ابن حزم: کثیر الجہت، آزاد منش فیلسوف —– احمد الیاس

0

جس دور میں عراق، ایران، ترکستان، مصر و شام وغیرہ میں فلسفہ ذوق و شوق سے پڑھا جارہا تھا، اسی دور میں سپین کی اموی حکومت سائنس و عمرانیات کے مختلف علوم و فنون کی حوصلہ افزائی تو بہت کرتی تھی جس کے نتیجے میں سپین عراق کے بعد اسلامی تہذیب کا دوسرا بڑا علمی مرکز بن گیا تھا لیکن باقی اسلامی دنیا سے الگ اور غیر مسلموں سے گھرے اندلسی اسلامی معاشرے کو تقسیم سے بچانے کے لیے فلسفہ اور عقائد سے متعلق بحثوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی کیونکہ ان مباحث سے تفرقہ پیدا ہوتا جیسا عراق اور دیگر اسلامی ممالک میں مباحث کے سبب ہوا تھا۔ دوسرا یہ کہ مشرقی اسلامی ممالک میں فلسفے کا رجحان ایرانیوں کے مسلمان ہونے کے سبب ہوا جو پہلے ہی کافی فلسفیانہ مزاج رکھتے تھے لیکن مغربی مسلم ممالک بشمول سپین میں ایرانی اور ایرانیت موجود نہ تھے بالکل خالص عرب رنگ غالب تھا۔ عرب بہت عملیت پسند لوگ رہے ہیں۔

ان حالات میں ایک فکری باغی نے جنم لیا جسے ابن حزم کہا جاتا ہے۔ ابنِ حزم نے ایک تو ائمہِ فقہ کی تقلید سے انکار کیا اور آزادانہ طور پر شریعت کی تشریح کرنی شروع کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے مسلمانوں میں انتہائی محترم سمجھے جانے والے مقتدر ائمہ پر سخت تنقید بھی شروع کردی۔ ابن حزم ظاہریت کا قائل تھا اور قیاس کے مختلف طریقوں کا مخالف۔ گویا آج کی اصطلاحوں میں سمجھا جائے تو ابن حزم وہابیت کے ظہور سے کئی سو سال قبل ہی وہابی تھا۔

لیکن وہابی کی اصطلاح سے یہ نہ سمجھا کہ ابن حزم آج کے سعودی علما کی طرح تنگ نظر یا انتہائی قدامت پسند تھا۔ ابن حزم کی دوسری بغاوت یہ تھی کہ اس نے سپین میں فلسفہ پڑھنا اور لکھنا شروع کیا جہاں یہ کام کسی نے نہ کیا تھا۔

اسپین میں ابن حزم کا مجسمہ

اس کے ساتھ ساتھ ابنِ حزم رومانوی مزاج کا حامل بھی تھا۔ محبت کے موضوع پر اس کی ایک طویل ادبی تصنیف “طوق الحمامہ” انتہائی جدید محسوس ہوتی ہے اور دلچسپ و خوبصورت علامتوں سے معمور ہے۔ کالج کے دنوں سے اس کا انگریزی ترجمہ ring of the dove مجھے بہت محبوب رہا ہے۔ یہ تحریر آپ کو اندلسی زندگی کی رعنائی کا ویسا ہی احساس بخشتی ہے جیسا واشنگٹن ارونگ کی Tales of Alhambra۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں نفسیات کا گہرا فہم بھی پایا جاتا ہے اور ابن حزم کی اپنی نفسیاتی کیفیات بالخصوص لڑکپن کے دنوں کی رومانوی کیفیات کھل کر سامنے آتی ہیں۔ ابن حزم اپنے معصوم معاشقوں کی مثالیں دے کر بات واضح کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی نوعیت کے دلچسپ استعارے بھی استعمال ہوئے ہیں، مثلاً ابنِ حزم دردِ دل کے بیان میں عاشق کو “مظلوم اور سازش کے شکار علی” سے تشبیہ دیتے ہیں اور رقیب کو کھلم کھلا “ابنِ ابی سفیان” کہتے ہیں۔

اس قسم کی کثیر الجہتی آزاد روی کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلتا ہے۔ ابنِ حزم کو شہر بدر کردیا گیا اور وہ کوئی پناہ نہ پا کر اندلس کے بیابانوں میں دم توڑ گئے۔

ابنِ حزم کی متعدد تصانیف ہیں۔ ان میں ایک کتاب “تقریب” تو فلسفے کے موضوع پر ہے لیکن ایسی چابکدستی سے لکھی گئی ہے کہ تمام اصطلاحیں بدل دی گئی ہیں، بظاہر کتاب فقہ کی لگتی ہے لیکن درحقیقت ہے فلسفے کی۔

دوسری کتاب تورات اور انجیل میں ہونے والی تحریفات کا سراغ لگانے کے لیے ہے۔

جب کہ ان کی سب سے مشہور تصنیف “الفصل فی الملل والنحل” ہے۔ اس میں مختلف مذاہب اور مختلف مسلمان فرقوں کے عقائد پہلے تفصیل سے بیان ہوتے ہیں اور پھر ابنِ حزم اپنے مخصوص انداز میں ان کا رد کرتے جاتے ہیں۔ یہ بھی کافی دلچسپ کتاب ہے جس کے کچھ حصوں کا ترجمہ مجھے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سپین والوں کے لیے یہ کتاب کافی دلچسپ رہی ہوگی کیونکہ سپین میں دیگر مسلم ممالک کی طرح مسلمان مختلف فرقوں میں تقسیم نہ تھے بلکہ تقریباً سب ہی اہلسنت اور مالکی تھے۔ خود ابنِ حزم کو اپنے وطن پر بہت فخر تھا لیکن سپین سے متعلق ایک تحریر میں لکھتے ہیں :

“ہمارے ملک میں چونکہ فرقے نہیں ہیں نہ عقائد پر بحث ہوتی ہے اس لیے یہاں عقلی علوم کو ترقی حاصل نہیں ہوئی”۔

آج ابن حزم کو ایک طرف تو سلفی مکتب فکر کے لوگ بہت اہمیت دیتے ہیں، دوسری طرف انہیں سپین میں بھی پہلا مقامی فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ابن حزم کو “الفصل” کی تصنیف کے سبب علمِ تقابلِ ادیان کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ کے بعد ابن العربی اور ابنِ رشد کے عہد تک سپین میں کوئی بڑا فلسفی نہ ہوا۔ المغرب کا ایک بڑا حکیم ابنِ خلدون بھی ابنِ حزم سے بہت متاثر تھا۔

(Visited 140 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: