بیرمل کا نوحہ ——- ہارون وزیر

0

دنیا میں بہت سی اقوام مختلف ممالک میں تقسیم ہیں جیسا کہ عرب، کشمیری، فارسی، پنجابی، ازبک، بلوچ اور اسی طرح دیگر بہت سی اقوام لیکن بیرمل کے لوگوں کی جو کہانی میں آج بیان کرنے لگا ہوں وہ ان سب سے مختلف اور دردناک ہے۔ بیرمل کی مثال اس درخت کی سی ہے جس کی جڑیں تو پاکستان میں ہیں لیکن اس کی شاخیں سرحد پار افغانستان تک پھیلی ہوئی ہیں۔ بیرمل دراصل شمالی وزیرستان کا علاقہ ہے جو ڈیورنڈ لائن کے باعث دونوں ممالک میں منقسم ہے۔ یہ علاقہ انگور اڈہ سے لے کر لواڑہ دتہ خیل تک پھیلا ہوا ہے۔ اس انتہائی غیرمنصفانہ تقسیم کا شکار ایسے گھر بھی ہوئے ہیں جو آدھے افغانستان کی حدود میں ہیں اور آدھے پاکستان کی حدود میں۔ بیرمل کا ایک باپ جب اپنی جائیداد دو بیٹوں میں تقسیم کرتا ہے تو جائداد کی تقسیم کے باعث ایک بھائی افغانی بن جاتا ہے اور دوسرا پاکستانی۔ دونوں بھائیوں کے گھر ایک دوسرے کے اتنے نزدیک ہوتے ہیں کہ وٹا (پتھر) ماریں تو دوسرے گھر میں پہنچ جائے لیکن جب وہ ایک دوسرے کی خوشی یا غم میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو اس کیلئے سینکڑوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار جب پاک افغان ٹینشن کے باعث بارڈر بند ہوجاتے ہیں تو چاہے سرحدی لکیر کے اس پار ایک بھائی کا جنازہ پڑا ہو، دوسرا بھائی اس جنازے کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔

بیرمل کے لوگ اب بھی اس آس میں جی رہے ہیں کہ شاید یہ علاقہ پاکستان کو مل جائے۔ یا پاکستان اسے کسی نہ کسی طرح اپنے ملک میں شامل کرلے۔ اگرچہ سرحد پار بیرمل کے وزیر قبائل کے پاس بیک وقت پاکستانی اور افغانی شناختی کارڈز موجود ہیں یعنی ان کے پاس دوہری شہریت موجود ہے لیکن چونکہ ان کی بنیاد پاکستان کا وزیرستان ہے اسی لئے وہ پاکستان کو ہی اپنا گھر تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانی ان کو پاکستان کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے افغان ملی اردو ان پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہی ہے وہ بھی اسی بات کا نتیجہ ہے۔

بیرمل کے لوگوں کی کلائیوں پر بندھی گھڑیوں میں وقت بھی پاکستانی ہوتا ہے جب کسی ملی اردو والے کو ان کے ہاتھ پر بندھی گھڑیوں میں پاکستانی وقت نظر آتا ہے تو وہ ان کو کہتے ہیں کہ ہاتھ چاہیئے یا گھڑی۔ ظاہر ہے کون ہاتھ کٹوانا چاہتا ہے اسی لئے گھڑی اتار کر دے دیتے ہیں۔ پتہ ہے وہ گھڑی کے ساتھ کیا کرتے ہیں وہ اس گھڑی کو پتھروں سے مار مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ یہ ہے افغان ملی اردو کی نفرت کا عالم۔ بیرمل کے لوگ ایسی نفرت میں جی رہے ہیں۔ جانتے ہو بیرمل کے یہ لوگ کون ہیں؟ یہ اس قبیلے کے لوگ ہیں جن کی بہن کی شادی اگر کسی دوسرے قوم میں ہوجاتی ہے تو اس کے بچوں سے اس دوسری قوم کے لوگ اس ڈر کے مارے جھگڑا نہیں کرتے چے دا دا وزیرو خوریان دی (ان سے بچ کر رہو یہ وزیروں کے بھانجے ہیں)۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسے غیور لوگ آج اس غیر منصفانہ تقسیم کے باعث ایسی کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔

حکومت وقت سے درخواست ہے کہ جن کو آپ اپنا کہتے ہیں۔ جن کو آپ نے پاکستانی شناختی کارڈ دیا ہوا ہے۔ افغانستان میں رہ کر جن کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ برائے مہربانی ان کو اپنا سمجھیں۔ جس حد تک ممکن ہو ان کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔ ان لوگوں کو خصوصی درجہ دے کر ان کو انگور اڈہ اور لواڑہ دتہ خیل کراسنگ پر ان کو بلا روک ٹوک آنے جانے دیا جائے۔

اگر آپ کو ڈر ہے کہ ان کی آڑ میں افغانی گھس جائیں گے تو آپ کم سے کم ان کو تو آنے دیں جن کے شناختی کارڈز شواہ شمالی وزیرستان کے پتے پر آپ نے خود جاری کئے ہیں۔ اس طرح سے ان کو اپنائیت کا احساس دلائیے۔ ان کو جتائیں کہ ہم بھی آپ کو اپنا سمجھتے ہیں۔ ان کو اس شرمندگی سے بچائیں جو بارڈر بند ہونے کے باعث افغانی ان کو طعنے کی شکل میں دلاتے ہیں کہ دیکھ لو اپنا پاکستان جو آپ کو داخل بھی نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

میری تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ میری آواز میں آواز ملا کر اس کو حکومت وقت تک پہنچانے میں میری مدد کریں۔ یہ بیرمل کے لوگوں کا قرض ہے ہم پر جو ہم نے چکانا ہے۔

(Visited 111 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20