تیسری دنیا کے پس ماندہ سماج میں بے بسی کی تصویر ہو جانے والے ’’میں‘‘ کے کردار سے کہانی متشکل کی گئی ہے۔ جی، ایک ایسا کردار جو مادی آسائشوں پر دستر س رکھتے ہوئے بھی گھٹن کا شکار ہے۔ اس کی روح بے چین ہے اور اس کی ذات ایک شدید اکلاپے کا عذاب سہنے پر مجبور ہے۔

’’ جب سب ٹھیک ٹھاک ہے، جب میری زندگی میں مکمل طور پر رچائو ہے تو پھر میرے جسم میں چیونٹیاں کیوں رینگتی ہیں؟ مجھے ان کی سرسراہٹ صاف سنائی دیتی ہے۔‘‘ (خوشیوں کا باغ)

ڈاکٹر انور سجاد کے ایک اور ناول ’’جنم روپ‘‘ کا بھی یہاں ذِکر ہونا چاہیے، جس میںایک عورت مرکزی کردار ہو کر مردانہ سماج میں اس گھٹن کو نشان زد کر رہی ہے جو اُس کا جیون دوبھر کر رہی ہے :

’’عورت اگر مرد کے ساتھ قانونی طور پر منسلک نہ ہو تو اس کا کوئی بھرم نہیں ہوتا۔۔۔ سوچتی ہوں،انسانی کلچر دراصل مرد ہی کا کلچر ہے۔ عورت کا اگر کوئی کلچر ہے تو ذیلی طفیلی کلچر[ہے]۔ ’’ جنم روپ‘‘

انور سجاد کا کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے علامت اور تجرید کے وسیلوں کو برت کر اُردو افسانے میں بالکل الگ رجحان کی صورت گری کی۔ تاہم یہ بھی صورت واقعہ ہے کہ وہ علامت اور تجرید کی جانب ایک روشن صبح جست لگا کر نہیں پہنچ گئے تھے اُن کے افسانوں کے مجموعوں’’ پہلی کہانیاں‘‘، ’’ چوراہا‘‘، ’’استعارے‘‘ اور ’’آج‘‘ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے تخلیقی تجربات سے وابستہ رہ کر اس راہ پر آئے تھے۔ انور سجاد نے کہیں لکھا تھا کہ اُن کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی حقیقتوں کے ادراک کی کوشش میں، نئی صورت حال کے توسل سے رواں زندگی کے بارے میں اپنی فہم اور نقطہ نظر اور ہیئت کے درمیان جمالیاتی اعتبار سے ایک جدلیاتی توازن قائم ہو جائے۔ یہ توازن جہاں جہاں قائم ہوا ہے انور سجاد کے افسانے نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔

انور سجاد کے افسانے کے سب سے بڑے معترف شمس الرحمن فاروقی رہے ہیں۔ اُنہوں نے ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں یہ جو کہہ رکھا ہے کہ انور سجاد اپنے کرداروں کو جسمانی یا ذہنی کیفیات کے ذریعے اسطوری فضا سے متعلق کر دیتے ہیں تو یہ بھی ایسی بات نہیں ہے جسے لائق اعتنا نہ سمجھا جائے۔ مثلاً ان کا افسانہ دیکھئے ’’پرومیتھیس‘‘، یا پھر ’’سنڈریلا‘‘ کو دیکھ لیں، اسی طرح ایک افسانہ ہے’’ پتھر لہو کتا‘‘ یا پھر ’’کیکر‘‘ ان سب افسانوں میں اسطوری تجسیم ہوتی ہے۔ روح عصر کو گرفت میں لینے کے لیے انہوں نے ہر ممکن وسیلہ اِستعمال کیا اور اِسی سے اپنے افسانے کی الگ دھج بنا ئی۔ روح عصر کا ذِکر ہوا تو میرا دھیان اُن کے افسانے ’’سیاہ رات‘‘ کی طرف ہو گیا ہے۔ اسی افسانے سے ایک ٹکڑا یہاں دے رہا ہوں:

’’تو ہوتا یوں ہے کہ جب لوگ اپنی کنواریوں کے بدن سے پھوٹتی چاندنی، اپنے پراسرارپانیوں کا نیل، اپنی زمین کی سوندھی باس، پھولوں کی قوسِ قزح کو رہن رکھنے سے انکار کر دیتے ہیں تو سات سمندر پار کے اِنسانی حقوق، اِنسانی عظمت و تکریم کے ٹھیکیدار اپنی مقامی پتلیوں کے ہاتھ مصوری کے ایسے شاہکار تخلیق کرواتے ہیں جن میں پس منظر اور سیاہ چادر کے پلو کی اوٹ کے مناظر، زمانے، موسم، آب و ہوا، حدود ابعہ کے مطابق بدلتے رہتے ہیں، لیکن پیش منظر وہی رہتا ہے۔‘‘ (سیاہ رات)

انور سجاد نے’’میں اور میرا فن‘‘ عنوان کی ذیل میں یہ بھی بتا رکھا ہے:

’’میں کہانی لکھتا ہوں اور اس کے لیے مجھے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ غیب سے مضامین میرے خیال میں نہیں آتے کہ غائب اور میرے درمیان انسان موجود ہے۔ میں غیب کو ’انسانیا‘ سکتا ہوں،لیکن انسان کو ’غیبیا‘ نہیں سکتا۔ ‘‘ (میں اور میرا فن)

شاید اس مرحلے پر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ پائوں گا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہے کہ اپنے زمانے کا سب سے زیادہ زندہ شخص، جو ایک وجود میں کئی تخلیقی وجود رکھتا تھا، لاہور کی چونا منڈی کا ڈاکٹر، ایک رقاص جس نے باقاعدہ تربیت حاصل کی،ڈرامے لکھنے والا، اداکاری کے جوہر دکھانے والا، مصوری اور موسیقی کا رسیا، کہانیاں لکھنے اور ایک ہنگامہ برپا کرنے والا، ترقی پسند، روشن خیال، سیاسی کارکن اور عین اسی لمحے فکشن پر جدیدیت کے دروازے کھولنے والا، اول اول ادبی منظر نامے سے الگ ہوتاچلا جاتا ہے، اور اس کا سبب ایک عورت ہے حالاں کہ اس کا فن ہمیشہ عورت ذات کے ساتھ رہا ہے۔ ایک بڑے گھر اور سماجی مرتبے والاشخص تنگ دست ہو کر سماجی بے حسی کے چرکے سہتا ہے، پھر دُکھ جھیلتے اور بیماریوں سے لڑتے بھڑتے ہماری نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔ جی وہی انور سجاد جو کہا کرتے تھے کہ میں غیب کو ’انسانیا‘ سکتا ہوں،لیکن انسان کو ’غیبیا‘ نہیں سکتا، وہی ایسے زمانے میں مر کر غائب ہو گئے ہیں جس میں غائب ہونے کے بعد مر جانا یا مارا جانا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  ڈاکٹر انور سجاد —— شہزاد وریا
(Visited 181 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: