بجٹ پر ٹیکس چوری کے اثرات —– لالہ صحرائی

0

ہفتہ قبل ایک مضمون لکھا تھا کہ آنے والے بجٹ میں ان۔رجسٹرڈ اکانومی پر سرجیکل سٹیپ لے لینا چاہئے اور “کرنٹ بجٹ” پر اپنے تبصرے میں بھی یہی بات کہی تھی کہ جس خوبصورتی سے اکنامک کرنچ کو ہینڈل کیا ہے اس میں ان۔رجسٹرڈ سرکل کی گردن بھی ناپ لی جاتی تو عوام کو بہت اچھا ریلیف مل سکتا تھا۔

اس بات کی چھوٹی سی جھلک آپ کو اس مضمون میں دکھاتا ہوں کہ ان۔رجسٹرڈ سرکل کس طرح قوم کو معاشی طور پر مفلوج کرنے میں گہرا کردار ادا کر رہا ہے، بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ کرپشن میں بیوروکریسی تیسرے نمبر پہ، سیاستدان دوسرے پہ اور حقیقت میں نمبر ون یہ ان۔رجسٹرڈ سرکل ہی ہے۔

اس کیلئے ایک پروویژنل ورکنگ کرتے ہیں:
مگر اسے غور سے سمجھئے گا، پرو کا مطلب ہے عبوری، یعنی اگر کہیں سے دھواں اٹھ رہا ہے تو یقیناً اس کے پیچھے آگ بھی ہوگی، دھویں کی کثافت پتا چل جائے تو تپش کی مقدار ہم خود ہی معلوم کر لیں گے۔

وہ دھواں کیا ہے؟
دھواں یہ ہے کہ پچھلے سال پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے تین ارب چوراسی کروڑ روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا تھا، اس سال کی شماریات ابھی آئی نہیں لیکن امید ہے کہ اس سے زیادہ ہی ہوگا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ منچ کتنا بڑا تھا، جس کا دھواں پونے چار ارب کا ہے۔

اسے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ ساٹھ لاکھ کی آمدنی پر پینتیس فیصد ٹیکس لگتا ہے لیکن اس پونے چار ارب کی رقم کے اندر بہت سے چھوٹے منافعدار بھی ہوں گے جن کی وجہ سے ایوریج گر کے پچیس فیصد پہ آجائے گی۔

لہذا ہم پچیس فیصد کے ریٹ سے اس کا ورک۔بیک نکالیں تو یہ پتا چل جائے گا کہ وہ منافع کتنا تھا جس پر یہ ٹیکس حاصل ہوا۔

اس لحاظ سے پونے تین ارب کا مطلب ہے کہ یہ ٹیکس تقریباً پندرہ ارب روپے کی نیٹ انکم پر ادا کیا گیا ہے۔

اب اگر یہ جاننا ہو کہ پندرہ ارب کا منافع کتنی سرمایہ کاری سے حاصل ہوا ہوگا تو یوں سمجھ لیں کہ اکثر اقسام کے بزنس میں سرمایہ کاری کا پچیس فیصد منافع مل جاتا ہے لیکن ہم تعلیمی اداروں کے معاملے میں اسے کم ترین سطح پر دس فیصد سالانہ مان لیتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ان اداروں کو ملنے والی فیسوں کی مقدار لگ بھگ ڈیڑھ کھرب روپے کے قریب تھی۔

یہاں ورک۔بیک ختم ہو گیا:
کیونکہ ہمیں سب ضروری چیزیں دستیاب ہو گئی ہیں، آپ کو بات کی سمجھ نہیں آئی تو اب اس چیز کو سیدھا کرکے سمجھا دیتے ہیں؛

پچھلے ایک سال میں اس غریب سی قوم نے اپنے بچے پڑھانے کیلئے پرائیویٹ اداروں کو جو رقم فیسوں کی مد میں ادا کی ہے وہ ڈیڑھ کھرب روپے بنتی ہے۔

اس رقم میں سے تعلیمی اداروں نے اپنے اخرجات نکال کے باقی تقریباً دس فیصد منافع حاصل کیا جس کی مقدار پندرہ ارب روپے بنتی ہے اور اس انکم پر پچیس فیصد کے حساب سے وہ تین ارب چوراسی کروڑ روپے بطور انکم ٹیکس ادا کئے تھے۔

یہ صرف ان بڑے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بات ہے جو چُھپ نہیں سکتے اسلئے ریکارڈ پر آگئے ہیں، ان کے علاوہ اتنا ہی ٹرن اوور ان چھوٹے موٹے سکولوں کا بھی نکلے گا جو بستی بستی قریہ قریہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور جتنا ان سب کا ٹرن اوور ہے تقریباً اس کا ستر فیصد نہیں تو پچاس فیصد تک ٹیوشن سینٹر مافیا کا بھی ہوگا۔

یہ ورکنگ آپ کی سمجھ میں آگئی ہو تو پھر ان۔ڈاکومنٹڈ اکانومی کا نقصان آپ کی سمجھ میں آئے نہ آئے مگر اس قوم میں موجود ٹیکس چوروں کی تعداد کا پتا ضرور چل جائے گا-

پہلی بات یہ ہے کہ پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر پانچ سال پہلے تک کوئی خاص ٹیکس نہیں دیتا تھا لیکن جب ان کے گلے میں فیسوں پر ودہولڈنگ کا پھندہ ڈال دیا گیا تو اپنا اصلی ٹرن اوور سامنے لانا ان کی مجبوری بنتا چلا گیا، ابھی بھی اس میں کافی لیکونا موجود ہے یعنی یہ اصل رقم نہیں بلکہ لگ بھگ بیس تیس فیصد چوری کرنے کے بعد کی صورتحال ہے-

دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ ایک بچے کی ایوریج فیس دس ہزار روپے ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ڈیڑھ کھرب روپیہ فیس دینے والے بچوں کی کل تعداد ڈیڑھ کروڑ کے قریب بنتی ہے، یہ ضروری نہیں کہ ایک گھر کا صرف ایک ہی بچہ ان میں شامل ہو، ممکن ہے کسی کا ایک، کسی کے دو اور کسی کے تین بچے بھی ایکساتھ پڑھ رہے ہوں، اگر ہم فی گھرانہ تین کی ایوریج بھی رکھ لیں تو اس کا مطلب ہے کہ ڈیڑھ کھرب روپے فیسیں ادا کرنے والے گھرانوں کی کل تعداد پچاس لاکھ کے قریب بنتی ہے-

یہ پچاس لاکھ گھرانے جو اپنے تین بچوں پر سالانہ چار لاکھ روپے صرف تعلیم کی مد میں خرچ کرتے ہیں ان کی آمدنی میرے حساب سے کسی طرح بھی بارہ لاکھ روپے سالانہ سے کم نہیں ہے-

اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس رجسٹرڈ ٹیکس گزاروں کی کل تعداد صرف بیس لاکھ ہے جن میں سے چھ لاکھ کے قریب نِل کی ریٹرن فائل کرتے ہیں، چھ لاکھ کے قریب تنخواہ دار ہیں، باقی آٹھ لاکھ میں سے کچھ ٹریڈرز ہیں اور باقی وہ لوگ ہیں جو اصل میں آپ کو بجٹ کیلئے بلک۔ریوینیو فراہم کرتے ہیں۔

یعنی ان چودہ لاکھ لوگوں نے پچھلے سال آپ کو بجٹ کیلئے چھتیس سو ارب روپے کا ریوینیو دیا تھا اور اس سال انہی لوگوں سے آپ نے باون سو ارب روپیہ مانگا ہے، یہ لوگ باون سو ارب دیں گے تو ہی آپ کے بجٹ کا ٹارگیٹ پورا ہوگا ورنہ بجٹ کو کٹ لگے گا اور اس صورت میں وہ دوسری یا تیسری سہہ ماہی پر ریوائز۔ڈاؤن ہو جائے گا۔

آپ کے نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ:
صرف پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر کو جزوی طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے سے اس کے پیچھے کھڑے پچاس لاکھ افراد نظر آنے لگتے ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ میں ہونا چاہئے لیکن ہمارے ٹیکس نیٹ میں حصہ ڈالنے والے صرف چودہ لاکھ افراد ہیں، یہ باقی کے چھتیس لاکھ لوگ کس وجہ سے لاڈلے ہیں کہ یہ ٹیکس نیٹ میں نہیں آئے۔

کیا یہ اوپر کے چھتیس لاکھ لوگ قومی مجرم نہیں جو اس ملک کے وسائل سے نہ صرف خود قابل ٹیکس آمدنی کما رہے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی فرسٹ کلاس ایجوکیشن دلوا کے اس قابل کررہے ہیں کہ وہ بھی اس نظام میں اپنے لئے اچھا مستقبل حاصل کرلیں مگر ایمانی حالت یہ ہے کہ ملک و قوم کا حق مار کے ٹیکس نیٹ سے باہر بیٹھے ہیں۔

شک رفع کرنے کیلئے یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہاں میں نے جو ورکنگ پیش کی ہے وہ لو۔رینڈم اور لو۔ایوریج کی بنیاد پر کی ہے، اگر اسے آنے پائی سے درست کرکے صحیح رپورٹ نکالی جائے تو ان چوروں کی تعداد بڑے آرام سے ساٹھ ستر لاکھ کے درمیان پہنچ جائے گی، اور ان میں بیلو۔دی۔رڈر چلنے والے سکولوں اور ٹیوشن سینٹروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ بڑے آرام سے ایک لاکھ تک پہنچ جائیں گے۔

پھر ان کی ایوریج آمدنی بھی آپ کو بتا دی ہے، اس آمدنی پر فی کس منیمم ٹیکس تیس ہزار روپے فی کس بنتا ہے، یہ وصول کر لیا جائے تو اس ایک سیکٹر کے آدھے حصے سے آپ کو سال بھر کا ایک سو آٹھ ارب روپے کا ریوینیو ملے گا اور اگر کریک ڈاؤن کرکے اس ایک لاکھ افراد کو نیٹ میں لے آئیں تو تین ارب روپے سالانہ ان کا بھی منڈیر پہ پڑا مل جائے گا۔

اگر ٹیکس براڈننگ پر کام ہونے لگے یا اسی طرح سے باقی کے دس بڑے بزنس سیکٹروں کا انٹر۔لنکڈ ڈیٹا نکال کے ورک۔بیک موڈ میں دیکھا جائے تو ہر سیکٹر میں بڑے آرام سے ایسے ہی ڈائریکٹلی اور ان۔ڈائریکٹکلی لاکھوں لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے کے قابل نکل آئیں گے جو آپ کا سرکلر ڈیبٹ مستقل طور پر اپنے سر لے سکتے ہیں، یہ ڈیٹ ختم ہو گیا تو انرجی وافر ہو جائے گی اور ہر کام چل پڑے گا۔

حکومت کا حق ہے کہ ان لوگوں کا ڈیٹا حاصل کرکے انہیں ٹیکس نیٹ میں لائے مگر دیتا کوئی نہیں جبکہ ہر بزنس سیکٹر کیلئے یہ قانون بھی موجود ہے کہ جو ان سے سالانہ پچاس لاکھ سے زائد کی خریداری کرے اس کا ڈیٹا حکومت کو فراہم کریں تاکہ حکومت اسے ٹیکس نیٹ میں لائے مگر کرتا کوئی نہیں۔

اس وقت قوم کا صرف ایک فیصد حصہ ٹیکس نیٹ میں ہے جس میں سے بوجھ اٹھانے والا طبقہ صرف پونا فیصد حصہ ہے، میرے حساب سے رجسٹرڈ ٹیکس نیٹ قوم کا بیس فیصد ہونا چاہئے جس میں سے ڈھائی کروڑ لوگ بوجھ اٹھانے والے ہوں، سیلز ٹیکس، سروس ٹیکس اور انکم ٹیکس کا ریٹ آدھا ہو جائے تو بھی آپ کے قومی ریوینیو کا والیم دس ہزار ارب سالانہ بڑے آرام سے نکل آئے گا۔

مگر کرے گا کون؟
ایک تو یہاں کام کرنے والا کوئی نہیں اور دوسرا یہ عوام بھی انتہائی مکار ہیں جو کرپٹ اشرافیہ کا تو سخت حساب چاہتے ہیں مگر اپنے گریبان میں جھانک کے دیکھنے کیلئے تیار نہیں کہ خود اپنا فرض بھی ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔

میں نے بجٹ کو اس کی تلخی کے باوجود بہتر اسلئے قرار دیا ہے کہ جہاں اتنا بڑا اکنامک کرنچ ہو وہاں اتنا مینیج کرلینا بھی بہت ہے لیکن نیٹ براڈننگ اور ودہولڈنگ میں کمزوری دکھانے پر اتفاق نہیں کیا کیونکہ جہاں قوم کا صرف پونا فیصد ٹیکس دے اور باقی سب ہڈ حرامی کریں وہاں آپ کب تک سروائیو کریں گے اور غریب عوام بھی کب تک بھگتے گی۔

میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اپنے جاننے والے سو گھرانوں کی لسٹ بنا کے دیکھ لیں، ان میں سے آدھے آپ کو اسی کیٹگری میں نظر آئیں گے جن کی آمدنی قابل ٹیکس نظر آئے گی، حکومت پر چلانے سے پہلے اس پر بھی توجہ ہونی چاہئے۔

اور سچ کہوں تو بجٹ پر لعن طعن کرنیوالے فیس بک کے رنگ برنگے مجاوروں کا جائزہ لیا جائے تو ان کی اکثریت بھی انہیں گھرانوں سے نکلے گی جو اس ان۔ڈاکومنٹڈ اکانومی کا نمایاں حصہ ہیں۔

  1. ریاست ماں ہوتی ہے یہ سب کو پتا ہے اور ریاست کے بیٹے کون ہوتے ہیں یہ کسی کو نہیں پتا۔
(Visited 143 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: