راستوں کا سفر (۱) —– فرح دیبا اکرم

0

آپ کا دل اپنی پسندیدہ جگہ میں رہتے ہوئے گھبرانے لگے تو کچھ وقت کے لئے فاصلہ لینا بہتر ہوتا ہے اس طرح محبت اُکتاہٹ کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہے اور آپ زندگی کے کچھ نئے زاویوں سے متعارف ہو جاتے ہیں۔

میں نے بھی کچھ دنوں کا سنیاس لینے کا سوچا لیکن کئی دن ایسے ہی گزر گئے کیوں کہ دو دوست ساتھ جا رہی تھیں اور ان کا پلاننگ فیز ختم نہیں ہو رہا تھا اس لئے ہم آج کل ہر چیز کی منصوبہ بندی کرتے ہیں پلان اے اور پلان بی بنا کر چلتے ہیں مگر میں ہمیشہ سے ذیادہ منصوبہ بندی سے گریز برتتی ہوں۔ شاید مجھ میں ذاتی سطح پر اس چیز کی کافی کمی ہے۔ لہذا ایک دن اپنی دوست سے کہا کل ہم جا رہے ہیں اور بلا بلا کار (یورپ میں کئی دوسری سفری سہولتوں کے ساتھ یہ ایک اچھا اضافہ ہے۔ آپ آن لائن بُک کرتے ہیں اور کار میں جتنی سیٹس ہوں اتنے لوگوں کو ڈرائیور کنفرم کر دیتا ہے، اس طرح راستے میں آپکو جہاں رکنا ہو وہ کچھ وقت کے لئے بریک دے دیتا ہے اور عام طور پر بس جتنے یا کبھی اس سے کم کرایے پر یہ کار مل جاتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بس کی بجائے ایسے جانا زیادہ پسند ہے) پہ چلتے ہیں تاکہ ہم اس ملک سے دوسرے ملک تک جو دیہاتوں اور سباربز کی خوبصورتی ہے اسں سے محظوظ ہوتے جائیں۔ خیر بدھاپیشٹ سے زگرب جو کہ کروشیا کا دارلحکومت ہے ہم پانچ گھنٹوں میں پہنچ گئے۔ ہماری موٹروے جیسا ہائی وے ہے جس میں مختلف جگہوں پہ جانوروں کے لئے پُل بنائے گئے ہیں۔ اس لیے کہ ہائی وے کے دونوں اطراف چھوٹے چھوٹے جنگل ہیں جس میں مختلف اقسام کے جانور رہتے ہیں جنھیں ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لئے پُل بنا کر دئیے گئے ہیں تاکہ ان کی جان کو محفوظ رکھا جائے اور ہائی وے کی روانی بھی متاثر نہ ہو۔ ان پُلوں کے دونوں اطراف لوہے کی باڑ لگی ہوئی ہے جسے پودوں نے ڈھانپ لیا ہے۔

پورے راستے بہت خوبصورت لینڈ سکیپنگ ہے اور مٹی کے پہاڑوں کو چونکہ ملک ریاض نہیں ملا تو ان میں اسی حالت میں علاقائی فصلیں اُگائی گئی ہیں جو ہوا میں جھولتے ہوئی قدرت کا رقص کرتی بے حد اچھی لگتی ہیں اور کہیں تصویر نگاروں کا موضوع بنتی رہتی ہیں۔ کروشیا چونکہ شینجن میں نہیں ہے تو اس کے بارڈر پہ باقاعدہ چیکنگ ہوتی ہے اور داخلہ سٹیمپ پاسپورٹ پہ لگائی جاتی ہے اور اسی طرح واپسی پہ بھی چیکنگ کے بعد ایگزٹ مہر لگتی ہے۔ آپ کار میں ہیں یا بس میں اگر یورپی نہیں ہیں تو یہ سارا عمل دہرایا جاتا ہے لیکن بہت احسن اور عزت دارانہ طریقے سے یعنی آپکو دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری کے طور پر ٹریٹ نہیں کرتے۔ عام طور پہ شینجن ممالک کے درمیان ایسے فزیکل بارڈر موجود نہیں ہیں لیکن اگر وہ چاہیں تو رکھ بھی سکتے ہیں۔ بارڈرلیس شینجن ممالک اپنی چیزوں کی نقل وحمل، تجارت اور ٹرانسپورٹیشن باآسانی کرتے ہیں اسی طرح سوٹزرلینڈ یورپی یونین کا حصہ نہیں ہے وہ ایک نیوٹرل ملک ہے اور کسی بھی ہیونین یا گروپ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی جنگ میں شامل ہوتا ہے لیکن یورپی یونین کے مطابق کچھ چیزیں سوئٹزرلینڈ اور یونین میں ایک جیسی رکھی گئی ہیں۔

خیر ہمارا ڈرائیور جو کہ کروشین تھا اور زگرب سے تعلق رکھتا تھا تو سوچا لوکل ہے کچھ گفتگو کرتے ہیں سفر بھی اچھا رہے گا۔ اس سے باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ کروشین لوگ بہت محب وطن ہیں لیکن جنوبی اور شمالی کروشیا کے لوگ فٹبال کی وجہ سے ایک دوسرے سے وقتاً فوقتاً ناپسندیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں خاص طور پہ جب ان دونوں کے درمیان فٹبال میچ ہوتا ہے لیکن یہی لوگ ایک ہو کر قومی ٹیم کو خوب سپورٹ کرتے ہیں جب کروشین ٹیم بین الاقوامی میچ کھیلتی ہے، اسی طرح سربین اور کروشین ایک دوسرے سے بہت نفرت کرتے ہیں حالانکہ آج کل کروشین نوجوان سربین فوک میوزک کے بُری طرح دلدادہ ہوئے پڑے ہیں اور دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کی الکوحل کو بہت شوق سے پیتے ہیں لیکن یہ نفرت یوگوسلاوین وار کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جو نسل در نسل آگے بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس نفرت کے عنصر کو استعمال کرتے ہیں اس لئے یہ لوگ اپنے ہمسائیوں سے نفرت کرتے ہیں یعنی صرف انڈیا پاکستان نہیں دنیا میں دوسری جگہوں پہ بھی طاقت اور حکومت کے لئے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جس میں مختلف مفاداتی گروہ اپنے اپنے مفادات کی خاطر شامل ہوتے ہیں۔

مارکو نے بتایا کہ پچھلے سال وہ سالانہ چھٹیاں گزارنے چائنہ گیا تھا، اسے چائنیز بالکل پسند نہیں آئے جس کی بنیادی وجہ ان کا ایگریسو رویہ تھا دوسرا وہ بہت پُشی ہیں جہاں بھی قطار یا مارکیٹ میں ہوتے اپنے ساتھ والوں کو دھکیل کر آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے جیسے انکو پرسنل سپیس کا بالکل کوئی خیال نہ ہو اور یہ رویہ خاص طور پر بہت اذیتناک تھا۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیے
(Visited 62 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: