تعلیم یافتہ دکھنے کے جدید طریقے: مولوی کو برا کہیں (۱) —- نعیم مشتاق

0

{ طنز و مزاح }

’’گدھا اگر امریکہ جا کر اپنی جنس تبدیل کروالے اورپھر شیر بن کر پاکستان واپس آ جائے تو پھر بھی اپنی آواز سے فوراً پہچانا جائے گا اور اگر اپنی آواز بھی تبدیل کروالے تو کم از کم اپنی دولتی مارنے والی عادت سے تو ضرور ہی پکڑا جائے گا۔ اس لیے کہ گدھا اپنی شکل و صورت اور آواز تو تبدیل کروانے میں کامیاب ہو سکتا ہے مگر فطرت تبدیل کرنے کا کوئی آلہ ابھی تک امریکہ ایجاد نہیں کر سکا۔ آج شیر کی شکل وصورت اور شیر کی آواز میں بے شمار گدھے تعلیمی درسگاہوں میں لیکچرز دینے میں مصروف ہیں۔ اہل علم و صحبت ان کی دولتی مارنے والی فطرت سے ان کو پہچان لیتے ہیں‘‘۔


مولویوں کو اکثر بُرا بھلا کہا کریں تا کہ روشن خیال نظر آئیں

وہ دور گیا جب روشن خیالی علم اور فکر سے منسلک سمجھی جاتی تھی۔ ’’جدید سائنسی اور معاشرتی ترقی‘‘ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ روشن خیالی بے بنیاد تنقید کا نام ہے۔

بے بنیاد تنقید کے کئی فوائد ہیں۔ مثلاً لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ نے موضوع گفتگو پر کافی تحقیق کی ہوئی ہے۔ پھر تنقید سے آپ کا کردار دوسروں کی نظروں میں مزید بلند ہو جاتا ہے، وہ آپ کو مزید عزت سے نوازتے ہیں۔

مولوی حضرات کی ایک خامی آپ کی خوبی بن سکتی ہے اور وہ یہ کہ مولوی حضرات حق اور سچ بات کو جدید طرز گفتگو کے انداز میں نہیں کر پاتے۔ انگریزی ویسے ہی نہیں آتی لہٰذا ان پر آپ کی تنقید کے چند جملے اگر انگریزی زبان میں ہوں تو اس سے آپ کا IMAGE مزید بہتر بنے گا۔
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بوقت تنقید آپ کا حلیہ مولویوں جیسا نہ ہو۔ ٹائی اور کو ٹ پہن کر تنقید کریں گے تو اس سے آپ کی شخصی وجاہت اور مردانہ حسن میں چار چاند لگ جائیں گے۔

تنقید میں ایک اور خصوصی خیال رکھیں کہ مولویوں پر تنقید میں سب کو شامل کر لیں یعنی لفظ مولوی سے علماء اور صوفیاء اسلام کے تمام طبقات مراد لیں بلکہ اس میں مذہب کے تصور کو بھی شامل کر لیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو خطرہ ہے کہ سامعین میں سے کوئی کوئی سمجھدار شخص یہ کہہ دے کہ جناب ایک طبقے کی غلطیوں کی سزا دوسرے طبقات کو کیوں دے رہے ہیں؟ یوں آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا خیر و عافیت اسی میں ہے کہ آپ محمود کی ٹوپی ایاز کے سر پر رکھ دیں۔ دورانِ تنقید صرف لفظ مولوی استعمال کریں مگر دلیل کے ڈنڈے سب پر برسائیں۔

اس حقیقت کی کون پرواہ کرتا ہے کہ بُرے لوگ تو ہر شعبہ زندگی میں ہوتے ہیں خواہ یہ دین داری کا معاملہ ہو یا دنیاداری کا، سیاست، کاروبار، سپورٹس وغیرہ کوئی بھی شعبہ بُرے لوگو ں کے وجود سے پاک نہیں مگر مولویوں پر دورانِ تنقید اس حقیقت کی قطعاً پرواہ نہ کریں اور اُن پر کھلی تنقید ہر پہلو سے جائز سمجھیں۔ یہاں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مولویوں کے طبقہ کے علاوہ دوسرے تمام طبقات میں اچھے اور بُرے لوگوں میں امتیاز قائم رکھیں۔ مثلاً سیاست اور کاروباری طبقے ہی لیں، بھول کر بھی ان پر تنقید مت کریں کیونکہ اس طرح آپ کے تعلقات سیاسی اور کاروباری حلقوں سے خراب ہو سکتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں آپ معاشی پریشانیوں کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ مولویوں سے آپ کو سوائے خطاب اور ثواب کے علاوہ اور کیا ملے گا؟

مولوی حضرات پر تنقید تو تعلیم یافتہ طبقہ کا بنیادی حق ہے۔ مشہور و معروف یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اگر ہم مولویوں پر تنقید کرنا نہ سیکھیں تو ہماری تعلیم سے ہمیں کیا حاصل ہوا؟ کیا اسی لیے ہمارے والدین نے قربانیاں دے کر ہمیں اتنی مہنگی تعلیم دلوائی؟ افسوس ہے ایسی تنگ نظر تعلیمی قابلیت پر۔

مولویوں پر تنقید کی بیشمار وجوہات ہیں۔ ان پر تنقید کی سب سے بڑی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ہم ’’کلین شیو اہلِ علم‘‘ پر داڑھی نہ ہونے کی وجہ سے تنقید کرتے ہیں۔

اگر ہم کبھی سال میں معاشرتی دبائو کے تحت ایک آدھ مرتبہ نمازِ جمعہ پڑھنے کے لیے چلے بھی جائیں تو داڑھی کی فضیلت پر اس قدر زوردار تقریر کرتے ہیں کہ دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کاش مسجد میں آنے سے پہلے ٹوپی کی بجائے بازار سے دس روپے کی نقلی داڑھی خرید لی ہوتی۔ یوں شرمندگی اور ندامت کے ساتھ جمعہ پڑھنے سے قلب و باطن میں جو انقلاب آتا ہے اس انقلابی کیفیت میں ہمارا پورا ایک سال گزر جاتا ہے۔ لہٰذا جمہوریت کے جدید تصورات کے نقطۂ نظر سے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ جب بھی ہمیں موقعہ ملے ہم بھی اپنی تنقید میں ان سے اپنی بے عزتی کا دل کھول کر بدلہ لیں۔

مگر اس ساری تنقید کے باوجود جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو کبھی کبھار مسجد یا مذہبی جلسے جلوسوں کے لیے دس پندرہ روپے چندہ بھی دیتے رہنا چاہیے تاکہ ہمارا ضمیر بھی مطمئن رہے اور امت مسلمہ بھی ہماری احسان مند رہے۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 141 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: