ہندو لڑکیوں کے اغواء کی عبرتناک کہانی ——- فرحان کامرانی

0

کچھ عرصہ قبل ایک واقعے نے ہمارے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر بڑی دھوم مچائی۔ خبر یہ تھی کہ اندرون سندھ سے دو نابالغ لڑکیاں بندوق کے زور پر اغواء کر کے پنجاب لے جائی گئیں اور وہاں ان سے جبراً اسلام قبول کروا کر دو مسلمان لڑکوں کی شادی کر دی گئی۔ اس واقعے پر ہندوؤں کے ٹھیکیدار مودی جی کی سشما سوراج جی نے نوٹس لے لیا۔ پھر بلاول، بختاور، سجاول، کامران، ذیشان، نعمان، الغرض ہر دوسرا تیسرا اپنی مفکری جھاڑنے لگا۔ ویسے حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹ کرنا تو رفع حاجت کرنے سے بھی آسان کام ہے۔

مگر پہلے تھوڑی سی اصولی گفتگو ہو جائے، جگت بازی کا موقع اس کے بعد آئے گا۔ اصولی بات یہ کہ اسلام میں جبر نہیں ہے، کسی انسان کو تلوار کے زور پر مسلمان نہیں کیا جا سکتا، کسی کو اغواء کرنا بھی نہایت قبیح عمل ہے اور جبراً شادی بھی نہیں ہوتی۔ شریعت میں یہ بات واضح ہے کہ اگر لڑکی بالغ ہو تو اس کا شادی پر راضی ہونا لازم ہے۔ اسلام نے ماں باپ کی رضا کے خلاف شادی کرنے کی بھی حوصلہ شکنی کی ہے۔ نکاح تو دو مسلمانوں کی باہمی رضا مندی کی صورت میں منعقد ہو جاتا ہے مگر بہتر ہے کہ ماں باپ کی مرضی کو ہی مدنظر رکھا جائے۔ شرعاًمسلمان اور ہندو میں شادی ہو نہیں سکتی چاہے لڑکا و لڑکی دونوں راضی ہوں، ایسی شادی سول میرج تو ہو سکتی ہے مگر شریعت کی نگاہ میں وہ زنا ہی رہے گی۔ اب اگر واقعی لڑکی کو جبراً مسلمان کیا گیا تو وہ مسلمان تو نہیں ہوئی اور جبری نکاح کیا گیا تو جبری نکاح تو مسلم سے بھی ممکن نہیں چہ جائے کہ غیر مسلم سے۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی تو ہے کہ ممکن ہے کہ لڑکیاں خود ہی بھاگ کر آئی ہوں اور خود ہی اپنی رضا سے قبول اسلام کیا ہو اور اپنے پسند کے لڑکوں سے شادی کر لی ہو۔ فرض کریں کہ ایسا ہوا ہو تو اس میں رکاوٹ ریاست کس حق سے ڈال سکتی ہے؟ اور اس پر پابندی کیونکر لگا سکتی ہے؟ پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ خود کو اسلامی ریاست کہنے والا ملک پاکستان کیا کسی غیر مسلم شہری کو جبراً روک سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول نہ کرے؟ کسی کو جبراً مسلمان کرنا غلط ہے تو کسی کو جبراً اسلام قبول کرنے سے روکنا کیسا ہے؟

پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام قبول کرنے کے لئے 18 سال کی عمر کا ہونا لازمی قرار دینے کی بات کی جاتی ہے۔ حضرت علیؓ دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور یہ کس نے کہہ دیا کہ اسلام صرف بالغ فرد ہی قبول کر سکتا ہے؟ پھر سوال یہ بھی تو ہے کہ کیا انسان 18 سال کی عمر میں بالغ ہوتے ہیں؟ ہمارے ملک کے مفکرین ذرا راقم کو سمجھائیں کہ بلوغت کی تعریف کیا ہے؟ اگر یہ جسمانی بالیدگی کا نام ہے جو انسان کے جنسی عمل کرنے کے قابل ہو جانے کو کہتے ہیں تو یہ ہمارے وطن میں 18 سال سے بہت قبل ہی لڑکے اور لڑکیاں جنسی طور پر بالیدہ ہو جاتے ہیں۔ 18 سال سے بہت پہلے تو آج کل کے ماحول میں لوگ سائبیریا میں بھی بالغ ہو جاتے ہیں تو ہمارا ملک تو موسم کے اعتبار سے بہت گرم ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ بلوغت ایک شعوری حالت کا نام ہے جو انسان کو 18 سال کی عمر میں ہی حاصل ہوتی ہے۔ مگریہ بھی نری احمقانہ بات ہے۔ راقم خود علم نفسیات کا معلم ہے اور ساری دنیا کے نابغوں کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ ہر انسان پر لاگو ہونے والا کوئی ایک سن شعور بتا دیں۔ بہت سے لوگ 60، 70 سال کی عمر تک ذہنی طور پر نابالغ رہتے ہیں اور بہت سے لوگ دس سال کی عمر میں بھی ذہنی طور پر شیریں مزاری سے زیادہ بالیدہ ہوتے ہیں۔

اصولی بات صرف اتنی سی ہے کہ ریاست کو جبر کو روکنا چاہیے۔ کسی کو جبراً اسلام قبول نہیں کروایا جانا چاہئے اور کسی سے جبراً نکاح نہیں ہونے دینا چاہئے مگر نہ تو ریاست کسی کو جبراً اسلام قبول کرنے سے روک سکتی ہے نہ ہی شادی کرنے سے روک سکتی ہے۔ اب اصولی باتیں ختم، جگت بازی شروع۔ کراچی کے ایک صاحب جو جامعہ آئی بی اے میں پڑھاتے ہیں اور ایک انگریزی اخبار کے سابق مدیر بھی ہیں، نے کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر ایک مضمون لکھا۔ اس میں کچھ بہت حیران کن اعداد و شمار تھے۔ مثلاً ہمارے ملک میں تقریباً ایک ہزار لڑکیاں ہر سال اغواء کر کے جبراً مسلمان کرکے مسلم لڑکوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ پھر وہ فرماتے ہیں کہ 20 ہندو لڑکیاں ہر ماہ اغواء کر کے جبراً مسلمان کرکے مسلم لڑکوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ ویسے ہماری ریاضی کچھ زیادہ اچھی تو نہیں مگر ہمارے خیال میں 20کو اگر 12 سے ضرب دیا جائے تو 240 ہوتا ہے اور ہزار میں سے 240 نکالیے تو 760 بچتے ہیں۔ یعنی وہ جو ہزار غیر مسلم لڑکیاں پاکستان میں ہر سال اغواء کر کے جبراً مسلمان کر کے مسلمان لڑکوں سے بیاہی جاتی ہیں ان میں سے 760 ہندو کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہوں گی؟ پاکستان سے یہود کی اکثریت تو 70 کی دہائی میں اسرائیل چلی گئی تو بچے عیسائی، سکھ، پارسی اور کیلاشی۔ سکھ، پارسی، کیلاشی تو ہیں ہی چند ہزار تو یعنی ان لڑکیوں کی جمیع اکثریت کا تعلق عیسائی مذہب سے ہوتا ہو گا؟

اگر اتنی بڑی تعداد میں ایسے واقعات ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں تو تمام ہی ذرائع ابلاغ (جو روشن خیال لوگوں سے بھرے پڑے ہیں) اس پر خاموش کیوں ہیں؟ ہر مہینے 20 ہندو لڑکیوں کے اغواء کی خبریں کیوں اخبارات اور ٹی وی پر نہیں آتیں؟ اور یہ جو 760 لڑکیاں دیگر مذاہب کی اغواء ہوتی ہیں ان کا تذکرہ کیوں ذرائع ابلاغ سے بالکل غائب رہتا ہے؟کیا مصنف یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے؟ اگر رپورٹ ہی نہیں ہوتے تو فاضل مصنف نے جن حوالوں کے ساتھ یہ اعداد و شمار پیش کئے ہیں ان تک یہ الہام سے پہنچ گئے؟

اور اگر واقعی یہ واقعات اتنی ہی کثرت سے ہوتے ہیں تو یہ عورت مارچ کرنے والیاں کیوں ہر ایسے واقعے پر احتجاج نہیں کرتیں؟ ان میں تو بہادری کوٹ کوٹ کر بھری ہے؟راقم سارے نابغوں کو چیلنج کرتا ہے کہ ہزار نہیں، وہ ایک سال میں ایسے سو واقعات ہی بتا دیں، سو نہیں دس واقعات ہی بتا دیں۔ مگر بات اتنی سی ہے کہ ان نام نہاد مفکرین کی کی ہوئی باتوں کا صحیح معائنہ کوئی کرتا نہیں اس لئے یہ کچھ بھی کہہ د ینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ بس جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ پھر اپنا ملک بدنام ہوتا ہے تو ان کی بلا سے! اپنے ملک کی عزت سے ہمارا کیا لینا دیا؟

(Visited 216 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: