پارلیمنٹ اور خواتین: ایک تاثر —— اے خالق سرگانہ

0

اسلام آباد میں پارلیمنٹ بلڈنگ میں داخل ہوں تو انسان عمارت کی وسعت اور خوبصورتی سے یقینا متاثر ہوتا ہے خصوصاً قومی اسمبلی کا ہال متاثر کن ہے۔ بلڈنگ کی تعمیر 11 سال میں مکمل ہوئی تھی اور اس کا افتتاح سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے 28 مئی 1986 کو کیا تھا۔ عمارت کے اندر پاکستان کی وسعت اور رنگا رنگی کا بھی احساس ہوتا ہے کیونکہ ایوان کے اندر اور باہر لابیوں میں آپ کو پنجابی، سندھی، سرائیکی، پٹھان اور بلوچ اپنی اپنی زبان میں باتیں کرتے نظر آئیں گے۔ پارلیمنٹ کا رکن بننا یقیناً ایک بڑا اعزاز ہے کیونکہ چند سو افراد 22 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ایوان کی کارروائی سے کسی نہ کسی طرح متعلق ہوتے ہیں اور کوئی نہ کوئی رول ادا کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی ایک اعزاز ہے۔ 90 کی دہائی اور بعد تک میں چھ سات سال پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرتا رہا ہوں اس دوران مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب میڈیا کی دنیا میں پی ٹی وی کی اجارہ داری تھی یوں اس کی اہمیت بھی زیادہ تھی۔ اُس زمانے کی کچھ تفصیل میں نے اپنی کتاب ’’پی ٹی وی میں ماہ و سال‘‘ میں دی ہے۔

اب ایک لمبے وقفے اور ریٹائرمنٹ کے بعد گاہے بگاہے پارلیمنٹ جانا شروع کیا ہے تو بہت کچھ بدلا ہوا پایا۔ مقصد پارلیمنٹ کی رکن خواتین کے بارے میں اپنی آئندہ کتاب کے بارے میں مواد اکٹھا کرنا ہے۔ مجوزہ کتاب کا مقصد خواتین کے کاز کو آگے بڑھانا ہے لیکن مجھے یہ جان کر حیرت اور افسوس ہوا کہ پارلیمنٹ کی رکن خواتین انٹرویو دینے سے کچھ گریزاں نظر آئیں۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کیوں ہے۔ بہت سی خواتین روزانہ رات کو ٹی وی چینلز پر دھواں دھار بحث کر رہی ہوتی ہیں کیونکہ اِن شوز میں اُن کو فوری اور وسیع پبلسٹی ملتی ہے اس کے مقابلے میں کتاب میں چھپنے والی تحریر کی اگرچہ ایک مستقل حیثیت ہوتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں کتاب کو عمومی طور پر زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ بھی ایک المیہ ہے۔ پھر مجھے معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خواتین میں کتاب بینی کا رحجان ویسے بھی بہت کم ہے۔

محترمہ حنا ربانی کھر امور خارجہ کیلئے ہماری وزیر مملکت رہی ہیں اور میں اُن کی قابلیت سے کافی متاثر تھا لیکن مجھے بڑا افسوس ہوا کہ جب میں نے پارلیمنٹ کے باہر اُن سے ملاقات کی اور کتاب کیلئے انٹرویو کی درخواست کی تو انہوں نے سرے سے جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ ایک پڑھی لکھی خاتون سے اس قسم کی Discourtesy کی کم از کم مجھے توقع نہیں تھی۔ میں نے پی ٹی آئی کی ایک خاتون محترمہ نفیسہ خٹک کا گھر پر انٹرویو کیا، وہ انٹرویو کے لئے میری اہلیہ سے تعلقات کی وجہ سے رضامند ہوئیں اور پُرتکلف چائے بھی پلائی لیکن انہوں نے ایک عجیب بات بتائی کہ ایک دفعہ ایک چینل والوں نے اُن کا انٹرویو کیا اور بعد میں اس کام کے پیسے مانگے جو ظاہر ہے انہوں نے نہیں دیئے۔ ایک صحافی ہونے کے ناطے مجھے اس پر شرمندگی ہوئی۔ پیپلزپارٹی کی محترمہ شازیہ مری، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور پی ٹی آئی کی عندلیب عباس اور منزہ حسن وعدے کے باوجود ابھی تک وقت نہیں نکال سکیں۔ محترمہ زہرہ ودود فاطمی، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ناز بلوچ، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، خوش بخت شجاعت اور محترمہ شاہدہ اختر علی کا انٹرویو ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ بیگم عابدہ حسین، محترمہ فضیلہ عالیانی اور سمعیہ راحیل قاضی کے انٹرویو بھی بڑے اہم تھے۔ آخری تین خواتین ایک زمانے میں پارلیمانی سیاست کا حصہ رہی ہیں۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں بیٹھ کر بہت سی یادیں تازہ ہوئیں۔ تیسری دفعہ منتخب ہونے والوں کی تو کافی تعداد ہے لیکن کچھ پرانے چہرے خاص طور پر قابل ذکر ہیں اُن میں سید فخر امام، آفتاب شعبان میرانی اور نواب یوسف تالپور شامل ہیں۔ آخری دو تو بیٹھتے بھی اکٹھے ہیں یہ دونوں بڑے معزز آدمی ہیں اور بہت پہلے وفاقی وزیر رہے ہیں، اب خواتین کی کافی تعداد ایوان کی رکن ہے۔ نوازشریف اور محترمہ بینظیر بھٹو کے ادوار میں تو خواتین کے کوٹے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا البتہ یہ کریڈٹ جنرل پرویز مشرف کو جاتا ہے اُن کے دور میں ایک وقت میں قومی اسمبلی میں 67 خواتین رکن تھیں کیونکہ کوٹے کے علاوہ کچھ خواتین جنرل نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ خواتین پارلیمانی سیاست میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے بعد پہلی دفعہ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کافی نوجوان اور نئے چہرے بھی ایوان میں نظر آئے ہیں۔ سیاسی میدان میں نئے خون کی بڑی ضرورت اور اہمیت ہے۔ ایوان میں بحث کے معیار پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن کالم میں اس کی گنجائش نہیں۔ پچھلے دنوں کم عمری کی شادی کے بل پر بحث کے دوران مسلم لیگ کی شائستہ پرویز ملک نے کچھ کہا تو ایک باریش ایم این اے کچھ آپے سے باہر ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ بکواس کر رہی ہے۔ ایک موقع پر جب ایک وزیر نے سوال کے جواب میں سندھ کا کچھ ذکر کر دیا تو سندھ کے ایک صاحب بھی یہی زبان استعمال کرتے پائے گئے پھر اُردو زبان کی جو درگت یہاں بنائی جاتی ہے وہ ایک الگ داستان ہے۔ ایک مختصر سی اقلیت کے سوا کسی کی زبان سے اُردو کا شاید ہی کوئی درست جملہ سننے میں آتا ہو۔

قومی اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر بڑے معزز آدمی ہیں اور انہیں پچھلے دور میں خیبرپختونخوا کی اسمبلی کی سپیکر شپ کا تجربہ بھی ہے لیکن قومی اسمبلی کا ایوان چلانا بہرحال ایک چیلنج ہے۔ یہاں اپوزیشن تجربہ کار اور عددی اعتبار سے بھی کافی موثر ہے پھر اس دفعہ انتخابات میں تلخی بہت بلند سطح پر چلی گئی تھی اس کے اثرات بھی ہیں۔ اس کے علاوہ چونکہ سپیکر کا قومی اسمبلی میں یہ پہلا دور ہے اور اُن کا تعلق بھی ایک نسبتاً چھوٹے صوبے سے ہے لہٰذا انہیں علاقائی واقفیت اور وسیع ذاتی تعلقات کا فائدہ حاصل نہیں کیونکہ ارکان کی اکثریت کا تعلق تو سندھ اور پنجاب سے ہے۔ سینٹ کے چیئرمین بھی اگرچہ نئے ہیں اور اُن کے انتخاب پر بھی سوالات اُٹھتے رہے ہیں لیکن وہ کافی موثر طریقے سے ایوان کو ہینڈل کر رہے ہیں۔ سینٹ چونکہ عددی اعتبار سے کافی چھوٹا ایوان ہے اور پھر اس میں کسی ایک صوبے کا غلبہ بھی نہیں اور ارکان بھی نسبتاً پختہ کار اور سنجیدہ لوگ ہیں اس لئے شاید وہاں زیادہ مسئلے پیدا نہیں ہوئے۔

پچھلے دور میں سینٹ کے چیئرمین جناب رضا ربانی نے کچھ نئے آئیڈیاز پر کام کیا۔ ایک لابی میں سینٹ کی ارتقائی کہانی مجسموں اور تحریروں کے ذریعے نمایاں کی گئی ہے یہ ایک اچھی کوشش تھی۔ ایک دوسری جگہ پاکستان کی دستوری تاریخ کو محفوظ کیا گیا ہے جیسے دستور گلی کا نام دیا گیا ہے۔ پھر دونوں ایوانوں کے اندر اور کئی اور جگہوں پر سکرینز لگائی گئی ہیں جن کے ذریعے ایوان کی کارروائی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایوان کے اندر بھی تقریر کرنے والے رکن کی صحیح پہچان ہو جاتی ہے۔ قومی اسمبلی میں پریس لائونچ میں بھی ایسی سکرین لگائی گئی ہے لہٰذا صحافی حضرات پریس گیلری کے اندر کم کم جاتے ہیں کیونکہ ساری کارروائی سکرین پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ صحافی حضرات کی تعداد ماضی کی نسبت کئی گنا بڑھ گئی ہے تاہم میں نے محسوس کیا کہ سینئر صحافی سینٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہاں پریس گیلری میں جونیئر ہی نظر آتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: