نئے بیانیوں کی سیاست —– قاسم یعقوب

0

کچھ برس پہلے میں نے ایک کالم لکھا تھا کہ ’ہماری خبروں کا موضوع سیاست کیوں ہے؟‘ مجھے یہ سوال کرتے ہوئے صرف وہ ظاہری علامات دکھانی پڑیں تھیں جہاں سیاسی خبریں ہمارے دیگر معاملاتِ زندگی کی سرگرمیوں سے اہم تھیں۔ حالات اب بھی ویسے ہی ہیں یا کہہ لیجیے کچھ زیادہ سنگین ہو چکے ہیں۔ آج بھی ہماری خبروں کا مرکزی موضوع سیاست ہی ہے۔ اگر ہم گذشتہ ایک دہائی کی سیاسی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو یہ کھوج لگانا کوئی مشکل نہیں رہ جاتا کہ ستر، اسّی یا نوے کی دہائی کی اہم قومی خبروں میں آج کی نسبت سیاسی آمیزش زیادہ کیوں ہے۔ ان گذشتہ دہائیوں میں سیاست کا مرکزی موضوع ملکی ترقی اور عوام کی فلاح تھا۔ ہمارے بہت سے مسائل تھے، بہت سے قومی ایشوز تھے جن کو یکساں اہمیت حاصل تھی۔ سیاست دان، ادارے یا بیوروکریسی قومی توجہ کے ساتھ ان تمام مسائل کو مرکزی مسئلہ سمجھ کے حل کرنے کی کوشش کرتی۔ یوں سیاست کو مرکزی سرگرمی قرار دینے کے باوجود اسے سب کچھ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی معاملات میں ہر خاص و عام کی توجہ نہیں تھی۔ بطور ووٹر ہر شہری صرف یہ پیمانہ سامنے رکھتا تھا کہ میرے لیے کیا کِیا گیا ہے، کسی پارٹی کا منشور کیا ہے؟ کارکردگی کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ کارکردگی یا Governace کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا۔

اکیسویں صدی میں آتے ہی پاکستانی سماج نے ایک اور مارشل لا کا سامنا کیا۔ اس مارشل لا نے ماضی سے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ اُس ظلم و بربریت یا مخالفین کی ملک بدریوں کو نہیں دہرایا گیا جو ضیائی مارشل لا کا حصہ رہی تھیں۔ اس مارشل نے ’سلیقے‘ سے حکومت کرنے میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ میڈیا کو آزاد کر دیا گیا (جو شاید وقت کا تقاضا بھی تھا) گو کہ یہ آزادی برائے نام یا ایک حد تک تھی جو آج بھی اسی طرح رائج ہے مگر اس سے اجتماعی سماجی نفسیات میں تبدیلی آنے لگی۔ وقت تیزی سے نئی Episteme پیدا کرنے لگا۔ نیا سماج نئے افراد کا تقاضا کرتا ہے۔ نئی اقدار کو پیدا کرنے لگتا ہے۔ یوں بہت جلد نئے چہرے سامنے آنے لگے۔ ان چہروں میں ایک چہرہ عمران خان کا بھی تھا۔ یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا عجیب اتفاق ہے کہ مارشل لائوں کے ادوار میں ہی نئے چہرے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان مارشل لائوں نے دانستہ یا غیر دانستہ نئے چہروں کو متعارف کروایا اور ان کی کم از کم اپنے لیے ان نئے چہروں کی مخالفت کو ممنوع بھی قرار دیا۔ ضیائی مارشل لا کی طرح مشرف مارشل لائی عہد میں بھی سیاسی پودوںکی پنیری لگائی گئی جو جلدی جلدی بڑی ہونے لگی۔ پہلے سے موجود بڑے سیاسی ستون دوبارہ اپنی چھتوں کو سہارنے لگے۔ مارشل لائی سوچ نے نئی فضا بنانے کی کوشش کی۔ اس بار بھی پرانی کوشش کی گئی کہ پرانے چہروں کو مکمل ختم کرکے نئے چہروں کو متعارف کروایا جائے مگر اس کوشش میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا یہ نئی ’ایپس ٹیم‘ تھی، نیا زمانہ تشکیل دینا چاہ رہی تھی۔ میڈیائی تبدیلیوں اور چیلنجز سے بھرپور اس زمانے کے اپنے تقاضے تھے۔ پرانے چہروں میں نواز شریف فیملی اور بھٹو فیملی نے دوبارہ انگڑائی لی۔ دونوں خاندانوں نے مارشل لائی عہد کے خاتمے کے ساتھ ہی دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا۔ یہ ۲۰۰۸ کی بات ہے جب بھٹو خاندان کا سب سے مرکزی کردار ایک سیاسی مہم کے دوران سیاسی بساط سے ہٹا دیا گیا۔ میری مُراد بے نظیر بھٹو ہیں جو نوے کی دہائی کی سیاسی مہرے بازی کے بعد اکیسویں صدی میں میڈیائی حصار میں سیاسی چالیں چلنے کے لیے اُتری تھیں، مگر موت نے انھیں اُچک لیا۔ ہم اس کا تجزیہ نہیں کر سکتے کہ بے نظیر بھٹو کا اب کیا سیاسی نظریہ تھا، وہ نوے والا Governaceوالا نظریہ لے کے آئی تھیں یا اس بدلتے سماج میں کوئی نئی چال چلنا چاہ رہی تھیں مگر ان کی پارٹی پی پی پی نے کم از کم بھٹو فیملی کی اسی سیاسی تاریخ کو قائم رکھا جو اسیّ یا نوے کی دہائی میں موجود تھی۔ اب کی بار بھٹو فیملی کی سیاست آصف علی زرداری کے پا س تھی۔

دوسری طرف شریف فیملی کی نمائندگی نواز شریف ہی کر رہے تھے۔ نواز شریف ۸۵ سے ابھی تک کسی نہ کسی طرح مرکزی سیاست کرتے آرہے تھے۔ اسی کی دہائی میں وہ مارشل لائی حمایت میں سامنے آئے مگر ریاستی اشرافیہ کے ساتھ مخاصمت کا کبھی نہ ختم ہونے والا رویہ اپنا چکے تھے۔ نوے کی دہائی میں اپنے پہلے اقتدار میں وہ ’اٹھاون ٹو بی‘ والے طاقت ورصدرسے لڑتے رہے جس کے پس منظر میں ریاستی اشرافیہ موجود تھی۔ اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں وہ براہِ راست ریاستی اشرافیہ سے لڑنے لگے۔ جہانگیر کرامت سے استعفیٰ اور پرویزمشرف کا dismissal معمولی تاریخی واقعات نہیں۔ ملک بدری اور پھر واپسی پر اُسی نقطۂ نظر کے ساتھ ریاستی اشرافیہ کے خلاف مخاصمت کا آغاز کر دیا گیا۔ عدالتِ عالیہ میں پرویز مشرف پر غداری کے الزام میں فرد جرم سیاسی تاریخ کا ناقابلِ فراموش واقعہ ہے۔

یہ دونوں خاندان اکیسویں صدی کے مارشل لائی دور سے ’بحفاظت‘ گزر گئے تو انھوں نے دوبارہ اپنے لیے اقتدار کو لازمی سمجھ لیا۔ چارٹرڈ آف ڈیموکریسی میں ریاستی اشرافیہ کے خلاف متحد رہنے کا عزم کیا گیا۔ ان دونوں کے اتحاد سے ریاستی اشرافیہ نے تیسرا راستہ تلاش کرنا شروع کیا تو ان کی نظر مارشل لائی عہد میں سامنے آنے والے ’عمران خان‘ پر جا پڑی جو اس وقت بہت کمزور کردار تھا مگر اسے طاقت دینے کا فیصلہ ہوا۔ عمران خان کو اس اتحاد کے مخالف سمت اُتارا گیا۔ اب دو طاقتیں بن گئیں؛ ایک نوے کی دہائی کے پرانے کردار اور دوسری طاقت عمران خان۔ بھٹو فیملی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ریاستی اشرافیہ نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ بھٹو فیملی (جس کی نمائندگی آصف علی زرداری کر رہے تھے) کو اقتدار باہر کرنا مشکل نہیں۔ ساری توجہ شریف فیملی پر صرف کی جائے۔

یاد رہے کہ دونوں خاندان اپنے پرانے ایجنڈوں کے ساتھ اس نئے سماج میں داخل ہوئے تھے۔ انھیں شاید خبر نہیں تھی کہ یہ میڈیائی چیلنجز کا زمانہ ہے، یہاں جنس (Commodity) کی افادیت سے زیادہ بذات خود جنس اہمیت رکھتی ہے۔ بہت جلد یہ ہوا کہ اس جنگ میں صرف عمران خان اور نواز شریف آمنے سامنے کر دیے گئے۔ یہ دو اشخاص نہیں دو نظریے تھے جن کی ترجیحات میں نمایاں افتراق تھا۔

شریف فیملی ابھی تک نوے کی دہائی کی سیاسی طرز کو زندہ رکھنا چاہ رہی تھی جس میں Governance کو اہمیت دی جاتی تھی۔ شریف فیملی ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی کہ جنس کی افادیت پر اپنے ووٹر کو قائل کیا جائے۔ جب کہ عمران خان نے سیاسی طور پر اس نظریے سے مکمل اختلاف کیا۔ عمران خان نے کارکردگی کو بنیاد بنانے کی بجائے چھوٹے چھوٹے بیانیے (Narratives) دینا شروع کر دیے۔ عمران خان نے کامیاب بیانیے دیے جس سے لوگوں کا رجحان کارکردگی یا Governance کی بجائے ان بیانیے کو قبول کرنے کی طرف ہو گیا۔ چوں کہ عمران خان کبھی اقتدار میں نہیں آیا تھا اس لیے وہ Governance دے بھی نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا بیانیوں سے جنگ کرنا بڑی ہمت کا کام تھا۔ عمران خان نے اپنے بیانیوں کی مقبولیت کے لیے اس بدلے ہوئے ویب کلچر کا بھرپور استعمال کیاجس میں خبر ایک نظریے یا بیانیہ بنتے دیر نہیں لگاتی۔ واٹس ایپ، ٹویٹر، سکائی ایپ، لینکڈ ان، یو ٹیوب، موبائل میسجز، ای میلز، فیس بک، فلکر، انسٹاگرام وغیرہ نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا تھا۔ اس دور میں بیانیہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے لگا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بیانیوں نے نئے سماج کی تبدیلی کا خواب دکھانا شروع کر دیا تھاجس کی پلیٹ میں ہر دانش ور، امیر غریب اور طاقت ور؍ عام آدمی آرہا تھا۔ عمران خان نے ۲۰۱۱ کے کامیاب جلسے کے بعد اپنے نئے بیانیوں کا آغاز کیا:

۱۔ عمران خان کا پہلا بیانیہ تھا کہ پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ اقتدار میں رہنے والی نون لیگ ہے جس نے اداروں یا انسانی وسائل پر کبھی توجہ نہیں دی۔ ان کے نزدیک ترقی شاید پلوں، سڑکوں، ائیر پورٹ یا انفراسٹریکچر بنانے سے ہو سکتی ہے مگر یہ غلط ہے۔ قوم تب تیار ہوتی ہے جب ادارے بنائیں جائیں۔ پولیس، صحت، تعلیم، پٹوار کا نظام، ریلوے، عدالت، پی آئی اے وغیرہ کسی ادارے کو ٹھیک نہیں کیا گیا۔ عمران خان کے مقابلے میںدوسری طرف انفراسٹرکچر پر توجہ دی جاتی رہی تھی اس لیے ایک بیانیہ خود بخود پیدا ہونے لگا کہ ملکی زبوں حالی کی وجہ ہی یہ ہے کہ پولیس، تعلیم، صحت وغیرہ پر کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اس کے ساتھ ہر چیز لپیٹ میں آنے لگی، کچھ بیانیے خود بخود بننے لگے جیسے عوامی نمائندوں کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کریں، نہ کہ فنڈ لے کے گلیاں محلے ٹھیک کریں۔ اس لیے بلدیاتی نظام کو مثالی بنایا جایا جائے۔ موروثی سیاست سے نجات دی جانی چاہیے اور لوٹوں سے نہیں نوجوان قیادت سے ملک سنوارا جائے گا، ملک کو نئی قیادت درکار ہے، وغیرہ وغیرہ

عمران خان میں شروع شروع میں اپنے بیانیوں کی لپیٹ میں چھوٹی جماعتوں کو بھی رکھا جیسے ایم کیو ایم یا اے این پی وغیرہ مگر جلد اس نے سمجھ لیا کہ مرکزی بیانیہ پیش کرتے ہوئے صرف نون لیگ یا پی پی پی کو سامنے رکھا جائے۔ اسی دوران الیکشن ہوگئے مگر جب نتائج سامنے آئے تو عمران خان کے بیانیے کو کثیر تعداد کی قبولیت کے باوجود اسے وہ مرکزیت نہ مل سکی جس کی نتیجے میں وہ اقتدار میں آ سکتا۔ اس وقت تک ریاستی اشرافیہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ عمران خان مقبول ہو چکا ہے اور وہ پہلے سے موجود پی پی پی اور نون لیگی روایتی سیاست کو نئے سماجی منظر نامے میں دیس نکالا دینے میں کامیاب ہو جائے گا مگر ابھی تک لوگوں کی ایک کثیر تعداد Governance کے نام پر ووٹ دینے کو تیار تھی۔ الیکشن کے بعد عمران خان کا بیانیہ یک سر تبدیل ہو گیا۔

۲۔ عمران خان نے دوسرا بیانیہ پیش کیا کہ اس ملک کی ترقی نہ کرنے کی وجہ یہاں فئیر اینڈ فری الیکشن کا نہ ہونا تھا۔ اس لیے کہ نون لیگی سیاست کو آئوٹ نہیں کیا جا سکتا جب تک ان کی دھاندلی کو نہیں روکا جا سکتا۔ اس سلسلے میں قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی سب سے بڑی خرابی الیکشن قرار دے کر ’عظیم و شان‘ دھرنا دیا گیا مگر اس میں سے ’پرویز مشرف‘ کا ’ویزا‘ نکلا۔ ہر طرف دھاندلی کو ہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جانے لگا۔ ہر خاص و عام دھاندلی دھاندلی کرنے لگا مگر یہ بیانیہ بھی جلد اپنی موت خود مر گیا۔

دوسرے بیانے ’’دھاندلی‘‘ کی ناکامی کے بعد عمران خان نے اپنے پہلے بیانیے کو کامیاب کروانے کے لیے اپنے صوبے کے پی کے میں مہم چلانے کی کوشش کی مگر عمران خانی سیاست کو جلد سمجھ لگ گئی کہ اقتدار پنجاب سے حاصل ہوتا ہے۔ جس کے پاس پنجاب ہے وہ مرکز کو حاصل کر سکتا ہے لہٰذا کے پی کے میں پہلے بیانیے کی کامیابی کے باوجود مرکزی اقتدار اور نون لیگی سیاست کو آئوٹ نہیں کیا جا سکتا۔ یوں عمران خان نے پوری توجہ پھر پنجاب پر دینا شروع کر دی۔ اس بار پی پی پی کو توجہ نہیں دی گئی بلکہ کسی حد تک زرداری حمایت کی پالیسی اپنائی گئی۔

۳۔ اب عمران خان کا تیسرا بیانیہ تھا۔ اس بیانیے کا نام تھا ’کرپشن‘۔ اب تک عمران خان اپنے پہلے دو بیانیوں کو تقریبا خیر باد کہہ چکے تھے۔ یعنی اداروں کی درستی سے ملک تبدیل کیا جائے اور اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ دھاندلی ہے۔ ان دونوں بیانیوں کی جگہ اب تیسرا بیانیہ ’’کرپشن‘‘ کا سامنے آگیا۔ اس بیانیے کو بنایا نہیں گیا بلکہ اچانک ہاتھ لگ جانے سے ’چلا‘ دیا گیا۔ ہوا یہ کہ انھی دنوں ’’آف شور کمپنیوں‘‘ کا غوغا مچا جس میں نواز شریف فیملی کی دو کمپنیاں نکل آئیں۔ نواز شریف فیملی اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی اور یوں نواز شریف کو سزا ہوگئی۔ کچھ ہی عرصے بعد الیکشن ہوئے اور ریاستی اشرافیہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ ساتھ عمران خان نے بھاری مقتدار میں ووٹ لینے میں بھی کامیاب ہوا۔ عمران کو ووٹ ملنا اس کے بیانیوں کی مقبولیت بھی تھی۔

۴۔ الیکشن کے بعد عمران کو حکومت ملی تو ایک طرح سے نوے کے نظریے کی موت واقع ہوگئی یعنی صرف Governanceیا کارکردگی سے ووٹ نہیں بنتے بلکہ مخالف جماعت کے بارے میں مخصوص بیانیوں سے اُسے زِیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سب سے توانا مثال عمران خان کی حکومت تھی جس نے کبھی براہِ راست وفاقی حکومت نہیں دیکھی تھی اور نہ ہی کبھی کسی دوسرے جماعت کے ساتھ Coalition میں وفاقی حکومت کا حصہ رہی مگر پھر بھی اقتدار میں آ گئی۔ اس بار عمران خان نے اپنا بیانیہ بدلنے کی کوشش کی، جس میں نمایاں ترین ’’تبدیلی‘‘ تھا یہ تبدیلی دو نہیں بلکہ ایک پاکستان چاہتی تھی، اب مدینے کی ریاست بنائی جائے گی، ہر طرف خوشحالی پودے کی طرح اگنے لگنے گی۔ یہ تبدیلی عام آدمی کی تھی، قومی زوال سے قومی ترقی کی تھی مگر ہُوا یہ کہ اچانک قلعی کھلنے لگی تو انھیں دوبارہ اپنا پرانا طرزِ سیاست (یعنی بیانیوں کی سیاست) اپنانا پڑا، کیوں کہ حالات کافی خراب تھے۔ وہ چیزیں جو اپوزیشن میں کچھ اور دِکھائی دیتی تھیں اور بیانیوں میں پیش کی جاتی رہیں، وہ حکومت میں آتے ہی گَلے پڑنے لگیں۔ یہی وقت تھا کہ اب نیا بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت تھی۔ اب کی بار یہ بیانیہ دینا پڑا کہ اب تک ملک کی ترقی نہ کرنے کی وجہ قرضوں کا بوجھ ہے، نواز شریف اور زرداری حکومت نے پچھلے دس سالوں میں اتنا قرضہ لے لیا ہے کہ اب ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اب کی بار تعلیم، صحت، اداروں کی بحالی، بلدیاتی ترقی وغیرہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ ایک نئے انداز سے یہ بیانیہ بنا دیا گیا کہ سب کچھ قرضوں کی وجہ سے ہو رہا ہے اور اس میں کرپشن ملوث ہے۔ قرضہ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، آئیے قرضوں پر سوچتے ہیں۔

نوے کی سیاست Governance پر دوسری حکومتوں یا جماعتوں کو زیر کرتی تھی۔ مخالف جماعت کو دیگر ذرائع سے ہٹانے کے باوجود اصل ایجنڈا Governance یا اپنے کارکردگی ہوتا (یہ کارگردگی یا Governance کیسی تھی، یہ الگ بحث کی متقاضی ہے)، مگر دوسری دہائی میں یہ سیاست ختم ہوچکی تھی، اب بیانیوں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی تھی مگر نوے کے سیاست دان اس تبدیلی کو سمجھ نہیں پائے۔ وہ سرمایہ کاری، ٹیکس سسٹم، مہنگائی کے مسائل، پُل، ائیر پورٹ، سڑکیں، موٹر وے، میٹرو بنانے میں مصروف رہے۔ اب بیانیوں کا راج تھا۔

یہاں اس چیز کی وضاحت ضروری ہے کہ Governanceکی جگہ بیانیہ پیش کرنا کوئی بری تبدیلی نہیں تھی، مگر محض بیانیہ دے کے Governance کی جگہ لینا خطرناک کھیل تھا۔ دھاندلی بیانیہ مکمل ختم ہو گیا، پولیس، صحت، تعلیم اور اداروں کی بحالی کی ترجیح کا بیانیہ مکمل ختم ہو گا۔ اہم سرکاری عمارتوں کویونیورسٹی یا پبلک جگہیں بنانے کا بیانیہ ختم ہو گیا۔ کرپٹ افراد اور دیگر جماعتوں کے سیاست دان اکٹھے نہ کرنے کا بیانیہ ختم ہو گیا، نوجوان قیادت لانے کا بیانیہ ختم ہو گیا۔ بلکہ تقریبا آدھی کابینہ پچھلی حکومتوں سے لے لی گئی۔ موروثیت کو زندہ کر دیا گیا۔ بلدیاتی ادروں کو تقریباً بے عمل کر دیا گیا۔ یہ ایک طرح کی ’’چیٹنگ‘‘ کے زُمرے میں آتا تھا، جیسے نیلامی کے وقت کچھ شرائط دی جاتی ہیں کہ جنھیں پورا کرنا ضروری ہوتا ہے جو پارٹی پورا کرلے وہ نیلامی کا ٹائٹل جیت جاتی ہے۔ مگر جب وہ جیت جائے اور بعد میں اچانک شرائط کو پورا نہ کر سکے تو وہ دھوکہ دہی میں شمار کی جاتی ہے۔ عمران خان نے اس طریقے سے دوسروں کو آئوٹ کر دیا مگر خود ان شرائط پر پورا نہیں اتر پائے۔

عمران خانی بیانیہ اور نوے کی سیاست کے کردار اس وقت باہم ٹکرا رہے ہیں اور بظاہر عمران خانی بیانیہ جیت رہا ہے۔ خراب معیشت اور بیانیوں کی موت پر ایک اور بیانیہ سامنے آتا رہے گا، کیوں کہ اب بقا اسی میں ہے۔ حال ہی میں بجٹ پر بحث کرنے، اپنے اہداف پیش کرنے اور ملکی ترقی میں اپنے وژن یا سابقہ بیانیوں کی تکمیل کے لیے راہ نکالنے کی بجائے ایک اوربیانیہ رات کے بارہ بجے پیش کر دیا گیا ہے۔ جی اس بار جوبیانیہ دیا گیا ہے وہ ہے:

’’ایک کمیشن بنے گا جو گذشتہ (صرف) دس سالوں کا حساب کرے گا کہ قرضہ کیوں لیا گیا‘‘

یہ بیانیہ بہت مقبول ہُوا۔ اس دفعہ بھی پچھلے بیانیوں کو بھلا کے نیا بیانیہ قبول کروا لیا گیا ہے۔ اس میں دو باتوں کو یک سر فراموش کر دیا گیا۔ ایک یہ کہ صرف گذشتہ دس سالوں کے لیے ہی کیوں؟ مشرف کا نام لیتے کبھی نہیں سنا گیا، کہیں بھی اور کسی طرح بھی۔ شاید ریاستی اشرافیہ نے نوے کے سیاسی کرداروں کو آئوٹ کرنے کا ’’پابند بیانیہ‘‘ دیا ہُوا ہے، اس لیے مزید پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔ نوے کے بھی صرف وہ کردار جو اس نئے سیاسی منظر نامے کو چیلنج کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، ورنہ چودھری برادران یا اس قبیل کی چھوٹے چھوٹے بہت سے کردار ابھی تک خاموشی سے اس سیاسی ندی میں کنارے کنارے بہہ رہے ہیں۔

اس نئے بیانیے میں دوسری اہم بات ان ’’دس سالوں‘‘ کی بھی ہے۔ صابر کلوروی صاحب کہا کرتے تھے کہ جب میں’’برسوں‘‘ کی جگہ ’’سالوں‘‘ کا سنتا ہوں تو چونک جاتا ہوں۔ اور خیر سے یہ تو ’’دس سالے‘‘ ہیں۔ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں۔

(Visited 163 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: