داستان زیست: اسلام آباد، مابعد — قسط 1 —– محمد خان قلندر

0

“ رے واہ آج تو بہت بن ٹھن کے آئے ہو، بر دکھائی پے جانا ہے کیا؟ یہ رینگلرز کا سُوٹ ! “
صبح صبح سفارت خانے میں ہمارے دفتر میں سینئر کولیگ محترمہ چہکتی ہوئی تشریف لا کے مخاطب ہوئی
ہم باقاعدہ شرما گئے، سامنے کرسی پر براجمان ہوتے مزید استفسار کیا، “تم نے ایمبیسی کس تاریخ کو جائن کی؟
سوال ہی سٹپٹا دینے کو کافی تھا ساتھ اس کی آنکھوں کی ضوپاشی، چہرے پر پھیلی خوشی، ہم تو پریشان ہو گئے
سامنے میز پر پڑے کیلنڈر سے چیک کر کے تاریخ بتائی۔

چمکتی آنکھوں اور دمکتے گالوں سے مجھے دیکھتے مسکرا کی کہا، بیالیس دن پہلے کی یہ تاریخ میری زندگی کی یادگار رہے گی
ہم نے اپنے حواس جمع کئے، اسے غور سے دیکھا، آنکھوں کے نیچے ہلکے پیلے رنگ کے ڈورے اس بات کے غماض تھے کہ بی بی کا کوٹھہ کرایے پر چڑھ گیا ہے، ہم نے تُکا مارا، مُبارک ہو !
یوں لگا کہ وہ اٹھ کے ہمارا منہ چومنے کو ہے، اچھا ہوا اس نے ہونٹ سکوڑ کے ہوائی بوسہ لیتے کلینک کا ادا شدہ بل پکڑا دیا، ساتھ یورین کی پازیٹیو رپورٹ نتھی تھی، محترمہ خیر سے دوبارہ پریگنینٹ تھی، پہلے ایک بیٹی تھی،
ہمیں بھی شرارت سوجھی، کہا، ، ہم نے تو یہاں پہلے دن بس آپ سے شیک ہینڈ کیا تھا، ہم بے گناہ ہیں !
ویسے ہم یہ کہتے میز پے اتنے آگے جھکے تھے کہ اس نے گال پے چپت لگاتے کہا، ، تم بڑے وہ ہو !! مجھے یہ پیسے دو!
چار سو روپے کا ووچر بھرا، دراز سے کیش نکال کے اسے دے دیے، ،
سفارت خانے میں ہمارا آفس، اُس بنگلے کے ڈائیننگ روم میں تھا، درمیانی منزل پے، شمال کی طرف دیوار گیر بڑی کھڑکی تھی، پردے ہٹے ہوں تو سامنے سڑک، پارک اور پہاڑ تک نظر آتے۔

اسلام آباد میں مارگلہ فیس گھر آج بھی مقبول ہیں، برآمدے صحن یا ٹیریس پر بیٹھے مارگلہ کی پہاڑیاں بلکل ساتھ میں لگتی ہیں، ویسے تو اس علاقے کے موسم کے لحاظ سے صدیوں سے گھروں کا رخ جنوب کو ہوتا تھا، پرانی سرکاری عمارات بھی جنوب یا مشرق کے رخ بنی ہوئ ہیں، لیکن اسلام آباد میں شمال کی جانب پہاڑیوں کی وجہ سے یہ رخ جنوب پر فوقیت رکھتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ اسلام آباد شہر ٹیڑھا بنا ہے، کوئ سڑک بھی مشرق مغرب کی اطراف میں سیدھی نہیں، اس لئے تمام مساجد سڑک کے متوازی نہی بلکہ ترچھی ہیں، شمال جنوب کے رخ بنی کوئ سڑک بھی اس زاویہ پر نہیں کہ آپ کی سمت ان پر چلتے قطب یا سول کے رخ سامنے ہو، یہی ٹیڑھا پن یہاں لوگوں کے مزاج میں بھی بس گیا ہے۔

اُس زمانے میں تو اسلام آباد میں اسلام بھی کم تھا اور آبادی بھی تھوڑی تھی، یہاں تین قسم کی مخلوق بستی تھی، اوّل درجے پے غیر ملکی سفارتی عملے کے اہلکار تھے، ان کے مقابل سرکاری افسران تھے لیکن ان سے ذرا کم کروفر کے ساتھ، سفارت خانے کے تھرڈ سیکریٹری کے پاس بھی بڑا گھر اور بڑی نئی گاڑی ہوتی تھی، ان کے لئے مخصوص مارکیٹس اور دکانیں تھیں، تیسرے درجہ پر سرکاری ملازم اور دیگر نوکری پیشہ لوگ تھے
ویسے تو اسلام آباد میں لاتعداد سٹون کرشر لگنے کے باوجود جنگلی حیات بہت تھی، گیدڑ، بندر اور جنگلی سؤر بکثرت تھے لیکن اہم ترین مخلوق پیکرز، پراپرٹی ڈیلرز، ایمبیسی کا گھریلو سامان بیچنے والے کباڑیئے، اور بانڈڈ سٹور والے تھے۔
پہلا ہفتہ تو چانسری اور سفیر صاحب کی رہاش گاہ کی سٹاک ٹیکنگ میں لگ گیا، ویک اینڈ ہمارے پیش رو کی رخصتی کی پارٹیوں میں گزرا، جب سارے کھاتے چیک کئے، اگلا مرحلہ ماہانہ اکاؤنٹ اپنے فارن آفس کو ڈپلومیٹک میل میں بھجوانا تھا، پہلے ہفتے کے بیگ میں نہ جا سکی، ٹیلیکس پے ہماری ملازمت کی منظوری کے ساتھ ہدایات بھی آ گئیں،

بنک کے ساتھ مسئلہ یہ نکل آیا کہ چونتیس ہزار ڈالر کی ترسیل غلطی سے ہمارے ڈالر اکاؤنٹ میں دو بار کریڈٹ ہو گئی تھی، پہلی بار ٹیلیکس میسج پے اور دوبارہ ایڈوائس آنے پے، غلطی بنک کی تھی، لیکن وہ اب اسے ریورس نہی کر سکتے تھے کنورٹیبل فارن کرنسی اکاؤنٹ میں سفارت خانے کی تحریری ہدایت کے بغیر اب کوئ ایکشن ممکن نہ تھا، معاملہ تین ماہ سے لٹکا ہوا تھا، بنک مینجر اور آفیسر سے پورے سال کی بنک اکاؤنٹ سٹیٹمنٹ بنوائ، اسے ماہانہ اکاؤنٹس کے ساتھ نتھی کر کے بھجوا دیا، اس پے پہلی ڈانٹ پڑی، سفیر صاحب نے پوزیشن کلیر کر دی، یہ مجھ سے پہلے کا واقعہ تھا۔
فارن آفس اکاؤنٹس نے بھی چیک کر لیا اور چونتیس ہزار ڈالر بنک میں بھیج دئے، یہ بات اسلام آباد کی بستی میں پھیل گئی، بنک والے تو مرید ہوئے باقی متعلقہ لوگوں پر بھی دھاک بیٹھ گئی۔

دوسرا اہم مسئلہ چھ عدد نیشنل کے ریورس ایبل ایر کنڈیشنرز کا تھا، بانڈڈ ویر ہاؤس کو پاکستان فارن آفس کو بھیجے گئے ایگزمشن سرٹیفکیٹ کی کاپی دے کے اے سی تو ڈیلیور ہو کے لگ بھی گئے، لیکن اپروڈ سرٹیفکیٹ کی کسی نے پرواہ نہ کی، کسٹم والوں کے آڈٹ میں پوانٹ آؤٹ ہوا، ہمارے پیشرو کے تعلقات اس بانڈ والوں سے کشیدہ ہوں گے ورنہ کام مشکل نہ تھا، بانڈ والوں سے میٹنگ ہوئ، کاغذات تیار کرائے، سفیر صاحب سے اجازت لی اور ہم پہلی بار شاہراہ دستور پر فارن آفس گئے، ڈپٹی چیف آف پروٹوکول سے فون پر ملاقات طے کرتے لہجہ مانوس لگا اور وہ اپنے جوہرآباد کے ملک نکلے، گرائیں ہونا ہمارے علاقے کا وہ شرف ہے کہ اس سے بڑھ کر تعارف نہی !

اس وزٹ کے بعد ہم فارن آفس ایسے جاتے جیسے اپنا کالج ہو، بانڈ والوں کا مسئلہ حل کر دیا تو انہوں نے فوری طور پر رینگلر کے دو سوٹ میچنگ شرٹس، ساکس، نکٹائ اور پاکٹ ہینکی کا گفٹ پیش کیا، اسے آپ ہماری پہلی اوپر کی کمائی کہہ لیں، اب ڈپلومیٹک سرکل میں ہمارا تعارف عام ہو گیا۔
ایمبیسی میں سفیر صاحب کے علاوہ تین ڈپلومیٹ تھے، فرسٹ سیکرٹری فارسی صاحب انکے نائب، باری صاحب کونسلر افیئرز اور ناصر صاحب تھرڈ سیکرٹری ایڈمن کے انچارج اور ہمارے کام کے انچارج، لوکل ملازمین میں مترجم، ویزہ کلرک، انگلش ٹائیپسٹ، ایڈمن اسسٹنٹ، لیڈی سیکرٹری، خاتون عربی ٹائپسٹ، اور ریسپشن والی بی بی، گارڈز سمیت کلاس فور میں ڈرائیور کِک وغیرہ بارہ بندے تھے، ہم ان سب کے چوہدری بھی تھے، گارڈز پٹھان تھے جن میں ہمارے پسندیدہ لال داڑھی والے خان بابا تھے، جو چانسری میں لگے پول پر صبح ایمبیسی فلیگ چڑھاتے اور سیلوٹ کرتے، شام کو سیلیوٹ کر کے اسے اتار کے تہہ کر کے سنبھال کے رکھ دیتے، کوئ دیکھے نہ دیکھے ان کے اس کام کو احترام سے کرنے سے ہم بہت متاثر تھے۔
ہمیں دو ہفتے ہوئے تھے جائن کیئے، دن کا ایک بجا ہو گا خان بابا نے مجھے ریسپشن پے بلوایا، ہم دونوں سڑک پر آ گئے بڑی رازداری سے کہنے لگا، ، آپکا کوئ رشتہ دار لڑکی آیا، ہم سے آپکا پوچھا، بولا ذاتی کام ہے، ہم نے اسے مارکیٹ بھیج دیا، کہ کتاب کی دکان پے انتظار کرو، ادھر گیٹ پے ٹھیک نہی، ہم صاحب کو بتاتا ہوں ! تم جاؤ ادھر کوئ پوچھا تو ہم دیکھ لے گا !!

ہم خان بابا کی ذہانت کے اور قائل ہو گئے، مارکیٹ سامنے پارک سے آگے تھی، اندر گئے تو بک شاپ پے فرحی گریٹنگ کارڈ خرید رہی تھی، دکاندار تو سنگی تھا اسے سلام کیا تو فرحی آواز سن کے متوجہ ہوئ سلام کیا، کارڈ کی قیمت پوچھی، دکاندار نے ہنس کے کہا، رہنے دیں صاحب سے لے لوں گا، وہ نروس لگ رہی تھی، مارکیٹ سے باہر آئے۔ اس نے ایسے ملنے آنے پر معذرت کی، اور بتایا کہ وہ سیاحت کے محکمہ کے آفس میں انٹر ویو دے کے آئ ہے۔ سیلیکشن کی قوی امید ہے، بس دو ریفرنس چاہیئے تھے، جن میں ایک نام میرا دیا ہے۔
میں نے کہہ دیا فون کر لیتی آپ ! اس کی آواز دکھ بھری ہو گئی، کہا، ، کتنی بار فون کیا، ہر بار ہولڈ کرانے بعد جواب ملا، صاحب سیٹ پر نہیں، نام آپکی آپریٹر نے پوچھا نہی، بتانا مناسب میں نے نہیں سمجھا۔

آج مجبوری بن گئی، وہاں اعجاز صاحب ڈائرکٹر ہیں، وہ آپکو جانتے ہیں، اب پلیز انکا فون اگر آئے تو بات کر لیں
فرحی نے اتنے تسلسل سے بات کی اور اچانک ملاقات کی حیرانی سے مجھے صورت حال سمجھنے میں دیر لگی،
میں نے پوچھا اب کہاں جاؤ گی، وہ بھی نارمل ہو گئی، ہلکا سا ہنس کے، بولی، ، جہاں لے جاؤ،
سڑک پر نہ ہوتے تو اس محبت کا جواب بوسہ تھا پر۔ ۔ ۔ ۔ اسے کہا مارکیٹ میں دس منٹ ونڈو شاپنگ کرو
دفتر سنبھال کے اور کار لے کے یہیں آتا ہوں، اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں کاٹتے کہا۔ ۔ جلدی ناں !

اس داستان کا اگلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

(Visited 212 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: