میرا سکول ——- قانون فہم

0

میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوں۔ میں نے پاکستان کے ایک بڑے شہر میں اپنا ایک نجی تعلیمی ادارہ کھول رکھا ہے ۔ جس کا نام پاکستان پبلک سکول ہے ۔ 2007 میں جب میں  پاکستان واپس آیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اسکول کے پرنسپل نے سکول کا کاروبار برباد کر دیا ہے ایک ایسا اسکول جس میں 2 ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم تھے اس میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد گر کر چند درجن رہ گئی تھی۔

سٹاف کی تنخواہ دینے کے بعد ماہانہ کئی لاکھ روپے خسارہ ہو رہا تھا تھا اس عمارت کو کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا عمارت کے دائیں بائیں بھی دو بڑے سکول واقع ہیں ایک کا نام بھارت پبلک اسکول اور دوسرے کا نام افغان پبلک اسکول ہے ۔میں نے آکر دیکھا کہ دونوں تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ساتھ میرے اسکول انتظامیہ کا کوئی شدید نوعیت کا جھگڑا چل رہا ہے ہے دونوں ہمسایہ تعلیمی اداروں کے طلبہ اپنا تمام تر کوڑا کرکٹ اور جب بھی موقع ملے تو پتھر مار کر میرے اسکول کی عمارت کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جس کو ٹھیک کروانے پر کافی ماہانہ خرچ آ رہا تھا۔

بہرحال میں نے اخبار اشتہار دیا انٹرویوز کیے اور بالآخر مجھے ایک اچھا پرنسپل مل گیا جس کا نام آصف زرداری تھا میں نے اسے اپنے اسکول کی مینجمنٹ منتقل کی۔ سکول کی حالت کو درست کرنے کا ٹاسک دیا اور پھر دوبارہ بیرون ملک چلا گیا۔نئے پرنسپل نے آتے ہی  سب سے پہلے دونوں ہمسایہ اسکولوں کی انتظامیہ سے اپنے تعلقات بہتر کیئے ۔اسکول کے اندر جو طلبہ شرارتی تھے جن کی وجہ سے ہمسایہ تعلیمی اداروں کے طلبا سے تعلقات خراب ہوتے تھے ان سب پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اور سب سے بڑھ کر اس نے ایک بڑی مہم چلائی۔ اور نئے طلباء تلاش کر کے سکول میں داخلے بڑھائے تین سال کی مدت میں  وہ سکول کی تعداد کو دوبارہ دو ہزار سے اوپر لے جانے میں کامیاب ہوگیا یا پرنسپل نے ایک اور کام کمال کا کیا اس نے فیس نصف کر دی اور اساتذہ کی تنخواہیں دگنی کردی ۔ جس کے حیرت انگیز نتائج نکلے  اور اساتذہ اور پرنسپل نے گھر گھر جاکر طلبہ کو قائل کر کے نئے ایڈمیشن بنائے  جس سے سکول کی تعداد اس لائق ہوگی کہ کم فیس کے باوجود سکول اچھا چلنے لگا۔سب سے بڑی کامیابی اس پرنسپل کی یہ تھی کہ تمام امتحانات میں میرے اسکول کے بچے اعلیٰ ترین پوزیشن حاصل کر رہے تھے اور پورے علاقے میں ان کا مقابلہ نہیں تھا ۔اسکول مجھے ماہانہ کئی لاکھ روپے منافع دے رہا تھا تھا۔اس پرنسپل کی ایک ہی شکایت مجھے ملی کہ وہ سکول کی عمارت کی شان و شوکت پر کم دھیان دیتا ہے ۔میرا تصور نجی تعلیمی ادارہ کے بارے میں یہ تھا اگر یہ دکھائی دینے میں شان و شوکت اور ٹیپ ٹاپ کا حامل نہ لگے تو والدین بچوں کو اسکول میں بھجوانے سے کتراتے ہیں

میں نے کمرشلزم کی آنکھ سے دیکھا اور اپنے پرنسپل کو فارغ کر دیا ۔2013 میں میں نے ایک نیا پرنسپل رکھا۔اس پرنسپل کی شہرت یہ تھی کہ یہ تعلیمی ادارہ کے چہرہ کو خوبصورت بناتا ہے۔ پانچ سال اس پرنسپل محمد نواز شریف نے تمام کلاس روم میں  ائرکنڈیشنرز لگوائے۔ سب کلاس رومز میں فانوس لگوائے پرنسپل آفس میں اور اسٹاف کے لیے گھومنے والی کرسی مہیا کی۔ طلبہ کے لئے اعلی ترین کوالٹی کا فرنیچر مہیا کیا گیا۔ اس کی فلاسفی کے مطابق اساتذہ کو اگر زیادہ تنخواہ دی جائے تو وہ کام کم  کر دیتے ہیں ۔لہذا اس نے تمام اساتذہ کی تنخواہیں نصف سے بھی کم کردیں اور فیس کو چار گنا بڑھا دیا۔

سکول میں کم تنخواہوں پر غیر تربیت یافتہ سٹاف جو دیکھنے میں بہت خوبصورت اور اچھے کپڑے پہننے والے تھے مگر انہیں تعلیم سے ہرگز کوئی علاقہ نہیں تھا رکھے گئے تھے۔اسکول ایک بار پھر ماہانہ کئی لاکھ روپے کا خسارہ کا شکار تھا۔پرنسپل نے نے سائنس اور دیگر تکنیکی مضامین  کی لیبارٹریاں بند کروا دیں  اور سکول کے اندر میوزک روم اور سینما بنوایا۔اسکول میں ہر ہفتے ایک نامور گلوکار یا آرٹسٹ بلا کر ایک اچھا فنکشن ارینج کیا جاتا تھا جس میں اہلیان شہر کی شرکت ضروری ہوتی تھی ۔اسکول کی آمدنی کا ایک چوتھائی میڈیا مہم اور پبلسٹی کے لئے مختص کر دیا گیا تھا۔

غرض یہ  کہ سکول میں اچھی تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے اور فیسوں کے بلاجواز اضافہ کی وجہ سے اسکول میں بچوں کی تعداد بالکل کم رہ گئی تھی ۔خصوصی طور پر امتحانی نتائج میں میرا سکول بہت پیچھے رہ چکا تھا۔

۔جب میں پانچ سال کے بعد واپس آیا تو پتہ چلا کہ طلبہ کی تین چوتھائی تعداد فیس بڑھنے اور اچھے اساتذہ کے سکول چھوڑنے  کی وجہ سے سکول چھوڑ چکی ہے۔ اور اسکول کے اعلیٰ ترین ٹیچنگ سٹاف ماسوائے  پرنسپل کے سب کے سب سکول چھوڑ چکے تھے۔

2018 میں میں نے پرنسپل کی تلاش میں بین الاقوامی اخبارات میں اشتہار دیا اور بین الاقوامی شہرت یافتہ افراد کی تلاش کی۔نیا پرنسپل آکسفورڈ یونیورسٹی کا فارغ التحصیل۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ۔ انتہائی خوبصورت کسرتی جسم کا مال ایک معروف ریٹائرڈ کھلاڑی تھا۔ عمران خان کو جب میں نے چارج دیا ۔اسکول میں دو اڑھائی سو کے قریب بچے زیر تعلیم تھے سکول کا سٹاف مکمل تھا تھا اور عمارت انتہائی پرشکوہ اور خوبصورت تھی۔

میری بیرون ملک روانگی کے بعد نئے پرنسپل نے اپنی پالیسی اسکول پر لاگو کی۔ اس نے سب سے پہلے تمام ٹیچرز کو غیر ضروری قرار دے کر نکال دیا۔ اور اس نے کہا کہ میں پڑھانے کے لئے کافی ہوں۔اس نے اسکول کی صفائی ستھرائی کے عمل کو بھی انتہائی غیر ضروری قرار دیا اور تمام جنیٹوریل سٹاف ہی نکال دیا ۔پرنسپل کا ماننا یہ تھا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لیے بچت کرنا بہت زیادہ اہم کام ہے ۔ بجلی کا کنکشن کٹوا دیا اور کمروں کے لیے دیے کا انتظام کردیا ۔کلاس روم میں ایئرکنڈیشنرز کی بجائے دستی پنکھے مہیا کر دیے گئے۔ہم نئی کلاسز کے ایڈمیشن کے وقت ہم ایک میڈیا کمپین چلاتے تھے جس پر کافی پیسے خرچ ہوتے تھے اور مارکیٹنگ کے لوگ گھر گھر  جا کر نئے داخلوں کے لیے والدین کو قائل کرتے تھے نئے پرنسپل نے یہ مہم غیر ضروری قرار دے کر ختم کر دی۔

اس پرنسپل  نے ماضی میں اختیارکردہ پالیسی کہ اگر ہم ہمسایہ اسکولوں میں گندگی پھینکنے لگے تو وہ جواب میں ہمارے تعلیمی ادارہ کی فضا کو خراب کریں گے اور زیادہ گندگی پھینکنے لگیں اور نقصان پہنچائیں گے اس پالیسی کو بھی ختم کردیا۔صفائی کا باقاعدہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اور سٹاف کو فارغ کر دیے جانے کی وجہ سے اب سکول میں صفائی کا کام طلبا ہی کرتے تھے اور وہ سارا کوڑا اکٹھا کرکے ہمسایہ اسکول میں پھینکتے تھے۔ جب اگلے روز اسکول میں آتے تو دائیں بائیں کے دونوں اسکول بہت زیادہ پتھر اور گندگی ہمارے اسکول میں پھینک چکے ہوتے تھے جس سے عمارت کا روپ آہستہ آہستہ گہنا گیا۔شیشے ٹوٹ چکے تھے۔ عمارت کی لکڑی کا سٹرکچر برباد ہو چکا تھا اسکول تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا تھا اسکول میں کوئی طالب علم باقی نہ رہا تھا اور پرنسپل کو یقین تھا کہ عنقریب اس کی محنت شاقہ رنگ لائے گی اور یہ اسکول دنیا میں پہلی پوزیشن میں آجائے گا۔اسکول میں ٹیچر نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی جب ٹیچر نہ رہے تو ظاہر ہے طلباء کا بھی وہاں کیا کام تھا اس تمام طلباء سکول چھوڑ گئے ۔

اس باراتفاقا مجھے  دس مہینے کے بعد ہی  پاکستان مجبوری میں واپس آنا پڑا۔ جب میں اسکول پہنچا تو یقین جانیں  میرا دل خوشی کے مارے بلیوں اچھل رہا تھا  کہ تبدیلی آئی ہے۔

اب میں اور میرا پرنسپل آمنے سامنے بیٹھے ہیں میں پرنسپل کی مردانہ وجاہت ۔ اس کے کسرتی جسم۔ اس کی بین الاقوامی شہرت اس کی غیر ملکی ڈگری سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ پرنسپل کا کہنا یہ ہے کہ مزید چھ مہینے کے بعد وہ اسکول میں طلباء کی تعداد ہمسایہ اسکولوں سے تین گنا بڑھا دے گا۔پرنسپل نے مجھے بتایا کہ ہم سایہ دونوں سکول بھارت پبلک سکول افغان پبلک سکول اس کی شہرت اور کامیابی سے بہت جلتے ہیں اور وہ جب بھی موقع ملے دونوں اسکولوں کی انتظامیہ کو گالیاں بھی دیتا ہے اور ان کی طبیعت کو صاف رکھتا ہے۔ آپ سب دوستوں کی رائے درکار ہے کہ کیا میں پرنسپل کو نوکری پر جاری رکھوں کیونکہ وہ بہت دیانتدار ہے بہت ہی ایماندار ہے۔ اور بچت کرنے کا بہت ماہر ہے۔

(Visited 157 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20