لیک محفوظ ہو گئی۔ محمدامانت اللہ

0

 گاڑی کے ٹائر میں سے ہوا نکلنے لگے تو سمجھ جائیں ٹیوب لیک کر گئ ہے ۔ اسی طرح اگر اعلی سطح کا اجلاس ملکی سلامتی کے حوالے سے ہو رہا ہو اور اجلاس کے اختتام سے قبل ہی خبر صحافیوں کے ہاتھ لگ جائے تو سمجھ جائیں خبر لیک ہو گئ ہے ۔ پہلی صورت میں ٹائر کو پنچر لگائے جاتے ہیں اور دوسری صورت میں وزیر اطلاعات و نشریات کی چھٹی کر دی جاتی ہے۔ ہمارے سرکاری اداروں میں آفیشل چھٹیاں اتنی زیادہ ہیں معلوم نہیں ہوتا افسر کی چھٹی ہو گئ ہے یا چھٹی پر ہے ۔ کچھ افسران اطلاع دے کر چھٹی کرتے ہیں اور کچھ چھٹی کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ وقت سے پہلے ریٹائر ہوتے تو سنا ہے مگر وقت سے پہلے چھٹی لینے کی نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ درحقیقت جن لوگوں نے اپنی ڈیوٹی لگوائی تھی پانامہ لیک کی لیک پر ایکشن لینے کی ۔ انکا خیال ہے اس لیک پر نہ تو پنچر لگ سکتا ہے اور نہ ہی پنچر لگایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے فیصلہ محفوظ کر دیا گیا ہے ۔ کچھ ادارے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں اگر یہ خبر لیک ہو جائے فیصلہ کہاں محفوظ کیا گیا ہے تو سارا مثلہ حل ہو جائے۔ ہندو اپنے مردے اس لیے جلاتے ہیں کہ اسکے گناہ معاف ہو جائیں اور ہمارے ادارے اس لیے ریکارڈ کو آگ لگواتے ہیں کہ حکومتی اشخاص بے گناہ ثابت ہو جائیں ۔ پنچر لگانا یا لیک بند کرنا کام تو ایک ہی ہے مگر اس کام کو ادارے بس تھوڑا سا مختلف انداز سے کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ کبھی آگ لگا کر کبھی پٹرول ، گیس ، بجلی اور کرایوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرکے ، کبھی پی ۔ایس ۔ایل کی ٹکٹیں بلیک کرکے تو کھبی آپریشن کے نام پر آپریشن شروع کر کے۔ شیخ صاحب جس بھینس کے آگے مہینہ بھر بین بجاتے رہے اب وہ لیک کا فیصلہ محفوظ کر کے جگالی کر رہی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: