کتابِ اُمید: باب دوم — عقل کُل کا ُگمان ۔کلاسیکی مفروضہ (۲)

0

گذشتہ سے پیوستہ: اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ دیکھئے۔

( نوٹ: عنوانات اور اصطلاحات میں ترجمہ سے زیادہ ترجمانی سے کام لیا گیا ہے۔ اردو کے عام قاری مغربی اور مذہبی اصطلاحوں میں آسانی سے فرق نہیں کرسکتے، اس لیے انہیں اُن کے درست تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم مضمون کا مدعا اور مقدمہ قائم رکھا گیا ہے۔ مترجم)


ایک مرتبہ، معروف موسیقار ٹام ویٹس سے ا’س کی کثرت شراب نوشی پر سوال ہوا، تووہ بڑبڑایا ’’فرنٹل لوبوٹومی سرجری کروانے سے بہت بہتر ہے کہ میری میز پر بوتل ہی رہے۔‘‘ اس جواب پر خوب تالیاں بجیں، وہ سرکاری ٹی وی پر انٹرویودے رہا تھا۔ فرنٹل لوبوٹومی دماغ کی سرجری کی ایک قسم ہے۔ اس میں ناک کے رستے کھوپڑی میں سوراخ کیا جاتا ہے اور دماغ کا ایک حصہ نرمی سے الگ کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ۱۹۳۵میں نیورولوجسٹ Antonio Egas Moniz نے وضع کیا تھا۔ اینتونیو مونیز نے دریافت کیا کہ اگر آپ لوگوں کو شدید ذہنی تناؤ، پریشانی، اور خودکشی کے رجحانات سے بچانا چاہتے ہیں، اور دیگر دماغی امراض (امید کے بحران) سے نجات دلانا چاہتے ہیں، تو دماغ کا وہ حصہ نکال دیں، جو جذبات اور احساسات کے لیے کام کرتا ہے۔ اینتونیو مونیز کو یقین تھا کہ اگر یہ سرجری بھرپور طورپر کامیاب ہوگئی توتمام دماغی امراض کاخاتمہ ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کی بھرپور مارکیٹنگ کی گئی۔ ۱۹۴۰ کے اواخر میں لوبوٹومی بہت کامیاب ہوئی۔ پوری دنیا کے ہزاروں مریضوں پراس کے تجربے ہوئے(۱)۔ اینتونیو مونیز کو اس دریافت پرنوبیل انعام بھی دیا گیا۔

مگر۱۹۵۰ کی دہائی میں لوگوں نے محسوس کیا کہ لوبوٹومی کے منفی side effects سامنے آرہے تھے۔ مریض عجیب صورتحال کا شکار ہو رہے تھے۔ وہ کسی شے پر توجہ نہیں دے پارہے تھے۔ فیصلہ سازی سے محروم ہورہے تھے۔ منصوبہ بندی نہیں کر پارہے تھے۔ ٹھیک طرح سے سوچ سمجھ نہیں پارہے تھے۔ وہ بالکل زندہ لاشیں بن چکے تھے۔ سب سے پہلے سوویت یونین نے لوبوٹومی سرجری کو غیر قانونی قرار دے کر پابندی لگائی۔ سوویت حکام نے کہا کہ یہ سرجری انسانی اصولوں کے منافی ہے۔ یہ اچھے خاصے آدمی کوضعیف العقل بنادیتی ہے۔ جب جوزف اسٹالن جیسے لیڈر نے اخلاقیات اورانسانیت پرلیکچر دیا، تو باقی دنیا کی آنکھیں کھُلیں۔

اس کے بعد، باقی دنیا نے اس پر پابندی کی ابتدا کی۔ ساٹھ کی دہائی تک ہر کوئی لوبوٹومی سے نفرت کررہا تھا۔ ۱۹۶۷ میں آخری لوبوٹومی امریکا میں ہوئی، اور مریض مرگیا۔ اس کے دس سال بعد ٹام ویٹس نے ٹی وی پر اپنا معروف جملہ کہا۔ باقی تاریخ ہے۔ ٹام ویٹس نے جو کہا وہ بظاہر ہنسانے والی بات ہے مگراس میں پوشیدہ دانش معاملہ کا اہم نقطہ ہے۔ وہ اُن چند فنکاروں میں سے تھا جوانسان کے جذباتی پہلوکا بھرپور ادراک رکھتے ہیں۔ ٹام ویٹس کسی بھی قسم کے احساس اور جذبے سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا، چاہے تشنگی کسی بوتل ہی سے دور ہو۔ کسی گھٹیا جگہ پر ’امید‘ کی معمولی سی رمق اُس حالت سے بہتر ہے، جہاں ’اُمید‘ سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ (۲)

یہ عام مانا ہوا مفروضہ ہے کہ جذبات مسائل کی جڑ ہیں، اور ہماری عقل ہے جو انہیں جڑسے اکھاڑدیتی ہے۔ فکر کی یہ روش سقراط سے چلی آرہی ہے، جس نے اعلان کیا تھا کہ ہر خوبی کی جڑ عقل و منطق میں ہے(۳)۔ دور تنویر کے آغاز میں ڈیکارٹ نے کہا تھا کہ ہماری عقل ہماری حیوانی جبلتوں سے جدا ہے، عقل کو چاہیے کہ حیوانی جبلتوں پر قابو پائے۔ کانٹ اور فرائڈ نے بھی ملی جلی بات کی۔ اور جب اینتونیو مونیز نے یہ علاج دریافت کیا تھا، تو یہی سوچا ہوگا کہ دو ہزار سالہ معمہ حل ہوگیا، فلسفی جو کرنا چاہتے تھے وہ انجام پاگیا، عقل کو بے قابو جذبات پراختیار حاصل ہوگیا، اور یہ کہ انسانوں کو بالآخر خود پراقتدار مل گیا تھا۔

جذباتی ہونا اخلاقی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ اسے کردار کی کمزور ی قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ اُن لوگوں کی بڑی پذیرائی کی جاتی ہے جو اپنے احساسات کچل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا واسطہ ایسے کاروباری حضرات اورکھلاڑیوں سے پڑتا ہے، جن کی روبوٹک تیزی اور پھرتی متاثرکُن لگتی ہے۔ اگرایک سی ای او CEO چھ ہفتے تک دفتر کی میز پر سوتا ہے، اور اپنے بچوں پرنگاہ تک نہیں ڈالتا! اسے پرعزم اورمستقل مزاج سمجھا جاتا ہے!(۵)

یہ مفروضہ صدیوں سے ہماری سماجی نفسیات کی نمائندگی کررہا ہے کہ ’ہمیں اپنی عقل کے ذریعہ جذبات پرقابورکھنا چاہیے‘۔ ہم یہاں اسے ’کلاسیکی مفروضہ‘ کا عنوان دیتے ہیں۔ یہ مفروضہ کہتا ہے کہ اگر ایک شخص بے اصول اور خبیث ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات اور احساسات پر اختیار کا اہل نہیں ہے، یا ارادے کا کمزور ہے۔ یہ مفروضہ احساسات اور جذبات کوانسانی خامیاں قرار دیتا ہے، اور انہیں انسانی نفسیات کے وہ نقائص سمجھتا ہے جنہیں دور کیا جانا چاہیے۔(۴)

آج، ہم عموما اسی ’کلاسیکی مفروضہ‘ کی بنیاد پر لوگوں کے بارے میں فیصلے سناتے ہیں۔ موٹے لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ وہ موٹاپے پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کا جسم سڈول یا ورزشی ہونا چاہیے مگر وہ پھر بھی بسیار خوری کرتے ہیں۔ کیوں؟ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے!یہی کچھ تمباکو نوشی کرنے والوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔

عموما افسُردہ اور خودکشی کا رجحان رکھنے والے افراد کلاسیکی مفروضہ کی زد میں آتے ہیں، یہ خطرناک ہے۔ اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ زندگی سے مایوسی اور بیزاری ذاتی کمزوری اورنااہلی کی وجہ سے ہے۔ اگر وہ ذرا سی کوشش کریں، تو پھندے پر لٹکنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ جذباتی ہونا اخلاقی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ اسے کردار کی کمزور ی قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ اُن لوگوں کی بڑی پذیرائی کی جاتی ہے جو اپنے احساسات کچل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا واسطہ ایسے کاروباری حضرات اورکھلاڑیوں سے پڑتا ہے، جن کی روبوٹک تیزی اور پھرتی متاثرکُن لگتی ہے۔ اگرایک سی ای او چھ ہفتے تک دفتر کی میز پر سوتا ہے، اور اپنے بچوں پرنگاہ تک نہیں ڈالتا! اسے پرعزم اورمستقل مزاج سمجھا جاتا ہے!(۵)

واضح طورپر دیکھا جاسکتا ہے کہ کلاسیکی مفروضہ کس طرح دیگرضرر رساں مفروضوں تک لے جاسکتا ہے۔ اپنے احساسات اور جذبات کو کچلنا شخصیت کواندر سے ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتا ہے۔ خاص طور پر ہم خود کو پوری طرح سے بدلنے پر تُل جاتے ہیں۔ یوں ’امید‘ کی تلاش میں دوڑ زیاں لگ جاتی ہے۔

انسانی دماغ کا نظام کسی بھی ‘راز’ سے گہرا اورپیچیدہ رازہے۔ اورتم اپنے آپ کوبدل نہیں سکتے؛ اورنہ میں تمہیں اس بات پرمائل کروں گا کہ تم ایسا محسوس کرو۔ ہم عقل کُل کے اس گُمان سے چمٹے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ ہمیں ’اُمید‘ کا واحد ذریعہ لگتی ہے۔ ہم یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ خود کو بدلنا بہت ہی سادہ معاملہ ہے۔ ہم یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ کچھ کرنے کی اہلیت اور اُسے انجام دینا ایک سا معاملہ ہے۔ ہم یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی تقدیرکے مالک ہیں، ہراُس کام کے اہل ہیں جس کا خواب دیکھتے ہیں۔ لوبوٹومی سرجری کی مثال سے ظاہرہوچکا ہے کہ یہ کلاسیکی مفروضہ غلط ہے۔ اگر یہ مفروضہ سچا ہوتا، اگرجذبات اور احساسات پر قابو پانا اتنا ہی سادہ معاملہ ہوتا، توہم سب لوبوٹومی سرجریاں کروارہے ہوتے۔ لوگ جمع پونجی تک اس سرجری پرلگارہے ہوتے۔ مگر لوبوٹومی نے کام نہ دکھایا، اورلوگوں کی زندگیاں تباہ ہوئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ’عقل کُل‘ کے حصول کے لیے قوت ارادی سے بڑھ کرکچھ چاہیے(۶)۔ سو، یہ حقیقت کُھلی کہ ہمارے جذبات ہمارے فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اور ہمارے اعمال کا تعین کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس کا ادراک نہیں کرپاتے۔

تمہارے دو دماغ ہیں، اوریہ ایک دوسرے کی نہیں سنتے(۷)

فرض کرتے ہیں کہ تمہارا دماغ ایک گاڑی ہے۔ اس کا نام ’شعورکی سواری‘ رکھ لیتے ہیں۔ یہ شعور کی سواری زندگی کے سفرپر رواں دواں ہے، راستے میں اتار چڑھاؤ ہیں، دوراہے ہیں۔ ان دوراہوں میں تمہیں درست راستے کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ فیصلے ہی تمہاری منزل کا تعین کریں گے۔ اب تمہارے شعور کی اس گاڑی میں دو مسافرسوار ہوتے ہیں: حسی دماغ اور حساس دماغ۔ محسوسات تمہارے خیالات کوظاہر کرتے ہیں، حساب کتاب کی اہلیت کوظاہر کرتے ہیں، نظریہ سازی کی زبان اور اظہار سامنے لاتے ہیں۔ جبکہ حساس دماغ تمہارے جذبات، محرکات، وجدان، اورفطری رجحانات کی ترجمانی کرتا ہے۔ جب تمہارا ’حسی دماغ‘ ادائیگیوں کے شیڈول کا حساب کتاب لگارہا ہوتا ہے، تمہارا ’حساس دماغ‘ چاہتا ہے کہ سب کچھ بیچ کر کہیں گوشہ عافیت میں چلا جائے۔

تمہاری ان دونوں کیفیات کی اپنی قوتیں اور کمزوریاں ہیں۔ حسی دماغ بااصول، صحیح، اور غیر جانب دار نظر آتا ہے۔ یہ ایک عقلی طریقہ کار کا پابند ہے، مگر سست رفتار ہے۔ یہ بہت توانائی طلب ہے۔ نشوونما میں وقت لیتا ہے اور زیادہ مشقت پر تھک ہار بھی جاتا ہے۔ تاہم، ’حساس دماغ‘ بغیر کسی مشقت تیزی سے نتیجے پر پہنچ جاتا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ کبھی کبھی غلط اور عقلی طریقہ کار کا پابند نظر نہیں آتا۔ یہ ڈرامہ کی ملکہ کا کردار ادا کرتا ہے، اور بڑھ چڑھ کر ردعمل دینے کا عادی ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں اور اپنی فیصلہ سازی پرغور کرتے ہیں، ہم عموما یہ گمان کرتے ہیں کہ ہماری حسیات ڈرائیونگ نشست پر ہیں جبکہ ہمارے احساسات پچھلی نشست پربراجُمان ہیں، اور چیخ چیخ کر بتارہے ہیں کہ کہاں جانا ہے۔ شعور کی سواری کا یہ سفرراستوں کا تعین کرتا ہے کہ آیا گھر کس طرح پہنچنا ہے۔ اس دوران ہمارے احساسات کسی پرکشش شے کو دیکھتے ہی سواری کا رخ ایک جھٹکے سے بدل دیتے ہیں، اور بھاری ٹریفک میں جاپھنستے ہیں، اس طرح دوسروں کی ’شعور کی سواریوں‘کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اپنی سواری کو حادثے سے دوچارکرتے ہیں۔ یہ کہلاتا ہے کلاسیکی مفروضہ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شعور کی سواری اس طرح نہیں چلتی۔جب لوبو ٹومی کے مریضوں کی سرجری ہوئی، تو’احساسات‘ سواری کی ڈگی میں ڈال دیے گئے۔ اس صورتحال نے انہیں بالکل مفلوج اور بے کار بنادیا، ایسے جیسے زندہ لاشیں ہوں۔وہ اپنے بستر تک نہیں جاسکتے تھے، یہاں تک کہ کپڑے بدلنے کی صلاحیت باقی نہ رہی تھی۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے دماغ کی ڈرائیونگ نشست پر ’احساسات‘ براجُمان ہوتے ہیں۔ احساسات ہی ہمارے شعور کی سواری چلاتے ہیں، کیونکہ ہمارے ہر عمل کا محرک یہی احساس ہے۔ ہمارا ہر عمل ہمارا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ ہمارا آبی حیاتیاتی نظام ہے، جو ہمارے جسم کی حرکات و سکنات ممکن بناتا ہے۔ خوف کوئی ایسا معجزہ نہیں کہ جسے دماغ وضع کرتا ہو۔ یہ محض ہمارے جسم میں واقع ہوتی ہے۔ ہمارے پیٹ میں اینٹھن پڑجاتی ہے، پٹھے کھنچ جاتے ہیں، خونی دباؤ بڑھ جاتا ہے، اورہم چاہتے ہیں کہ ارد گرد کی جگہ کھُلی کھُلی اور کشادہ ہو۔ جبکہ ’حسی دماغ‘ صرف کھوپڑی کے اندر کا synaptic انتظام دیکھتا ہے۔ پورے جسم کی دانش اور حماقت دونوں ’حساس دماغ‘ کی گرفت میں ہیں۔ غصہ جسم کو حرکت میں لاتا ہے۔ پریشانی مایوسی میں سمیٹتی ہے۔ مسرت چہرہ روشن کردیتی ہے۔ اداسی سے شخصیت مرجھاجاتی ہے۔ جذبات حرکت پر آمادہ کرتے ہیں، اورحرکت احساسات جھنجوڑ دیتی ہے۔ انہیں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہمیں اس سوال کے سادہ سے جواب کی جانب لے جاتی ہے، کہ آخر ہم وہ کام کیوں نہیں کرتے جو ہمیں کرنے چاہیئں؟ کیونکہ ہمارے جذبات اور احساسات اس کام میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے!

خود پر قابو پانے یا نہ پانے کا مسئلہ معلومات، اصول، یا معقولیت کا نہیں بلکہ احساس کا ہے۔ ضبط نفس احساس کا معاملہ ہے، سستی احساس کا مسئلہ ہے؛ لیت و لعل احساس کا مسئلہ ہے؛ غور وفکر نہ کرنا احساس کا مسئلہ ہے۔ احساسات کے مسائل سے نمٹنا قدرے مشکل کام ہے۔ جبکہ منطقی کام آسانی سے انجام پاتے ہیں۔ مثال کے طورپر ماہانہ بلوں کی ادائیگی کے لیے سادہ سا حساب کتاب درکار ہے جبکہ بُرے تعلقات سنوارنے کے لیے کوئی حساب کام نہیں آتا۔ محض یہ سمجھنا کہ تمہیں اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیے کافی نہیں، جب تک کہ تمہارا احساس عملا اس پر مائل نہ کردے۔ ہم جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی ترک کردینی چاہیے، زیادہ میٹھا نہیں کھانا چاہیے، اورغیبت سے بچنا چاہیے، مگر ہم عملا ایسا نہیں کرتے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم احساس نہیں کرتے۔ احساسات کے مسائل عقل سے حل نہیں کیے جاسکتے۔ انہیں احساس ہی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ثابت ہوا کہ ’شعور کی سواری‘ احساسات سے چلتی ہے اورحسیات کی مدد سے راستے کا تعین کرتی ہے۔ یہاںاحساسات کا کردار حسیات پرحاوی ہے۔ ماہر نفسیات Jonathan Haidt ہاتھی اور اس کے سوار کی مثال دیتا ہے کہ چاہے سوار کتنی ہی مہارت سے ہاتھی کو چلائے، ہاتھی نے آخر وہیں جانا ہے جہاں جانا چاہتا ہے۔ دونوں دماغوں کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی۔ زندگی کے حادثات کا سبب یہی ناموافقت ہے۔ اگران دونوں میں مطابقت اور توازن پیدا ہوجائے، توکامیابی قدم چومے(۸)۔احساسات کا یہی ادراک تھا جس نے قدیم فلسفیوں کولذت و عیش پسندی سے خبردار کیا؛ جس نے عیسائی چرچ کورہبانیت کی جانب دھکیلا۔ لہٰذادونوں نے خواہشات نفس پر قابو پانے کی اپنی سی کوشش کی۔

گزشتہ دو صدیوں سے احساسات اور حسیات میں توازن کی بڑی کاوشیں کی گئی ہیں۔ دونوں انتہاؤں یعنی عیش پسندی اور رہبانیت نے بڑی اذیت پہنچائی۔ عیش پسندی کی انتہا ’امید‘ کے بحران میں مبتلا کرتی ہے اورجذبات پرجبر بھی اسی صورتحال سے دوچار کرتا ہے۔

’عقل کُل‘ کے لیے کھُلا خط

ہائے ! معاملات کیسے جارہے ہیں؟ ٹیکس وغیرہ کی ادائیگیاں ٹھیک ہورہی ہیں؟ اوہ معاف کرنا ! میں بھول گیا تھا! میری بلا سے! دیکھو، میں جانتا ہوں احساسات گڑبڑ کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ خاص تعلق ہو۔ میں جانتا ہوں تم بہت سی باتوں پر قابو پانا چاہتے ہو مگر ایسا نہیں کرسکتے۔ میں سوچ سکتا ہوں کہ یہ صورتحال تمہیں ’ناامیدی‘ کی طرف لے جاتی ہے۔ لیکن سنومیرے حسی دماغ! تمہیں اپنے احساسات (روح) سے دوستی کرنی ہوگی۔ہم آہنگی کے سوا تمہارے پاس کوئی رستہ نہیں(۹)۔احساسات (روح)ایک ’حساس مخلوق‘ ہے۔ کاش کہ تم اسے حساب کتاب سے سمجھ سکتے ! مگر یہ ممکن نہیں۔ حقائق اور ’عقل کُل‘ کے ذریعے ’احساسات‘ (روح) پربمباری سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ احساسات کو سمجھنا ہوگا۔ ہرمعاملہ میں احساسات کی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ یہ الفاظ میں جواب نہیں دیں گے، الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ جواب احساسات ہی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ انہیں آزاد فضا میں سانس لینے دو۔جتنی آزادی سے یہ سانس لیں گے، شعور کی سواری کا سفر اتنا ہی آسان ہوگا۔ جب تمہارے معاملات احساسات سے ہم آہنگ ہوجائیں، توسمجھو بہترین اقدار کی پیشرفت آسان ہوگئی۔

یاد رکھو! یہ احساسات عقل کے دائرے میں نہیں آتے۔ اگر وہ تم سے الجھیں توانہیں مزید سمجھوتوں کی جانب لے جاؤ۔ اگر وہ مان جائیں توٹھیک ورنہ ہم آہنگی کی کوشش جاری رکھو۔ بس لڑائی نہ کرنا! ورنہ شکست تمہارا مقدر ہوگی۔ کیونکہ ڈرائیونگ نشست پرہمیشہ احساسات (روح)ہی رہیں گے۔ (روح) احساسات وجذبات سے ہم آہنگی کی زیادہ سے زیادہ مشق ہی بہتری لائے گی۔

عقل کُل کا گُمان محض فریب ہے۔ یہ آخر کار ’مایوسی‘ سے دوچار کردیتا ہے(جس سے آج مغرب گزررہا ہے، مترجم)۔اگر احساسات (روح) سے ہم آہنگی پیدا ہوجائے، توخود پر معنوی اقتدار(ضبط نفس) حاصل ہوجائے۔یہیں سے ’امید‘ پیدا ہوتی ہے۔ یہیں سے یہ احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ مستقبل کتنا روشن اور اطمینان بخش ہے۔ احساسات کی غلامی اختیارکرنے کے بجائے انہیں قابو میں لاؤ اوران کا تجزیہ کرو؛ ان کی کردار سازی کرو، ان کی صورت بدلو۔ ماہرین نفسیات ACTاور CBT سمیت کئی ایسی تھراپیاں کررہے ہیں، جن سے (عقل اور روح) میں ہم آہنگی زیادہ سے زیادہ ممکن بنائی جاسکے(۱۰)۔

اس سلسلہ کا اگلا مضمون اس لنک پہ دیکھئے


حواشی
۱)یہ عالمی جنگوں کا دور تھا۔ یورپ میں نازیوں اور صہیونیوں کی جنگی پالیسیوں نے کروڑوں انسان موت کے منہ میں پہنچادیے تھے۔ معاشی ڈپریشن نے سماجی صورتحال خراب کردی تھی۔ مایوسی کی وبا عام تھی۔ لوگوں کی نفسیات تباہ ہوچکی تھی۔ ماہرین نفسیات بہت مصروف ہوچکے تھے۔ خودکشی کے رجحانات اور پوسٹ ٹراما اسٹریس سے نجات کے لیے طرح طرح کے علاج وضع کیے جارہے تھے۔
۲)یعنی مغرب کا ایک کامیاب فنکار بھی ’امید‘ سے محروم ہے۔ یعنی مغرب کا ہرسنجیدہ دانشور ’مغربی زندگی‘ کی بے معنویت سے بخوبی آگاہ ہے۔ وہ مایوسی کے عذاب سے بچنے کے لیے نشے میں ڈوب جانا چاہتا ہے۔ ٹام ویٹس بھی اعصابی تناؤ سے بچنے کے لیے کثرت سے مے نوشی کرتا رہا۔ اس کے جملے پر ’تالیاں‘ اس بات کی شاہد ہیں کہ ٹام ویٹس کی کیفیت عام معلوم حقیقت ہے، جس سے مغرب ہرلمحے گزررہا ہے۔
۳)سقراط پر عقل پرستی کا الزام درست نہیں۔ اگر سقراط عقل پرست ہوتا توزہر کا پیالہ کبھی نہ پیتا۔ اُس کے شاگرد نے جب گہرے رنج سے کہا تھا کہ ’’اُستاد آپ بے قصور مارے جارہے ہیں!‘‘ توجواب یہ آیا تھا کہ ’’تو کیا چاہتا ہے قصور وار مارا جاؤں؟‘‘۔ سقراط کے شخصی خاکے میں افلاطون نے کافی زیادہ رنگ آمیزی کی ہے۔
۴)مغربی فکر کی اس روش کا یہ نتیجہ نکلا کہ Reason عقل کُل کو Faith ایمان پر فوقیت دی گئی، یہاں تک کہ ’ایمان‘ استہزاء کی نذر ہوگیا، یوں تہذیب
مغرب سے احساسات وجذبات رخصت ہوئے اورمحسوسات وحسیات نے جسموں پرقبضے جمالیے۔ زیر نظرمضمون جدید تحقیق میں عقل کُل کے گُمان کی اصل حیثیت واضح کررہا ہے، اور احساسات وجذبات کی اہمیت پرزوردے رہا ہے۔
۵)تہذیب مغرب انسان کی ’روح‘ کچل دینا چاہتی ہے۔ خاندانی اور معاشرتی زندگی کا ’احساس‘ مٹادینا چاہتی ہے۔ حیوانی حسیات کا ڈھچرہی یہاں سب کچھ ہے۔ یہ تہذیب انسان کی زندگی کا ’انسانی‘ پہلوختم کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ غیر’انسانی‘ زندگی ہے، جہاں انسانی رشتوں کی کوئی قدر نہیں، ساری قدرمالی ومادی ہے۔ عقل کُل کے گُمان نے انہیں ’ابلیسیت‘ میں مبتلا کردیا ہے۔
۶) یقینا سوائے رب العالمین کے کہیں ’عقل کُل‘ کا کوئی امکان نہیں۔ ’ایمان‘ ہی واحد شے ہے جو’قوت ارادی‘ کی تسکین کرسکتی ہے۔
۷)مشرقی اور مذہبی دانش اور ادب میں ان ’دو دماغوں‘ کی کشمکش کے لیے ’عقل اور دل‘ یا ’عقل اور روح‘ کی تمثیل استعمال کی جاتی ہے۔ اس مضمون کا ’حساس دماغ‘ دراصل دین کی وہ روح ہے جو انسانی اعمال کا عظیم محرک ہے۔ یہی ایمان کا اصل مرکز ہے۔ یہاں مارک مینسن لاشعوری طورپر ’عقل اور روح‘ کی کشمکش بیان کررہے ہیں۔
۸) مذہب میں ضبط نفس اور تزکیہ نفس کی تربیت اور تصور اسی سبب سے ہے کہ انسان عقل اور روح یا حسیات اور احساسات میں توازن پیدا کرے۔ پہلے رب کائنات پر ایمان لائے، پھر عقل کے تقاضوں کی طرف رجوع کرے؛ پہلے عاجزی اپنائے پھر رہنمائی حاصل کرے؛ روح کے تقاضوں کواولین ترجیح دے اور حسیات کی ضروریات کم تر درجے پر رکھے؛ روح کی رہنمائی میں زندگی چلائے اور حسیات کی مدد سے اس میں حُسن پیدا کرے۔
۹) یعنی مغرب کے لیے ’امید‘ کی واحد صورت عقل اور روح میں ہم آہنگی ہے، لیکن یہ محض مولانا روم کی مثنوی، یوگا، اور ہپی بن جانے سے ممکن نہ ہوگی۔ اس کے لیے ’دین فطرت‘ اختیار کرنا ہوگا۔ دین اسلام ہی وہ واحد راہ عمل ہے، جوروح اور جسم میں کامل ہم آہنگی ممکن بناتا ہے۔
۱۰) یہ ہم آہنگی نفسیاتی حل سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے روحانی تسکین چاہیے جو سوائے دین فطرت ’اسلام‘ کہیں موجود نہیں۔

ترجمہ و تلخیص مع حواشی: ناصر فاروق

(Visited 144 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: