دی ریوننٹ کے سحر سے پلیٹوس کی پُراسراریت تک —– فرح دیبا اکرم

0

‎لیونارڈو ڈیکیپریو کی فلم “دی ریوننٹ” جس میں اُنہیں اداکاری پہ بیسٹ ایکٹر کا آسکر ایوارڈ ملا جب پاکستان میں ریلیز ہوئی تو سینما کی بڑی سکرین پہ یہ فلم دیکھتے ہوئے میں اس جگہ کی تنہائی، خاموشی، پُراسراریت، اسکی رات اور سپیس خاص کر جب ڈائریکٹر کیمرہ زمین سے آسمان کی طرف لے کر جاتا عجیب وحشت محسوس کرتی رہی، ساتھ ساتھ یہ سوچتی رہی کیا یہ حقیقی جگہ ہے اگر ہے تو کیا اندوہناک تنہائی کا پراسرار محلہ ہے پھر غیر شعوری طور پر جب دل نے اس آسیب ذدہ جگہ جانے کی خواہش کی تو کچھ دیر کے لئے میرا سانس رک گیا تھا۔

Plitvice Lakes National Park میں جانے سے پہلے مجھے ایسا کچھ پتہ نہیں تھا جو وہاں موجود تھا جسکا مجھے تجربہ ہوا۔ ۔ ۔

زگرب سے تقریباً دو گھنٹے کے فاصلے پر یہ نیشنل پارک ہے اس پارک میں جانے سے پہلے آپکو آن لائن اس کی ٹکٹ بُک کرنی ہوتی ہے ساتھ ہی پارک میں داخل ہونے کا وقت بھی بتا دیا جاتا ہے آپ اس طے شدہ وقت سے پہلے اندر نہیں جا سکتے، آپ کروشیا جائیں تو وہ لوگ جو وہاں کے باسی ہیں یا پہلے سیر کر آئیں ہوں اس پارک میں جانے کا ایسا تگڑا مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کو نفسیاتی تاثر یہ ملتا ہے کہ اگر یہاں نہ گئے تو بہت اہم جگہ رہ جائے گی ہم نے بھی یہی سوچ کے علی الصبح بس پکڑی کیونکہ ہمارا انٹری وقت ایک بجے کا تھا۔ لش پش سبزے اور پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتے ہوئے کوئی ساڑھے بارہ بجے پہنچ کر پارک میں داخل ہونے والی لائن میں لگ گئے۔ پہاڑوں کا سورج کچھ معمول سے ذیادہ چُبنے والا ہوتا ہے جب یہ موسم گرما میں اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو۔

پارک میں داخل ہوتے ہی آپکو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کس ہیبت ناک جگہ کے اندر پہنچ گئے ہیں اسکا احساس کچھ ہی دیر میں لمحہ با لمحہ ساتھ شریکِ سفر ہوتا ہے۔ پارک میں تین طرح کے ٹریک ہیں پہلا دو سے چار، دوسرا چار سے چھ اور تیسرا چھ سے آٹھ گھنٹے والا، سب اپنی آسانی اور وقت کی مناسبت سے ٹریک کا انتخاب کرتے ہیں ہم نے چار سے چھ گھنٹے والا شروع کر دیا۔ میری سمجھ کے مطابق یہ جگہ پہاڑوں کی گود میں بکھرا ہوا پارک، جھیل اور واٹرفال کا سلسلہ ہے۔

آپ پہلے پہاڑ کی بلندی جو کہ اینٹرینس ہے نیچے اترتے ہیں پھر اس پورے سلسلے کے گرد چکر لگا کر واپس پہاڑی کی بلندی پہ پہنچتے ہیں تاکہ آپ باہر نکل سکیں، خیر اترائی تو آرام طلب ہوتی ہے حالنکہ اس کے لئے بھی آپ کو بیلنس کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ بری طرح گر پڑیں۔ دوستوں کے ساتھ باتیں کرتے، راستے کے حسن اور لوگوں کو دیکھتے بلندی سے ہم نیچے پہنچ کر اپنے ٹریک پہ چلنے لگے، اس راستے کا لطف یہ ہے کہ بہت مختصر سا ابتدائی حصہ مٹی کا اور باقی سارا راستہ لکڑی کے تختوں کا بنا ہوا ہے ماسوائے اس حصے کے جو نیچے سے واپس اوپر لے کر جاتا ہے وہ پھر سے مٹی کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ راستے کے ساتھ ساتھ مسلسل جھیل چلتی رہتی ہے تھوڑے تھوڑے راستے کے بعد شروع میں چھوٹی اور بعد میں بڑی بڑی آبشاریں آپ کے سامنے ایک فلم کے منظر کی طرح پھوار برسانے لگتی ہیں آپ یوں سمجھیں یہ یورپ کی نیاگرا فالز ہیں۔ راستے میں اگر تھک جائیں تو اسی ٹریک پہ بیٹھنے کے لئے بینچز پڑے ہیں، تا کہ آپ ذرا سستا کر پھر چلنا شروع کر سکیں، عام طور پر گورے لمبا ٹریک لیتے اور میری طرح ان بینچوں کی زینت نہیں بنتے۔

یہ جگہ بیک وقت پارک، واٹرفال، جنگل، واکنگ ٹریک اور فطرت سے روبرو ہونے کی بہترین مثال ہے۔ اکثر جگہوں پہ لکڑی کے بہت دلکش چھوٹے چھوٹے پل بھی بنائے گئے ہیں اور یہ سارا لکڑی کا کام اسی پارک کے درختوں سے بنا ہوا ہے یہاں جو درخت گر جائیں اور کچھ درختوں کو انتظامیہ سلیقے سے کاٹ کر لکڑی کے راستے کی دیکھ بھال باقاعدگی سے کرتی رہتی ہے ٹریک کے کچھ پوائنٹس پہ انہی درختوں سے لکڑی کے کنارے بنائے گئے ہیں یوں یہ جگہ اپنی بہتری اور بڑھوتری میں خودکفیل ہے جس چیز نے مجھے آخر پہ کافی متاثر کیا وہ یہ کہ راستہ اگر کچا ہو یا لکڑی کا بنا ہوا تو چلنے سے انسان تھکتا نہیں کیونکہ میرے تجربے کی بنا پر جتنا سفر میں نے اس پاعک کے ٹریک پہ طے کیا اتنا کنکریٹ کے راستے پہ آج تک نہیں کیا اور نہ ہی کر سکتی ہوں۔ آبشار کی پھوار سے اکثر جگہ لکڑی کے راستے نمدیدہ تھے اور ان پہ جب سورج کی کرنیں پڑتیں تو وہ بہت حسین لگنے لگ جاتے جیسے ان پہ موتی بکھرے ہوں۔ اس جھیل میں پانی اطراف میں پھیلے پہاڑوں سے نکلنے والی آبشاروں سے آتا ہے جھیل کا پانی سبز رنگ کا ہے لیکن ہم نے تو سنا تھا بلکہ اب تو سائنسی تحقیق بھی آ گئی ہے کہ پانی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، پھر یہ سبز کیوں؟ ایک جگہ میں نے رک کے دیکھا جہاں پانی جھیل میں شامل ہونے سے پہلے آبشار سے نیچے گر رہا تھا کہ اسکا کوئی رنگ نہیں ہے یعنی اس جھیل میں داخل ہونے کے بعد وہ سبز نظر آتا ہے۔ مسلسل پہاڑوں کی گود میں پھیلے لکڑی کے راستے پہ آبشاروں کی کمپنی میں آپ کے دل میں کئی خیال اور سوال اُبھرتے رہتے ہیں جیسے کہ مجھے ایک وقت یہ خیال آیا جب پانی میں موجود ساری چیزیں سو جاتی ہیں تو کیا پانی بھی اندھیرے میں آرام کرتا ہو گا؟

کچھ جگہوں پہ آبشار کے پانی کا نیچے گرنے کا شور اتنا ذیادہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے ساتھ چلنے والے کی بات بھی نہیں سن پاتے یا شاید اپنی آواز سے بھی محروم ہو جاتے ہیں، شور پانی کا ہو یا انسان کا آپکی سماعت وقتی طور پہ مفلوج کر دیتا ہے۔ اس سفر میں مجھے یہی احساس بارہا ہوتا رہا کہ میری زمین تو بدل رہی ہے لیکن آسمان وہی ہے اسکا وہی حصہ سر پہ ہے جو شروع میں تھا جیسے بچپن میں رات کو چھت پہ چلتے ہوئے یہ سمجھتی تھی کہ چاند میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ ایک دو جگہ پر میں نے انسانوں کی طرح جُڑواں درخت بھی دیکھے یہ بھی دیکھا کہ صرف انسان نہیں درخت بھی اگر ایک خاص حد تک زندہ رہیں تو کُبڑے ہو جاتے ہیں۔

یہاں گورے بوڑھے کافی تعداد میں تھے اور بہت چستی اور خوشگواری سے اپنا اپنا راستہ کاٹ رہے تھے۔ نوجوان جوڑے اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کے آئے ہوئے تھے جن میں جو چل نہیں سکتے تھے انکو پرام میں یا کمر پہ باندھا ہوا تھا، مجھے نام نہیں یاد آ رہا لیکن آج کل بہت عام ہے جو کمر پہ یا سینے پہ باندھ کے چھوٹے بچے کو بٹھا لیتے ہیں۔ پہلے بچوں کو ایسی تفریحات پہ لے کے نہیں جایا جاتا تھا یا ان کو اس طرح کی سیر میں لے کے جانا ایک جان جوکھوں کا کام ہوتا تھا لیکن اب ایسے ایسے سامان آ گئے ہیں کہ کم از کم یہاں چھوٹے بچوں کو بھی لوگ آسانی سے ساتھ کیری کر لیتے ہیں۔ ٹریولنگ ایک مزاج ہے جس میں آپکو رف اینڈ ٹف ہونا پڑتا ہے یہ مزاج اگر بچپن سے آپ کے ساتھ بڑا نہیں ہوا تو پھر آپکا ٹریولر بننا ایک کٹھن کام ہے اس طرح آپ بہت سارے سفری تجربات اور رموز و اوقاف سے آشنا نہیں ہو پاتے، آپ نے دیکھا ہو گا گورے بچپن سے ہی اپنے بچوں کو ویک اینڈز اور لمبی چھٹیوں میں ٹریول کرواتے ہیں چاہے وہ جس میں ان بچوں نے اپنا ایک چھوٹا سا بیک پیک الگ بنانا ہوتا ہے، بہت سارا چلتے ہیں ہر طرح کی جگہ پہ نخرہ کیے بغیر رہ لیتے اور کھانے پینے میں بھی کوئی خاص تردد میں نہیں پڑتے۔

اس پارک میں پارک کے ٹکٹ میں آپکو فری بوٹ رائڈ اور اس میں چلنے والی ٹرین کی سیر مل جاتی ہے جو کہ آپکو اس دروازے تک پہنچاتی ہے جس سے آپ داخل ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سہولت سردیوں میں سردی کی وجہ سے میسر نہیں ہوتی ہے۔

آپ اس جگہ اپنے دوستوں کے ساتھ جائیں کیونکہ اچھی کمپنی اس پارک میں گھومتے ہوئے ساتھ ہو تو سفر بھاری نہیں ہوتا۔ میں جب واپسی پہ کچے راستے سے چلتے ہوئے اوپر آ رہی تھی تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میں پاتال سے بلندی کی طرف جا رہی ہوں۔۔۔میں باہر نکل کر پارک کے ابتدائی پوائنٹ پہ دوبارہ گئی تا کہ اسے آخری نظر دیکھ کے خدا حافظ کہوں تو مجھے یہ جگہ بالکل ایک آسیب سرائے کا منظر پیش کرتی محسوس ہوئی اور میں جلدی سے واپس گیٹ کی طرف چلدی۔۔۔

یہاں آنے سے پہلے ہمارے پیارے دوست “روح اللہ” نے کہا تھا یہ جگہ جنت ہے میں نے کہا اچھا جائیں گے تو دیکھیں گے۔ واپس آ کر مجھے لگا ہے اس نے ٹھیک کہا تھا مگر اصل جنت کی طرح اسے بھی کمانا بڑا کام ہے دوستو!

(Visited 66 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: