میڈیا، اسلام اورہم ۔ اہم موضوع پہ بروقت کتاب —- تبصرہ: نعیم الرحمٰن

0

ڈاکٹرسید محمد انورکی کتاب ’’میڈیا، اسلام اور ہم‘‘ بہت اہم موضوع پر بروقت کتاب ہے۔ میڈیا دورِحاضر کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ کتاب کا ایک ذیلی عنوان اسلام کے نظریہ سماع وابلاغ کا مختصر تعارف ہے۔ آج لوگوں کارہن سہن، طرز گفتگو اور زندگی کا چلن میڈیا سے متاثر ہوتا ہے۔ بھارتی چینلز دیکھنے والوں کی گفتگو میں ہندی کے ایسے الفاظ جو ہمارے لیے نامانوس ہیں، عام استعمال کیے جاتے ہیں۔ بڑی بہن کے لیے دی، ماں کوآئی کہاجانے لگا ہے۔ لباس اورفیشن بھی ٹی وی کے اداکاروں اوراینکرز کودیکھ کر کیاجاتاہے۔ ٹی وی کے علاوہ سوشل میڈیا جو اب موبائل فون کی صورت میں ہر شخص کے ہاتھ میں ہرلمحہ موجود ہوتا ہے۔ رائے عامہ کومتاثرکرتاہے۔ کوئی بھی فرد اپنے پاس آنے والے کمنٹس کو بلاسوچے سمجھے آگے بھیج دیتا ہے۔ یہ صورتحال مذہبی امور کے ساتھ بھی ہیں۔ جہاں دین سے واقف علماء اور دانشورلوگوں کی درست رہنمائی کرتے ہیں۔ وہیں کئی نام نہاد دانشور اپنا ذاتی فہم اور رائے مستند علم کے طور پربیان کردیتے ہیں۔ ان کے بہت سے ناظرین اسی غلط رائے کودرست جانتے ہوئے۔ اس پرعمل بھی کرتے ہیں۔ ایمل مطبوعات کی بہت عمدہ کتابت اور طباعت نے کتاب کو ظاہری حسن سے بھی مالامال کیا ہے۔ ڈاکٹر سید محمد انوراس کتاب کی تحریر اورشاہد اعوان اسے شائع کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

حرفِ آغاز میں مصنف لکھتے ہیں کہ

’’میڈیا ہماری زندگی کی مجازی حقیقت ہے جوکہ ہماری زندگی پراس دور میں سب سے زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے۔ یہ اثرمثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ معلومات اورخبروں کی فراوانی ان تک باآسانی رسائی، آپس کے تیزرفتار رابطے، یہ سب ایسے پہلو ہیں کہ ان کی افادیت سے انکارکیا جاسکتا ہے نہ اس سے مفرممکن ہے۔ میڈیا ہماری زندگی کا جزولاینفک بن چکا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میڈیا میں بہت سی ایسی باتیں ایسی ہوتی ہیںجوکہ ہمارے مزاج یا ہمارے عقائدونظریات سے متصادم ہوتی ہیں۔ ہمارے سیاسی نظریات کے خلاف ہوتی ہیں، ہمارے معاشی مفادات سے متصادم ہوتی ہیں، ہمارے معاشرتی نظام سے متصادم ہوسکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس تصنیف کا ایک پہلوان نظریات کو بیان کرنا ہے جوکہ میڈیا میں ہمارے دین اسلام کیخلاف نشر ہو رہے ہیں۔ وہ باتیں جن کو بطور مسلمان سن کر، دیکھ کر یا پڑھ کر دکھ ہوتا ہے اور دل کڑھتا ہے۔ غصہ آتاہے۔ بے بسی کااحساس ہوتا، کبھی اسلام کے متعلق اپنے ہی لوگوں کے تبصرے سن کران لوگوں کی عقل پرماتم کرنے کاجی چاہتاہے، کابھی دشمنان اسلام کی کھلی سازش نظرآرہی ہوتی ہے، لیکن بے بسی کے سبب اپنا خون کھولانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ وہ کیفیت ہے جواس کتاب کی تصنیف کا بنیادی محرک ہے، لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ جولوگ بھی مذکورہ بالا بیاان کردہ ذہنی اور جذباتی کیفیت سے گزرتے ہوں یہ ان کے لیے لکھی گئی ہے۔ میڈیا ایک اتنی بڑی اورطاقتور حقیقت ہے کہ اس کو اپنی مرضی پر چلانا کسی کے اختیارمیں نہیں۔ میڈیا کی دنیا ایک وسیع سمندر ہے جس پر قابو پانا تو ناممکن ہے لیکن ایسی کوشش کرنا بھی حماقتِ محض ہے۔ اس سمندر میں زندہ رہنے کے لیے اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اولاً یہ لازمی ہے کہ ہمیں اس کی وسعت اور گہرائی کا صحیح اندازہ ہو۔ ہم اس کے ممکنہ خطرات سے واقف ہوں۔ کہاں کہاں، کیسی کیسی بلائیں اس میں پوشیدہ ہیں ان کا ہمیں ادراک ہو۔ اس میں چلنے کے راستے اور اپنی سمت درست رکھنے کا طریقہ ہمیں آتا ہو۔ اس کے مدوجزر پر ہماری نظر ہو۔ ان کے مضراثرات سے بچنے کے طریقے ہمیں آتے ہوں اور ہمیں معلوم ہو کہ ان کو اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے۔ ‘‘

اقتباس قدرے طویل ہوگیا۔ لیکن کتاب کی مقصدیت واضح کرنے کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ ہماری نوجوان نسل کو میڈیا کے مضراثر سے محفوظ رکھتے ہوئے دورِجدید کی اس اہم ترین ایجاد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے بھرپور معلومات دینا ضروری ہے۔ اور’میڈیا، اسلام اورہم‘ کا مطالعہ ہر صاحبِ علم وفہم اور ہر طالب علم کو ضرور کرنا چاہیے۔ یہ کتاب صرف دردِدل رکھنے والے عام مسلمانوں کے لیے اسلام کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔ مسلمانوں اور اسلام کو ہر دورمیں مختلف فتنوں اور چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ دورِ حاضراورمستقبل کوبھی اس سے مستثنٰی نہیں ہے۔ اسلام دشمن ہر دور میں نت نئے حربے اورطریقے اسلام کو بدنام کرنے اورمسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جدید ترقی یافتہ دور میں دشمنان اسلام کے ہاتھ میں نئے زیادہ دور رس، طاقتور اورمہلک ہتھیاردے دیے ہیں۔ دورجدید کے ان خطرناک ہتھیاروں میں میڈیا سب سے اہم اور مہلک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ جوکہ اس کتاب کامرکزی موضوع ہے۔

دنیامیں ہونے والی کوئی بھی ایجاد بذاتِ خود غلط یابری نہیں ہوتی۔ اس ایجاد کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ریل گاڑی، لاؤڈاسپیکر، تصویر، ٹی وی اور وی سی آر کو حرام قرار دیا گیا۔ پھر یہی حرام قراردینے والے ان اشیا کو شہرت کے لیے استعمال کرنے میں آگے نظرآئے۔ جب کہ اس کتاب کے مصنف نے بہت عمدگی سے میڈیاکے مثبت اورمنفی پہلووں کو اجاگر کیا ہے۔ پوری کتاب میں ہر بات دلائل کے ساتھ کی گئی ہے اورہردلیل قرآن وحدیث سے پیش کی گئی ہے۔ جس سے اس کی افادیت میں بہت اضافہ ہواہے۔

کتاب کے موضوعات کو واضح کرنے کے لیے چارحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصے کو ذیلی عنوانات سے مزید واضح کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ فی زمانہ میڈیا ہے کیا؟ اورمیڈیا کے محرکات اورمضمرات کیا ہیں؟ پربحث کرتاہے۔ دوسرے حصے کے موضوعات ہیں، میڈیااسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیسے استعمال ہو رہا ہے؟ کیا یہ میڈیا پراسلام دشمنی کے کوئی نئے طریقے ہیں؟ اوردینِ اسلام کے خلاف استعمال ہونے والے حربے اوران کے مقاصد کیا ہیں؟ تیسراحصہ قرآن کی نظرمیں اسلام کا نظریہ سماع وابلاغ کیا ہے؟۔ بطورسامع وناظرایک مسلمان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟۔ بحث اورمکالمے کے اصول کیا ہیں؟ اوردعوت کے لیے میڈیا کے استعمال کے طریقے کیا ہیں؟۔ جبکہ چوتھا حصہ تیسرے حصے کی ہی توسیع ہے۔ جس میں قرآن کے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں مصنف نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ میڈیا کی جدید دنیا میں ہم نے کیا کرنا ہے اورکیا نہیں کرناہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جوذرائع ابلاغ ہیں ان کے لیے کون سے اصول کس طرح کارفرماہوں گے اورہم ان مواقع سے کیااورکس طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔

میڈیا کیا ہے؟ میں مصنف نے بتایا ہے کہ

’’مختصر ترین طور پریہ کہاجاسکتا ہے کہ لوگوں تک کوئی بھی خبریا معلومات پہنچانے کا طریقہ میڈیا کہلا تاہے یہ معلومات یاخبر، روزمرہ رونما ہونے والے واقعات زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہوسکتے ہیں۔ یہ معلومات یاخبریں لوگوں تک پہنچا نے کے لیے کئی طریقہ کاراستعمال میں لائے جاسکتے ہیں جیسے، پرنٹ میڈیایعنی اخبارات، جرائد اور کتب وغیرہ کا ذریعہ یا الیکٹرانک میـڈیا یعنی ٹی وی، ریڈیو وغیرہ کا ذریعہ اوراب جدید ٹیکنالوجی کے ذرائع یعنی انٹرنیٹ اوراسمارٹ فونز وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ ‘‘

میڈیا میں آنے والی کوئی بھی بات جنگل کی آگ کی طرح آناًفاناً پھیل جاتی ہے۔ لیکن یہ آگ کی طرح جلانے کے ساتھ روشنی بھی پھیلاتی ہے۔ یعنی میڈیا کے برے اثرات بھی ہوتے ہیں اوراچھے بھی۔ میڈیا اچھی اوربری خبروں کے ساتھ عوام کوتفریح بھی فراہم کرتاہے۔ اب یہ اس سے استفادہ کرنے والوں پر ہے کہ وہ اسے فروغ علم اورتفریح حاصل کرتے ہیں یامضراورجھوٹی اطلاعات کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ میڈیا کے مفید یا ضرر رساں بنانے کا دارومداراسے کنٹرول کرنے والے افراد پرہوتاہے۔ جس طرح آگ اگرنادان کے ہاتھ آجائے تونقصان پہنچاتی ہے۔ جبکہ سمجھدارلوگ اس سے روشنی پھیلانے اوردیگر کارآمد کام لیتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا بھی کم علم، جاہل اورناسمجھ افراد کے ہاتھ میں آکر قوم، ملک اورمذہب کو اپنی لاعلمی اورکج فہمی سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اس شعبے میں قابل، اہل اور اسے ہراعتبارسے سمجھنے والے لوگوں کو ہی چلانے کاموقع دینا چاہیے۔

عام طور پر میڈیاحکومت یاکاروباری ادارے چلاتے ہیں۔ کاروباری اغراض سے میڈیاہاؤسز چلانے والوں کاواحد مقصدہرصورت منافع کماناہوتاہے۔ یہ مالکان منافع کمانے کے لیے ہرسچ جھوٹ اوردھوکابازی کوجائزسمجھتے ہیں۔ حکومتی یانظریاتی بنیاد پرقائم ذرائع ابلاغ اپنا مخصوص سیاسی، مذہبی نظریے کوفروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی یہ اغراض مخفی بھی ہوتی ہیں اورظاہری بھی۔ ایسے میڈیائی ادارے اپنے درست اورغلط نظریات اور خیالات پھیلانے کے لیے ہرکوشش کرتے ہیں کہ ان کانظریہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ ساتھ ہی وہ اپنے مخالف نظریات کے سدباب کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقہ اپناتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے میڈیا کا اثر اوراہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ میڈیا بذاتِ خود اچھا یا برا نہیں ہے۔ اس کی اپنی خامیاں اور خوبیاں ہیں۔ اسے چلانے والے اپنی اغراض کے مطابق اسے مفید یا مضر بنادیتے ہیں۔

مسلمانوں کاعام خیال ہے کہ میڈیااسلام اورمسلمانوں کے خلاف منظم انداز میں استعمال ہورہاہے۔ انٹرنیٹ پراسلام اورمسلمانوں کے خلاف مواد کی بھرمار ہوتی ہے۔ ٹی وی نشریات میں بھی ان کی جھلک نظرآتی ہے۔ اس میں اسلام کی کھل کرمخالفت بھی ہوتی ہے اورمخفی طور پر بلاواسطہ بھی۔ اس میں بلاواسطہ طریقہ زیادہ ضرررساں ہے۔ اس کوسمجھنا ازحد ضروری ہے۔ تاکہ ہم اسے بخوبی سمجھ کراس سے متاثرنہ ہوں۔ ڈاکٹرسید محمد انور کتاب کے دوسرے باب دین اسلام اورمیڈیامیں لکھتے ہیں کہ ’’میڈیا پر اسلام مخالف الزامات اورحربوں کا مقصد صرف اور صرف ایک ہے کہ اسلام کا اصل پیغام لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ حق کی آواز جتنی ہوسکے دب جائے لوگ دینِ حق کے قریب نہ جائیں اور اسلام لوگوں کے ذہنوں میں ایک عجیب وغریب نظریہ بن کررہ جائے۔ اس صورتحال کو قرآن حکیم نے ان الفاظ میں بیان کیاہے۔ ترجمہ: وہ اس پرایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آرہا ہے۔

میڈیا مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ اب رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بہت کچھ اچھا بھی ہورہا ہے اوربہت سی غلط باتیں بھی فروغ پارہی ہیں۔ ہمیں صحیح اورغلط میں تمیز کرنا ہوگی۔ لیکن عموماً عوام منفی پروپیگنڈے، فیشن اورڈراموں کے موضوعات سے متاثر ہو جاتے ہیں اوران میں چھپے منفی پہلووں کو سمجھ نہیں پاتے۔ ہرنبی اور پیغمبر کی اس کے دورمیں مخالفت کی گئی، اس کا مذاق اڑایا گیا۔ اسے جادوگر قراردیا گیا۔ اسی طرح اسلام اورمسلمانوں ان کی تہذیب اور اقدار کا تمسخر بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ ہوا ہے اور ہوتا آرہا ہے۔ میڈیا اس قبیح حرکت ایک موثرآلہ اور ذریعہ ہے۔ اس پردیا گیا کوئی بھی پیغام لوگوں کے ذہنوں میں بس جاتاہے۔ اسے سمجھنے اوراس کاتدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ اورکتاب میڈیا، اسلام اور ہم نے اس ضرورت کو بہت خوبی اورعمدگی سے پیش کیا ہے۔ مصنف نے بہت سادہ اورعام فہم اندازمیں ہر پہلو کو واضح کیا ہے اوراس کے لیے دلائل قرآن و حدیث سے دی گئی ہیں۔ جیسے انبیاء کا تمسخر اڑانے کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ پیش کیا گیا ہے کہ ترجمہ: اے محمدﷺ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے مگران مذاق اڑانے والوں پرآخرکاروہی حقیقت مسلط ہوکررہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ‘‘

میڈیا میں اسلام اورمسلمانوں پر ایک الزام جوعام طور پرلگتا ہے وہ یہ کہ اس مذہب کے ماننے والے برین واش ہوتے ہیں ان کے ذہن بند ہوتے ہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس مفروضے کو بنیاد بناکرایک کلیہ بنایا جاتا ہے کہ دینی مدارس لوگوں کوبرین واش کررہے ہیں۔ یہ الزام مختلف لوگوں کے ذریعے مختلف انداز ہر ممکنہ انداز میں باربار دہرایا جاتا ہے۔ اور اکثر یہ جملہ بھی اپنی کم علمی چھپانے کے لیے ان کے منہ سے نکلتا ہے کہ ’علماء دین کے ٹھیکیدار تو نہیں کہ ہم ان کے خلاف کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ ‘یہ وہی بات ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے یعنی خود دین کا کچھ علم نہیں اور دین کی ٹھیکیداری کا الزام ان علماء پر ہے جودین کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔

کتاب حاصل کرنے کے لئے اس لنک پہ کلک کریں

دورِ جدید کا میڈیاروشن خیالی کو متبادل اسلام کے طور پرپیش کرتاہے۔ روشن خیالی کے پرچارک افرادکویہ سمجھ نہیں آتی کہ مادی ترقی ’اسلام دشمنی‘ میں نہیں بلکہ محنت اور معاملات میں ایمانداری سے ہے۔ کتاب کے باب ’دین ِ اسلام اورمیڈیا‘ میں اسلام کے خلاف وہ حرکات جو ہمیں میڈیا میں روزانہ دکھائی اورسنائی دیتی ہیں۔ ان کی دس اقسام بیان کی گئی ہیں۔ جوکوئی نئی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہیں۔ صرف میڈیا میں ان کی اصل صورت ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ ان سب اقسام اور رویوں کا ذکرقرآن میں موجود ہے۔ ہرعنوان کے تحت اسلام کے خلاف ہونے والی جس کارستانی کا ذکر کیا گیا ہے اس میں ان حرکات کی وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں۔ لیکن ان کے تدارک کی طریقے نہیں بتائے کیونکہ ان سازشوں کادرست ادراک ہی سے ان کا تدارک ممکن ہے، یہ وہ باتیں یا طریقے ہیں جن سے اسلام کے پیغام اورمسلمانوں کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ان میں یہ امورشامل ہے۔

دین اسلام، تعلیماتِ اسلام، مبلغین اورمسلمانوں کاتمسخریااستہزا۔ مسلمانوں کوکسی طرح سحرزدہ ثابت کرنا، اسلامی تعلیم اورمدارس دینیہ کے خلاف مہم۔ اکابرِ اسلام اورمختلف مکاتب فکرکے علماء پرالزامات تاکہ ان کی باتوں کے اثرات زائل کیے جاسکیں۔ دین کامل کومحض عبادات تک محدودکرنے کی کاوش، دین اوردنیا کوالگ کرنے کامطالبہ۔ میڈیا میں اغیارکی نمائندگی اوراس کی وجہ اوران کاطریقہ کار۔ اسلام کی غلط تشریحات، بعیدازقیاس تاویلات کو فروغ دینے کی کوشش تاکہ اس کی شباہت مسخ کی جاسکے۔ لوگوں کوکھیل تماشے اورناچ گانے میں الجھائے رکھنا۔ اسلام دشمنی کوروشن خیالی کے نام پر فروغ دینا۔ اسلام کے علاوہ دیگرنظریات کومتبادل کے طور پرفروغ دینا اوراعتدال پسندی کے نام پراسلامی تعلیمات کے خلاف زہرافشانی کرنا۔

کتاب کا چوتھا باب ’اسلام کا نظریہ سماع وابلاغ ‘ ہے۔ اس میں میڈیا کیا ہے؟ اس کون کون کیسے اورکس غرض سے چلارہاہے۔ میڈیا کاوجود کسی بھی معاشرے کے لیے کتنا اہم اورموثرہے؟ اوراس کی پہنچ کہاں تک ہے؟ اور میڈیا کس طرح اسلام کے خلاف اورکیوں استعمال کیاجاتاہے؟ اس باب میں ذرائع ابلاغ کی ہیجانی دنیا میں اپنا قبلہ درست رکھنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہ معلومات کی دنیاہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں جس میں ہرپل، ہر لمحہ معلومات کی یلغار جاری ہے۔ جو ہرجانب سے ہورہی ہے۔ اخبارات، ٹی وی، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سب معلومات کے ذرائع ہیں جن سے مفرممکن نہیں ہے۔ یہ معلومات ہرموضوع پرجاری رہتی ہیں۔ جن میں خبریں، تبصرے، مکالمے، ڈرامے، افواہیں، علم ودانائی کی باتیں، لغووفضول بکواس الغرض ہروقت، ہر لمحہ ہم تک پہنچ رہی ہیں۔ معلومات کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسول اکرمﷺ نے ہمارے لیے کچھ قوانین، اصول اورضوابط وضع کیے ہیں جن کو سمجھنے اور ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس باب میں ہمیں اسلام کامیڈیا کے بارے میں نظریہ اورخبرکی اس دنیا میں ہمیں جینے کاطریقہ سمجھایا گیا ہے۔ کتاب کے اس حصے میں ہم اسلام کے اس نظریے کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اگران تمام احکامات کوجمع کرلیا جائے تو اس کے تجزیے سے علم ہوگا کہ اسلام ہم پر جوذمہ داریاں ڈالتا ہے ان کو واضح طور پردوحصوں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلاوہ ذمہ داریاں جو ہم پربطورسامع یعنی کسی خبر یا معلومات کے وصول کنندہ کے طور پر ہم پرعائد ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ ذمہ داریاں جو ہم پر بطورخبرگر یا بطور ناشر عائد ہوتی ہیں۔

اس طرح مجموعی طور پریہ بہت معلومات افزا کتاب ہے۔ جس سے قاری کو میڈیا اوراس کے حوالے سے ہم سب پرعائد ہونے والی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔ میڈیا ایک بہت بڑی طاقت ہے اسے کسی ایک زاویے سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ اسلام کے خلاف کس طرح استعمال ہو رہاہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اور جوافراد اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہیں بھی یہ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ کتاب میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ اس میں وہ ممکنہ عوامل ان کی وجوہ بتائی گئی ہیں۔ جن کے کرنے یانہ کرنے سے ہم میڈیا کے اسلام دشمن اورمسلم کش اثرات سے بچ سکتے یں۔ خصوصاً ہماری نئی نسل کے لیے یہ آگاہی بہت ضروری ہے۔ یہ دورِجدید کے حوالے سے بہت مفید کتاب ہے۔ جس کا مطالعہ ہرشخص کو کرنا چاہیے۔

(Visited 114 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: