ترقی کا سفر اور بے روزگاری ——– علی حسنی

0

میشال فوکو ایک فرانسیسی فلسفی ہے اور اس کے نظریات بنیادی طور پر طاقت اور علم کے درمیان تعلق سے متعلق ہیں۔ فوکو سے ہماری واقفیت صرف واجبی سی ہے۔ لیکن اس کا ایک جملہ بہت دل کو لگا ہے

“اگر آپ کے پاس کام نہیں، یعنی آپ بے روزگار ہیں ۔ ۔ ۔ تو آپ پاگل ہیں”۔

پاگل ہیں یا نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن، بے روزگاری ایک عذاب ضرور ہے۔ اور جب آپ پر ذمہ داریاں بھی ہوں، آپ کا گھر کرایے کا ہو اور بچے اسکول و کالج میں پڑھ رہے ہوں تو یہ تکلیف سو گنا ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ تو آپ کے قریب بھی ہونگے ایسے؟ کیا حال ہے انکا؟

عالمی ادارہ محنت (انٹرنیشل لیبر آرگنائزیشن – آئی ایل او) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وقت کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید کم ہوتے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں معاشی کساد بازاری کی صورتِ حال زیادہ سنگین ہے جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 فی صد سے بھی زائد ہوچکی ہے اور بے روزگاری کی صورتِ حال آئندہ پانچ برسوں میں مزید بگڑ جائے گی۔

لیکن کبھی سوچا ہے کہ ۔ ۔ ۔ بے روزگاری کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیوں نہیں ہے اتنا کام، جتنے لوگ ہیں۔ جب بات کرو تو “دانشور خواتین و حضرات” بے روزگاری کی وجہ “آبادی میں اضافے، امن و امان کی خراب صورت حا ل، وسائل کی کمی اور انڈسٹریلائزیشن نہ ہونے کو اس کی وجہ بتاتے ہیں”۔

لیکن اگر ایسا ہی ہوتا تو ۔ ۔ ۔ ۔ بے روزگاری کا عذاب صرف اور صرف غریب ممالک تک ہی محدود ہوتا۔ کیا ایسا ہی ہے؟ جاپان اور امریکہ میں نہیں ہے بے روزگاری؟ وہاں لوگ کام نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی نہیں کر رہے؟ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کی صورتِ حال اگرچہ بہتر ہے لیکن پھر بھی ہر پانچ میں سے ایک شخص بےروزگاری کا عذاب جھیل رہا ہے۔

تعلیم کا نہ ہونا اس کی وجہ ہے؟ لیکن اگر ایسا ہوتا تو ۔ ۔ ۔ ۔ اسلام آباد کے بہترین تعلیمی ادارے سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے اعزازعلی کی خود کشی کی خبر ۔ ۔ ۔ ہمارے سامنے نہ ہوتی۔ اعزاز علی کی انجینئرنگ کی ڈگری بھی اس کے لئے روزگار کا بندوبست نہ کر سکی۔ نوکری کے حصول کے لئے ایک سال کی تگ و دو کے باوجود روزگار حاصل کرنے میں ناکامی نے اسے شہر ِ خموشاں میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ کون ہے اس کی موت کا ذمہ دار؟

بہت سی وجوہات ہونگی ۔ ۔ ۔ لیکن
ترقی کا یہ سفر بھی تو ایک وجہ ہو سکتی ہے؟

بات ٹھیک نہیں لگتی ناں ۔ ۔ ۔ ۔
ترقی اور بے روزگاری کا کیا تعلق؟

اچھا ۔ ۔ دیکھئے۔ سامنے کی مثال ہے۔ آپ کے گھر مہینے کا سودا ۔ ۔ دال چاول آٹا تیل وغیرہ ۔ ۔ ۔ کہاں سے لاتے ہیں؟ امتیاز اسٹورز۔ ۔ یا میٹرو سے۔ ۔ ۔ یا پھر۔ ۔ ۔ ۔ محلے میں کریانے کی دکان سے؟

آپ کپڑے کون سے پہنتے ہیں ۔ ۔ ۔ جوتے، چپلیں کون سی پہنتے ہیں ۔ ۔ ۔ کھلونے کون سے خریدتے ہیں ؟ وہ جو آپ کے محلے کا درزی سیتا ہے ۔ ۔ ۔ یا پھر جو بڑے سے شاپنگ مال میں ۔ ۔ ۔ چین و امریکہ سے آتے ہیں؟

مٹھائیاں، ٹافیاں، بسکٹ، آئسکریم، جوسز وغیرہ کون سی کھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ جو محلے کا حلوائی یا نان بائی بناتا ہے ۔ ۔ ۔ یا پھر وہ جو بڑے انڈسٹریل کمپلیکسز سے بن کر آتی ہیں؟ اور دودھ کونسا استعمال کرتے ہیں؟ وہ کہاں بنتا ہے؟ کہاں پیک ہوتا ہے؟

آپ کہیں گے ۔ ۔ ۔ کہ ترقی کے اس سفر میں ۔ ۔ ۔ ۔ روزگار کم نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ بلکہ، تبدیل ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جو حلوائی پہلے اپنی دکان کھولتا تھا صبح شام، اب وہ ۔ ۔ ۔ والز فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ۔ ۔ اور جو دودھ والا ۔ ۔ پہلے سائیکل لے کر اپنا دودھ بیچتا تھا ۔ ۔ ۔ وہ “ملک پیک” کی گاڑی چلاتا ہے۔ لیکن حضور، بات اتنی سادہ ہوتی تو کیا ہی بات تھی ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارا ماننا ہے کہ “سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” اور اس سے منسلک ادارے “آہستہ آہستہ ۔ ۔ ۔ روزگار کی بھی گلوبلائز کرتے جارہے ہیں” اب اگر آپ کے پاس “سات تہہ والا ۔ ۔ ۔ خاص پیپر” نہیں جو ٹیٹرا پیک میں استعمال ہوتا ہے تو آپ نہ تو دودہ پیک کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور نہ ہی بیچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس “شان مصالحے” نہیں تو آپ کھانا پکا نہیں سکتے۔

” سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” نے کاموں اور ان سے منسلک جذبات کو علیحدہ علیحدہ کردیا ہے۔ آپ ساری زندگی ایک پنکھے بنانے والے کارخانے میں کام کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ لیکن خود پنکھا نہیں بنا سکتے۔ کیوں ہے ایسا ۔ ۔ ۔ اور کیا اس سارے ” ترقی کے سفر” کا بھی کچھ تعلق ہے بے روزگاری سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر بھی سوچئے۔

یہ ” سائنٹیفک انڈسٹریل کمپلیکس” چھوٹے اور ذاتی کاروباروں کو بہت حد تک کھاتا جا رہا ہے۔ درزی کی دکانیں ۔ ۔ ۔ اور بڑھئی کا ہنر، اب کچھ دن کی ہی بات ہے۔ گاڑیوں کے مکینک بھی کچھ عرصے میں ۔ ۔ اپنا ہنر لئے بیٹھے رہیں گے۔ گاڑی خراب ہوگی تو سوفٹ ویئرز سے درست ہوگی ۔ ۔ ۔ استاد کے ہاتھ سے نہیں۔ کیا ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا؟

اور کیا ۔ ۔ ۔
جاپان، امریکہ و برطانیہ کی نقالی سے
ہوجائی گی ختم بے روزگاری ہمارے جوانوں میں؟
اور کیا “سپر انڈسٹریلائیزیشن اور ترقی”
سے ہوجائے گا یہ مسئلہ حل؟

اور سب سے بڑہ کر یہ کہ، جب تک یہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ کیا کریں ہم لوگ اپنے ان بھائیوں اور دوستوں کا جو بے روزگار ہیں۔ اپنے گھروں میں بند ۔ ۔ ۔ اپنے آپ سے بے زار ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کریں اس صورتحال کا۔ کیا یہی ترقی ہے؟

۔ ۔ ۔ کیا ۔ ۔ ۔
دو سو سال پہلے اچھا تھا
یا آج کی دنیا “ترقی یافتہ دنیا” بہتر ہے؟

ایک دوست سے پوچھا تو اس نے پیار سے کہا “دیکھو کیا تم چاہتے ہو کہ ہم پھر واپس اس دور میں چلے جائیں، جہاں نہ دوائیں تھیں، نہ اسپتال ۔ ۔ ۔ نہ گاڑیاں تھیں اور نہ جہاز ۔ ۔ ۔ نہ موبائیل تھے اور نہ ہی ٹی وی ۔ ۔ ۔ نہ ایرکنڈیشنر تھے اور نہ ہی زندگی کی دوسری سہولیات”۔

عزیز دوست کی یہ بات سن کر میں چپ ہو گیا، لیکن آپ ایرکنڈیشنر خرید سکتے ہیں اور بجلی کا بل دے سکتے ہیں تو شوق سے ” ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن کتنے ہیں آپ کے اردگرد جو ۔ ۔ ۔ پندرہ ہزار روپے مہینے ۔ ۔ ۔ بجلی کا بل دے سکتے ہیں؟

آپ کو معلوم ہے کہ کم ازکم تنخواہ ۔ ۔ ۔ سرکار کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے سترہ ہزار مقرر ہے؟ لیکن اسے بھی چھوڑیں ۔ ۔ ۔ جن کی تنخواہ پچاس ہزار ہے ۔ ۔ ۔ ان سے پوچھ لیں ۔ ۔ ۔ مہینہ کیسے گزرتا ہے انکا؟ کبھی پوچھیں اپنے کسی جونیئر سے ۔ ۔ ۔

جناب ۔ ۔ ۔ ۔ آپ ترقی کے سفر میں ۔ ۔ ۔ سب سے آگے نہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ بہت پیچھے بھی نہیں ۔ ۔ ۔ اللہ نے آپ کو کامیابی دی اور آپ سکون سے ہیں لیکن اس ۔ ۔ ۔ ترقی کی دوڑ مسلسل ۔ ۔ ۔ ۔ کبھی ان کی نظر سے بھی دیکھیں ۔ ۔ ۔ جو ” ترقی کی اس دوڑ” میں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ راستے میں گر گئے ہیں ۔ ۔ ۔ جن کا سانس اکھڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ گر گئے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہجوم کے ہاتھوں کچلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ دم توڑ رہے ہیں ۔ ۔ ۔

جناب والا ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی بیان کردہ سہولیات کی افادیت پر بحث اپنی جگہ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اگر ان ہی میں ہے دنیا ۔ ۔ ۔ تو یہ دنیا ۔ ۔ ۔ کس کے پاس ہے ۔ ۔ ۔ سب کے پاس ۔ ۔ ۔ ۔ یا چند کے پاس ۔ ۔ ۔ اور باقی لوگوں کےلئے ۔ ۔ ۔ کیا ہے؟ کیا یہی انسانیت ہے؟ ترقی ہے؟

 

(Visited 58 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: