راستوں کا سفر (۲) —– فرح دیبا اکرم

0

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیئے۔

کروشینز کو اپنے ملک کی فطری خوبصورتی، سمندر اور جزیروں پہ بڑا فخر ہے کروشیا میں کئی میں سے ایک ساحلی علاقہ سپلٹ ہے جو کہ ساحل سمندر اور قدرتی حسن سے لدھا ہوا ہے جو ٹورسٹ کروشیا جا رہے ہوں وہ سپلٹ ضرور جاتے ہیں اسی وجہ سے یہ مہنگا بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے اگر سپلٹ شہر کی گاڑی زگرب میں یا زگرب کی سپلٹ میں کھڑی ہو تو لوکل اس پر لائنیں مار دیں گے، ہوا نکال دیں گے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کریں گے کہ گاڑی کو چھوٹے لیول کا نقصان ہو کیونکہ دونوں شہروں میں عجیب طرح کا نفرت اینگیز رویہ پایا جاتا ہے جس کا اظہار لوگ اس انداز سے کرتے ہیں۔

کرشیا میں ہر شہر کا جھنڈا الگ ہے ہمیں تو یہ ہی پتہ تھا کہ ملک کا ایک جھنڈا ہوتا ہے لیکن یہاں ہر شہر کا ہے جو کہ ملکی جھنڈے کے ساتھ مختلف عمارتوں پہ لہرا رہا ہوتا ہے، کروشیا میں ذیادہ لوگ کیتھولک ہیں لیکن آج کل لوگ ذیادہ سے زیادہ ایتھیسٹ یا ایگناسٹک ہو رہے ہیں۔ جس میں بڑی تعداد نوجوانوں اور خاص کر تعلیم یافتہ طبقے کی ہے جو جدید علوم سے آراستہ ہیں۔

کروشیا خاص طور پر زگرب میں کافی سے جُڑا ہوا بڑا دلچسپ کلچر ہے اگر آپ سے کوئی کہے “آئیں کافی پیتے ہیں” تو یہ بات زہن میں رکھیں ان لوگوں میں کم از کم دو گھنٹے سے پہلے اٹھنے کا رواج نہیں ہے کیونکہ ان کی ساری گاسپس اور باتیں کافی پہ ہوتی ہیں یعنی کافی یا الکوحل پہ بیٹھتے ہیں تو پینے کے ساتھ ساتھ گھنٹوں بیٹھے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کروشینز کافی اوپن مائنڈڈ لوگ ہیں اور سوشلائز کرنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں نہ صرف کافی سستی ہے بلکہ کیفے بہت زیادہ ہیں اور ہر کیفے کے سامنے باقاعدہ فٹ پاتھ یا سڑک کا پارکنگ والا حصہ شیشے یا جالی کی چار دیواری کر کے باقاعدہ کافی ان سمر کا اہتمام ہوتا ہے اور اس جگہ کو گملوں والے بڑے پودوں سے ٹھنڈا اور فطری ٹھکانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ مشرقی یورپین گرمیوں میں باہر بیٹھ کر ہی کھاتے پیتے ہیں تازہ ہوا میں اور یہ بہت کم ہوتا ہے کہ لوگ کیفے کے اندر ائرکنڈیشن میں بیٹھیں۔ پاکستان میں جیسے چائے کے کھوکھے جا بجا ملتے ہیں یہاں ایسے ہی کافی کی جگہیں ہیں لیکن ذیادہ اپگریڈد شکل میں اور تقریباً ہر کافی کی جگہ پہ ہر طرح کا لکر بھی دستیاب ہوتا ہے یعنی اگر آپ کافی کے دلدادہ نہیں بھی ہیں تو کوئی بات نہیں آپ کے لئے دوسرے مشروب بھی موجود ہوتے ہیں۔ کروشین وائن تو بین القوامی طور پہ بہت مشہور ہے۔ کروشیا کے شمالی حصے میں ایک علاقہ ہے زگوریا، وہاں لوگ اتنی وائن پیتے ہیں کہ ان کے بارے میں ایک کہاوت مشہور ہے “یہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ اپنے خون میں 0.5 فیصد وائن لے کر پیدا ہوتا ہے”

زگرب میں اتوار صرف دوکانوں اور مالز کے لئے چھٹی کا دن نہیں ہے بس اتنا فرق ہے کہ بازار دیر سے کھلتے اور جلدی بند ہو جاتے ہیں۔
اچھا یہاں اوسطً پانچ سو سے ہزار لوگوں پر مشتمل گاؤں ہوتا ہے ہر گاؤں میں بنیادی ضرورت کی سہولت میسر ہوتی ہے کچھ باسیوں کے پاس اپنی وہیکل ہے کچھ سرکاری ٹرانسپورٹ استمعال کرتے ہیں جو اگر گاؤں تک نہیں جاتی تو قریبی گاؤں تک ضرور جاتی ہے اور چلنا ان لوگوں کے لئے میری طرح کوئی مسئلہ ہی نہیں، یورپ میں لوگ پیدل بہت چلتے ہیں جو کہ انہیں صحتمند اور چست رکھتا ہے، پھر یہ بھی ہے کہ پیدل چلنے کے ساتھ کوئی سٹیٹس سمبل بھی نہیں جڑا ہوا اور ہر طبقے کے لوگ چلنا، سائیکلنگ کرنا اور رننگ کرنا شوق سے سر انجام دیتے ہیں۔ یہاں ذیادہ تر آلو اور مکئی اگائی جاتی ہے۔ اچھا گاؤں کی زندگی زیادہ آسان، کم سٹریسڈ اور ٹھراؤ والی ہے کیونکہ ان لوگوں کو کسی بھی چیز کے لئے دوڑ میں بھاگ بھاگ کر شامل نہیں ہونا ہوتا یہ آرام سے اپنی فصلوں، جانوروں اور کھلے مکانوں میں گزرتے وقت کو گزرتا ہوا محسوس کرتے اور زندگی جیتے ہوئے سالوں پہ گرہ باندھتے ہیں۔

مارکو کا کہنا ہے کہ یوگوسلاوین جنگ میں سب سے بُرا کردار سربیا کا رہا ہے بلکہ اس جنگ کی ابتدا بھی سربز کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے بچپن کا ڈرامہ یاد آ گیا جو کہ تقریباً سبھی کا پسندیدہ تھا، “ایلفا براوو چارلی” جو کہ سربین اور بوسنین کے درمیان جنگی صورتحال کے پیش نظر بنایا گیا تھا اس ڈرامے کا مجھ پہ اثر یہ ہوا تھا کہ دلی خواہش ہو گئی کہ بوسنیا جانا ہے اور سربین فوجی بہت برے ہوتے ہیں اور ان کو کبھی پسند نہیں کیا جا سکتا، خیر یہ ایک بات ایسے ہی اس ضمن میں یاد آگئی۔

زگرب ایک مناسب رقبے کا اونچا نیچا پھیلا ہوا سستا شہر ہے جہاں آپ لاکھ کوشش کریں آپ گم ہو جایئں لیکن آپ ناامید رہتے ہیں اسکی بناوٹ ایسی ہے کہ کسی بھی طرف مُنہ اٹھا کر چل پڑیں واپس آپ سنٹر میں ہی پہنچتے ہیں اس کی گلیاں اور سڑکیں آپ کو گمنے نہیں دیتیں۔ معلوم نہیں یہ اس شہر کا وصف ہے یا بنانے والوں نے اس نیت سے بنایا تھا۔

زگرب میں گھومتے ہوئے محسوس ہوا کہ اس پہ اس طرح کام نہیں ہوا جیسے ایک شہر پہ ٹوارزم کے خیال سے کیا جاتا ہے اس کی روایتی عمارتوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے دل میں خاص لگن نظر نہیں آئی، ہاں یہ پرانے زگرب کے بارے میں ہے نئے زگرب کے متعلق نہیں، زگرب کے دو حصے ہیں پرانا زگرب اور نیا زگرب، نیا زگرب وہ ہے جسے شہر کو پھیلانے کے لئے حالیہ وقت میں بنایا گیا تھا یہاں ساری تعمیر جدید ہے، بڑے بڑے مالز، نئے طرز تعمیر کی کمرشل عمارتیں اور رہائشی اپارٹمنٹس، پرانے زگرب میں پرانی عمارتوں کے اندر ہی چھوٹے چھوٹے سٹوڈیو اپارٹمنٹس بنا کر کرائے پہ دئیے ہوئے ہیں یعنی نئے زگرب کی طرح یہ عمارتیں مختلف انداز میں رہائشی اپارٹمنٹ بنتی ہیں لیکن نئے زگرب میں خوبصورت اور پلانڈ اپارٹمنٹس کی عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں، اس شہر کو دریائے ساوا تقسیم کرتا ہے اور آپ یوں سمجھیں کہ شہر کا یہ لےآؤٹ جدت اور روایت کا حسین امتزاج ہے۔

اس شہر میں بچوں کی تفریح کا کلچر نہ صرف عام ہے بلکہ اسکا انتظام بھی کیا جاتا ہے، ویک اینڈ پر لوگ ذیادہ وقت باہر گزارتے ہیں، ڈاؤن ٹاؤن میں مختلف پبلک پوائنٹس پہ سارا دن بچوں کے لئے فری سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، میجک شو، سرکس، گانا، ساز بجانا وغیرہ بچے والدین کے ساتھ خوب مزہ کرتے اور ساتھ اپنی پسند کے سنیکس اور کھانے کھاتے رہتے ہیں، پارکس میں بھی کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، مزے کی بات ہے کہ پبلک سپیس استمعال ہوتی ہے کوئی ٹکٹ نہیں ہوتی لیکن ہر ایونٹ کے بعد پریزینٹر جب اپنا ہیٹ لے کر کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اپنی خوشی سے اس میں پیسے ڈالتے جاتے ہیں اس طرح اکثر لوگ مانگنے کی بجائے اپنے فن سے اپنے لئے پیسے کما لیتے ہیں اور کسی کو زبردستی پیسے دینے نہیں پڑتے اور ایونٹ والی جگہ پہ مستقل ڈی جے، لائٹس، اور پرفارمر کیمپ لگا ہوتا ہے، یہ شہر ذیادہ فیملی اورینٹڈ محسوس ہوا، والدین بچوں کے ساتھ ویک اینڈ باہر ہی گزارتے ہیں یوں پبلک پلیسسز پہ بہت مثبت سوشل گیدرنگز ہو جاتی ہیں جو انکلوژن اور سماجی تعلقات کو بہتر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

کروشیا کے کھانے میں ذائقہ زبردست ہے شہر آپکو کھانے میں مایوس نہیں کرتا، خاص کر کروشین بریڈ تو بہت کمال ہے مجھے پہلی بار بیکری سے محبت ہوئی ہے اتنی کہ فی الحال روٹی کو ریپلیس کیا جا سکتا ہے، زگرب میں گوالمنڈی کی طرز کی فوڈ سٹریٹ بھی ہے جو کہ لاہوری فوڈ سٹریٹ سے قدرے بڑی ہے، تقریبا ہر طرح کا کھانا پینا دستیاب ہوتا ہے جو نہ صرف مناسب قیمت بلکہ ذائقے دار بھی ہوتا ہے جس دن ہم وہاں گئے اس دن انگلش چیمپئن لیگ کا فائنل تھا فوڈ سٹریٹ میں نہ صرف ہر ریستوران میں لوگ میچ میں مگن تھے بلکہ عین گلی کے درمیان میں بڑی سکرین لگا کر کروشین یوں میچ میں مشغول تھے جیسے قدافی میں بڑی سکرین پہ کرکٹ فائنل چل رہا ہو، اس قدر جوش اور توانائی سے لوگ میچ دیکھ رہے تھے کہ نا قابل بیان واقعی یورپین فٹبال کے دیوانے ہیں اور جو شور و غل تھا سبحان اللہ۔۔۔

زگرب میں بادامی باغ والی بڑی منڈی بھی ہے اتنی بڑی تو نہیں ہے لیکن اس شہر کی آبادی کے حساب سے ٹھیک ہے، سٹی سنٹر میں ایک کونہ باقی اطراف سے کوئی چار پانچ فٹ اونچا ہے وہاں زگرب کے قریب میں بسنے والے لوگ روزانہ تازہ پھل اور سبزیاں لا کر بیچتے ہیں اور یہ اتنی تازہ اور مزےدار ہوتی ہیں کہ دوپہر تک وہ لوگ سب بیچ کر اپنا اپنا ٹھیلا بند کر رہے ہوتے ہیں ان بیچنے والوں میں عورتیں زیادہ تھیں اور بے حد خوش اخلاق، اچھا کسی نے بھی پلاسٹک بیگ نہیں رکھے ہوئے تھے بلکہ خاکی کاغذ کے لفافے تھے جس میں وہ خریدار کو اسکا سامان ڈال کے دیتے تھے۔

زگرب ٹھہراؤ والا شہر ہے مجھے چونکہ شہر رات میں زیادہ اچھے لگتے ہیں اس لئے جب رات میں گھوم رہی تھی تو محسوس ہوا کہ زگرب دن کا شہر ہے رات کا نہیں۔۔۔

زگرب میں چلنے والی ٹریمز زیادہ جدید نہیں ہیں اور آپ بنا ٹکٹ سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ڈرائیور صرف فرنٹ دروازہ کھولتا ہو اور آپ کی ٹکٹ چیک کرتا ہے اس لئے یا تو آپ ٹکٹ مشین سے ٹکٹ لے کر بیٹھیں جو کہ شہر میں کم جگہوں اور زیادہ فاصلے پر ہیں یا ڈرائیور سے سوار ہوتے ہی ٹکٹ خرید کر مشین پہ پنچ کر لیں کیونکہ ٹکٹ پنچ بھی صرف فرنٹ پہ لگی مشین سے ہوتی ہے۔

زگرب نے ڈینیوب کی طرح اپنے دریا کو سجا کر اسے بہت اچھے سے پریزینٹ نہیں کیا ہوا اس لئے وہ کوئی بہت فیورٹ ٹورسٹ پوائنٹ نہیں ہے اوورآل زگرب میں ٹورسٹ زیادہ نہیں تھے حالانکہ ویک اینڈ تھا اور یہ موسم بھی ٹوارسٹی ہے۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں چینی، کورین اور جاپانی لوگ اس جگہ سب سے زیادہ تعداد میں آئے ہوتے ہیں، کہیں کہیں انڈین، بنگالی اور سریلنکن بھی نظر آجاتے ہیں لیکن پاکستانی کو دل تلاشتا رہتا ہے۔۔۔

اس شہر میں صفائی کا بڑا اچھا نظام ہے اور مختلف جگہوں پر فری وائی فائی بھی مل جاتا ہے، یہ شہر بھی جلدی سوتا اور سویرے سویرے اٹھ کر کام میں مصروف ہو جاتا ہے۔۔۔

مجھے زگرب کی مختلف جہتیں دیکھنے کے دوران ذہن میں آ رہا تھا کہ ٹوارزم کتنی بڑی انڈسٹری ہے بالکل کسی بھی دوسرے شعبے کی طرح یا شاید اس سے بھی زیادہ۔۔۔ اگر آپ کے پاس تاریخ ہے، فطری حسن ہے، سمندر، جھیلیں، پہاڑ، صحرا اور سارے موسم ہیں تو آپ ان کے اوپر اپنے ملک کا ایک بڑا ریونیو جنریٹ کر سکتے ہیں ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا ایک خوبصورت امیج بھی اجاگر کر سکتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو اپنی جگہوں کو نہ صرف محفوظ بلکہ ایزیلی ایکسیسبل بھی بنانا ہو گا سب سے اہم یہ کہ اپنے تفریحی مقامات کو خاص طور پر عورتوں کے لئے فرینڈلی اور کمفرٹیبل بنانا لازمی ہے۔۔۔ اس لئے کہ ان کو بھی ریفریش ہونے کے مناسب اور یکساں مواقع فراہم کرنا معاشرے میں ان کے کردار کو مزید فعال اور پر اعتماد بنا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: