قومی بجٹ بمقابلہ پرائیویٹ ملازمین —- لالہ صحرائی

0

سرکاری ملازمین کی طرح پرائیویٹ ملازمین بھی اسی مملکت کا حصہ ہیں اور برابر کے سماجی حقوق کا آئینی حق رکھتے ہیں مگر جس اہتمام کیساتھ ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہ دس فیصد بڑھا دی جاتی ہے اسی طرح سے پرائیویٹ ملازمین کے معاوضے کو پروٹیکشن کبھی نہیں دی گئی۔

برسہا برس بیت گئے کہ انہیں میڈیکل ملتا ہے نہ ہاؤس رینٹ، ٹی۔اے کی سہولت میسر ہے نہ جاب سیکیوریٹی نہ پینشن بلکہ کارپوریٹ نظام میں کنٹریکچؤل جاب کا تصور آنے کے بعد ایک لم۔سم۔سیلری میں بارہ گھنٹے کی نوکری، نو۔اوور۔ٹائم، نو۔سالانہ۔انکریمنٹ اور ہائر اینڈ فائر پرنسپل کے تحت اب جاب کے خاتمے کی کسی عدالت سے شنوائی بھی نہیں ہو پاتی۔

بلاشبہ ہائر اینڈ فائر پرنسپل کے تحت سنگل۔سیلری بیسڈ کنٹریکچؤل جاب کا نظام یورپ میں بھی رائج ہے مگر فرق یہ ہے کہ پہلے انہوں نے پرائیویٹ ملازمین کے سیلری اینڈ ویجز ریٹ اس حساب سے طے کئے ہیں کہ ان کا گزارہ باآسانی ہو سکے، پھر سالانہ انکریمنٹ اور تفریحی چھٹیوں کے علاوہ گروپ انشورنس کے ذریعے میڈیکل اور پینشن کی سہولیات بھی فراہم کی ہیں تاکہ ان کی تمام بنیادی ضروریات کوور ہو جائیں، اس کے بعد ہائر اینڈ فائر کا اصول لاگو کرکے صنعت و تجارت کو ٹریڈ یونین کے اس وبال سے باہر نکالا جو صنعتی بحران کا باعث بن رہا تھا۔

وہاں بزنس سیکٹر سے ان قوانین پر سختی سے عمل بھی کرایا جاتا ہے تاکہ ملازمین کو ایمپلائر سے ایڈوانس یا بھیک نہ مانگنی پڑے، یہی وجہ ہے کہ وہاں کوئی بھی اپنے اماں بابا اور بیوی بچوں کی دوا کیلئے پریشان نہیں پھرتا البتہ سوشل سیکیوریٹی سسٹم لانے سے قبل ان کے ہاں بھی ملازمین کا بالکل یہی حال تھا جو اب ہمارا ہے۔

کارل مارکس اس دور میں مزدور کے حقوق پر بہت کچھ لکھتا رہا ہے، داس۔کیپیٹال کیمطابق مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی مزدور اگلی تنخواہ میں سے ایڈوانس مانگنے پر مجبور ہوتے ہوتے بھاری قرضوں تلے دب جاتا تھا، مگر انتظامیہ نے کچھ اثر نہ لیا لیکن جب اس نظام میں افرادی قوت کو نقصان پہنچنے لگا تو انہوں نے بغیر وقت ضائع کئے اپنے کارکن کی فلاح کیلئے ایک بینویلینٹ سسٹم کو نافذالعمل کر دیا، یہ تبدیلی ابھی نصف صدی پہلے کی بات ہے کوئی بہت پرانا قصہ نہیں لیکن ہم آج بھی اسی دور میں جی رہے ہیں جس پر کارل مارکس کا تازیانہ بے دریغ برستا تھا۔

آج یورپ میں پلمبر سے کام کرانا ہو تو وہ بھی اسی حساب سے چارج کرتا ہے جس حساب سے اس معاشرے میں ایک ایوریج شہری کی شرح مشاہرہ مقرر ہے کیونکہ ان سب کو سوشل سیکیوریٹی حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ بلیک میل یا مجبور نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ کوئی بندہ وہاں گھریلو ملازمین اور نوکر چاکر افورڈ ہی نہیں کر سکتا لیکن ہمارے ہاں عوام تو ایک طرف بڑے بڑے باصلاحیت نوجوان کوڑیوں کے مول پر کام کر رہے ہیں اور اپنا حق مانگنے کی بجائے الٹا آجروں کی بلیک میلنگ کا اس حد تک شکار ہیں کہ جمعدار پکڑ کے ان کے گھروں کے گٹر بھی کھلوا کے آتے ہیں۔

مزید یہ کہ ہم نے متبادل انتظام کئے بغیر ٹریڈ یونین کو بھی توڑ دیا جس کا تھوڑا بہت آسرا ملازمین کو ہو جاتا تھا اور بجٹ میں مزدور کی وہ تنخواہ مقرر کرنا شروع کردی جو کسی طرح بھی کفالت نہیں کر سکتی، اس سال کے بجٹ میں یہ شرح سترہ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جو پچھلے سال سولہ ہزار دو سو روپے تھی اور اس سے قبل پندرہ ہزار سمتھنگ تھی جبکہ دیگر ورکنگ کلاسز کو سالانہ دس فیصد انکریمنٹ سمیت سرے سے کوئی سرکاری تحفظ ملتا ہی نہیں۔

آج کے دور میں لوئر کلاس کے پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہیں پچیس ہزار سے پینتیس ہزار کے درمیان ہونی چاہئیں جن میں مزدور، پلمبر، مالی، چوکیدار، پیون، ڈرائیور اور سیکیوریٹی گارڈز شامل ہیں مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اس طبقے کو صرف آٹھ سے پندرہ ہزار تک ملتے ہیں، آپ کو یہ سن کر بھی شدید حیرانی ہوگی کہ سماجی بہبود کے اداروں میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کی تنخواہ بھی دس ہزار سے نیچے ہے اور پنکچر لگوانا بھی اسی میں شامل ہے۔

پھر کلیریکل اسٹاف، ریسیپشنسٹ و رائیڈرز کو پندرہ سے بیس ہزار تک، آفس اسسٹنٹ کلاس کو بیس سے پچیس ہزار تک، اسسٹنٹ مینیجرز کلاس کو پچیس سے چالیس ہزار تک، مینیجیریل اسٹاف کو پچاس سے اسی ہزار تک اور ایگزیکٹیو کلاس البتہ ڈیڑھ لاکھ سے کافی اوپر تک چلی جاتی ہے لیکن وہ بھی ایک طرح سے غریب ہی ہیں کیونکہ ان کی جاب چلی جائے تو اس کیڈر کی جاب ملنے میں بھی سال بھر کا عرصہ آرام سے نکل جاتا ہے، ویسے تو یہ سارے طبقات ہی اپنی اپنی بود وباش کے حساب سے ہینڈ۔ٹو۔ماوتھ گزارہ کرتے ہیں پھر بھی مینجیریل اور ایگزیکٹیو کلاس نسبتاً آسودہ حال رہتی ہے۔

نان۔مینیجیریل اور اس سے نیچے کی کلاسز کا مادی، سماجی، اخلاقی استحصال کرنیوالوں میں ہر نیک و بد، زاہد و شرابی، ملاں و مسٹر سب یکساں طور پر شریک ہیں، ان میں کوئی بھی کسی سے کم نہیں، یہاں تک کہ مسجدوں، مدرسوں اور سماجی بہبود کے اداروں میں بھی یہی سلسلہ جاری ہے البتہ آجروں میں کچھ ایسے نیکدل ضرور ہیں جو نچلے طبقے کی شادی، مرگ، بیماری اور مصیبت کے وقت علیحدہ سے کچھ مالی امداد بغرض نیکی و ثواب کر دیتے ہیں لیکن معقول مشاہرے پر ملازمین کا حق تسلیم نہیں کرتے، اس کی اکلوتی وجہ صرف یہ ہے کہ مارکیٹ میں ملازمین کی خدمات کا ریٹ ہی یہ ہے اور اگلے سو سال بھی یہی رہے گا کیونکہ مارکیٹ اسی ریٹ پر متفق ہے۔

گزارش ہے کہ جسے آئینی برابری حاصل ہو وہ چھوٹا سا طبقہ بھی ہو تو انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے جبکہ یہ تو کراچی سے خیبر تک ایک بہت بڑے طبقے کا بنیادی مسئلہ ہے جو اپنی ذاتی صلاحیتوں سے آپ کا ملک گیر اکنامک سرکل چلاتا ہے لیکن سرکار سمیت اس کا پرسان حال کوئی بھی نہیں حالانکہ آئین انہیں بھی برابری کے حقوق دیتا ہے۔

پارلیمنٹ میں ایسی تحاریک ضرور پیش ہوتی ہیں کہ ممبران کا معاوضہ بڑھا دیا جائے مگر ان میں موجود مذہبی، غیر مذہبی سمیت کسی ممبر نے کبھی ایک بھی تحریک ایسی نہیں پیش کی کہ مملکت کا ستر فیصد سول نظام چلانے والی افرادی قوت کے حقوق پر بات کی جائے نہ ہی یہ توفیق صحافتی حلقوں کو میسر ہے۔

اب اس مسئلے کا علاج کیا ہے؟
اس مسئلے کا واحد اور قابل عمل حل یہ ہے کہ پڑھے لکھے کارپوریٹ ملازمین کو اپنے مسائل کا ادراک کرکے ایک مضبوط پلیٹ فارم قائم کرنا چاہئے جو پرائیویٹ سیکٹر کی ورکنگ کلاسز کیلئے بھی سرکاری ملازمین جیسی سوشل سیکیوریٹی کی ڈیمانڈ کرے۔

یہ پڑھے لکھے لوگ بالکل اس قابل ہیں کہ گروپ انشورنس کی ایک ایسی پروڈکٹ ڈیزائن کرکے دے سکیں جس کی بدولت مزدور سے لیکر ایگزیکٹیو تک سب کو اسی لیول کی میڈیکل، گریجوایٹی اور پینشن فیسیلٹی مل سکے جیسی سرکاری ملازمین کو ملتی ہے۔

پہلی ڈیمانڈ یہ کریں کہ ہر بجٹ میں مزدور کی منیمم ویجز میں آٹھ سو روپے کا اضافہ کرنے کی بجائے یکبارگی یہ طے کر دیا جائے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں ہر کلاس کے پے سکیل کیلئے گورنمنٹ سیکٹر کے پے سکیل کو بینچ۔مارک بنایا جائے یعنی پرائیویٹ سیکٹر میں بھی منیمم ویجز بشمول الاؤنسز وہی ہوں جو گورنمنٹ اپنی ان کلاسز کو ادا کرتی ہے، اگر کوئی ادارہ اس سے زیادہ دے رہا ہے تو وہ کم نہیں کرے۔

دوسری ڈیمانڈ یہ کریں کہ محکمہ سوشل سیکیوریٹی کے ہسپتالوں کو صوبائی محکمہ صحت کے حوالے کرکے اس ڈائریکٹوریٹ کو بشمول وجیلینس، ہیلتھ اور ریجنل ونگ کے، ڈائریکٹوریٹ آف لیبر بشمول ویکسینیسش، سیفٹی اینڈ ہائیجین ونگ کے اور منیمم ویجز بورڈ کو صوبائی حکومت سے لیکر مرکز کے ادارے ای۔او۔بی۔آئی میں ضم کر دیا جائے اور اسے سینٹرل سوشل سیکیوریٹی بورڈ کا نیا نام دیا جائے۔

یہ موجودہ ادارے آجر کے تونبے توڑنے کے علاوہ ملازمین کیلئے کچھ خاص نہیں کرتے، نہ ہی یہ حقیقی سطح کا ریوینیو اکٹھا کر پاتے ہیں اور نہ ہی اسے بامقصد کاموں میں خرچ کر پاتے ہیں، میں کبھی ایسی بات نہیں کرتا جس کا ثبوت نہ دیا جا سکے ورنہ آپ کو بتاتا کہ اس کام میں کتنی رشوت اکٹھی ہوتی ہے اور ان اداروں کے پاس اربوں روپے کا فنڈ سرپلس پڑا ہے جو رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے مزدور تک نہیں پہنچتا بلکہ سرکار اسے اٹھا کے کہیں اور خرچ کر دیتی ہے۔

ان سب کی بجائے صرف ایک سوشل سیکیوریٹی بورڈ قائم ہو جس میں ایک ایڈمن ونگ جو ادارے کا انتظام سنبھالے، دوسرا انویسٹمنٹ ونگ جو حاصل شدہ فنڈز کو اس حساب سے انویسٹ کرے کہ ملازمین کیلئے میڈیکل، گریجوایٹی اور سرکاری اداروں کے برابر پینشن مہیا ہو سکے اور تیسرا ویجیلنس ونگ ہو جو صرف بی۔کام یا ایم۔کام لوگوں پر مشتمل ہو وہ آجر کو ڈیل کرے۔

ویجیلنس آفیسر آجر سے اس کی انکم ٹیکس ریٹرن اور پیرول طلب کرے، پیرول میں عہدوں کے حساب سے سرکاری بینچ۔مارک سے کم تنخواہیں دی گئی ہوں تو جتنا فرق نکلے اتنی رقم کا جرمانہ وصول کرے، پھر جو اصلی تنخواہیں بننا چاہئیں ان پر دس فیصد سوشل سیکیوریٹی کنٹریبوشن کا حساب کرے اور جو اس نے ماہانہ بنیادوں پر ادا کر دیا ہے وہ مائنس کرکے باقی شارٹ۔فال کا چیک وصول کرلے، اگر ٹیکس ریٹرن میں سیلری اینڈ ویجز کی رقم زیادہ دکھائی گئی ہو تو پھر اس پر کنٹریبیوشن وصول کرے، جہاں دکانوں یا سٹورز پر پیرول اور ٹیکس ریٹرن دستیاب نہ ہو وہاں بندے گنتی کرکے ان کی جو تنخواہ ہونی چاہئے اس پر کنٹریبیوشن کیلکولیٹ کرکے ادا کئے گئے ٹیکس سے میچ کرکے کمی پوری کرلے۔

اس وقت سیسی۔پیسی۔بیسی اور ای۔او۔بی۔آئی کے ادارے بارہ فیصد لیتے ہیں مگر ان کے پاس بینچ۔مارک کوئی نہیں اسلئے آجر حقیقی تنخواہیں چھپا جاتا ہے پھر یہ بارگین کرتے ہیں اور ہر سال دس فیصد گروتھ کا بھی تقاضا کرتے ہیں، ان سب جھگڑوں سے دونوں کی جان چھوٹے گی اور جب ہرسال بجٹ کے حساب سے دس فیصد تنخواہیں بڑھتی رہیں گی تو ریوینیو بھی خودبخود زیادہ ملنے لگے گا۔

جو لوگ ایسی جگہوں پر کام کرتے ہیں جہاں مستقل آجر کوئی نہیں ہوتا جیسے منڈیوں کی لیبر، تعمیراتی لیبر، سروس پروائڈرز یا وہ لوگ جو اس سکیم سے فائدہ اٹھانا چاہیں وہ اپنے کیڈر کی تنخواہ یا آمدنی کیمطابق اپنا ماہانہ کنٹریبیوشن خود جمع کراتے رہیں تو انہیں بھی تحفظ دینا چاہئے جیسے ریڑھی بان، فروٹ، سبزی فروش، دکاندار یا تنخواہ کی بجائے کمیشن کی بنیاد پر سیلزمین طبقہ ہے۔

حکومت بذات خود بھی اپنے اکنامک سرکل کے اس اہم طبقے کی فلاح کیلئے ہر بجٹ میں چند ارب کی انویسٹمنٹ سوشل سیکیوریٹی بورڈ کو اس وقت تک فراہم کرے جب تک یہ بورڈ اپنے پاؤں پر نہیں کھڑا ہو جاتا یا اب تک جو پیسہ ای۔او۔بی۔آئی سے اینٹھا گیا ہے وہی واپس کر دیا جائے تو بھی ایک اچھی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

اس نظام کے تحت سینٹرل سوشل سیکیوریٹی بورڈ پرائیویٹ ملازمین کو سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں اپنے پینل پر علاج معالجے کی سہولیات کے علاوہ مروجہ قوانین کے تحت حادثاتی کمپنسیشن اور پینشن بھی فراہم کرے اور سرکاری رولز کیمطابق پرائیویٹ ایمپلائز کیلئے بھی ہاؤسنگ سکیمیں بنائے۔

آجر اپنا اپوائنٹمنٹ آرڈر دینے کی بجائے سرکاری قوائد و ضوابط پر مشتمل چھپا ہوا فارم پر کرے جس پر مس۔کنڈکٹ اور کریمینل۔ایکٹ یا ادارے کی بندش کے علاوہ ملازمین کو فارغ کرنا منع ہو اور آجر اپنی شرائط ضمیمے کے طور پر ساتھ منسلک کرے، پھر بھی کوئی تنازع پیدا ہو تو پرائیویٹ ملازمین کو بھی سروس ٹریبونل میں جانے کا حق دیا جائے۔

اس انتظام کے بعد ہر نیم سرکاری اور پرائیویٹ کنسرن میں ہرقسم کی لیبر، سٹاف اور ٹریڈ یونین کو توڑ دیا جائے تاکہ بزنس سیکٹر بغیر کسی ناگوار دباؤ کے اپنے انتظامی فیصلے خود کر سکیں۔

اس جدوجہد کا پلیٹ فارم کیا ہونا چاہئے:
جو لوگ اس مسئلے کی اہمیت اور حقیقت کو محسوس کرتے ہیں انہیں آگے بڑھ کے ایک پرائیویٹ۔ایمپلائز۔یونین کی بنیاد رکھنی چاہئے جو بزنس سیکٹر میں کوئی مداخلت کرنے کی مجاز نہ ہو بلکہ ان کا منشور صرف حکومت سے اپنے مفادات کا تحفظ حاصل کرنے تک محدود ہو۔

اس کام کیلئے سب سے پہلے “یومِ مزدور” کو “ہائی جیک” کرکے اسے یومِ ملازمین” میں کنورٹ کرنا چاہئے، یہ ہائی۔جیکنگ اور کنورژن بالکل حق بجانب ہوگی جس کی تین اہم اور لاجیکل وجوہات موجود ہیں۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ مینوئل مشینری کی جگہ مکینکلی آٹومیٹڈ مشینری نے آدھا مزدور پہلے ہی ختم کر دیا ہے، پھر دوسرے مرحلے میں کمپیوٹرائزڈ مشینری بچے کھچے مزدور کو بھی واش۔آؤٹ کرنے کے قریب ترین پہنچ چکی ہے تو اب صرف چند سال بعد کا مزدور اپنے معروف معنوں میں مزدور کہلانے کی بجائے پروڈکشن سائڈ پہ کمپیوٹر آپریٹر اور مینٹینینس سائڈ پہ کمپیوٹر ٹیکنیشن کہلائے گا خواہ وہ زرعی مشینری کا لیبر ہو یا سی۔پورٹ کا، اناج منڈی کا لیبر ہو یا صنعتی مشینری کا وہ سب مزدور کی مروجہ تعریف کی بجائے ملازمین کی تعریف میں ہی شمار ہوں گے لہذا مستقبل قریب میں مزدور کی عدم موجودگی میں یوم مزدور اپنی رسمی افادیت بھی کھو بیٹھے گا لیکن مزدور اپنی نئی شکل و صورت اور نئی تعریف میں پھر بھی موجود رہے گا جس کا واحد کفیل وہی ایمپلائر کی مرضی کا ایک پیکج ہوگا جس کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ملازمین کی عدم شمولیت کی وجہ سے یوم مزدور کبھی بھی مزدور کا تحفظ نہیں کر سکا کیونکہ شکاگو کے مزدور یا صرف مزدور کیساتھ اس کا تعلق قائم ہوتے ہی یہ ملازمین کے مینجمنٹ کیڈر کو مزدور سے بالکل لاتعلق کر جاتا ہے حالانکہ وہ پڑھے لکھے ہونے کی بنا پر مزدور کا بہترین معاون ثابت ہو سکتا تھا، پھر اس کمی کو پورا کرنے کیلئے مزدور ہمیشہ اپنے حقوق کی ترجمانی کیلئے اسی پریولیجڈ کلاس کا محتاج رہا ہے جس کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتا ہے۔

یعنی اب تک کے تمام یوم مزدور حقیقت میں انہی تاجروں، صنعتکاروں، وڈیروں، چوہدریوں، سیاستدانوں یا ان کی بیگمات نے ہی مہمان خصوصی کی حیثیت سے منائے ہیں جو کسی نہ کسی طرح مزدور کے حقوق میں موجود سماجی عدم توازن پیدا کرنے کے براہ راست ذمہ دار رہے ہیں یا صاحب اختیار ہونے کے باوجود اپنی عدم توجہ یا چشم پوشی قائم رکھنے کے مرتکب رہے ہیں۔

تیسری وجہ یہ کہ اپنا اپروپریئیٹ اور ہائی۔لائٹڈ فورم جسے گزیٹڈ ہالیڈے بھی میسر ہے اسے چھوڑ کے آپ کوئی بھی ایسا نمایاں موقع پیدا نہیں کرسکتے جو اس تہوار کے مقابلے میں زیادہ اہم نظر آئے۔

اسلئے میرے نظریئے کے مطابق اس دن کی نئی اور بامقصد تشریح ہونی چاہئے جس میں یوم مزدور کو “یوم ملازمین” قرار دیکر خدمتگار لوئر کلاس سے لیکر مینیجیریل کلاس تک سب لوگ اس تحریک میں شامل ہوں اور غیروں کی بجائے پڑھا لکھا پروفیشنل ایگزیکٹیو اپنی طبقے کی آواز خود بنے اور اس آواز کو سلجھے ہوئے طریقے سے اپنے مطالبات اور ان کی قابل عمل صورتوں کیساتھ اس طرح سے بلند کرے کہ یوم مزدور کے منچ پر قابض غیر متعلقہ لوگ خود بخود شرمندہ ہوکر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جائیں۔

یہ پروفیشنل ازم کا دور ہے اور پرائیویٹ ملازمین میں ایسے پروفیشنلز کی کوئی کمی نہیں جو ان تجاویز کو قابل عمل فیزبیلٹی کیساتھ سرکار کے سامنے پیش نہ کر سکیں، اور چونکہ آگے کا دور کارپوریٹ انویسٹمنٹس کا دور ہے اسلئے حکومت کو بھی بزنس سیکٹر اور ملازمین کے درمیان سوشل سیکیوریٹی بورڈ کے نام سے ایک ون ونڈو مضبوط آٹونومس باڈی قائم کر دینی چاہئے جو اسی طرح سے پرائیویٹ ملازمین کی کفالت کرسکے جس طرح سے بیرونی دنیا بلاشک و شبہ سب کے سامنے انجام دے رہی ہے۔

ان تجاویز پر عمل کرنے سے گورنمنٹ کا کوئی نقصان ہے نہ آجر نہ سرکاری محکموں کا لیکن قوم کا ایک بڑا طبقہ سماجی آسودگی کی اس منزل تک پہنچ جائے گا جو اس کا آئینی حق ہے۔

(Visited 363 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: