کراچی کی نفسیات: کل اور آج —— احمد اقبال

0

تقریبا 40 سال میں نے کراچی شہر کو بڑھتا دیکھا۔ اسی طرح جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو بڑھتا دیکھتا ہے۔ ان کے قد کاٹھ کے ساتھ ان کی ذہنی و جسمانی بلوغت کو قبول کرتا ہے۔ جب میں 1965 میں وارد ہوا تو کراچی مجھے لاہور سے صرف اس لیے مختلف لگا کہ یہاں سمندر اپنی تما م وسعت، شان و تمکنت کے ساتھ ازل سے موجزن تھا۔ آسمان کی طرح یہ عمر کے تصور سے ماورا تھا اور مجھے اتنا ہی مسحور بھی کرتا تھا۔ لاہور میں ماضی کے مزار تھے جہاں تاریخ اور ثقافت زندہ نظر آتی تھی اور پھرمزے مزے کےکھابے۔ پنڈی میں سرسبز درختوں کی چھت سے اوپر، پل میں آسمان کی نیلاہٹ تھی اگلے پل میں گرجتے برستے بادل۔ ہر طرف سے حصار میں لئے رکھنے والی سرمئی پہاڑوں کی اونچی نیچی فصیل جس پر ملکہ کوہسار براجمان ہے۔

ورنہ کیا ہیں سب شہر۔ وہی تارکول کی سڑکوں کا جال۔ انسانوں سے بھری مختلف نام والی آبادیاں۔ دکانیں اور با زار۔ ہاں لاہور شاہی تاریخ کی دستار رکھتا تھا۔ کراچی میں بانی پاکستان کے پیدایشی اور ابدی گھر تھے۔ پنڈی والے ملکہ کوہسار کے حسن پرنازاں تھے۔ پشاور میں درہ خیبر جیسی گزرگاہ کا پڑاو تھا۔ تو یہ طرہ امتیاز تو سب کا اپنا اپنا تھا۔

اس کے بعد میں سب کی طرح دیکھتا رہا کہ سمندر کے ساحل کا سوناپن جہاں 1975 میں شام کے گہرے ڈراونے سایوں میں سناٹے اور ویرانی میں چنگھاڑتے سمندر سے ڈر کے نصف بہتر اورمیں گاڑی میں بھاگے تو صدر آکےدم لیا۔ اور آج کا وقت ہے کہ جگہ وہی مگرڈر لگتا ہے اژدھام میں پھنس جانے کا۔ اور وقت وہ بھی تھا جب طارق روڈ پر ایک دکان بھی نہ تھی اور ایک گھر وحید مراد کا بھی تھا جس کے باہر “نثار مراد” کی نیم پلیٹ تھی۔ گلشن نہ تھا، ایک بھی شادی ہال نہ تھا اور کوئی فلیٹ نہ تھا۔

دیگرشہر بھی پھیلے مگر کراچی اس ریس میں خرگوش کی طرح دوڑا اور باقی شہروں نے کچھوے جیسی رفتار رکھی چنانچہ یہاں قدرتی افزایش کے اصولوں یعنی ٹاون پلاننگ کے قوانین سے روگردانی کی گئی۔ بے مہار ہجوم نے راتوں رات بستیاں آباد کرکے بجلی پانی گیس جیسی سہولیات بھی خرید لیں۔ یوں مافیاز نے جنم لیا۔ ہر کام کی ایک مافیا جو رشوت لے اور ناممکن کو ممکن کردے۔ زمین، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، ٹیکس کی جعلی ادایؑگی کے سارے کام مافیا کرتی تھی۔ حکومت کے محکمے اور اہلکارنہیں۔ پھر مافیاز کی مافیا “ایم کیو ایم” کے نام سے وجود میں آئی جس نے شہریوں کو اس حد تک یر غمال بنایا کہ ان کو بھتہ دیے بغیر کاروبار کیا آپ بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے لوگوں کو نقل مکانی کرکے چوری چھپے شادیاں کرتا دیکھا۔ گھروں کو چراغاں کرنا کس کے بس کی بات تھی۔ ۔ مافیا کو سب خبر ہوتی تھی۔ زیور کہاں سے اور کتنے کا بنوایا گیا۔ کتنی مالیت کا فرنیچر رات کی تاریکی میں کہاں سے پہنچا۔ کتنی دیگ قورمہ بریانی اور زردے کی کس باغی نے پکا کے پہنچائی اور کہاں۔ میری ساری فیملی جنگ اخبار کی وظیفہ خوار۔ مافیا کنگ نے کہا جنگ کا بائیکاٹ کرو تو ہم نے اخبار بند کردیا ورنہ ہماری باہر کھڑی گاڑی بھی راکھ ہو سکتی تھی۔ راہ چلتے کوئی فون مانگے، پرس یا زیور، جان عزیز ہے توعزیزآباد پر سلام بھیجو اور زندہ گھر پہنچو۔ بوری بند لاش نہ بنو۔ میں خود اپنے شاہین بچوں کو بزدلی کی تعلیم دیتا رہا کہ کوئی کار مانگے تو سر جھکا کے چابی پیش کردو۔ اور پیدل چل کے گھر آوگے توصحت اچھی ہوگی اور یہ چار کندھوں پر لے جاےؑ جانے سے بہت بہتر ہے؛ میرے خاندان کے ہر معززفرد نے کبھی نہ کبھی لاکھوں کے مال کی قربانی دے کر جان بچائی۔ اب تشدد کم ہے لیکن ماضی ایک ڈراونے خواب کی طرح سایہ فگن ہے۔ لوٹ مار اتنی ہی ہے لیکن کسی کا سڑک پر لٹ جانا اب خبر نہیں رہی۔ “ہاں۔ ۔ کیا کریں۔ ۔ سب ہوتا ہے”۔ بیس تیس منزلہ دو کمروں میں سستی رہایش قبول کرنا بھی مجبوری ہے جہاں مشترکہ رہایش کے اصول کوئی نہیں۔

دوسرے متعدد تاریخی حوالہ رکھنے والے نیے پرانےشہر جیسے کہ لاہور، منٹگمری، ملتان، لائلپور، پشاور، ایبٹ آباد وغیرہ۔ سینکڑوں ہزاروں سال کےتاریخی ارتقا میں اپنی اپنی فطری رفتار کے ساتھ بڑھتے پھیلتے ترقی کرتے رہے تھے اور بہت بدل گئے تھے۔ جو گاوں تھے وہ قصبے، جو قصبے  تھے وہ شہر اور شہر بہت بڑے ہوےؑ تھے۔ ۔ لیکن ان کے چہروں کے ساتھ ان کے تہذیبی تیور یا معاشرتی مزاج اتنےنہیں بدلے تھے۔ میری دو بیٹیوں نے ان شہروں میں کچھ حیرانی سے کہا “ڈیڈی یہاں لوگ لڑتے نہیں؟” انھوں نے رکشا اور موٹر سایکل کے تصادم میں متاثرین کو تھوڑی سی بک بک کے بعد اپنی اپنی راہ جاتے دیکھا تھا۔ کسی نے اپنی گاڑی سے دوتہائی سڑک روک دی ہے اور دوسری گاڑیاں مشکل سے گزر رہی ہیں۔ ہنگامہ کوئی نہیں۔ مکان نبانے والے نے اینٹوں اور ریت کے انبار سے گلی بند کردی ہے تو لوگ دوسری گلی گھوم کے جارہے ہیں کہ چلو چند دن کی مجبوری ہے۔ ۔ ۔ ہمیں اس ماحول سے آشنا ہونے میں بھی وقت لگا کہ آپ سڑک پر یا بازار میں ہر جگہ ہر وقت موبایل فون بے خوفی سے استعمال کر سکتے ہیں اور اکیلی عورت یا بچہ دن رات کسی بھی وقت اے ٹی ایم سے کیش نکال سکتا ہے اورپارک نصف شب تک فیملی والوں سے بھرے رہتےہیں یا صبح دم خواتین جاگنگ کر سکتی ہیں۔ ہماری عمر کے کہیں بھی اور کسی بھی وقت گاڑی لے کر پھر سکتے ہیں۔ بلکہ ایک معاملہ تو اس زمانے میں ناقابل یقین سا لگتا ہے۔ وہ ہے بزرگی کا احترام۔ ایرپورٹ سیکیورٹی چیک پر مسلح جوان ایک نظر ہمیں دیکھتے ہیں اور بیرئر اٹھ جاتا ہے۔ کئی بار ہم سے ٹریفک کی سنگین خلاف ورزی ہوگئی اور سارجنٹ نے بس اتنا کہا کہ بزرگو۔ ۔ خیال رکھا کرو۔ ۔ ایک بار ہم رات کو ون وے کے خلاف چل پڑے، سارجنٹ نے سامنے سےآتی نظریں خیرہ کرنے والی گاڑیوں کو روکا تا کہ ہم گھوم کے اسی سمت میں چلنے لگیں اور محفوظ ہو جاییؑں، یہ قدیم تہذیب کے مظاہر ہیں جو ابھی کچھ زندہ ہیں۔

میں کراچی آتا رہا اور میں نے نوٹ کیا کہ ایک پوری نسل جو 25 سال کی لاقانونیت اور خونریزی کے اس دور میں پلی بڑھی جب بوری بند لاشوں کی دہشت عام تھی ٹارچر سیل تھے جہاں انسانوں کو بکرے کی طرح الٹا لٹکا کے اس کی ہڈیوں جوڑوں اور سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کئے جاتے تھے اور یہ قصے دہشت قایم رکھنے کیلئے پھیلائے جاتے تھے۔ بارہ چودہ سال کے بچے ایک موبایل فون دینے میں مزاحمت پر سیدھی سر میں گولی مارتے تھے اور اپنی بہادری کے قصے سینہ ٹھونک کر سناتے تھے۔ ان کی نفسیات میں سفاکی اور خونریزی کوئی جرم یا وحشیانہ فعل نہیں رہا تھا، بہادری تھی۔ اب خونریزی تو بند ہے مگر خون کی خو کا اثر باقی ہے یا باقی رکھا گیا ہے۔ عام آدمی نے ہر قسم کی اذیت و آزار کو ذہنی طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ ٹوٹی یا اندھیری سڑکیں۔ ٹریفک جام، سارجنٹ کا نذرانہ، فون اور پرس چھن جانا، سپر اسٹورز پر بھی نقلی کریم ار شیمپو، دو نمبربرانڈ کپڑا “ثنا سفینا” اور گل احمد وغیرہ یا گھڑی رولیکس، راڈو یا سیکو وغیرہ ۔ ہر شادی ہال میں صرف نقلی پپسی، دھوپ بارش میں ویگن کی چھت پر ٹکٹ دے کر سفر، لال بتی پر سب کو غچہ دے کر یا کسی کی بیک لایٹ توڑ کے نکل جانا۔ اس میں غیر معمولی کیا ہے؟

ایک بہت بڑے جدید شاپنگ مال کے کاونٹر پر سیلز مین نے الٹا سوال مجھ سے کیا کہ “تھینک یو میں کیوں کہوں؟ پیسہ تو گیا مالک کو” میں اس کی منطق پر خفیف ہو کے نکل آیا۔ مہذب دنیا میں مسکراکر دیکھنا عادت ہے۔ کافی لانے والےویٹر، دروازہ کھولنے والے، لفٹ آپریٹر،۔ ٹیکسی ڈرائیور اسی کام کیلئے ملازم ہیں مگر ان کو تھینک یو نہ کہنا صریح بد اخلاقی۔ کریم یا اوبر کی ٹیکسی کا نہ آنا عام بات، پبلک سمجھتی ہے شکایت بیکار کیونکہ زیادہ تر گاڑیاں پولیس، کسٹم، سرکاری حکام کی اور ان کے چمچوں کی ہیں۔ یہ شکست خوردگی کا رد عمل بھی عجیب ہے، ایک شخص میری ضعیفی دیکھتے ہوئے بے وجہ بد معاشی کا مرتکب ہورہا تھا اور میری شرافت کا اثر الٹا ہورہا تھا، “میں نے اتفاقیہ گزرنے والی رینجرز کی ایک جیپ روکی اور نوجوان کیپٹن کو اپنا کارڈ دے کر کہا کہ کسی طرح اس خواہ مخواہ گلے پڑنے والی بلا سے میری گلو خلاصی کراےؑ۔ دو منٹ بعد شیر میرے سامنے کتے کے پلے کی طرح لوٹنے لگا۔ یہ عمومی رویہ ان کا ہے جو جرم کے سایے میں پلے۔ تعلیم تہذیب کہاں سے آتی۔ شہر واضح طور پر تین حصوں میں منقسم ہے انتہائی غریب اور مافیاز کے چنگل میں ہر عذاب سے دوچار وہ تمام مضافاتی علاقے جن کو دنیا بھر میں ‘سلم’ کا نام دیا جاتا ہے۔ جو کسی ٹاون پلاننگ کے بغیر از خود آباد ہوتے ہیں۔ جھگی یا گھروندے کی سمت مالک کی مرضی۔ یہ کراچی کے شمالی اور مشرقی حصوں کی لاکھوں پر مشتمل کچی آبادیاں ہیں جہاں بعض گلیاں بھی اتنی تنگ ہیں کہ مریض یا میت کو ہاتھوں پر اٹھا کے ایمبولنس یا میت گاڑی تک لانا پڑتا ہے اور آگ لگے تو “خاک ہو جاییں گے ہم تم کو خبر ہونے تک” والی صورت حال ہوتی ہے غلاظت گلی کے وسط میں بہتی ہے اور اسی میں بچے کھیلتے بھی نظر آتے ہیں۔ رشوت کا جادو یہاں بجلی گیس وغیرہ فراہم کردیتا ہے۔ اس طبقے کے غیر انسانی انداز رہایش۔ محرومی کےعذاب اور اس کے مضمرات میڈیا کیلئے بھی قابل توجہ نہیں۔ اور یہاں رہنے والے نوشتہؑ تقدیر کے فلسفے پر غیر متزلزل ایمان بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ بقول اپنے علامہ صاحب:  خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ وہ ادھر زیادہ متوجہ نظر آتا ہے جہاں ہر لحظہ خوب سے خوب تر کی جدوجہد جزو ایمان بن چکی ہے۔

دوسرا متوسط کہلانے والے طبقے کا شہر وسط میں آگیا ہے اور یہی وہ علاقہ ہے جو محض تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر سب سے زیادہ فرسٹریشن کا شکار بھی ہوتا ہے اور اس کا واویلا بھی کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان کی آمدنیاں ان کی خوہشات کے مقابلے میں کم ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کم پڑتی جارہی ہیں۔ سب سے زیادہ دنیاوی دینداری کو اہم سمجھنے والے اس طبقے کو ابھی تک افراط زر میں اضافہ روکنے کا کوئی وظیفہ میسر نہیں آیا۔ ان کو دفتر یا کاروباری اداروں میں نوکری اور ان کے بچوں کو تباہ حال تعلیمی اداروں تک آنے جانے کیلے سستی باعزت ٹرانسپورٹ چاہیے جس کا صرف خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ جانتے ہیں کہ اچھی تعلیم لا حاصل ہے اور ایک عام جاہل بریانی فروش کیلئے زندگی کی ہر عیاشی اس کی قوت خرید میں ہے ان کے بچوں کو بے مقصد ڈگریاں تھمائی جارہی ہیں۔ اچھی تعلیم ان کی استطاعت سے باہر ہے لیکن سفید پوشی کے بھرم نےان کی خاندانی شرافت کو زنجیریں پہنا رکھی ہیں۔ ہمارا ایم بی اے بیٹا ریڑھی لگائے، اس رزق سے موت اچھی۔ ان کو اپنی سستی یا پرانی کاروں اور موٹر سایکلوں کیلئے ٹوٹی پھوٹی سڑک نہیں چاہئے جن سے مرمت کا خرچہ بڑھتا ہے۔ لیکن مستقبل میں سڑکوں کی حالت کا مزید خراب ہونا ہی ممکن ہے۔ ان کو اپنے گلی میں اور سڑکوں پر کچرے کے بڑھتے ڈھیر پریشان کرتے ہیں مگر یہ کچرا وہ خود ہی پھیکتے ہیں۔ ان کے گھروں میں پینے کیلئے سرکاری لائن سے تیسرے چوتھے روز تھوڑا سا پانی دے دیا جاتا ہے۔ نہ یہ ٹینکر افورڈ کر سکتے ہیں نہ ‘نیسلے’ کا صحت بخش پانی خرید سکتے ہیں۔ واٹر ٹینکرمافیا اور واٹر بورڈ کے گٹھ جوڑ کے خلاف توسپریم کورٹ بے بس ہے۔ یہ علاج کیلئے محلے کے ڈاکٹر کی دکان تک ہی جا سکتے ہیں کیونکہ سرکاری ہسپتال میں مفت علاج خواب فردا ہوا۔ کم آمدنی والے طبقے کو متبادل علاج غیر مستند ڈاکٹر۔ حکیم اور ہومیو پیتھ کی صورت میں دستیاب ہے ورنہ بنگالی عامل اور دیواری اشتہار والے حکیم ۔ ۔ ۔ سرکاری ہسپتالوں میں صرف خواری ملتی ہے شفا نہیں۔ آہستہ آہستہ یہ اپنے گھروں کے ایرکنڈیشنر اتار رہے ہیں کیونکہ بجلی کے بل ادا نہیں کر سکتے۔ پٹرول گیس مہنگی ہوتی ہے تو یہ تفریح کیا ضرورت کیلے بھی آنا جانا کم کر دیتے ہیں۔ ایک بہانہ اور فون پر معذرت سے کام چلانے لگے ہیں۔ ان کے بچے تقلید کو مقصد حیات بنالینے والے ہیں۔ ۔ ۔ فوڈ سنٹرز کی ہوم ڈلیوری، برانڈڈ چیزوں کی سستی نقل (ریپلیکا، فرسٹ کاپی) سے اپر کلاس، ماڈل ڈریس اور ویسٹرن فلمزیا میوزک اور ہر وقت بڑے بڑے موبایل فون استعمال کرتے یہ سفید پوشی کی دہری زندگی گزارتے ہیں ۔ ایک وہ جو گھر میں ہے۔ ۔ دوسری جس کی وہ آرزو اور نقل کرتے ہیں۔ نام کےانگلش میڈیم اسکول کالج اور یونیورسٹی میں یہ نوجوان کلاس واضح اکثریت رکھتی ہے۔ وہاں تعلیم کے نام پر جو ہوتا ہے اس کا ذکر پھر سہی۔

اگر کوئی خط تقسیم جو اس معاشی تقسیم کی بنیاد پر کھینچا جاسکتا تو اس میں تیسرا وہ کراچی ہے کہ آج بھی “روشنیوں کا شہر” کہلائے۔ یہ کراچی ساوتھ پی ای سی ایچ ایس سے مغرب کی طرف آگے کا ڈیفنس اور کلفٹن والا علاقہ ہے، وہاں سب سڑکیں صاف شفاف اور ہموار ہیں۔ نت نئے فیشن کی اسٹریٹ لایٹس جگمگاتی ہیں۔ ۔ پانی وافر ہے۔ ۔ شاہانہ کاروں کی بھر مار ہے۔ ۔ یہاں کچھ بگڑے رئیس زادے اور مڈل کلاسئے پولیس کی نگرانی میں ون ویلنگ کے مظاہرے کرتے ہیں۔ سپورٹس موٹر سایکلیں کلفٹن کے ساحل پر شرط لگا کے دوڑاتے ہیں۔ ہزاروں کماتے یا گنواتے ہیں۔ یہاں قانون افراد کا غلام ہے کیونکہ یہاں عوام نہیں خواص کی حکمرانی ہے۔ ان سے اصولی یا قانونی بات پرالجھنا آ بیل مجھے مار کی عملی صورت بن سکتا ہے۔

بہت پہلے دو پوسٹ میں نے لگائی تھیں۔ “مستقبل کا موہنجو دڑو”۔ ابھی کسی نے لکھا “کراچی شہر ختم ہورہا ہے”۔ شہر ختم نہیں ہوتے اگر ان کی بنیادیں سینکڑوں ہزاروں سال کی ثقافتی تاریخ رکھتی ہوں۔ یہ سیاسی تقسیم سے جنم لینے والا شہر تھا۔ لوگ ہر سمت سے آےؑ اورشہر آباد ہوگیا۔ مگر وہ بھان متی کا کنبہ تھا۔ نیا شہر ستر سال میں ایک بندرگاہ کی تجارتی معیشت پر کھڑا ہوا۔ دبئی کی مثال سامنے ہے۔ یہاں بھی سمندر کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے۔ سمندر میں جزیرے بناےؑ جارہے ہیں پرانے ناکارہ بوڑھے شہر کو تو مرنا یا مر مر کے جینا ہوتا ہے۔ اس شہر میں بھی معاشی نفسیات کا فرق بہت نمایاں ہے۔ زیادہ لوگوں کے لئے کراچی مر رہا ہے۔ کچھ کیلئے نیا جنم لے رہا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ ناجایز اور غیر قانونی تعمیرات گرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے پیچھے بھی سیاسی مصلحت اور مصالحت کی مجبوری کار فرما ہے۔ اس حکم پر عمل در آمد عملا” ناممکن ہے۔ سو فیصد ناممکن۔ اس کیلئے آپ کو کم سے کم آدھا کراچی بلڈوز کرنا پڑے گا۔ ۔ شاید زیادہ۔ ۔ وہ ملبہ کون اٹھاےؑ گا؟ بے گھر بے روزگار کہاں جاییؑں گے؟ آپ میری بات سے اتفاق کریں نہ کریں۔ ۔ غربت ہی جرایم کو جنم دیتی ہے۔ ان جرایم میں سیکس ٹریڈ بھی لازمی ہوگی جیسے کولالامپور ہانگ کانگ ٹوکیو میں عام ہے۔ پھر آپ فیس بک پر اپنی اسلامی، مشرقی، خاندانی شرافت کی روایات پر لا حاصل نوحہ خوانی کے سو اکیا کریں گے۔ وقت کی پیش قدمی کون روک سکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:  آخری آدمی مرگیا : کراچی کی ایک کہانی، عابد آفریدی کی زبانی
(Visited 738 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: