جملے بازی کی تکلیف ——- عزیز ابن الحسن

0

چند روز پہلے خاکسار نے جنابِ غلام احمد پرویز کے بارے میں سلیم احمد کا ایک جملہ لکھا کہ

“جہاں تک اسلام کے سماجی معاملات کا تعلق ہے مولانا مودودی اور پرویز کا ذہن خوب چلتا ہے مگر جہاں اسلام کی عرفانیات اور مابعدالطبیعات کی بات آتی ہے دونوں یکساں ٹھوکریں کھاتے ہیں”

اس پر بعض احباب نے تنقید میں فقرہ بازی کی شناعت کی بحث چھیڑ کر اسے گھٹیا قسم کا کام قرار دیا اور کچھ ویسی ہی باتیں کیں جو ایسے جملوں کی زد میں آنے والے سابقہ ترقی پسند اور موجودہ مذہبی و غیرمذہبی لبرل پیشہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ اس پر سید معین الدین نے مکتبِ عسکری پر “فقرے بازی کی تنقید” کے خیال کا جائزہ لیتے ہوئے کمال کی بات لکھی:

بوریت کی حد تک سنجیدہ اور مدمغ اور نام نہاد علم کا چوغہ پہن کر گھومنے والے فسطائیوں سے اندھا بھینسا کھیلنے میں اور انکی اصلیت دکھانے میں عسکری صاحب اور سلیم احمد کو مزہ آتا تھا. ادب کا اصول ہی یہ ہے کہ کسی ناول کسی افسانے کسی نظم کے ایک فقرہ کسی ایک مصرع مین طویل تحریر کا جوہر اورتفصیلات کا عطر کھنچ کر آجاتا ہے اور پوری تحریر کا روشن ترین نقطہ بن کر سامنے اجاتا ہے اور تفصیلات کو بھی واضح اور نمایاں کر دیتا ہے. اس بات کو عقلی دلیلوں سے سمجھایا نہیں جاسکتا تجربے سے محسوس کیا جا سکتا ہے. اس بڑی بات کو اگر سستی فقرے بازی تک محدود سمجھا جائے تو ہم کیا کریں تم کیا کرو؟

اس پر پر راقم کو یاد آیا کہ چند عشرے پہلے کلیم الدین احمد نے عسکری صاحب کو طنزاً ادبی ہرکارہ کہتے ہوئے ان پر چھینٹا اڑایا تھا اور لکھا تھا کہ

‘مارکسزم کا توڑ عسکری کی پھپتیوں اور جملے بازیوں سے نہیں ہو سکتا’۔

قطع نظر اس کے کہ مارکسزم کا توڑ کبھی عسکری کا مقصد یا مطمح نظر تھا بھی یا نہیں، کلیم الدین احمد کی اس بات سے عسکری کے بارے میں ان جیسے باخبر نقاد کی بےخبری کا پتہ ضرور چلتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے “اردو تنقید پر ایک نظر” کے نئے ایڈیشن میں عسکری پر بات کرتے ہوئے اپنی توجہ انکی صرف 1945-50 تک کی جھلکیوں تک ہی محدود رکھی اور ان کے بعد کے کام سے مکمل صرف نظر کیا تھا۔

چلئے بطور الزام مان لیتے ہیں کہ عسکری مارکسزم کا توڑ کرنا چاہتے تھے جو بقول کلیم الدین احمد ‘محض انکی جملے بازی سے نہیں ہوسکتا تھا’۔

اردو تنقید کی تاریخ سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا بھی جانتا ہے خود کلیم الدین احمد مارکسی تنقید کے اتنے ہی مخالف تھے جتنے کہ عسکری اور کلیم الدین احمد نے مارکسی تنقید کی کوتاہیوں کے بارے میں مسلسل لکھا بھی ہے اور نہایت سنجیدگی سے لکھا ہے عسکری کی طرح محض جملے بازی نہیں کی۔

اردو تنقید کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ برصغیر میں ترقی پسندوں کو کلیم الدین احمد کی “سنجیدہ” مارکس مخالف تنقید پر نہ کبھی اسطرح سٹ پٹاتے دیکھا گیا نا کبھی انہیں ویسی تکلیف پہنچی تھی جیسی عسکری کی “جملے بازیوں” سے پہنچی تھی۔ اسی لئے تو 1947 کے بعد ترقی پسندوں کی پوری تحریک اگر کسی ایک آدمی کے رد میں کھڑی ہوئی اور ہمیشہ کھڑی رہی ہیں تو وہ صرف اور صرف عسکری ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ وہ کونسی وجہ تھی کہ کلیم الدین احمد کے سنجیدہ استردادِ مارکسزم سے تو برصغیر کے ترقی پسندوں کا بال بھی بیکا نہ ہوا مگر مگر عسکری کی جملے بازی وہ ہمیشہ تلملاتے رہے؟ عسکری کی “جملے بازیوں” میں آخر کوئی تو ایسا کرارا پن تھا جو ترقی پسندوں کی صفوں کو تیر کی طرح چھلنی کردیا کرتا تھا۔

بات یہ ہے کہ مقابل اگر کسی اصولی موقف کے بجائے عصبیت پر مبنی جذباتیت اور جہالت پر مبنی ضد پر کھڑا ہو تو ایسے موقعوں پر عقل و منطق پر مبنی دلائل بعض اوقات وہ کام نہیں کرپاتے جو فریق مخالف کے جہلِ مرکب کے پردے چاک کرنے والے تیربہدف برّاق جملے کرتے ہیں۔
سلیم احمد نے، جو خود بھی اپنی استاد کی طرح تیکھے جملوں کی مار سے مخالف کو تگنی کا ناچ نچانے کے فن میں ماہر تھے، عسکری پر جملے بازی کی پھبتی کسنے والوں کے جواب میں کہا تھا کہ

جملے جملے میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کچھ فقرے محض طنز و تعریض ہوتے ہیں اور کچھ محض تحقی کیلیے۔ عسکری کے فقرے ایسے نہیں ہوتے، وہ تو جس شخص اور شے پر فقرہ کستے ہیں اس کی باطنی حقیقت تک کو روشن کر دیتے ہیں’۔

حقیقت بھی یہی ہے عسکری کے فقرے نہ صرف پرلطف کاٹ دار بلکہ خوفناک حد تک معنی خیز اور چیزوں کے باطن میں اترے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایک جملے میں پوری پوری تاریخ اور صدی کا عطر نچوڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ ذرا ان کے اس ایک جملے کو دیکھیے:

بیسویں صدی کا مغربی ادب زندگی سے خیر کے وجود کا انکار تو نہیں کرتا مگر مطالعہ صرف شر کا کرتا ہے”۔

سراج منیر کہا کرتے تھے کہ بیسویں صدی کا فکر اور فلسفہ تو مغرب کی ترقیوں اور بلندیوں کے گن گاتا ہے مگر وہاں کا ادب ایسا نقشہ پیش کرتا ہے کہ گویا شہر کے شہر جل رہے ہوں اور انسان کی روح اس میں پگھل رہی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ عسکری صاحب کے مذکورہ جملے کی صحیح داد تو کچھ وہی لوگ دے سکتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے مغربی فکشن شاعری اور بڑی مصوری کو اس کے اندر اترکے دیکھا ہو۔
ہاں اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض اوقات عسکری صاحب ترقی پسندوں کو کِلسانے کے لیے بھی فقرے اڑایا کرتے تھے۔ لیکن لاریب جس نے انہیں محض طرح فقرہ باز سمجھا اور ان کی تنقید کے آئینے میں مغرب کی صدیوں کی تاریخ کا لہو لہان چہرہ نہ دیکھا اس نے اپنے لئے بڑی خرابی کی اور کاروبارِتنقید میں بہت گھاٹے کا سودا کیا!

تعجب تو اس وقت ہوتا ہے جب تنقید میں فقرے بازی سے ناک بھوں چڑھانے والے چھوئی موئی مزاج لوگ اس طرح کے “ادب” سے خوب لطف اٹھایا کرتے ہیں:

سنیو اے اہل سخن بعد از سلام
چھیڑتا ہے مجھ کو اک تخم حرام

میری ہیبت سے نکل جاتا ہے موت
دشمنی کی ان نے اپنی ماں کی چو۔۔۔

بیت کہنا چاہتا ہے سو ہنر
شاعری سمجھا تھا کیا خالہ کا گھر
نامبارک ہی نہیں سادہ بھی ہے
الو ہے اور الو کی مادہ بھی ہے

عقل سے کس طرح ہووے بہرہ ور
ہے کسو حافظ کا نطفہ پاچہ خر

صحبت سے اس جہاں کی کوئی خلاص ہوگا
اس فاحشہ پہ سب کو امساک ہو گیا ہے

امساک میں رہے گی نہ پابندیٔ منی
ہرگز نہیں ہیں مغبچے بنت العنب سے کم

اور اگر معاملہ مذہب اور اس سے وابستہ علامات و تلمیحات و تمثیلات کا تو پھر تو ہر قسم کی نثری اور نظمی ہجویں انہیں خوب ہی مرغوب آتی ہے۔ راقم نے آج تک نہیں دیکھا کہ ثقہ مذہبی اشخاص و اماکن، تصورات و علامات اور تلمیحات کی بھد اڑانے والے کسی فقرہ باز و فتنہ طراز کی جملے بازی پر بھی ان احباب کی طرف سے ایسا رد عمل آتا!
اگر آپ نے کہیں دیکھا ہو تو راقم کے علم میں ضرور اضافہ فرمایا جائے۔

(Visited 133 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: