احتیاط لازم ہے جناب ——— رقیہ اکبر

0

کیا ہے یہ محبت؟
کیا یہ واقعی اتنی اندھی اور بہری ہوتی ہے کہ اسے کچھ دکھائی سنائی نہیں دیتا؟
ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والو! ریاست مدینہ میں وقت کے بادشاہ کو سرعام ایک شخص نے کھڑے ہو کے سرزنش کی، گرفت کی اور پوچھتا ہے کہ:

اے امیرالمومنین آپ کا قد اتنا لمبا ہے کہ ایک چادر سے لباس نہیں سل سکتا تو جب ہم سب کو ایک چادر ملی تو آپ کے حصے میں دو کیوں؟
اور ریاست مدینہ میں وہ وقت کا حکمران وضاحت دیتا ہے، بتلاتا ہے کہ مجھے ایک ہی چادر ملی تھی یہ دوسری چادر تو میرے بیٹے کی ہے۔
ریاست مدینہ میں اس مجمعے نے سوال کرنے والے کی زبان نہیں روکی، اسے سوال کرنے پہ سرزنش نہیں کی تو پھر تم ایسا کیوں کرتے ہو؟
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ سید مودودی نے اپنی تفسیر میں مال غنیمت کیلئے کیا الفاظ استعمال کیئے، مجھے اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ اردو لغت میں مال غنیمت کے کیا معانی درج ہیں۔ مجھے اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ بولنے والے نے چونکہ انگریزی ادب کا مطالعہ کیا ہے اس لیئے ترجمہ کرتے ہوئے درست لفظوں کے استعمال سے ناواقف ہے۔ مجھے غرض ہے تو اس بات پہ کہ اپنی اولاد کو آپ کہنے والا میرے نبی کے صحابہ کیلئے بولتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیوں نہیں کرتا؟

اور مجھے غرض ہے تو اس بات سے کہ سردار، حق بات کہنے کا دعوی کرنے والے، مخالفین کے ایک ایک لفظ پہ گرفت کرنے والے یہاں پر ڈنڈی کیوں مار جاتے ہیں؟مجھے غرض ہے تو اس بات سے کہ پنکی پیرنی کیلئے ایک بھی ناپسندیدہ لفظ بولنے والوں کی کھٹیا کھڑی کر دینے والے انصاف پسند میرے نبی کے اصحاب کیلئے نامناسب الفاظ کو جسٹیفائی کیوں کر رہے ہیں۔ اپنے والدین کیلئے احترام کا مطالبہ کرنے والے یہاں پہ احترام کے معانی کیوں بھول جاتے ہیں؟

میں نہیں کہتی کہ یہ ایسی گستاخی ہے جس پہ سزا واجب ہو مگر یہ ایسی بے ادبی ضرور ہے جس پہ سخت گرفت اور تادیب لازم ہے۔ یہ ایسی بے احتیاطی ہے جس کو روکنا لازم ہے۔ یہ ایسی حماقت اور بیوقوفی ہے جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی، جس پہ معذرت کا مطالبہ جائز اور درست ہے۔

میں تسلیم کرتی ہوں کہ اصحاب رسول انسان تھے ان سے غلطیوں، کوتاہیوں کا سرزد ہونا عین ممکن تھا اور مورخ جب تاریخ رقم کرے گا تو یقینا ان حقائق کا جائزہ میرٹ پہ ہی لے گا اور بہت ممکن ہے وہ سخت الفاظ کا استعمال بھی کرے مگرسخت الفاظ کا استعمال کرنے والے کو کم از کم یا تو مستشرق ہونا لازم یا پھران اصحاب سے اتنا بہتر کہ ان کے کردار وعمل کا جائزہ لیتے ہوئے کسی ادب لحاظ کا لحاظ نہ رکھے۔ کیونکہ ایک مسلمان مورخ جب تاریخ لکھے گا تو ان اصحاب کے احترام کو ضرور ملحوظ خاطر رکھے گا۔ یا پھر کوئی عام انسان جس کا قول معاشرے پہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔ جناب آپ نہ مستشرق ہیں نہ اصحاب رسول سے زیادہ معزز اور نہ ہی ایک عام انسان ہیں، سربراہ مملکت ہیں آپ کا ایک ایک لفظ نہ صرف ریکارڈ پہ ہوتا ہے بلکہ ریاستی بیانیہ کہلاتا ہے تو آخر آپ کیوںکر احتیاط نہ برتیں؟ سیاسی مخالفین کو رکھیں ایک طرف اگر کل کو آپ کے مذہبی مخالفین نے آپ کے الفاظ کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا تو کیا جواب دیں گے آپ؟

وہ اسلام دشمن قوتیں جو پہلے ہی اسلام کا ایک متشدد چہرہ دنیا کو دکھائے چلے جا رہے ہیں جناب والا کیا آپ نے جواز نہیں دے دیا کہ دورنبی میں جنگیں خدانخواستہ دین کی سربلندی کیلئے نہیں بلکہ دشمنوں کے مال پہ قبضے کیلئے لڑی جاتی تھیں؟

اور پیچھے رہ جانے والوں کیلئے آپ بزدلی کا لفظ استعمال کر رہے ہیں؟ کیا جانتے بھی ہیں کہ جنگ بدر میں توبچوں تک نے جوہر شجاعت دکھائے؟ زرا تاریخ کا مطالعہ کر لیجئے یا اگر ممکن نہیں تو تقریر کسی صاحب علم سے لکھوانے میں آخر کیا مضائقہ ہے؟

بہت خوشی ہوتی ہے جب آپ ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں چلو کسی حکمران نے تو ذکر کیا مگر یہ ذکر اگر ذکرخیر نہیں تو خدا را مت کیجئے۔
اگر آپ ریاست مدینہ اور اہلیاں ریاست مدینہ کا درست اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتے تو بہتر ہے اس چہرے کی رونمائی نہ ہی کریں۔

آپ کی لاپرواہی کرکٹ کے میدان میں بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی تو اسلام کی درست تصویر پیش کرتے ہوئے کیسے قبول کی جا سکتی ہے؟ آپ نے مزار کی چوکھٹ پہ سر جھکائیا، عوام نے برداشت کر لیا، آپ نے حلف اٹھاتے ہوئے خاتم النبیین کی درست ادائیگی نہ کی عوام نے حسن ظن سے کام لیا مگر آپ نے تو بریک پہ پائوں ہی نہ رکھا آگے سے آگے۔ ۔ ۔ ایک کے بعد ایک غلطی۔ ۔ آخر کب تک؟

ایک ایسا حکمران جس پہ پہلے ہی مخالفین کی طرف سے یہودی لابی کے ایجنٹ کا الزام ہو چاہے جھوٹا ہی سہی تو آخر اسے اس الزام کو جھوٹا ثابت کرنے اور مخالفین کے منہ بند کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرنی چاہیئے؟ چلیں مان لیتے ہیں اسے پرواہ نہیں مخالفین جو بھی الزام لگائیں تو کم از کم اسے اپنے فالوورز کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے سے تو گریز کرنا چاہیئے ناں۔

اب رہی بات ووٹرز کی، تو کیوں انہوں نے ہر حکومتی غلطی کا دفاع اپنا فرض بنا لیا ہے؟ گذشتہ دنوں جناب یعقوب قاسم صاحب کا ایک مضمون پڑھا تھا جس میں انہوں نے کمبوڈیا کے حکمران ’’پولے پارٹ‘‘ کے حمایتیوں کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ اپنے لیڈر کے ہر حکم کی بجاآوری ایسے کرتے جیسے کوئی پیغمبری حکم ہو۔ تو کیا ہم بھی خدانخواسطہ پالے پارٹ کے اندھے فالوورز ہیں جنہوں نے ہر حال میں بس اپنے لیڈر کا دفاع کرنا ہے بنا کسی میرٹ کے؟ کیا عمران خان نے بائیس سال ایسی نسل کی تربیت کرنے میں گزارے جو اندھی بہری گونگی مقلد ہے؟

(Visited 157 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: