ادبی سیاحت کے نئے افق —— عقیل اظفر

0

سیاحت ماضی میں ایک خالص ذاتی سرگرمی سمجھی جاتی رہی ہے اگرچہ قدیم زمانے سے یہ عمل ثقافت پزیری اور ثقافتی اختلاط کا باعث رہا ہے۔ ہمارا اشلی تجسس ہمیں سیاحت اورسیاحت سے وابستہ تجربات کی طرف راغب کرتا رہا ہے۔ تاہم بیسویں صدی کے آغاز میں تقافتی صنعت اور ماس کلچر یعنی تقافت عامہ (عوامی ثقافت) جیسی اصطلاحات نے رواج پایا اورسیاحتی و ثقافتی حوالوں سے تغیر کی ایک نئی راہ پیدا کی۔ یہ اصطلاح کسی حد تک سرمایہ دارانہ پس منظر رکھتی ہے اور اپنی انتہائی صورت میں ثقافتی اشتمالیت کو جنم دے سکتی ہے جو ایک منفی رجحان قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم معتدل سطح پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں مثبت کردار کی حامل ہے۔

سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں کسی علاقے کے کلچر کی بہتر انداز میں تشہیر اس علاقے کے لئے بہتر سیاحتی کشش اور معاشی قدر کا باعث ہے۔ کلچر کو اگرسیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ترغیبی امدادگار کے طو پر استعمال کیا جائے تو نتائج معاشی و سماجی دونوں حوالوں سے مثبت ہوں گے۔

سیاحت ماضی میں بھی معاشی طلب کا اظہاریہ تھی اور آج بھی ہے مگر مو جودہ دور میں رسد کا پہلو نمایاں ہے۔ سیاحت صنعت کا درجہ پا چکی ہے اور اس حوالے سے ہر روز نت نئے سیاحتی پہلو اجاگر ہو رہے ہیں۔

دور حاضر میں سیاحت سے مراد صرف تاریخی مقامات کی سیر اور عجائبات کی نظارہ بازی نہیں بلکہ کسی علاقے کے سماجی اور معاشی پہلوؤں کا مطالعہ بھی ہے۔ بایں ہمہ سیاحت کا تفریحی پہلو ہمیشہ غالب ہے۔ تفریح کا حصول اس انسانی سرگرمی کا وہ پہلو ہے جسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر ممالک جو سیاحت کےمعاشی پہلو کو آگے رکھتے ہیں آنے والے مہمانوں کے لئے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھتے ہیں اس حد تک کہ وہ خالص کمرشل منصوبوں کا سیاحتی پہلو نکال لیتے ہیں مثلاً برج الخلیفہ یا سنگا پور ائر پورٹ سیاحتی مقامات کے طور پر شہرت پا چکے ہیں اور اپنے بنیادی مقاصد سے ہٹ کر بھی زر مبادلہ کما رہے ہیں۔

اس حوالے سے ادبی سیاحت جو کہ سیاحتی ادب سے ذرا ہٹ کر ہے اپنا مقام بنا چکی ہے۔ یہ قاری ہے جو ایک تحریر کو ادبی معیار عطا کرتا ہے۔ وہ تحریر کے زمانی اور مکانی تناظر کو مجہول نہیں بلکہ متحرک و معروف طریق پر پرکھتا ہے اور عالمگیر حوالوں سے سند قبولیت بخشتا ہے۔ موجودہ دور میں معلوماتی انقلاب نے یہ رخ زیادہ ہے نمایاں کر دیا ہے۔

سیاحتی ادب کو عمومی ادبی تنقید میں نسبتاً کم تر درجے پر رکھا گیا ہے کہ مسافر کو تخلیقی حیثیت سے زیادہ مشاہدہ کار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سیاح کا اپنے سفری تجربے کا بیان حالانکہ خارجی تجربے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت احساسِ دروں کا اظہار بھی تو ہے۔ اور اسے اسی حوالے سے جانا جا چاہئے۔

اب ذرا ذکر ہو جائے ادبی سیاحت کا یہ ایک سوچی ساجھی planned سرگرمی ہے سیاح مقصد تحریر پیشِ نظر رکھ کر سفر کرتا ہے اور سفر نامہ ادب پارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کمرشلزم کے تقاضے بھی نبھا رہا ہوتا ہے۔ جہان گرد اپنے ذوق کی تسکین اور ثقافتی اتصال دونوں کام بیک وقت کرتا ہے۔ ادبی سیاحت ارتقائی کردار کی حامل ہے اور علمی فروغ کے ساتھ معاشی نمو کا باعث ہے۔
سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں جہاں دیگر طبعی اور معاشی و معاشرتی حوالے مد نظر رکھے جاتے ہیں وہاں ادبی تناظرات بھی اہمیت کے حامل ہیں اور لازم ہے کہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔

(Visited 130 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: