ننواتے اور جرگہ ——- جاوید حسین آفریدی

0

مجھ سے کئی دوست کہتے رہتے ہیں کہ ریاست اور پی ٹی ایم میں ثالث کا کردار ناممکن ہے، وہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ایک طرف پی ٹی ایم مستقل طور پر ریاستی پالیسی اور فوج کو نیچا دکھانے کی مسلسل کوشش میں ہے جبکہ ملک دشمن عناصر بھی پی ٹی ایم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے میں دیر نہیں کرتے تو دوسری طرف فوج اپنی انا پر بضد ہے اور کسی کمپرومائز کو جائز نہیں سمجھتی۔

یقیناً صورتحال کچھ اس سے مختلف نہیں، پی ٹی ایم کے اگر مطالبات درست ہیں تو دوسری جانب ایسی قوتیں بھی پی ٹی ایم کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو کسی طور یہ نہیں چاہتی کہ مسائل حل ہو جایں، مطالبات پورے ہوں اور پاکستان مستحکم ہو، اسی طرح فوج کو اپنی غلطیوں اور کسی طور دانستہ یا غیر دانستہ ذیادتیوں کا ادراک بھی ہے مگر وہ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

مگر نا امیدی اور عدم رجائیت پسندی کم ازکم کسی مسلمان کا شیوہ نہیں، وہ ہمیشہ بہترین کل کی کاوش کرتا ہے اور رب کریم سے مدد مانگنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، ایسے ہی ایک سمت کی طرف اشارہ کرنے کی سعی کرتا ہوں، سمجھنے کی کوشش کریں

بنیادی کرنے کی بات لفظ “ننواتے” ہے جو پشتو کا کلاسیکی لفظ ہے اور پشتون کلچر میں انتہائی عزت اور اہمیت کا حامل ہے، ننواتے ایک پراسس کا نام ہے جب کسی مخالف جماعت یا شخص کیطرف سے کسی انسان یا علاقے والوں کا نقصان ہو جاتا ہے اور نقصان اٹھانے والے شخص کے بدلے سے پہلے پہلے نقصان پہنچانے والا گروہ یا شخص علاقے کی معزز شخصیات اور کچھ دنبے ساتھ لے کر پہنچ جاتا ہے، اپنے کئے پر معافی کا طلبگار ہوجاتا ہے اور “ننواتے” کے عوض دنبے پیش کئے جاتے ہیں، اگر دنبے قبول کرکے ذبح کئے جاتے ہیں تو ننواتے ہوجاتا ہے اور دونوں مخالفین کم از کم متعلقہ ناراضگی کو ختم کردیتے ہیں، بعض دفع ننواتے ٹھکرایا بھی جاسکتا ہے مگر جس طرح پشتون کلچر میں جرگہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسی طرح ننواتے قبول کرنا بھی مضبوط روایت ہے۔

اب آتا ہوں اصل بات کی طرف، گزشتہ مہینے جب فوج اور وزیرستان کی عوام کے مابین نا خوشگوار واقعہ رونما ہوا جس میں درجنوں شہری شہید ہوئے تو فوج نے بڑا بروقت صحیح فیصلہ کرکے وزیرستان کے مشران اور عمائدین کو لے کر متاثرہ خاندانوں سے ننواتے کے بطور اپنی غلطی مان کر معاملہ رفع کرنے کی گزارش کی، اور یہ تو پشتون کی غیرت کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ کسی سائل کو اپنے در سے نہیں ٹھکراتا، اسلئے کھلے دل سے ننواتے قبول کرلیا اور اس مسلے کو ختم کردیا

قارئین ایک بات ذہن میں رکھیں یہ فاٹا کے نقصان اور لمبے عرصے تک چلتی ہوئی دہشتگردی کے مقابلے میں ایک انتہائی معمولی نقصان تھا جو فوج مخالف تحریک ہوتے ہوئے ننواتے کی قبولیت ہوئی، حالانکہ جرگہ پشتون کلچر کا مرکزی پہلو ہے تو اگر فاٹا میں دانستہ یا نادانستہ طور پر قبائل کا نقصان ہوا ہے تو یہ جرگہ سے حل نہیں ہوسکتا؟ یقیناً حل ہوسکتا ہے بس شرط یہ ہے کہ تھرڈ پارٹی (ثالث) مخلص اور کسی قدر اختیار رکھتا ہو اور دوسری شرط دونوں فریق اپنے رویوں میں لچکداری رکھتے ہو تو قوی امکان ہے کہ آج یہ دونوں فریق کل کے حلیف اور یک جان دو قالب کی طرح ملکی ترقی میں ساتھ ساتھ کردار ادا کریں گے

جرگہ پاکستان کے نام سے کچھ سنجیدہ نوجوانوں نے تو یہ کوشش شروع کی ہے، دیکھتے ہیں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں دونوں انتہاؤں کو قریب لانے میں، البتہ کوشش ہے اور کوشش ضروری نہیں کامیاب ہوگی، ناکام بھی ہوسکتی ہے مگر یہ سوچ ہمیشہ کیلئے تاریخ کے صفحات پہ اپنی جگہ ضرور پیدا کرے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: