ملازمت پیشہ عورت اور ہراسمنٹ کا آزار —— فارینہ الماس

0

زندگی کو خوش دلی سے بسر کرنے کے لئے محض جبلی ضروریات و خواہشات کو پالینا ہی کافی نہیں، اپنے ذہنی رحجان و خواہش کے مطابق کوئی ہنر سیکھنا اور کسی مہذب پیشے کو اپنانا بھی اہم ہے۔ یہ نا صرف خواہش کی تسکین کاباعث ہے بلکہ معاشی ضروریات کا بندوبست بھی۔ خواب بننے اور ان خوابوں کی تگ و دو کرنے کا جائز حق اتنا ہی عورت کا بھی ہے جتنا کہ مرد کا، لیکن ہماری فرسودہ معاشرتی روایات کی غیر اخلاقی و غیر انسانی صنفی تقسیم نے عورت کے لئے یہ راستے خاصے دشوار کر دئیے ہیں۔ اتنے دشوار کہ بد دل ہو کر وہ راستے کو کھوجنا ہی چھوڑ دیتی ہے یا پھر خود کو ہی ان راستوں پر کھو بیٹھتی ہے۔

لکھنے پڑھنے کے رحجان کے عین مطابق پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے لئے کام کرنا میری زندگی کی بہت بڑی خواہش تھی۔ (اس وقت میں اپنے تئیں یہی سمجھتی تھی کہ اس شعبے کو پڑھنے لکھنے کا شغف رکھنے والے ہی اپنا سکتے ہیں)۔ اپنی اس خواہش کی تسکین کے لئے، بہت ابتدائی عمر میں ہی مجھے ایسے مواقع بھی دستیاب ہوتے رہے۔ لیکن ہر موقع اپنے ساتھ کسی نہ کسی شخص کی نحوست کا سایہ بھی ساتھ لے کر آیا۔ ریڈیو پر میزبانی کی آفر ہوئی تو پروڈیوسر کی خواہش تھی کہ کام کے علاوہ بھی بے تکلف ہو ا جائے اورپروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد گھر جانے کی بجائے اس کے کمرے میں بیٹھ کر اس کے ساتھ چائے پی جائے۔ انکار کیا تو اگلے پروگرام کی ریکارڈنگ کی دعوت ہی نہ ملی۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران صحافت کا شوق دل میں جاگ اٹھا اور ایک بڑے اخبار کے لئے کام شروع کیا۔ دفتر سے اسائنمنٹ ملی کہ سیاسی صفحے کے لئے خواتین سیاستدانوں کا انٹرویو کیا جائے۔ انٹرویو مکمل کر کے اسے تحریر کیا اور دفتر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ اس دور کے بڑے صحافی اور آج کے بہت بڑے ٹی وی اینکر سے واسطہ رکھنا ہو گا جو اخبار کے سیاسی ایڈیشن کے انچارج تھے۔ دفتر میں پہلی بار ان کے کمرے میں پہنچ کر جب سامنے کی نشست پر بیٹھی تو اس نے دونوں ٹانگیں میز پر دھرتے ہوئے سگریٹ سلگا کر اپنے مقام مرتبے کا رعب جھاڑنے کی کوشش کی۔ اس کا یہ بد تہذیب رویہ میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔ بنا کچھ کہے سنے، فائل میز پر دھر کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ پھر اپنی عزت نفس کو بچانے کے لئے ہر بار ملنے والے موقع کو برضا و رغبت جھٹلاتی رہی اور کبھی آگے نہ بڑھ سکی۔ کیونکہ بہت جلد احساس ہو گیا تھا کہ کام کرنا ہے تو کام سے کام رکھنے کی سوچ کو قربان کرنا ہوگا اور یہی مجھ سے ہو نہیں پارہا تھا۔ یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ داد خواہی کا حق محض ایک ڈھکوسلہ ہو گا کیونکہ میں جن باتوں کو گھٹیا سمجھ رہی تھی یہ تو ملازمت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو کسی بھی ادارے میں کام کرتے ہوئے اچھا برا سب سہنا ہی پڑتا ہے۔ ملازمت کی غرض سے گھر سے اپنی مجبوریوں کی گٹھڑی سر پہ لادے نکلی عورت کو، راستے کی ٹھوکروں کے درد کو سہنے یا پی جانے کی ہمت و طاقت تو جتانا ہی پڑے گی۔ کام کرنے کے لئے اس کے پاس تین راستے ہوتے ہیں۔ اول کہ وہ تھوڑا بہت سمجھوتہ کرلے۔ باس کی خواہش پر اس کے کمرے میں بیٹھ کر چائے پی لے، دوچار باتیں ہنس کر کرلے۔ اگر اس کے سامنے ان کا سینئیر ٹانگیں پسارے، گریبان کا پہلا بٹن کھولے، منہ میں سگریٹ دبائے گفتگو کرنا چاہے تو اس میں کوئی عار نہ سمجھے۔ لیکن اس راستے کو اپنانے کے لئے ضروری ہے کہ جی بہت کڑا کیا جا ئے۔ عزت نفس کی پاسداری کا پیمانہ گرا لیا جائے۔ عورت کے لئے دوسرا راستہ یہ ہے کہ مرد کے اس رویے پر احتجاج کیا جائے، بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ لیکن بات بات پر شور مچانے والی خواتین خود ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ایسا تماشہ جس کا مرد بھرپور مزہ لیتے ہیں۔ وہ مردجن کے لئے عورت ایک جنس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ ایسی صورت میں اسے ہر طرح کے نقصان کے لئے تیار رہنا پڑے گا۔ کیونکہ مرد کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے اک دوسرے مرد سے ہی مدد مانگی جاتی ہے۔ اسے انصاف ملے یا نہ ملے لیکن اس ساری لڑائی میں دوسروں کے ذلت آمیز رویے ضرور سہنے کو ملتے ہیں۔ اسے یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ اگر اس میں ایسی باتیں برداشت کرنے کی ہمت نہیں تو وہ گھر سے باہر نکلتی ہی کیوں ہے۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ اسے ہی قصوروار ٹھہراتے ہوئے اس کے ہی چلن میں نقص نکالیں یا اس کے اس اقدام کو محض توجہ بٹورنے کا طریقہ قرار دے دیں۔ اب بچا تیسرا اور آخری راستہ تو وہ ہے ایسے موقعوں کو ہی ٹھکرا کر اپنے لئے کامیابی کو جاتے راستے کا در مقفل کر لیا جائے۔ کیونکہ مرد کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنے کے باوجود اگر اس کی خواہشات باندھنے کا یہ سلسلہ تھم نہ سکا تو۔ ۔ ۔ کل کو ان کی ہنسی، ٹھٹھے میں شریک کار بھی ہونا پڑے گا اسی ہنسی ٹھٹھے میں وہ آپ کے ہاتھ پر ہاتھ بھی مارنا چاہے گا۔ وہ بے دھیانی میں آپ کے کندھے پر ہاتھ بھی رکھنا چاہے گا۔ وہ چاہے تو اپنا ہاتھ آپ کے جسم کے کسی بھی حصے سے مس کر جائے اور آپ یوں ظاہر کریں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

الغرض عورت اپنی ملازمت بچاتے بچاتے مردوں کی یہ خواہشات پوری کرتی چلی جائے گی۔ ۔ ۔ اور اگر وہ اس سے بڑھ کر کچھ چاہئیں گے تو۔ ۔ ۔ ۔ ؟ بس اگر اپنی انا، اپنی خودداری، اپنی شخصیت کی حرمت کا تحفظ آپ کے لئے اہم ہے تو گھر سے باہر نکل کر ملازمت کرنے کا خیال دل سے نکال دیں۔ ورنہ استحصال کے اس عمل کے لئے خود کو تیار رکھیں۔ وہ استحصال جسے عرف عام میں ہراسیت یا جنسی ہراسگی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے خواتین کو ان کے کام سے غافل کرنے یا کارکردگی دکھانے سے روکے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے وجود کی فطری خودداری کو ٹھیس پہنچا کر اسے ذہنی یا جسمانی طور پر اذیت دی جاتی ہے۔ اسے اشاریوں کنائیوں سے اس کا م کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس کے وجود کی حرمت کی نفی سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ وہ ایسے حالات میں اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں کھونے لگتی ہے۔ ابتدا ہی میں ایک پر وقار، خودمختار اور آزاد زندگی کے پیدا ہونے کے امکانات کو ڈر، خوف اور مایوسی کے حوالے کر بیٹھتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے مر د، عورت کو ناجائز اور غلط طور پر جنسی معاملات پر اکسانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے چھو کر، نامناسب تبصروں سے یا دوسرے ہتک آمیز ہتھکنڈوں سے پریشان کرتا ہے۔ اس پر اپنی ذاتی حیثیت، رعب دبدبے یا مقام مرتبے کی دھاک بٹھا کر نفسیاتی، جذباتی یا جسمانی طور پر غیر امتیازی سلوک کا شکار بناتا ہے۔ مزدوری کے بھٹوں سے لے کراعلیٰ دفاتریا ہر وہ جگہ جہاں عورت ملازمت اختیار کئے ہوئے ہے، میں عورت ہراسیت کی ذلت سے محفوظ نہیں۔ اعلیٰ دفاتر میں اس کے انداز، لباس یا حجاب کو موضوع بحث بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے جسمانی خدوخال کو بھی تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ ڈاکٹر ہے یا ٹی وی اینکر، صحافی، ائیر ہوسٹس یا استاد اپنی ڈیوٹی کے دوران ہراسگی کا شکار ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے جنسی تعلق تک قائم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر جگہ ہی اسے اس رویے کا سامنا ہے اور ایسا بھی نہیں کہ ہر ملازمت پیشہ خاتون اس کا شکار رہتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ملازمت پیشہ خواتین کا پچاس فیصد حصہ ایسی ہی جنسی ہراسگی کا شکار رہتا ہے۔ جو ان میں اضطراب اور اذیت کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کے جذبات بھی پیدا کرتا ہے۔ ان کا اس مکروہ رویے کے خلاف آواز اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اس لئے وہ خاموشی سے اس جبر کو برداشت کرتی رہتی ہیں لیکن خاموشی کے اسی رویے سے بعد ازاں معاشرے میں جنسی حملوں اور جنسی درندگی جیسی بدترین ہراسیت کو ہوا ملتی ہے۔ جسمانی برتری و تفاخر کا نظریہ مرد کو زور آور اور غالب سماجی حیثیت دلاتا ہے اور عورت کو صنف نازک یا کمزور جنس سمجھ کر بے چارگی و غلامی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ جسے پہنے ہوئے وہ صنفی ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہے۔

ہمارے ملک میں خواتین کی تعداد مردوں سے ذیادہ ہے اس لئے گھر کی اور ملک کی معاشی خوشحالی کے لئے خواتین کو کام میں مرد کے برابر لانا بہت ضروری ہے لیکن اس کی حوصلہ افزائی اور خود اعتمادی کے لئے اسے مردوں کے اس سلوک سے بچانے کے لئے ہمیں ہمارے رویے بدلنے ہوں گے۔ گو کہ ہراسمنٹ کے قوانین موجود ہیں اور اگر وہ قانون کی مدد لے تو ہراساں کرنے والے کو سزا بھی مل سکتی ہے لیکن وہ محض اس وجہ سے خاموش رہتی ہے کہ اول تو ہوسکتا ہے کہ باس اسے ملازمت سے ہی نکال دے اور اگر ایسا نہیں بھی ہوا تو اس کے گھر والے اسے ملازمت کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

عورت سے ہراسیت برتے جانے میں کہیں نہ کہیں خود عورت بھی کچھ ذمہ دار ہے۔ ہر عورت نہیں بلکہ اس مادیت پرست دور کا وہ خاص طبقہءخواتین جسے مرد نے بڑی چالاکی سے اپنی اپنی جنس کو بازار میں بیچنے کے لئے ایک جنس ہی بنا ڈالا۔ یہ مرد کے ہاتھوں عورت کا ہونے والا وہ استحصال ہے جسے خود عورت نے بھی بخوشی اپنے اس سماجی مقام مرتبے کو گرا کر قبول کیا۔ 

ہراسمنٹ کی حوصلہ شکنی کے لئے ایسے ذہنی بیمار مردوں کو سزا ملنا ازحد ضروری ہے۔ اگر ہر ادارے میں ملازمت کے لئے خواتین کی بھی تعداد بڑھا دی جائے تو شاید صنفی مساوات اور توازن پر اثر پڑنے لگے۔ جرمنی میں تو یہ ہدف بنا لیا گیا ہے کہ خواتین ملازمین کے تناسب کو کم سے کم تیس فیصد تک لے جایا جائے۔ تاکہ خواتین میں قوت اعتمادی پیدا ہوسکے۔ ہر کمپنی میں ایسی شکایات سننے کے لئے ایک فعال کمیٹی بھی تشکیل دی جانی چاہئے تاکہ وہ معاملے کو منصفانہ طور پر دیکھتے ہوئے قصوروار کو فوری تنبیہہ کرے یا اسے ملازمت سے فارغ کر دیا جائے۔ ادارے ہراسمنٹ کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ایسی کمیٹیاں تشکیل دینے کے پابند ہیں۔ مردوں کو بھی چاہئے کہ وہ عورت کے وجود کو نظروں سے ٹٹولتے رہنے یا اس کی قربت کی حسرت میں غرق رہنے کی بجائے اپنے کام پر محنت کریں اور عورت سے صرف ایک کولیگ کی طرح کا ہی رویہ رکھیں۔ ایسا سمجھنا اب بلکل غلط ہے کہ مرد کے کردار یا عزت پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔ ہراسمنٹ مردوں کے لئے بھی ایک ایسا بدنما دھبہ ہے جو اک بار ان کی شخصیت پر لگ جائے تو وہ قابل اعتبار نہیں رہتے۔ کوئی بھی لڑکی ایسے شخص سے شادی کرنا پسند نہیں کرے گی۔ اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اس کی خانگی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔ ایسے شخص کے بچے معاشرتی طور پر ایک کربناک زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دئے جائیں گے۔ پھر اگر یہ بدنامی سوشل میڈیائی بدنامی میں بدل گئی تو جو ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنے گی اس کا اندازہ کرنا بھی محال ہے۔

Related imageعورت سے ہراسیت جیسے منفی رویے کے برتے جانے میں کہیں نہ کہیں خود عورت بھی کچھ ذمہ دار دکھائی دیتی ہے۔ ہر عورت نہیں بلکہ اس مادیت پرست دور کا وہ خاص طبقہءخواتین جسے مرد نے بڑی چالاکی سے اپنی اپنی جنس کو بازار میں بیچنے کے لئے ایک جنس ہی بنا ڈالا۔ یہ مرد کے ہاتھوں عورت کا ہونے والا وہ استحصال ہے جسے خود عورت نے بھی بخوشی اپنے اس سماجی مقام مرتبے کو گرا کر قبول کیا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں پر اعتماد کی بجائے خود کو محض سیکس سمبل بنا کر پیش کرنے میں تمام تر جدوجہد اور محنت صرف کر ڈالی۔ اس طرح اس کا حقیقی تشخص معاشرے میں مجروح بھی ہوا اور وہ اپنی اصل شناخت کو بھی کھو بیٹھی۔ اس کے اس رویے سے سیکس کے منفی اور غیر قانونی و غیر سماجی جذبے کو پروان چڑھنے میں مدد ملی۔ ایک طرف اس کی مظلومیت اور کم حیثتی کے واویلے تمسخر کا نشانہ بننے لگے اور دوسری طرف وہ عورت جو حقیقی معنوں میں مظلوم ہے وہ انصاف اور قانون کی مدد کا حق کھونے لگی ہے۔ عورت نے خود کو بطور ایک انسان منوانے کی بجائے بطور ایک عورت منوانے کو ترجیح دے کر اپنی منطقی اور قانونی جنگ کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

فیشن انڈسٹری میں عورت کو جس طور استعمال کیا جاتا ہے اس سے ایک عام گھریلو عورت بھی خود نمائی کے بناوٹی سحر میں مبتلا ہو نے لگی ہے وہ سحر جس میں کھو کر وہ محض احساس کمتری کے جان لیوا تناؤ میں ہی مبتلا ہوپاتی ہے۔

اس انڈسٹری میں کام کرنے والی خواتین جو انڈسٹری کا حصہ بننے کے لئے پہلے پہل تو ہر جتن کر گزرتی ہیں۔ ناموری اور روپے پیسے کا لالچ انہیں مرد کے ہر طرح کے استحصال کو برضا و رغبت قبول کرنے کا پابند بنائے رکھتا ہے اور جب نام اور مقام مل جاتا ہے، دولت کی حرص پوری ہونے لگتی ہے تو وہ انہی مردوں پر جنسی ہراسیت کا الزام دینے لگتی ہے۔ حالانکہ اپنی مرضی سے ہراساں ہونے اور زبردستی ہراساں کئے جانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عورت کے اس کردار نے باعزت طور پر کام کرنے والی خواتین کے راستے بھی پر پیچ بنا ڈالے ہیں۔ اب تو ہیش ٹیگ کی آڑ میں بھی کچھ خواتین ناموری پانے یا اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے بے گناہ مردوں کو بھی مورد الزام ٹھہرانے لگی ہیں۔ جس سے کچھ مردوں کی بھی پوری زندگی برباد ہو کر رہ گئی ہے۔

اپنے لباس، گفتگو اور انداز میں وقار لانے کے ساتھ ساتھ خواتین کو کام کرنے کے لئے محفوظ اور اچھے ماحول کی افادیت کو بھی سمجھنا ہو گا۔ اپنی جھوٹی شناخت کے چکر میں غلط ہاتھوں استعمال ہونے سے بچنا ہو گا۔ اپنے اعلیٰ سماجی مقام اور مرتبے پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ بس یہی طریقہ ہے ہراسمنٹ کی حوصلہ شکنی کا۔

یہ بھی پڑھیئے:  ہم سب کی خارش اور خواتین کے اصل مسائل
(Visited 154 times, 2 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: